MGG

MGG

Condividi

Società Di Media nelle vicinanze

Radio Radar Porretta
Radio Radar Porretta

My name is Tauqeer Baig. I’m from Kashmir (Pakistan) and now living in Italy. I write poetry and share my thoughts about the social issues .

Writing helps me express what I feel and what I see around me.

18/06/2026

👏👏👏

18/06/2026

کون ہیں یہ لوگ ؟

18/06/2026

ہم شاید ایک اسیرِ منصب سے کچھ زیادہ ہی امیدیں وابستہ کر بیٹھے ہیں ۔جس شخص کے نزدیک مسندِ اقتدار کے وقار سے بڑھ کر کسی 'موروثی حاکم' سے مصافحہ کرنا معراجِ کامیابی ہو ، اس سے کیسی توقع اور کیسا گلہ؟
اگر اس مٹی کا کوئی باضمیر بیٹا اس مسند پر فائز ہوتا تو وہ اپنی پہچان کسی طاقتور کی قربت کو نہیں بلکہ اپنے دفتر کی توقیر کو بناتا۔ نفسیاتی غلامی جب ذہنوں کی گہرائی میں اتر جائے تو تاج پہننے والے بھی درباروں کی حاضری ہی کو اپنی کل کائنات سمجھ بیٹھتے ہیں۔

17/06/2026

کیا آزاد کشمیر پاکستان کے عوام کے لیے چی گویرا کو جنم دے رہا ہے؟

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ انقلاب کی شروعات کیسے ہوتی ہے؟ کیا یہ ہمیشہ جنگلوں اور پہاڑوں میں لڑی جانے والی مسلح جنگوں سے آتا ہے یا پھر دلوں میں جاگنے والے اس احساس سے کہ "اب مزید ظلم برداشت نہیں کیا جائے گا"؟
جب ہم تاریخ میں چی گویرا Che Guevara کو پڑھتے ہیں تو ہمیں محض ایک گوریلا فائٹر نہیں بلکہ ایک فلسفہ ملتا ہے۔ چی کا ماننا تھا کہ جب تک معاشرے میں اشرافیہ elite غریبوں کا خون چوستی رہے گی تب تک حقیقی آزادی محض ایک دھوکہ ہے۔ اس نے سکھایا کہ استحصال کے خلاف ڈٹ جانا ہی انسان کے زندہ ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

آج اگر آپ آزاد کشمیر کی سڑکوں، چوراہوں اور بازاروں کو غور سے دیکھیں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ وہاں بالکل وہی فلسفہ اور وہی انقلابی نظریہ ایک نئی شکل میں جنم لے رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اکیسویں صدی کا یہ چی گویرا کوئی ایک شخص نہیں ہے جس نے سر پر بیریٹ پہنا ہو اور ہاتھ میں بندوق اٹھائی ہو۔ یہ ایک اجتماعی شعور ہے جو لاکھوں عام انسانوں مزدوروں، طالب علموں، دکانداروں اور وکیلوں کے ذہنوں میں بیدار ہو چکا ہے۔

چی گویرا نے لاطینی امریکہ کے غریب کسانوں کو یہ شعور دیا تھا کہ ان کی زمین اور اس کے خزانوں پر پہلا حق ان کا اپنا ہے۔ آج کشمیر کے عوام بھی اسی شعور کے ساتھ کھڑے ہیں اور ایک بنیادی سوال کر رہے ہیں جن دریاؤں سے پیدا ہونے والی سستی بجلی پورے ملک کو روشن کرتی ہے ان کے وارث اندھیروں کے تلے کیوں دبے رہیں؟

یہ تحریک صرف سستے آٹے یا بجلی کے چند یونٹس کی نہیں ہے۔ یہ دراصل اس استحصالی نظام کے خلاف اعلانِ بغاوت ہے جہاں حکمران، بیوروکریسی اور اشرافیہ کروڑوں کی لگژری گاڑیوں اور مفت پیٹرول کے مزے اڑاتے ہیں اور اس کا بوجھ عام آدمی کی جیب پر ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ چی گویرا کی اسی سوچ کی عکاسی ہے کہ معاشرے میں طبقاتی تفریق ظلم کی بدترین شکل ہے۔

چی کا ماننا تھا کہ غریب اور مظلوم کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ ایک کا دکھ، سب کا دکھ ہے۔ بالکل اسی طرح، آزاد کشمیر سے اٹھنے والی یہ آواز اب صرف مظفرآباد یا راولاکوٹ تک محدود نہیں رہے گی ۔ یہ سوچ پورے پاکستان کے پسے ہوئے طبقے چاہے وہ فیصل آباد کا فیکٹری ورکر ہو، لاڑکانہ کا کسان ہو یا کوئٹہ کا عام شہری سب کے دلوں کے تار چھیڑ ے گی ۔ جس طرح اب تک جن لوگوں کو 12 سیٹوں کے علاوہ اس تحریک کا علم ہوا ہے اُن کا کہنا ہے ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں غریب کا استحصال ہر جگہ ایک جیسا ہے اور ظالم کا چہرہ بھی ایک ہی ہے۔

اُن کے لیے آزاد کشمیر کے عوام ثابت کر رہے ہیں کہ آج کے دور میں حقوق چھیننے کے لیے پرتشدد راستے کی ضرورت نہیں۔ جب ایک پوری قوم کا شہری شعور جاگ جائے، جب لوگ پرامن مزاحمت اور اتحاد کے ساتھ کھڑے ہو جائیں تو بڑی سے بڑی طاقت کو بھی گھٹنے ٹیکنے پڑتے ہیں۔ جس کی بنق اشرافیہ کو ہے اس لیے اُن کی طرف سے اجلت میں ایکسٹریم سٹیپ اُٹھائے گے ہیں جس نے عوام کو مزید ایک کر دیا ہے شہید ہونے والے کشمیریوں نے اس نظریہ کو کشمیریوں کے خون میں شامل کر دیا اور جب کوئی نظریہ عوام کے خون میں شامل ہو جائے تو اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں دبا سکتی۔
اور اگر آزاد کشمیر کے عوام اپنے مقاصد میں کامیاب رہے تو یہ پاکستان میں سسٹم کے نیچے دبے ہوئے عوام کو پیغام دے گی کہ اگر تم ہمت کرو تو منزل دور نہیں ہے ۔
کیا آپ کو لگتا ہے کہ آزاد کشمیر کی یہ شعوری چنگاری پورے پاکستان کے فرسودہ نظام کو بدلنے کا سبب بنے گی؟
توقیر بیگ

17/06/2026

ایلما ہاشمی صاحبہ کے دو اشعار سنے تھے کچھ وقت پہلے
“ہر وسیلے کو زمانے سے جدا سوچتے ہیں
ہم نئی نسل کے بچے ہیں نیا سوچتے ہیں
اتنی فرصت ہی نہیں دیتی غریبی ہم کو
ہم کہاں کچھ کمانے کے سوا سوچتے ہیں “
اس پر اپنے انداز میں ایک شاعری لکھی ہے


۰۔ نیا سوچتے
اپنا سایا بھی اندھیروں میں نگلتی ہے حیات
ہم بھلا کون سی منزل کا پتا سوچتے
سانس چلنے کو ہی ہم زیست سمجھ بیٹھے ہیں
ورنہ جینے کی بھی ہم کوئی ادا سوچتے
ہر وسیلے کو زمانے سے کچھ تو جدا سوچتے
ہم نئی نسل کے بچے تھے کچھ تو نیا سوچتے

اتنی فرصت ہی نہیں دیتی غریبی ہم کو
جو ہم بھی کچھ کمانے کے سوا سوچتے
اگر نہ کھا جاتی ہمیں فکرِ شکم کی دیمک
ہم بھی مٹی کے کھلونے کی بقا سوچتے
مفلسی شب کی طرح چھائی رہی آنکھوں پر
ہم بھلا کیسے ستاروں کی ضیا سوچتے

خونِ ارماں سے رنگے ہیں یہ ہمارے دام
ہم کہاں عید پہ ہاتھوں کی حنا سوچتے
تھک کے گرتے ہیں بچھونے پہ تو سو جاتے ہیں
محبت کرنے کی بھلا کیسے خطا سوچتے
چاکِ دامن کی رفو میں ہی گزری ہے حیات
عشق کے زخموں کی ہم کیا ہی دوا سوچتے
طائرِ جاں جو نہ ہوتا اس قفس کا قیدی
ہم بھی پرواز کو اک تازہ ہوا سوچتے

عمر کٹتی نہ اگر گردشِ ایام کے بیچ
ہم بھی آغاز سے انجامِ فنا سوچتے
عمر گزری ہے فقط خود کو بچانے کے لیے
ہم کہاں اپنے گناہوں کی سزا سوچتے
فاقہ کش کو تو فقط روٹی خدا لگتی ہے
پیٹ بھرتا تو کبھی رب کی رضا سوچتے
کُربِ ہستی چھین نہ لیتی اگر سجدوں کا سکوں
توقیر ہم بھی اس خاک کے پیکر میں خدا سوچتے

ہر وسیلے کو زمانے سے کچھ تو جدا سوچتے
ہم نئی نسل کے بچے تھے کچھ تو نیا سوچتے
اتنی فرصت ہی نہیں دیتی غریبی ہم کو
جو ہم بھی کچھ کمانے کے سوا سوچتے
توقیر بیگ

16/06/2026

Sadly, Indian Sub-Continent don’t deserve this Heaven 🥲

16/06/2026

ہماری جمہوریت

16/06/2026

اگر حق لینے کی بیداری کو غداری سمجھتے ہو تو غدار ہیں ، غدار ہیں ، غدار ہیں ہم ۔

09/08/2025

یہ دنیا خون کی پیاسی نہ ہوتی
کچھ تو ضرور ہونا چاہیئے تھا
جو خواب ہم نے آزادی میں دیکھا
وہ بھی منظور ہونا چاہیئے تھا
عدالت میں سچ کو جگہ ملتی
کوئی منصور ہونا چاہیئے تھا
رشوت کے بازار ٹھنڈے پڑ جاتے
عدل مشہور ہونا چاہیئے تھا
ظلمت کے اندھیروں میں بھی کبھی
توقیر چراغ بھرپور ہونا چاہیئے تھا
جو روٹی سب کے ہاتھ میں آتی
وہ دست بھر دور ہونا چاہیئے تھا
؀ توقیر بیگ

27/07/2025

اسلام و علیکم !
تمام دوست اور احباب اُمید ہے سب خیریت سے ہوں گے ۔ آج میں جو بات کرنے جا رہا ہوں وہ شمالی باغ میں بستے میرے آبائی گاؤں جبڑ اور اس کے اطراف کے علاقوں کے تمام باشعور احباب اور بھائیوں سے ایک التماس ہے کہ بچوں کو بچپن جینے دیں ۔
آپ سب جانتے ہیں گرمیوں کا موسم پاکستان کے بڑے شہروں میں قہر سماں ہوتا ہے جبکہ کشمیر کی پُر فزا وادیاں اپنے دامن میں بچوں کی ہر فکر کو سمیٹ لیتی ہیں اِن چند ماہ کے عرصہ میں بچے مال مویشیوں کو چرانے اور کھیل کود کے سلسلے میں پہاڑوں کے چپے چپے کو سر کرتے ہیں اور اپنی جسمانی ورزش کے ساتھ ساتھ ایسی میمریز بناتے ہیں جو آخری سانس تک اُن کی سوچوں کو راحت بخشتی رہتی ہیں ۔
لیکن کچھ وقت سے میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ پہلے کا سما نہیں رہا ہے اب ہم ایک ایسی مسابقتی دوڑ میں لگ چُکے ہیں جس کی فِل وقت کوئی منزل دیکھائی نہیں دے رہی ہے بلکے اِس کی بنیاد “بس ہم، دیکھاوا اور واہ واہ “ کی بھوک وہ دیمک ہے جو جوان چڑھتی کلیوں کو اندر سے کھوکھلا کر دے گی جنہوں نے کل کو ہمارے گاؤں کے رشتوں کی ڈوری سنبھالنی ہے ۔
میں خوش ہوں جس طرح آپ لوگ اپنے گاؤں کے بچوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کیا واقع یہ صرف بچوں کی حوصلہ افزائی ہی ہے ؟
جے ایس ایل ، کے پی ایل اور دیگر نام بڑے وزن دار ہیں لیکن کیا اِن کا وزن اِس پیسے کی دوڑ کو جسٹیفائیڈ کرتا ہے ؟ آخر ہم لوگ ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں ؟
بہت امیر ہیں ؟
بہت پیسے والے ہیں ؟
ایسے پیسے پر تھو ہے جس کے ہوتے ہوئے آج بھی برف کے موسم میں گاؤں کے غریب کی بچیاں پلاسٹک کے جوتوں میں سکول جاتی ہیں اور ایسی امیری پر تھو ہے جو ہم میں “میں “ کو جنم دے ۔
اور کیا سوچا ہے اِس بولی کی سیڑھی سے اُترنے کا کوئی راستہ بھی ہے کیا؟ یا ہر سال چڑھتے ہی رہنا ہے ؟ کوئی بھی شخص اگر تھوڑا بھی عقل لڑائے تو یہ گاؤں کے لیول کی لیگ آنے والے پانچ سو سال بھی خسارے میں ہی رہیں گی -
اگر ہم واقعی کھیل اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی چاہتے ہیں تو ایک بامقصد، دیرپا اور مربوط نظام کی بنیاد رکھنے کی ضرورت ہے
مثال کے طور پر، “شمالی باغ سُپر لیگ” کے نام سے ہر سال ایک باقاعدہ ٹورنامنٹ منعقد ہو، جو ہر سال کسی ایک گاؤں کی ذمہ داری ہو۔ اس میں وقت کے ساتھ بڑے اسپانسرز کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے، اور یوں ایک مثبت ثقافتی روایت قائم ہو سکتی ہے

جب میں گاؤں کے مختلف لوگوں کو سپانسرز بنتے دیکھتا ہوں تو ایک اور اہم خیال ذہن میں آتا ہے کے ہمارے گاؤں کے کتنے نوجوان بے روزگار ہیں یا 20/25 ہزار کی نوکریوں کے دھکے کھا رہے ہیں جو 8/10 لاکھ میں کچھ چھوٹا موٹا بزنس سٹارٹ کر کے خوشحال زندگی گزار سکتے ہیں اور اتنی بڑی رقم اُن کے لیے اگٹھا کرنا ناممکن ہے اگر ادھار مل بھی جائے تو واپس لینے کی گھنٹی اُن کے سر پر ہی رہتی ہے
لیکن اگر ہم 100 بندے مل کر ہر ماہ 1 ہزار کا فنڈ بنائیں تو سال کا 12 لاکھ ہوتا ہے جو ہر سال 2 نوجوانوں کو کاروبار کھڑا کر کے دے سکتا ہے اور وہ نوجوان ایک مناسب قسط ہر ماہ واپس فنڈ میں جما کرواتے رہیں گے
اور یہ ایک ہزار دینے والے کی رقم اُس کی لائف انشورنس / ایک قِسم کی کمیٹی رہے گی جو کسی بھی ہنگامی صورت میں اُس کو واپس مل جائے گی ۔
توقیر بیگ

Vuoi che la tua azienda sia il Società Di Media più quotato a Rome?
Clicca qui per richiedere la tua inserzione sponsorizzata.

Sito Web

Indirizzo

Rome