Hum Tum
👉 “Promote your brand or service with us! Contact for ads & sponsorships.”
Super, Funny video
"روبوٹ بھی پاکستان کا بجلی کا بل دیکھ کر بھیک مانگنے لگا! 😂
"Even a Robot Started Begging After Seeing Pakistan's Electricity Bill! 😂⚡"
---
سوچیے اگر ایک روبوٹ صرف اپنی بیٹری چارج کرنے پاکستان آ جائے، اور پھر بجلی کا بل دیکھ کر سڑک پر لوگوں سے کہنے لگے: "اللہ کے واسطے کچھ دے دو!" 😂
یہ صرف مزاح نہیں بلکہ بڑھتے ہوئے بجلی کے بلوں اور مہنگائی پر ایک طنزیہ پیغام بھی ہے۔ اگر آپ بھی اس صورتحال سے اتفاق کرتے ہیں تو ویڈیو کو لائک کریں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور اپنی رائے ضرور دیں۔
Imagine a robot visiting Pakistan just to charge its battery, but after receiving the electricity bill, it starts begging on the streets saying, "Please help me!" 😂
This humorous skit is also a satire on rising electricity bills and inflation. If you enjoyed the message, don't forget to Like, Share, and Comment.
روبوٹ، بجلی کا بل، پاکستان، مہنگائی، طنز، مزاح، کامیڈی، لوڈشیڈنگ، عوامی مسائل، بجلی کے یونٹس، فنی ویڈیو، سوشل میڈیا، وائرل ویڈیو، حالات حاضرہ، مزاحیہ کلپ
---
Robot, Electricity Bill, Pakistan, Inflation, Comedy, Satire, Funny Video, Viral Content, Power Bills, Public Issues, Humor, Entertainment, Trending, Social Media, Comedy Skit
🌍 Universal Hashtags
اللہ پتہ نہیں اج کل کے لوگوں کو کیا ہو گیا ہے
سرِعام ظلم... مگر انسانیت کہاں سو گئی؟
Public Violence, Silent Crowd – Where Is Humanity?
ایک بے بس عورت کو سرِعام تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، مگر لوگ صرف تماشائی بنے کھڑے ہیں۔ ظلم چاہے کسی پر بھی ہو، خاموشی کبھی اس کا حل نہیں۔ آئیے انسانیت، ہمدردی اور بروقت مدد کا پیغام عام کریں۔
A helpless woman is being assaulted in public while people stand by and watch. Violence against anyone should never be ignored. Let this be a reminder to promote humanity, compassion, and the courage to help or seek assistance when it is safe to do so.
عورت پر تشدد
انسانیت
ظلم
خاموش تماشائی
عوامی مقام
سماجی شعور
خواتین کا تحفظ
انصاف
Violence Against Women
Humanity
Public Assault
Silent Bystanders
Social Awareness
Women's Safety
Justice
Human Rights
11/07/2026
مجھے کون سا ہنر سیکھنا چاہیے جس سے میں پاکستان میں رہ کر ماہانہ1 کروڑ کما سکوں؟
مشورہ دیں⏬⏬⏬
08/07/2026
وہ سلطان جس کے خزانے میں کفن کے پیسے بھی نہ تھے !
رات کی تاریکی شام کے شہر دمشق پر اتر چکی تھی۔ اموی مسجد کے قریب ایک خاموش سی قبر صدیوں سے آنے والوں کو ایک ہی سبق دے رہی تھی۔ نہ سونے کا گنبد، نہ جواہرات سے مزین مزار، نہ شاہانہ تزئین و آرائش۔
یہ قبر تھی اس فاتح کی... جس کے نام سے کبھی یورپ کے بڑے بڑے جرنیل لرز اٹھتے تھے۔
وہی سلطان جس نے بیت المقدس کو صلیبیوں کے قبضے سے آزاد کرایا۔
وہی مردِ مجاہد...
سلطان صلاح الدین ایوبیؒ۔
کہتے ہیں ایک نوجوان سیاح نے قبر کے سامنے کھڑے ہو کر حیرت سے پوچھا:
"کیا واقعی دنیا کے اتنے عظیم سلطان کی قبر اتنی سادہ ہو سکتی ہے؟"
ساتھ کھڑے ایک بزرگ مسکرائے اور بولے:
"بیٹا! صلاح الدین کی عظمت اس قبر میں نہیں، اس کردار میں تھی جو وہ اپنے رب کے لیے لے کر آیا تھا۔"
یہ سن کر نوجوان خاموش ہو گیا۔
سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے اپنی پوری زندگی ایک اصول پر گزاری:
"بادشاہی اللہ کی امانت ہے، عیش و عشرت کا ذریعہ نہیں۔"
وہ محلوں میں رہ سکتے تھے، مگر سادہ زندگی اختیار کی۔
وہ دنیا کے امیر ترین حکمران بن سکتے تھے، مگر بیت المال کو اپنی ذاتی دولت نہ بنایا۔
وہ چاہتے تو سونے کے تخت پر بیٹھتے، مگر اکثر راتیں اللہ کے حضور دعا میں گزارتے تھے۔
پھر وہ دن آیا جب 1193ء میں دمشق کی فضا سوگوار ہو گئی۔
فاتحِ بیت المقدس اپنے رب کے حضور حاضر ہو گیا۔
مگر اصل حیرت تو اس وقت ہوئی جب ان کی میراث کا حساب کیا گیا۔
مورخین لکھتے ہیں کہ ان کے ذاتی خزانے میں صرف اتنی معمولی رقم تھی کہ اس سے مکمل کفن اور تدفین کے اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے تھے۔
جس شخص نے وسیع سلطنت پر حکومت کی...
اس نے اپنے لیے دنیا میں کچھ جمع نہ کیا۔
اس نے خزانے بھرنے کے بجائے دل جیتے۔
محلات بنانے کے بجائے امت کو عزت دی۔
اور اقتدار کو عبادت سمجھ کر نبھایا۔
آج بھی جب تاریخ صلاح الدین ایوبیؒ کا نام لیتی ہے تو صرف ایک فاتح یاد نہیں آتا، بلکہ ایک ایسا حکمران یاد آتا ہے جس نے ثابت کیا کہ اصل بادشاہ وہ نہیں جو شہروں کو فتح کرے...
بلکہ وہ ہے جو اپنے نفس کو فتح کر لے۔
قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے:
"وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ"
"اور یہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں۔" (سورۂ آل عمران: 140)
اقتدار، دولت اور شہرت سب یہیں رہ جاتے ہیں۔
ساتھ جاتا ہے تو صرف ایمان، اخلاص اور نیک اعمال۔
اسی لیے آج دنیا کے بے شمار بادشاہوں کے محلات کھنڈر بن چکے ہیں، لیکن صلاح الدین ایوبیؒ کا نام آج بھی دلوں پر حکومت کرتا ہے۔
کیونکہ انہوں نے سلطنت سے پہلے اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کی تھی۔
اور یہی وہ کامیابی ہے جسے نہ وقت مٹا سکتا ہے، نہ تاریخ۔
08/07/2026
بڑے سے گھر میں اکیلی رہتی ہوں ، راز دار مرد کی ضرورت ہے جو گھر داماد بن کر ... See more
08/07/2026
ایک تصویر… دو چہرے… دو راستے… اور انجام کا لرزا دینے والا سبق!
تصویر میں دائیں جانب موجود شخص امریکہ سے تعلق رکھنے والا جوزف ایسٹس Joseph Estes ہے۔ اس نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک ایسے تاجر کے طور پر کیا جو انتہائی متعصب عیسائی سمجھا جاتا تھا۔ مسلمانوں پر طنز و تضحیک کرنا اس کا معمول تھا۔ اللہ کی پناہ! کعبۃ اللہ کے بارے میں بھی از راہِ طنز کہا کرتا تھا:
“مسلمان صحراء میں پڑے ایک سیاہ صندوق کی عبادت کرتے ہیں۔”
معاذ اللہ!
اور تصویر میں بائیں جانب بلادِ حرمین سے تعلق رکھنے والا عبد اللہ القصیمی ہے۔
یہ شخص آغاز میں کمال درجے کا داعی، مبلغ اور اسلام کا دفاع کرنے والا قلم کار تھا۔ یہاں تک کہ اسے “ابن تیمیہ دوم” کا لقب دیا گیا۔ اس کی مشہور زمانہ کتاب:
« الصراع بين الإسلام والوطنية »
“اسلام اور نیشنلزم کا ٹکراؤ”
اہلِ علم میں بے پناہ مقبول ہوئی۔ کتاب کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ اس وقت حرم مکی کے امام نے اس کے بارے میں پورا قصیدہ پڑھا۔ مشہور عالمِ دین صلاح منجد نے ذکر فرمایا کہ بعض اہلِ علم کا کہنا تھا:
“قصیمی نے یہ کتاب لکھی، گویا جنت کا مہر ادا کر دیا۔”
لیکن پھر 1980ء میں اس کی زندگی کا رخ اچانک ایک سو اسی درجے بدل گیا۔ کہا جاتا ہے کہ بیروت میں ایک عیسائی لڑکی کے عشق میں مبتلا ہونے کے بعد اس کے افکار بدلنے لگے۔ اس کے بعد اس نے بے دین اور گمراہ نظریات کا دفاع شروع کیا اور کتاب لکھی:
« يكذبون لكي يروا الإله جميلا »
“وہ جھوٹ اس لیے بولتے ہیں کہ معبود کو خوبصورت دیکھیں”
استغفر اللہ!
اسی طرح اس نے کتاب لکھی:
« هذي هي الأغلال »
“یہی وہ زنجیریں ہیں”
اس کتاب میں صوم، صلاۃ اور دیگر عبادات کو گلے کے طوق سے تشبیہ دی گئی۔ معاذ اللہ!
پھر اس نے اپنے ملحد ہونے اور اللہ کے وجود سے انکار کا اعلان کر دیا۔ 1996ء میں زمین اس کے وجود سے پاک ہوئی۔
اسی دوران دوسری طرف جوزف ایسٹس نے اپنے خاندان سمیت ایک مصری مبلغ کے ہاتھوں اسلام قبول کیا۔ یوں ایک متعصب عیسائی، اسلام کا داعی بن گیا۔ اس نے اپنا نام تبدیل کر کے یوسف رکھا، اور پھر امریکہ میں اسلام کی دعوت کا روشن چراغ بن گیا۔ اس کے ہاتھوں سینکڑوں افراد حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے۔
یہ ہیں دلوں کو پھیرنے والی ذات کے کمالات!
ایک اسلام کا مذاق اڑاتا تھا، اللہ نے اسے اسلام کا داعی بنا دیا۔
ایک اسلام کا دفاع کرتا تھا، مگر انجام گمراہی پر ہوا۔
اس لیے ابتداء ہی سب کچھ نہیں ہوتی؛ اصل عبرت انجام اور خاتمے میں ہے!
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ❤️ نے ایمان پر خاتمے کے لیے یہ دعا پڑھی:
“اے اللہ! مجھے مرتے وقت ایمان کی حجت کی تلقین نصیب فرمایئے۔”
آمین یا رب العالمین
(جامع الحدیث للسیوطی 18034)
یا اللہ! ہمارا خاتمہ بالاسلام، بالایمان اور بالخیر فرمانا۔
آمین یا رب العالمین۔
#بوسٹر
#عبرت
Address
Hasilpur
63000
Alerts
Be the first to know and let us send you an email when Hum Tum posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.