SpreadIslam
This Page Is only For Islamic Information and Research.
03/10/2026
District Council Public High School 🏫
Session 2002
Pameer Khan Receive awards from Laiq Seed Sb....Buzarg Ahmad Sb Late Showing in Picture
Finder Tariq Babar
03/10/2026
District Council Public High School 🏫
DCPSians 1999
Muhammad Hanif, Muhammad Ibrahim and Gohar Iqbal....
Courtesy Tariq Babar
02/10/2026
District Council Public High School
Fazalullah Sb, Irshad Sb
Sadiq Ullah and Tariq Babar
01/10/2026
نقیب احمد
ولدِ نظیر محمد صاحب
محلہ کلشو، دیر
پراؤڈ ایلومنس — ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر
(تحریر : شاہ خالد خان ہمدانی)
بعض زندگیاں شور سے نہیں، سلیقے سے پہچانی جاتی ہیں۔ نقیب احمد کی کہانی بھی اسی سلیقے کی کہانی ہے: دیر کے محلہ کلشو کی مٹی سے اٹھی، سکول کی صبحوں میں سنوری، اور پھر ان جگہوں تک پہنچی جہاں انسان کی سانس مشینوں کے بھروسے پر ہوتی ہے، اور عام آدمی کا حق قانون کی نگرانی کا محتاج رہتا ہے۔ یہ سفر نمائش کا سفر نہیں، فرض کا سفر ہے—اور فرض جب سچے دل سے نبھایا جائے تو کامیابی خود پیچھے چل کر آتی ہے۔
پہلی فروری انیس سو اٹھاسی کو نظیر محمد صاحب کے گھر جو بیٹا آیا، اسے اس دن کوئی بڑا خطاب نہ ملا؛ ملا تو ایک گاؤں، ایک گلی، اور وہ سادہ ماحول جو انسان کو پہلے انسان بناتا ہے، بعد میں صاحبِ عہدہ۔ دو ہزار پانچ میں جب انہوں نے ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر سے میٹرک پاس کیا، تو صرف کاغذات سیاہ نہیں کیے گئے تھے، عادتیں بھی بنیں تھیں۔ وہاں سبق کے ساتھ وقت کی پابندی سیکھی گئی، استاد کی نظر سے حیا پیدا ہوئی، اور ساتھیوں کی دوستی نے یہ بات سمجھا دی کہ زندگی اکیلے نہیں گزاری جاتی۔ سکول کی گھنٹی اب بھی ان یادوں میں گونجتی ہے جہاں محنت کو شور کی ضرورت نہیں ہوتی۔
پھر راستہ ٹیکنالوجی کی طرف مڑا۔ دو ہزار آٹھ میں گورنمنٹ پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ تیمرگرہ سے ڈی اے ای مکمل ہوا—یہ وہ مرحلہ تھا جہاں تصور ہاتھ کی مہارت سے جا ملا۔ دو ہزار بارہ میں سرحد یونیورسٹی پشاور سے بی ٹیک کی سند نے اس مہارت کو وسعت دی۔ ڈگریاں کاغذ پر لکھی جاتی ہیں، مگر اصل تعلیم یہ ہے کہ آدمی جان لے آلات کس لیے ہوتے ہیں: زیبائش کے لیے نہیں، انسان کی آسانی کے لیے۔
دو ہزار چودہ سے دو ہزار پچیس تک ڈی ایچ کیو ہسپتال دیر بالا میں بائیو میڈیکل انجینئر کی حیثیت سے نقیب احمد گیارہ برس اس دنیا میں رہے جو اکثر نظر نہیں آتی، مگر سب سے زیادہ ضروری ہوتی ہے۔ ہسپتال کا چہرہ ڈاکٹر اور نرس سے پہچانا جاتا ہے، لیکن کمرے کے پیچھے جو مشین مریض کی نبض پڑھتی ہے، جو آلہ تشخیص کو ممکن بناتا ہے، اسے چلانے، سنبھالنے اور درست رکھنے والا بھی اسی زنجیر کا کڑا ہوتا ہے۔ یہ کام تعریف کا طالب نہیں؛ یہ اعتماد کا کام ہے۔ گیارہ سال انہوں نے یہ اعتماد نبھایا۔
آج یہی دل اور یہی دیانت نئے میدان میں کام کر رہے ہیں: سوات میں کنزیومر انسپکٹر کی حیثیت سے۔ جہاں پہلے مشین کا معیار دیکھا جاتا تھا، وہاں اب بازار کا معیار، صارف کا حق اور احتساب کی ذمہ داری دیکھی جا رہی ہے۔ خدمت کا روپ بدل سکتا ہے؛ نیت اگر صاف ہو تو سمت نہیں بدلتی۔
کھیل نے ان کی شخصیت کو نرمی نہیں، توازن دیا۔ بیڈمنٹن صرف شٹل کی اڑان نہیں؛ نظر کی تیزی، قدم کی چوکسی اور فیصلے کی بے باکی بھی ہیں۔ جو میدان میں ہار جیت کو وقار سے قبول کرنا سیکھ لے، دفتر میں بھی گھبراہٹ اسے کم توڑتی ہے۔ اسی کے ساتھ سماجی کام ان کی شناخت کا حصہ رہا ہے۔ عہدہ انسان کو لوگوں سے دور بھی کر سکتا ہے؛ نقیب احمد نے اسے قریب رہنے کا ذریعہ بنایا۔
خوبصورت بات یہ ہے کہ منزل نے آغاز کو حقیر نہیں سمجھا۔ وہ اب بھی اس سکول کے قرض دار ہیں جس نے پہلا حرف سکھایا، ان استادوں کے احسان مند ہیں جنہوں نے صرف سبق نہیں، اندازِ زیست بھی دیا، اور ان ساتھیوں کو نہیں بھولے جن کے ساتھ دیر کی دھول میں ہنسی سانجھی ہوئی تھی۔ ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر نے بنیاد رکھی؛ باقی عمارت انہوں نے علم، صحت کی خدمت، عوامی احتساب، کھیل اور سماجی کام سے اٹھائی۔
یہ کہانی بتاتی ہے کہ محلہ کلشو کا بیٹا بھی ہسپتال کی خاموش ڈیوٹی سے گزر کر عوام کے حقوق کی نگہبانی تک پہنچ سکتا ہے، بشرطیکہ محنت کو نمائش سے زیادہ عزیز رکھا جائے۔ سکول کی بنچ صرف امتحان کی میز نہیں ہوتی؛ وہ کردار کی پہلی نشست ہوتی ہے۔ آج نقیب احمد اسی نشست کی تصدیق ہیں۔
اللہ تعالیٰ انہیں صحت، عزت، نیت کی صفائی اور کام کی برکت عطا فرمائے؛ ان کے والدین کا سایہ قائم رکھے؛ دوستیوں میں وفا باقی رکھے؛ اور علم و عمل کو دیر، سوات، خیبر پختونخوا اور پاکستان کے لیے نفع بخش بنائے۔
آمین
تحریر: شاہ خالد خان
سابق طالب علم — ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر
01/10/2026
District Council Public High School 🏫
Quote of the day ✨️ ❤️
Maker
Tariq Babar
01/10/2026
District Council Public High School 🏫
DCPSians session 1999
Khalid Aziz and Latif ur Rahman
30/09/2026
محمد حنیف
ولدِ محمد اسحاق صاحب
پراؤڈ ایلومنس — ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر
(تحریر : شاہ خالد خان ہمدانی)
بعض لوگ عمارت اس لیے بناتے ہیں کہ تصویر اترے، بعض اس لیے کہ چھت تلے زندگی بیٹھ سکے۔ محمد حنیف انہی میں سے ہیں جنہوں نے دیر کی مٹی سے ہاتھ اٹھایا اور اسلام آباد، پشاور، پنجاب، چترال اور باجوڑ تک اینٹ پہنچا دی۔ ان کی کہانی دفتر کی کرسی نہیں؛ سنگ مرمر کی رگ، یونیورسٹی کا کمرہ، امدادی گھر، اور آج پی ایچ اے کا ٹھیکہ ہے۔ تعمیر ان کے لیے شوق رہی، اور شوق نے کاروبار کی صورت اختیار کر لی۔
انیس سو ننانوے میں ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر بالا سے میٹرک ہوا۔ ایف ایس سی اور بی اے دونوں گورنمنٹ ڈگری کالج دیر بالا سے کیے۔ کچھ لوگ سند کے پیچھے شہر بھاگتے ہیں؛ حنیف نے سند کے بعد کام بھاگا۔ گاؤں پیچھے نہیں چھوٹا، پیچھے رہ کر سہارا بنا۔ کرکٹ اور بیڈمنٹن نے جوانی کو میدان دیا۔ گیند کی ٹائمنگ اور شٹل کی نظر بعد میں سائٹ پر کام آتی ہے—ڈھلان کہاں ہے، وزن کہاں ہے، اور وعدہ کب پورا ہونا ہے۔
دو ہزار تین میں اسلام آباد کے ایچ ایٹ میں جوہری ادارے کو مواد فراہم کیا۔ یہ جملہ سن کر آدمی ٹھہر جاتا ہے۔ دیر کا بیٹا، ابتدائی کاروبار، اور اتنی بڑی جگہ تک سپلائی۔ اعتبار راتوں رات نہیں بنتا؛ وزن درست ہو، وقت پر پہنچے، اور بات ایک رہے۔ سنگ مرمر کی صنعت میں تجربہ ان کا خاص سرمایہ رہا۔ مرمر صرف خوبصورتی نہیں ہوتا؛ صبر ہوتا ہے—پتھر کاٹنا، رگڑنا، جوڑنا، اور رنگ پہچاننا۔ جو مرمر سنبھال لے، وہ دیوار کا مزاج بھی سمجھ لیتا ہے۔
دو ہزار سات میں جامعہ پشاور کے شعبہ آثار قدیمہ کی تزئین و آرائش، اور شعبہ حیوانیات کی تعمیر۔ یونیورسٹی کی اینٹ عام اینٹ سے مختلف لگتی ہے؛ وہاں ماضی بھی رکھا ہوتا ہے، اور تجربہ گاہ کا مستقبل بھی۔ دو ہزار تیرہ میں مالاکنڈ ڈیولپمنٹ پروگرام دیر بالا کے ساتھ تعمیراتی کام۔ دو ہزار سولہ اور سترہ میں یونیسیف کے ساتھ دیر بالا، چترال زیریں اور باجوڑ میں تعمیر۔ امداد جب اینٹ بن جائے تو کہانی بدل جاتی ہے: اب فائل نہیں، گھر ہے۔ دو سو سے زیادہ مکانات پشاور، اسلام آباد، پنجاب اور دیر بالا میں بنے۔ گھر گننا آسان ہے؛ ہر گھر کے پیچھے ایک چولہا مشکل ہے۔
آج وہ پی ایچ اے کے ساتھ ٹھیکیدار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ یہ نیا باب پرانی عادت کا تسلسل ہے—عوامی رہائش، پیمانہ، اور وہی پرانا امتحان کہ کام دکھنے میں کتنا ہے اور نکلنے میں کتنا۔ کاروبار اپنا ہے، مگر کام اکثر ریاست اور اداروں کے ساتھ جڑا رہا: جوہری ادارہ، جامعہ، ترقیاتی پروگرام، یونیسیف، پی ایچ اے۔ اس فہرست میں دکھاوا کم ہے، ڈیوٹی زیادہ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ منزل نے گاؤں کو معاف نہیں کیا، یاد رکھا ہے۔ محمد اسحاق صاحب کا بیٹا سیرئی سے نکلا، میٹرک دیر سے کیا، کالج بھی دیر میں پڑھا، اور تعمیرات کی دنیا میں نکل کر بھی کرکٹ کی سی سادہ ہمت ساتھ رکھے۔ جو آدمی دو سو گھر بنا دے، اسے صرف ٹھیکیدار نہ کہا جائے؛ اسے بستیوں کا ہاتھ کہا جائے۔
ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر کے لیے محمد حنیف انیس سو ننانوے کے میٹرک کا صرف ایک نام نہیں۔ وہ اس مثال ہیں کہ بڑے کیمپس کی سند کے بغیر بھی بڑے کیمپس کی دیوار اٹھائی جا سکتی ہے، اگر ہاتھ سچے ہوں اور مواد کھرا ہو۔ سکول نے حرف دیا؛ باقی عمارت انہوں نے خود جوڑی—پتھر سے، مرمر سے، اور اعتبار سے۔
اللہ تعالیٰ محمد حنیف کو صحت، عزت، حلال رزق اور سلامتی عطا فرمائے؛ والدین کا سایہ قائم رکھے؛ ٹھیکوں میں امانت باقی رکھے؛ اور دیر، خیبر پختونخوا اور پاکستان کی زمین پر ان کے ہاتھ کی بنی ہوئی چھتوں کو برکت دے۔
آمین
تحریر: شاہ خالد خان
سابق طالب علم — ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر
30/09/2026
District Council Public High School 🏫
Quote of the day ✨️ ❤️
Maker Tariq Babar
30/09/2026
District Council Public High School 🏫
Event 1993,94
Badar Munir Receiving Award from Fazal Ullah Sb and DCO
Session 1995
Courtesy Tariq Babar
Category
Contact the place of worship
Telephone
Website
Address
Dir
Alerts
Be the first to know and let us send you an email when SpreadIslam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.