Current GB

Current GB

Share

We Provide Daily Updates (GB) Pakistan

24/09/2026

شاہراہ قراقرم
گلگت بلتستان سے راولپنڈی کی جانب سفر کرنے والے مسافر و سیاح متوجہ ہوں ہزارہ موٹر وے تمام ٹریفک کے لیے بند کرنے کی اطلاع ہیں۔

14/09/2026

حلقہ جی بی 16 دیامر 2 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار عطاء اللہ 13 ووٹوں سے جیت گئے ۔۔۔

10/09/2026

لوکل گورنمنٹ کے چھ سو سے زائد ملازمین کو صوبائی کابینہ کی منظوری سے جلد مستقل کیا جائے گا۔
وزیر اعلی گلگت بلتستان

Photos from Current GB's post 05/09/2026

غذر۔۔
ضلع غذر کے تحصیل اشکومن میں گزشتہ رات ہونے والی شدید بارش کے باعث نوبہار ، بارجنگل کے مقام پر سیلاب نے تباہی مچا دی۔ سیلابی ریلے کی زد میں آکر گشگش جماعت خانہ منہدم ہوگیا، جبکہ مظفر حسین ولد صدر علی کا نیا مکان مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ خوش قسمتی سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
سیلاب کے باعث مزید تین افراد کی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں جبکہ پھل دار درختوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ مختلف مقامات پر تقریباً نو جگہوں پر سڑکیں مکمل طور پر بلاک ہوگئی ہیں، جس کے باعث آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔
نوجوان قیادت عاطف سلمان نے صبح سویرے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا، متاثرین سے ملاقات کی اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا۔
انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ سڑکوں کی فوری بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں اور سیلاب متاثرین کے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے فوری امداد فراہم کی جائے۔

02/09/2026

*گلگت بلتستان پاکستان میں ایک یتیم کی کہانی*
*میری زمین، میرا حق اور انصاف کے لیے 52 سال کی جدوجہد*

میں ریاستِ پاکستان کا ایک وفادار شہری ہوں۔ آج میں اپنی زندگی کی وہ دردناک داستان آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں جو 1974ء سے شروع ہوئی اور آج 2026ء تک جاری ہے۔
یہ صرف میری کہانی نہیں ہے۔ یہ ہر اس عام شہری کی کہانی ہے جس کی زمین حکومت کسی اسکول، سڑک یا منصوبے کے لیے لے لیتی ہے اور پھر معاوضہ دینا بھول جاتی ہے۔

*1. 1974ء: زمین لی گئی، معاوضہ نہ ملا*
گاہکوچ ہائی اسکول کے لیے میرے والد محترم کی *7 کنال 11 مرلہ* زمین حاصل کی گئی۔ باقاعدہ ایوارڈ بنا۔ 15 سو روپے فی کنال جبریانہ سمیت کل *17,365 روپے* مقرر ہوئے۔
لیکن ایوارڈ بننے کے باوجود ایک روپیہ بھی ادا نہ ہوا۔

*2. 1990ء: والد کا انتقال اور 11 سال کے یتیم کی جنگ*
1990ء میں میرے والد کا انتقال ہوا۔ میں اس وقت 11 سال کا تھا اور گھر کا سب سے بڑا بیٹا۔
اس کے بعد میری زندگی کا مقصد صرف ایک جملہ بن گیا:
*"میرے مرحوم والد کی زمین کا معاوضہ کہاں ہے؟"*
اگلے 10 سال میں گلگت، سکردو اور غذر کے ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، تحصیلدار، پی ڈبلیو ڈی اور ایجوکیشن کے دفاتر کے چکر کاٹتا رہا۔

*3. 2000ء سے 2013ء: حق تسلیم ہوا، رقم نہ ملی*
2000ء میں الحمدللہ تمام سرکاری ریکارڈ مل گیا۔ میں نے چیف سیکرٹری کو درخواست دی۔ 10 سال تحقیقات چلیں۔
2010ء میں ایجوکیشن اور ڈپٹی کمشنر غذر نے سیکرٹری لاء کو خط لکھا۔
2013ء میں آخرکار محکمہ قانون نے مارکیٹ ریٹ پر *30 لاکھ 39 ہزار روپے* ادا کرنے کی ہدایت کی۔
لیکن رقم پھر بھی نہ ملی۔ معاملہ اے ڈی پی فائل نمبر 56 تک گیا، لیکن فائل بند رہی۔

*4. احتجاج سے لے کر بیانِ حلفی تک*
مایوسی میں مجھے اسکول کو تالا لگانا پڑا۔ 2 گھنٹے مذاکرات کے بعد تالا کھولا۔ سیکرٹری ایجوکیشن کی ہدایت پر دوبارہ پی سی ون بنا۔ 2013ء کے ریٹ پر 30 لاکھ 39 ہزار پھر تسلیم ہوا۔
2019-20ء میں کیس اے ڈی پی میں شامل ہوا۔ سابق رکن اسمبلی فدا خان فدا صاحب نے بھی معاونت کی۔ لیکن ادائیگی پھر التوا کا شکار ہوگئی۔

*5. وزیرِ اعظم سے اسپیکر تک*
میں نے معاملہ وزیرِ اعظم عمران خان کے پورٹل پر بھی رکھا اور ان سے ذاتی ملاقات بھی ہوئی۔ نوٹس کے بعد کام تیز ہوا، پھر حکومت بدلی اور فائل دوبارہ بند ہوگئی۔
2024-25ء میں اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی جناب نذیر احمد صاحب نے نوٹس لیا۔ ریکارڈ دیکھ کر فرمایا: *"اب اس شخص کا حق ادا کیا جائے"*۔
فائل نمبر 761، 2024-25ء کا پی سی ون بنا۔ جون میں ادائیگی کی یقین دہانی ہوئی۔ لیکن وعدہ وفا نہ ہوا۔ ساتھ عدالت سے کیس واپس لینے کی شرط بھی لگا دی گئی۔

*6. آج 2026ء: معاملہ عدالت میں*
آج تمام CTC ریکارڈ عدالت میں ہے۔ میں نے نہ خیرات مانگی ہے نہ احسان۔ میں صرف اپنے والد کی اس زمین کا جائز معاوضہ مانگ رہا ہوں جو سرکاری اسکول کے لیے لی گئی تھی۔

*گلگت بلتستان کے عوام کے نام میرا پیغام*
اگر کل حکومت آپ کی زمین اسکول، سڑک یا ہسپتال کے لیے مانگے تو *پہلے تحری معاوضہ اور ادائیگی کا ثبوت لیں*۔ زمین بعد میں دیں۔
ورنہ آپ کے ساتھ بھی وہی ہوگا جو میرے ساتھ ہوا:
*بچپن، جوانی اور آدھی عمر اپنے والد کے حق کے لیے دفتروں کے چکر کاٹتے گزر جائے گی۔*

26 سال سے میں یہ سوال لے کر پھر رہا ہوں:
*"کیا ایک عام پاکستانی کو اپنی زمین کا معاوضہ لینے کے لیے نصف صدی انتظار کرنا پڑے گا؟"*

میں حکومتِ پاکستان، حکومتِ گلگت بلتستان، عدلیہ اور تمام اداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ سرکاری ریکارڈ کی روشنی میں فوری، شفاف اور انصاف پر مبنی فیصلہ کر کے میرا جائز حق ادا کیا جائے۔

*اللہ تعالیٰ ہمیں حق کہنے اور حق دلانے کی توفیق دے۔ آمین*
*والسلام*
*محمد احمد بروشو*
0315-6819224 / 0355-5279224
تاریخ: 01 ستمبر 2026

01/09/2026

غذر:
اسسٹنٹ کمشنر پونیال اشکومن کی دفتر سے غیر حاضر رہنا معمول بن گیا، دور دراز کے سائلین سخت مشکلات کررہے ہیں کئی بار شکایات کے باوجود اسسٹنٹ کمشنر کی عدم دستیابی سائلین کی مشکلات ایک جانب جبکہ دوسری طرف محکمانہ امور کی انجام دہی میں مشکلات در پیش ہیں، عوام پونیال اشکومن نے منتخب نمائندوں اور اعلیٰ حکام بلخصوص وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

31/08/2026

پریس ریلیز*
*موضوع: گاہکوچ ہائی سکول گراؤنڈ کے زمینی تنازعہ کا حل*

گاہکوچ ہائی سکول گراؤنڈ کے زمین کے حوالے سے جو تنازعہ زیرِ بحث تھا، اس کے حل کے لیے متعلقہ فریقین کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کیے گئے۔

الحمدللہ مذاکرات کامیاب رہے۔ زمین مالک نے گراؤنڈ میں کھیلوں کی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اصولی اجازت دے دی ہے۔

اس موقع پر ضلع غذر فٹبال ایسوسیشن کا صدر حافظ عبد الرحیم *نمبردار گاہکوچ سٹی جناب عنایت شاہ صاحب*، *مرحوم سلطان مدد کے صاحبزادے جناب سلطان حمید صاحب* اور معروف سماجی کارکن *جناب محمد ایوب صاحب* کی موجودگی میں تمام امور طے پائے۔

زمین مالک کا مؤقف ہے کہ اگر ضلعی انتظامیہ باضابطہ اجازت دے تو انہیں کھیل کی سرگرمیوں پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

لہٰذا متعلقہ حکام سے گزارش ہے کہ طلبہ اور علاقے کے نوجوانوں کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے گراؤنڈ کے استعمال کی جلد از جلد اجازت صادر فرمائی جائے۔۔۔

31/08/2026

حکومتِ گلگت بلتستان سے ہنگامی اپیل

میرا نام طارق وزیر ہے اور میرا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔ میں اپنے دوستوں کے ہمراہ گاڑی نمبر BMG-115 پر گلگت سے اسلام آباد جا رہا تھا۔

جب ہم بابوسر ٹاپ پہنچے تو تقریباً 10 مسلح افراد نے ہماری گاڑی کو روکا اور اسلحے کے زور پر ہمیں لوٹ لیا۔ ڈاکو ہماری تمام قیمتی اشیاء کے ساتھ میرا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ (CNIC) بھی لے گئے۔

میری 2 ستمبر کو بیرونِ ملک پرواز ہے، کیونکہ مجھے اپنی تعلیم کے سلسلے میں بیرونِ ملک سفر کرنا ہے۔ اس وقت میرے پاس نہ پاسپورٹ ہے اور نہ ہی شناختی کارڈ، جس کی وجہ سے میں شدید پریشانی اور ذہنی اذیت میں مبتلا ہوں۔ اگر بروقت دستاویزات نہ مل سکیں تو میری پرواز کے ساتھ ساتھ میری تعلیم بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

میں حکومتِ گلگت بلتستان، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ اداروں سے پُرزور اپیل کرتا ہوں کہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، اور مجھے ایمرجنسی/متبادل پاسپورٹ اور ضروری سفری دستاویزات کے حصول میں فوری مدد فراہم کی جائے تاکہ میں اپنی تعلیم کے سلسلے میں مقررہ وقت پر بیرونِ ملک سفر کر سکوں۔

ساتھ ہی میڈیا سے بھی اپیل ہے کہ اس افسوسناک واقعے کو اجاگر کرے تاکہ بابوسر ٹاپ پر مسافروں کی سکیورٹی کی صورتحال حکام کے نوٹس میں آئے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

یہ میرے لیے انتہائی ہنگامی اور زندگی کے ایک اہم مرحلے سے متعلق معاملہ ہے۔ براہِ کرم میری فوری مدد کی جائے۔

31/08/2026

---
بخدمت جناب
ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس، گلگت بلتستان
موضوع: ہائی اسکول گاہکوچ کی زمین کے معاملے میں غیر قانونی قبضہ/ایونٹ روکنے کی درخواست
جنابِ عالی
گذارش ہے کہ میں محمد احمد بروشو ساکن گاہکوچ، ضلع غذر ہوں۔ میری ملکیت والی زمین پر گورنمنٹ ہائی اسکول گاہکوچ قائم ہے۔ اس زمین کا تنازہ پچھلے کٸ سال سے زیر التوا ہے۔
جناب والا! اسکول انتظامیہ کے ساتھ پہلے یہ زبانی معاہدہ طے پایا تھا کہ
صرف تعلیمی سرگرمیاں ہوں گی تاکہ بچے تعلیم، کھیل اور ورزش کر سکیں۔ یہ ہمارے علاقے کا مستقبل ہیں۔
ادائیگی ہونے تک زمین پر کوئی پرائیویٹ /ایونٹ یا غیر نصابی سرگرمی، زمین مالک یعنی میری اجازت کے بغیر نہیں ہوگی
لیکن اب اطلاع ملی ہے کہ زمین پر پرائیویٹ ایونٹس کیے جا رہے ہیں جو معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ اس پر پہلے بھی جھگڑا ہو چکا ہے
میں نے موجودہ ڈپٹی کمشنر صاحب غذر کو سوشل میڈیا کے ذریعے بھی درخواست دی ہے کہ پیمنٹ ہونے تک صرف تعلیم کی اجازت دی جائے۔
لہذا جناب سے عاجزانہ گزارش ہے کہ
انتظامیہ اور پولیس محکمہ کو ہدایت فرمائیں کہ ادائیگی ہونے تک میری زمین پر سکول انتظامیہ کو میری اجازت کے بغیر کوئی پرائیویٹ ایونٹ یا فنکشن کرنے کی اجازت نہ دی جائے
آپ کی مہربانی ہو۔
عرض گزار
محمد احمد بروشو
ساکن۔گاہکوچ ضلع غذر 03156819224
تاریخ: 31-08-2026

Category

Website

Address

Gilgit