Gilgit Media Network
They do not necessarily reflect the views of opinions or policies of GMN. We are not responsible for the content of external sites.
Disclaimer: The Opinion and/or views expressed on our digital media platforms are solely those of the respective authors, contributors, or individuals expressing them. Disclaimer: The opinions and/or views expressed on our social media platforms, including, but not limited to, any blogs, Facebook, Twitter and YouTube pages, represent the thoughts of individual bloggers, guests and online/offline communities, and not those of Gilgit Media Network GMN or any of its officers, staff or employees. The opinions and/or views expressed on these pages do not in any way reflect the views of GMN they are posted on, other sites affiliated with the site, the staff involved in maintaining the site or any members of the site. All links to other sites found linked from our social media sites are provided only as a service to users. Such linkage does not constitute endorsement by GMN of those sites, or of any information, product or service depicted on those sites. GMN social media sites, may, from time to time, invite you to contribute to debate or comment on matters or issues by submitting your views, opinions, comments or information. By doing so, you agree to your views, opinions or comments being made public though GMN’s social media sites immediately upon posting. You also agree that once information is posted or provided, GMN cannot necessarily control other parties’ use of it. Your information may move outside of Vicinity. For example, social media sites are accessible from anywhere globally. Your providing of any such information is to be considered consent for such moving of that information and use.
میں نے پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو سے متاثر ہو کر جوائن کی، گلگت بلتستان کے رہنماؤں سے نہیں۔ حافظ حفیظ الرحمن گزشتہ وزرائے اعلیٰ میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے بہترین تھے، سینیئر رہنما پیپلز پارٹی وزیر تاجور کی خالد حسین کے پروگرام میں تفصیلی گفتگو۔
گلگت بلتستان میں گیس اوگرا ریٹ کوٹے کے بغیر مقررہ نرخوں پر فراہمی کیسے ممکن؟
گیٹکو کے سی ای او حاجی عبدالعلیم نے صوبائی حکومت سے گیس کوٹہ مختص کروانے میں کردار ادا کرنے کا مطالبہ کردیا
گلگت: سخت اور مشکل حالات کے باوجود گلگت بلتستان کے عوام کو بلا تعطل گیس کی فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم نہ حکومت کی جانب سے اس اقدام کو پذیرائی ملی اور نہ ہی عوامی حلقوں کی طرف سے خاطر خواہ حوصلہ افزائی کی گئی۔
گیٹکو گیس کمپنی کے سی ای او حاجی عبدالعلیم نے جی ایم این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اوگرا کی جانب سے مقرر کردہ نرخوں پر گلگت بلتستان میں گیس فراہم کرنا اس وقت ممکن نہیں، کیونکہ گلگت بلتستان کے لیے مختص کوٹے میں سے ایک کلو گیس بھی کمپنی کو نہیں مل رہی۔
حاجی عبدالعلیم کا کہنا تھا کہ اگر صوبائی حکومت گلگت بلتستان کے لیے باقاعدہ گیس کوٹہ مختص کروانے میں اپنا کردار ادا کرے تو عوام کو گیس کی قیمت اور دستیابی کے حوالے سے مزید ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ گیس کی مسلسل فراہمی کے لیے صرف نرخ مقرر کرنا کافی نہیں، بلکہ گلگت بلتستان کے لیے باقاعدہ کوٹہ مختص ہونا بھی ضروری ہے۔
گیٹکو کے سی ای او نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام کو درپیش گیس کے مسئلے کے مستقل حل کے لیے وفاقی سطح پر گلگت بلتستان کا گیس کوٹہ مختص کروانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ اب تک جو گیس آرہی ہے وہ خود کرایہ دیکر گلگت بلتستان پہنچایا جارہا ہے۔
گلگت بلتستان میں حالیہ مون سون بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے کتنی تباہی ہوئی؟ جانیے مکمل تفصیلات شکیل عالم کی اس خصوصی رپورٹ میں۔
بچو ں کو بھیک دینا — مدد یا مستقبل کی تباہی؟
سڑکوں پر بھیک مانگتے بچ ے صرف غربت کی نہیں بلکہ بچ وں کے تحفظ کے ایک سنگین مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایسے بچ ے استحصال، تشدد، منشیات، اسمگلنگ اور جرائم کا شکار بن سکتے ہیں۔
بچ ے بھیک کے نہیں، تعلیم، تحفظ اور بہتر مستقبل کے حق دار ہیں۔
" بزمِس جیک راس ؟ "
پیشنگوئی تھی یا امید ؟ " اجو کال پی پیئ حکومت ہئن شُوا " گلگت بلتستان 2026 الیکشن میں ایڈوکیٹ امجد حسین آذر موجودہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے اک ڈائیلاگ " بزمس جیک راس " سے شہرت پانے والے شاعر و گلوکار غلام عباس بزمی " بِردیئی تارے " میں جلوہ گر ۔۔۔۔
سوشل میڈیا پر وائرل وڈیو عوام میں شدید غم و غصہ۔درندہ صفت ملزم کی فوری گرفتاری اور قانون کے مطابق سخت ترین سزا کا مطالبہ
کیا گلگت کا خونریز بادشاہ آج بھی زندہ ہے؟
شری بدت حقیقت یا افسانہ
09/08/2026
ہر خبر ایک جیسی نہیں ہوتی
گلگت بلتستان میں صحافت کا ایک سنجیدہ مسئلہ یہ بھی ہے
کہ اکثر صحافی خبر اور حساس خبر کے فرق کو سمجھے بغیر ہر واقعے کو ایک ہی صحافتی پیمانے سے رپورٹ کرتے ہیں۔
بجلی کی لوڈشیڈنگ۔
سیاسی بیان۔ روڈ حادثہ۔ تشدد اور کسی بچے کے جنسی استحصال کی خبر ایک ہی نوعیت کی خبریں نہیں۔
ہر واقعے کی اپنی ایڈیٹوریئل سینسیٹویٹی اور اخلاقی ذمہ داری ہوتی ہے۔
خصوصا بچوں کے جنسی استحصال یا تشدد سے متعلق خبر میں صحافی کا مقصد صرف واقعہ بریک کرنا نہیں
بلکہ بچے کے وقار۔ عزت نفس ۔ رازداری اور تحفظ کو مقدم رکھنا ہے۔
ایسی رپورٹنگ کے لئے CSJ۔ TIJ۔ NSR جیسے بنیادی اصولوں کو سمجھنا ضروری ہے۔
ایسی خبر میں بچے کا نام
تصویر۔ گھر۔ اسکول۔محلہ
خاندان یا ایسی کوئی تفصیل شائع نہیں ہونی چاہئے جس سے اس کی شناخت ظاہر ہو سکے۔
خبر میں غیر ضروری جنسی تفصیلات جذباتی زبان۔ اشتعال انگیز سرخیاں اور سینسیشنلزم سے مکمل گریز ہونا چاہیے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر اوقات صحافیوں کی سنسنی خیزی خبر سے زیادہ نقصان پیدا کرتی ہے۔
ایک ایسا بچہ جو پہلے ہی جنسی استحصال اور صدمے سے گزر چکا ہوتا ہے
میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے نتیجے میں دوبارہ سماجی دباؤ۔ بدنامی۔ تمسخر اور نفسیاتی اذیت کا سامنا کر سکتا ہے۔
بعض اوقات ایک تصویر ایک نام یا محلے کی معمولی سی شناخت بھی بچے کی پوری زندگی پر اثر ڈال سکتی ہے۔
صحافت کا کمال یہ نہیں کہ صحافی سب کچھ نشر کر دے۔
کمال یہ ہے کہ وہ یہ فیصلہ کر سکے کہ عوام کو کیا بتانا ضروری ہے اور متاثرہ بچے کو کس چیز سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
ویوز اور لائکس کی دوڑ میں اگر ہم بچے کی عزت نفس۔ رازداری اور مستقبل داؤ پر لگا دیں تو ہم خبر تو دے رہے ہوتے ہیں مگر صحافت نہیں کر رہے ہوتے۔
فخر عالم
08/08/2026
گلگت: (پ ر)چیف جسٹس گلگت بلتستان چیف کورٹ جسٹس علی بیگ اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ کے درمیان چیف جسٹس چیمبر میں ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر جسٹس جوہر علی خان اور جسٹس مشتاق محمد بھی موجود تھے۔ملاقات میں گلگت بلتستان کے عدالتی و ادارہ جاتی امور، بار و بینچ کو درپیش مسائل، عدالتوں کی ضروریات اور عوام کو بروقت، سستا اور مؤثر انصاف فراہم کرنے سمیت مختلف اہم معاملات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔جسٹس علی بیگ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی عدلیہ آزاد اور خودمختار ہے اور آئین و قانون کے مطابق فیصلے کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ محدود وسائل اور ججز و عدالتی عملے کی شدید کمی کے باوجود عدالتیں عوام کو سستا، فوری اور معیاری انصاف فراہم کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ عدالتی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جا رہا ہے، جبکہ نظامِ انصاف کو مزید مؤثر بنانے کے لیے افرادی قوت، وسائل اور دیگر ضروریات پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔گفتگو کے دوران عدالتوں میں دستیاب وسائل، ججز اور عدالتی عملے کی کمی، بنیادی سہولیات، عدالتی امور میں بہتری اور عوام کو انصاف کی فراہمی کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے حوالے سے مختلف امور زیرِ غور آئے۔ بار و بینچ کے مسائل کے حل، باہمی تعاون، مؤثر رابطہ کاری اور آئینی حدود کی پاسداری کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔وزیراعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ حکومت گلگت بلتستان کے عدالتی نظام کو درپیش مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کے حل کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں گے۔ عوام کو بروقت اور سستا انصاف فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، جبکہ مضبوط نظامِ عدل معاشرے میں امن، رواداری، بھائی چارے اور قانون کی بالادستی کے قیام میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد، مضبوط اور مؤثر عدالتی نظام قانون کی حکمرانی، شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور عوام کے عدلیہ پر اعتماد کے لیے ناگزیر ہے۔ حکومت عدلیہ کو درپیش جائز مسائل کے حل، عدالتی ڈھانچے کی بہتری اور عوام کو فوری و مؤثر انصاف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ کو گلگت بلتستان میں عدالتی امور، عدالتوں کو درپیش مسائل، دستیاب وسائل اور دیگر ضروریات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انہیں بتایا گیا کہ محدود وسائل کے باوجود عدالتیں اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری آزادی اور خودمختاری کے ساتھ انجام دے رہی ہیں اور قانون کے مطابق فیصلوں کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔چیف کورٹ اور ماتحت عدالتوں کے زیرِ تعمیر و زیرِ تکمیل ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بھی وزیراعلیٰ کو تفصیلی آگاہ کیا گیا۔ اس پر وزیراعلیٰ امجد حسین نے منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کے لیے درکار وسائل کی فراہمی اور دیگر ضروری اقدامات کے سلسلے میں سیکریٹری قانون کو ہدایات جاری کیں۔وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت عدلیہ کو درپیش جائز مسائل کے حل، عدالتی ڈھانچے اور بنیادی سہولیات کی بہتری اور عوام کو فوری و مؤثر انصاف کی فراہمی کے لیے بھرپور تعاون جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیحات میں نظامِ عدل کو مضبوط بنانا، قانون کی حکمرانی یقینی بنانا اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ شامل ہے۔ملاقات کے اختتام پر چیف جسٹس گلگت بلتستان چیف کورٹ جسٹس علی بیگ نے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ کو یادگاری شیلڈ پیش کی۔ وزیراعلیٰ نے چیف جسٹس اور چیف کورٹ کی جانب سے پرتپاک استقبال اور ملاقات پر شکریہ ادا کیا۔
جاری کردہ
بہادر جمیل
پبلک ریلیشن آفیسر
جی بی چیف کورٹ گلگت
مورخہ 8 اگست 2026
بلدیاتی انتخابات کب ہوں گے؟ غیر قانونی مائننگ پر پابندی اور سردیوں میں بجلی کا نظام کیسا ہوگا؟ دیکھیے سینئر صحافی منظر شگری کا طاہر رانا کے پروگرام ’’مذاکرات‘‘ میں تفصیلی تجزیہ۔
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
15100