Nasir Rizvi
کہانی نویس
06/09/2026
موسمِ بہار کی آمد آمد تھی ،
کافی دن کے بعد اسے ، اتوار کے دن آف ملا تھا ،
فیملی کے ساتھ چھٹی گزارنے کا موقع ،
لگاتار ڈیوٹی کرتے کرتے ، وہ کچھ تھک سی گئی تھی ،
کبھی دن کی ڈیوٹی ، تو کبھی رات کی ، کبھی ڈبل ،
کیونکہ ۔۔۔۔۔
اسٹاف شارٹ ہے -
بس یونہی سارا مہینہ گزرا ،
ہفتے کے درمیان کے دنوں میں آف ملا تو ، سارا دن نیند پوری کرتے گزرا ،
گھر والے بھی مصروف تھے ، کوئی سکول اور کوئی دفتر میں -
آج اتوار والے دن ، بابا کی چھٹی تھی اور چھوٹی بہن کی بھی -
انھوں نے آج یاسمین گارڈن میں صبح کی واک کا پروگرام بنایا تھا ،
ویسے تو ہر اتوار کو ، بابا اور بہن ایف نائین پارک جاتے تھے -
جب وہ لوگ یاسمین گارڈن میں داخل ہوئے تو باغ کی تروتازہ ہوا کے پہلے جھونکے نے اس کا دماغ کھول دیا ،
صبح کی تازہ ہوا ، ہلکی ہلکی پھولوں کی خوشبو ،
اس نے اندر داخل ہوتے ہوئے ، گہرا سا سانس بھرا ، ورنہ تو سارے دنوں میں ، ناک میں ، دواؤں کی خوشبو ہی اس کی ناک میں جاتی تھی ،
ہسپتال کی فضا میں اور کیا ہونا تھا ،
دواؤں کی خوشبو ،
اور کبھی کبھی فنائل کی بو کے ساتھ -
باغ میں ہر طرف سبزہ ہی سبزہ تھا ،
وہ لوگ درمیان میں بنی گھومتی بل کھاتی ، کہیں سے سیدھی ، روش پر واک کر رہے تھے ، جس پر چھوٹی چھوٹی سرخ بجری کی تہہ بچھی ہوئی تھی -
کیاریوں میں لگے پودوں پہ پھول کھلنے کو تھے ،
کلیوں سے بھرے ،
رنگ برنگی کلیاں ،
کچھ بند ، کچھ ادھ کھلی ،
ایک آدھ پودے پر پھول بھی کھل آئے تھے -
واک کرتے کرتے ، ان اد ھ کھلی کلیوں کو دیکھ کر ، اسے اپنے ہسپتال کی نرسری یاد آگئی ،
ننھے فرشتے ،
معصوم چہرے ، ادھ کھلی آنکھیں ،
جن کے والد ، رشتے دار ، نرسری کے باہر بڑی بےتابی سے انتظار کر رہے ہو تے - عورتوں کے وارڈ سے ، یہ ننھے فرشتے ، آدھ کھلی کلیاں ، سیدھے نرسری میں ہی آتے تھے -
اس نے حال ہی میں اس ہسپتال میں چائلڈ اسپیشلسٹ کی ٹریننگ شروع کی تھی -
گھنٹہ پونا گھنٹہ واک کرنے کے بعد ، وہ لوگ باغ سے نکل کر گھر کی طرف روانہ ہو گئے ، ان کی گاڑی کا رخ ، آبپارہ مارکیٹ کی طرف تھا ، راستے میں پہلے ، ناشتہ لینا تھا ، حلوہ پوری کا -
امی گھر پر ہی تھیں ، اٹھ گئی تھیں ، ناشتے کا انتظار کر رہی تھیں -
ابن آدم سوچ رہا تھا ،
یہ کھلتی کلیاں ، ننھے فرشتے ۔۔۔۔۔
ھمارے ملک میں ان ادھ کھلی کلیوں کا پودے پھول کی طرح کھلنے کا تناسب ، خاص کر دیہی علاقوں میں ، چھوٹے شہروں قصبوں میں ، بہت بہتر نہیں ہے ،
دنیا کے اور بہت سے ملکوں سے بہت پیچھے ،
ابھی اس میں بہت کام ہونا باقی ہے ،
کاش ہر کلی ، پھول بنے ، کھلے -
(علی ناصر رضوی : 08-فروری-2023)
پچھلے زمانے میں کچھ لوگ ۔۔۔
نوجوان اپنے دوستوں ،
عزیز و اقارب میں ،
کسی ایک کو ۔۔۔
جس کے ساتھ ان کا ہنسی مذاق ہوتا تھا ،
یکم اپریل ۔۔۔
والے دن بیوقوف بنانے کی کوشش کرتے تھے-
اگر دوسرا بیوقوف بن جاتا ،
تو دوستوں میں اس کا خوب مذاق بنایا جاتا تھا،
بڑا عقلمند بنتا ہے ، اب دیکھو ۔۔ کس طرح بیوقوف بن گیا ۔۔۔
بعض اوقات یہ مذاق ، دوسرے کے لئیے ۔۔۔ پریشانی کا سبب بھی بن جاتے تھے -
اب گزرتے وقت کے ساتھ ،
اپریل فول ۔۔۔ بنانے کا زور کم ہوگیا ہے -
لوگوں کا ۔۔۔
نوجوانوں کا زیادہ رجحان ،
ویلنٹائن ڈے ۔۔۔
کی طرف ہوگیا ہے -
ابنِ آدم سوچ رہا تھا ۔۔۔
دنیا ترقی کر گئی ہے ،
زمانہ بدل گیا ہے ،
مذاق کے نام پر بیوقوف بنانے کے کھیل میں نوجوانوں کو ۔۔۔
بہت کم دلچسپی رہ گئی ہے ،
فضول لگتا ہے -
محبت کے نام پر ...
شروع ہونے والے آغاز کو ۔۔۔
حقیقت میں بدلنے کی طرف زیادہ توجہ ہوگئی ہے ۔۔۔۔
ویلنٹائن ڈے ۔۔۔۔
اپریل فول سے ویلنٹائن ڈے ۔۔۔۔
ذرا سوچئے ۔۔۔
وقت کے ساتھ کیا بدلا -
# # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # #
تحریر : علی ناصر رضوی
عنوان : انگریزی کیلنڈر کے دو دن
تاریخ : 01- اپریل -2026
حَدِّ نِگاہ اونچی نیچی ، چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں اور ڈھلوانیں ، پھیلی ہوئی تھیں، چاروں طرف دھوپ پھیلی ہوئی تھی-
موسم سرما کا ایک خوبصورت دن۔۔۔
وہ ایک اونچے ٹیلے پر بیٹھا ہوا تھا،
ادھر ادھر پھیلی ، چیرتی ہوئی بھیڑیں اس کی نظروں میں تھیں -
وہ آج کل یونیورسٹی سے چھٹی آیا ہوا تھا، اس ہی یونیورسٹی سے اس نے تعلیم حاصل کی تھی ، اب وہاں ہی پڑھا رہا تھا-
ایک بہت بڑا شہر ،
پرہجوم ، تیز بھاگتی زندگی سمیٹے ہوئے ،
جہاں اس کی یونیورسٹی تھی ،
اس کے گاؤں سے بہت دور -
سامنے کی پہاڑی کی چوٹی سے کچھ نیچے ، بنی جھونپڑی کے ساتھ سے دھواں اٹھ رہا تھا ،
زندگی کی علامت-
شاید وہاں کھانا بن رہا تھا ،گیلی لکڑیاں چولہے میں اپنا کام دکھا رہی تھیں -
غریب کے یاں ، تو بس دن میں ایک وقت ہی کھانا بنتا ہے،
اس نے دکھ سے سوچا-
اتنے میں اسے نیلے آسمان پر ، دھواں کی ایک لکیر نے متوجہ کرلیا،
دور سے بکھرتی لکیر ۔۔۔۔
دور سے آتی ٹرین ،
پھر تیزی سے ،اس سے کچھ فاصلے پر جاتی پٹھری سے گزر گئی-
بھاپ سے چلنے والے انجن سے اُٹھتا دھواں،
انسانی ذہن کی ترقی کے پہلے قدموں میں سے ، ایک قدم -
دائیں طرف کچھ میدانی علاقہ تھا، ناہموار سے میدان۔۔۔۔
اینٹوں کے بھٹے کی اونچی چمنی سے نکلتا دھواں ، فضا کو آلودہ کر رہا تھا -
دور ، کافی دور پہاڑیوں کے سلسلے میں ، ایک اونچی پہاڑی کی چوٹی کے قریب ، اٹھتا ہوا بہت سا دھواں ،
شاید وہاں آگ لگی تھی،
سردی سے خشک جھاڑیوں میں،
آگ ۔۔۔۔
خوف کی علامت-
زندگی ۔۔۔۔
چولہے کی آگ ۔۔۔
بھانپ سے انرجی تک ۔۔۔
فضائی آلودگی ۔۔۔۔
خوف۔۔۔۔۔
چاروں طرف پھیلی آگ ۔۔۔
تباہی ۔۔۔
دھواں میں ملے جلے رنگ -
کھلی آنکھوں سے سوچتے ہوئے ، دیکھتے مناظر -
دوپہر ڈھلنے لگی تھی، اس نے گھڑی دیکھی،
کافی ٹائم ہو گیا تھا ،وہ اٹھ کھڑا ہوا،
دیکھا کہ بڑا بھائی ، ایک مخصوص آواز لگا کر بھیڑوں کو جمع کررہا تھا ، جیسے گھر جانے کی تیاری کررہا ہو-
ابنِ آدم سوچ رہا تھا،
دھواں۔۔۔۔
پیشگی اطلاع کی علامت۔۔۔
منہ سے نکلتا، سگریٹ کا دھواں، پیشگی اطلاع ۔۔۔۔کسی خطرناک بیماری کی-
اسی طرح۔۔۔۔
کمرے میں بنےآتش دان کے پائپ سے نکلتا دھواں، بتا رہا ہوتا ہے، کمرہ گرم ہے، ماحول پُرسکون ہے-
گاڑی کے سلنسر سے نکلتا کالا دھواں، اطلاع دے رہا ہوتا ہے، انجن کا کام آنے والا ہے، خرچے کے لئیے تیار رہیں-
آتش فشاں کے دہانے سے اٹھتا دھواں،بتا رہا ہوتا ہے،
بہت بڑی تباہی آنے والی ہے، آتش فشاں پھٹنے والا ہے-
دھواں۔۔۔
پھر اچانک ابنِ آدم کا شاعری کا ذوق جاگا اور اس کو ایک شعر کا مشہور مصرع یاد آگیا ؛
"یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے"
میر تقی میر کی غزل ، مہدی حسن نے کس خوبصورتی سے ، تحریر سے آواز میں بدلی ہے؛
دیکھ تو دل کہ جاں سے اُٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
گور کس دل جلے کی ہے یہ فلک
شعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے
میر صاحب کے اس مشہور مصرع پر مختلف شعراء نے طبع آزمائی کی ہے -
ضیا الحق قاسمی کی شاعری ، اس مصرع پر ۔۔۔۔۔
زندگی ہے گزارنا مشکل
دم نکلتا ہے، سانس گھٹتا ہے
میں تو سگریٹ بھی اب نہیں پیتا
’’یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے‘‘
احمد فراز سے منسوب ایک غزل کے اشعار میں بطور سوالیہ ، یہ مصرع آتا ہے -
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
دل میں کچھ تو جل رہا ہوگا
اس شعر میں دھواں علامت ہے،
علامتی انداز میں اندرونی اضطراب، جلتے ہوئے احساسات یا سماجی گھٹن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
یعنی ہر ظاہری علامت کے پیچھے کوئی باطنی سبب ہوتا ہے، چاہے وہ فرد کا دکھ ہو یا معاشرے کی گھٹن۔
•••••••••••
تحریر: علی ناصر رضوی
عنوان: دھواں
تاریخ: 10-جنوری-2026
طالبعلمی کے زمانے میں ، اس کا اپنے ، رشتے کے ماموں کے گھر جانے کا اتفاق کم ہی ہوتا تھا، ٹائم کم ہی ملتا تھا ، پہلے کالج یونیورسٹی کی مصروفیت ہوتی تھی -
وہ اس کی امی کے کزن ہوتے تھے ، بہت محبت کرنے والے بزرگ تھے ، نفیس طبیعت کے مالک تھے -
ہمیشہ اس کی امی سے بہت محبت اور شفقت سے ملتے تھے ، بالکل اپنی چھوٹی بہن کی طرح -
ان کا گھر اس کے گھر کے نزدیک ہی تھا ، وہ کچھ سال پہلے گورنمنٹ کی کسی منسٹری کے اعلیٰ عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے -
امی کا تو اکثر ان کے گھر جانا ہوتا رہتا تھا ، مامی سے بھی خاصے اچھے تعلقات تھے -
اب سال چھ مہینے سے ، اس کا ان کے گھر اکثر چکر لگ جاتا تھا ، حال ہی میں اس نے نوکری شروع کی تھی -
ماموں کے ایک ہی بیٹے تھے ، اپنے بھائی بہنوں میں سب سے بڑے - نام تو ان کا شرجیل تھا ، لیکن سب ہی انھیں شجی بھائی کہتے تھے -
ان کی چار بہنیں تھیں ، دو کی شادی ہو گئی تھی ، دو چھوٹی کالج یونیورسٹی میں پڑھتی تھیں -
ان میں سے ایک ، رابعہ تو تقریباً ہم عمر ہی تھی ، یونیورسٹی کے آخری سال میں تھی ، اس سے کافی بات چیت ہوگئی تھی ، جب وہ جاتا اور شجی بھائی گھر پر نہ ہوتے، تو وہ کافی ٹائم دیتی تھی-
چھوٹی تو حسینہ تھی ،خوش شکل ، پر کشش ، اپنے سٹائل میں ہی رہتی تھی - موڈ کی مالک تھی ، کبھی تو اس کے سلام کا جواب دے دیتی تھی ، ایک آدھ جملہ بات کر لیتی تھی ، ورنہ اکثر منظر سے غائب ہی ہوجاتی تھی -
شجی بھائی کے ماموں کی فیملی بھی اسی گھر میں رہتی تھی ، انکل کا کافی سال پہلے کسی ایکسیڈنٹ میں انتقال ہوگیا تھا -
آنٹی اور ان کے بچے ، اوپر کے فلور کے دو کمرے اس فیملی کے استعمال میں تھے ، دو بیٹیاں اور ایک چھوٹا بیٹا تھا - بیٹیاں کالج میں پڑھتی تھیں ، بیٹا سکول جاتا تھا -
شجی بھائی ، شہر کی ایک مشہور یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے ، انھوں نے ایم فل کرنے کے بعد نوکری شروع کر دی تھی -
اب حال ہی میں پی-ایچ-ڈی کی تھی ، یونیورسٹی کی طرف سے ہی کچھ عرصے کے لیے بیرون ملک گئے تھے -
بہت متاثر کن شخصیت کے مالک تھے - پڑھے لکھے ، دراز قد ، خوش شکل ۔۔۔۔۔۔
شام کو یونیورسٹی سے آنے کے بعد فریش ہوکر ، بڑی باقاعدگی سے گیم کے لیے جایا کرتے تھے - بیڈمنٹن کا کورٹ ، نزدیکی جمنازیم میں تھا -
یوں تو شجی بھائی اس سے عمر میں نو دس سال بڑے ہی تھے -
لیکن اب جب کچھ وقت سے ۔۔۔۔۔
شجی بھائی سے زیادہ بات چیت ہوئی ، تو ان سے اچھی خاصی دوستی بھی ہو گئی تھی -
وہ ان کی متوازن شخصیت سے کافی متاثر ہوگیا تھا -
حالانکہ وہ اکثر اپنے سامنے ، کسی کو زیادہ نہیں سمجھتا تھا ، خود بھی خوش لباس ، جاذب نظر تھا ، اوپر سے اچھی گفتگو بھی کرلیتا تھا -
وہ بھی شاید اس کے گفتگو کے انداز اور معلومات کے ذخیرے سے متاثر ہوگئے تھے -
بچپن میں تو اس کی ان سے بہت کم بات چیت ہوتی تھی ، اسے مغرور سے لگتے تھے -
امی کو لیکر جب وہ ان کے گھر جاتا تھا ، تو
کئی دفعہ اس نے سنا کہ امی اور مامی ، شجی بھائی کی شادی کے موضوع پر بات کررہے ہوتے ہیں - ساتھ بیٹھی آنٹی بھی مثبت میں سر ہلا رہی ہوتی تھیں -
کیونکہ مامی چاہتی تھیں کہ اب گھر میں بہو آجائے ،
بقول ان کے ، اب تو عمر بھی ، بتیس تینتیس سال ہو گئی ہے -
لیکن شجی بھائی شادی کی طرف آہی نہیں رہے تھے -
اب تو اسے بھی اس موضوع میں دلچسپی ہونے لگی تھی ،
زندگی کی اس خوبصورت تصویر کے پیچھے ضرور کچھ ہے ،
وہ ان کو دیکھ کر اکثر سوچتا تھا -
شجی بھائی کا کمرہ بھی اوپر کی منزل پہ ہی تھا ، بیڈروم کے ساتھ ہی ایک نسبتاً چھوٹے کمرے میں انھوں نے اپنا اسٹڈی روم بنا رکھا تھا -
جب امی اور بڑے نیچے لاونج میں بیٹھے باتیں کررہے ہوتے تو وہ اوپر شجی بھائی کے اسٹڈی روم میں ہی آجاتا تھا ،
شجی بھائی نے اسے بطور خاص اسٹڈی میں آنے کی اجازت دی ہوئی تھی ، ورنہ یہاں اور کوئی نہیں آتا تھا - صفائی بھی شجی بھائی اپنے سامنے ہی کرواتے تھے -
ٹیبل پر بکھرے کاغذ اور سائیڈ شیلف پر سجی کتابیں ۔۔۔۔
دیوار کے ساتھ رکھے صوفے پر بیٹھ کر ، اسے دیکھنے میں یہ ماحول کافی اچھا لگتا تھا -
یہاں اس نے ایک اور بات بھی نوٹ کی تھی ، کہ ۔۔۔۔
ٹیبل پر سائیڈ میں ایک خوبصورت فریم رکھا ہوا ہے ۔۔۔۔
فوٹو فریم ۔۔۔۔
تصویر کے بغیر ۔۔۔۔۔۔
خالی فریم ۔۔۔۔۔۔
نہ جانے کس کی فوٹو کے بغیر ۔۔۔۔
یہ سوال کئی مرتبہ اس کے ذہن میں آیا ، لیکن شجی بھائی سے پوچھ نہیں سکا ، احترام کا رشتہ مانع تھا -
اس نے یہ بھی نوٹ کی تھا کہ فوٹو فریم بالکل صاف ہوتا ہے ، جیسے کوئی بڑی باقاعدگی اس فریم کے شیشے پر سے گرد ۔۔۔
نظر آنے والی ۔۔۔۔
نہ نظر آنے والی گرد ۔۔۔۔۔
صاف کرتا ہے -
یقیناً ۔۔۔۔۔ شجی بھائی ۔۔۔۔
اس نے افسوس سے سوچا ،
اس کے پیچھے ، کیا کہانی ہے ؟
آخر ، ایک دن اس نے رابعہ سے پوچھ ہی لیا ، اس نے بتایا -
کبھی کبھار ہی بھائی صاحب کے کمرے میں جانا ہوتا ہے ، یہ خالی فوٹو فریم ، کافی سالوں سے اسی طرح سے دیکھ رہی ہوں -
کچھ سال پہلے ، دو ایک مہینے کو بھائی صاحب نے اس فریم میں خوبصورت خطاطی میں لکھی ایک آیت لگائی تھی ، لیکن جلد ہی اسے اتار دیا ، فریم پھر سے خالی ہوگیا ، اب کئی سالوں سے اسی طرح ہے -
بڑی باجی نے ایک دفعہ بتایا تھا کہ انھوں نے بہت سال پہلے ایک دفعہ ، اس فریم میں ایک خوبصورت چہرہ دیکھا تھا -
بس انھوں نے یہ ہی بتایا ، یہ کب کی بات ہے ؟
اس نے تجسس سے پوچھا -
یہ باجی کی شادی سے پہلے کی بات ہے ،
مجھے لگتا ہے ، وہ اور کچھ بھی جانتی ہیں -
رابعہ نے بتایا -
بڑی باجی کی بھائی جان سے بہت دوستی ہے -
وہ سوچنے لگا ۔۔۔۔۔۔
تصویر کے بغیر فریم ،
دیکھنے والوں کو فریم خالی لگتا ہے ،
لیکن شاید انھیں ۔۔۔۔۔
اس خالی چوکھٹے میں ، کوئی تصویر نظر آتی ہو ،
حقیقی تصویر ۔۔۔۔
جو اب بس خیالوں میں ہی رہ گئی ہو۔۔۔
خیالی تصویر ۔۔۔
کوئی حسین چہرہ ، جو اب ان کی نظروں سے اوجھل ہوچکا تھا -
ان کی زندگی خوبصورت فریم کی مانند تھی ، صاف ستھرا شیشہ ،
مگر اندر سے خالی ۔۔۔۔۔
خالی ۔۔۔۔
بے رنگ ۔۔۔
اس نے بہت افسوس سے سوچا -
اُدھر ابنِ آدم سوچ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
ہماری زندگی خوبصورت فریم کی مانند ہے ،
خالی فریم کی طرح ۔۔۔۔۔۔
ہم اپنے اعمال سے ۔۔۔۔
اپنی نیت کی سچائی سے ۔۔۔
حقوق العباد سے ۔۔۔۔۔
کتنی خوبصورت تصویر ، اپنے اس فریم میں لگاتے ہیں ۔۔۔۔
کتنے رنگ بھرتے ہیں ،
زندگی کی خوبصورت تصویر ۔۔۔۔۔۔
- - - - - - - * * * - - - - - -
تحریر: علی ناصر رضوی
عنوان: خالی فریم
تاریخ: 15-نومبر-2025
کچھ سال پہلے کی بات ہے ، ملک میں صوبائی اور وفاقی اسمبلیوں کے لئیے انتخابات ہوئے ،
اس نے انتخابات میں حصہ لیا ، اور پہلی مرتبہ ہی صوبائی اسمبلی کا انتخاب جیتنے میں کامیاب ہو گیا -
وہ اس سے پہلے بھی ، مختلف سطح کے انتخابات میں حصہ لے چکا تھا - اس کی کامیابی کا ریکارڈ کافی بہتر تھا ، اسی لئیے ملک کی ایک بڑی پارٹی نے ، اسے صوبائی انتخاب میں شرکت کرنے کے لیے اپنی پارٹی سے ٹکٹ دیا تھا -
نوجوان ، پڑھا لکھا ، دلیل کے ساتھ بات کرنے والا ۔۔۔۔۔۔
بہت جلد اپنے علاقے میں اپنا نام بنا گیا تھا -
بہت سارے لوگ اس کے مرکزی الیکشن آفس میں اسے مبارک باد دینے آرہے تھے ، وہ سب سے بہت گرم جوشی اور اخلاق سے مل رہا تھا ، سب کا شکریہ ادا کررہا تھا -
علاقے کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھنے والے ، پرانے سیاستدان مبارکباد دینے ، بطور خاص اس کے گھر آئے -
بیٹھک میں چائے پیتے ہوئے وہ اسے کامیاب سیاست کے لئیے کچھ ٹپس دے رہے تھے ،
اب کافی ٹائم صوبائی دارالحکومت میں رہنا ہوگا ، صوبائی اسمبلی کے اجلاس ۔۔۔۔۔
اسمبلی کے رکھ رکھاؤ ۔۔۔۔۔
اس کا خاص کر خیال رکھنا ہوگا -
سیاست کے میدان کی بڑی قدآور شخصیات سے روابط کا موقع ملے گا ، ان سے مراسم بنانا ،
سیاست کی راہ پر ، مزید اگے بڑھنے کے لئیے ، یہ بہت معنی رکھے گا -
اگلی منزل وزارت ہونی چاہئے ۔۔۔۔۔
پھر بہت ساری حقیقتوں کے ساتھ اگے بڑھنا ہوگا ،
ان میں سے کچھ تلخ حقیقتیں ، گلاب کے پھول کے ساتھ لگے کانٹوں کی مانند ساتھ ہی رہیں گی ۔۔۔۔
ان سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ،
ان سے الجھنے کی بھی ضرورت نہیں ،
بس اپنی تقریروں میں ان کا ذکر ضرور کرنا ہے ، تاکہ سنے والے یہ یقین رکھ سکیں کہ آپ کو ان تلخ حقیقتوں کا معلوم ہے ۔۔۔۔۔
بس ۔۔۔ صرف معلوم ہے ؟
اس نے ان سے پوچھا -
وہ کافی دیر سے خاموشی سے ، ان بزرگ سیاستدان کی باتیں سن رہا تھا -
ہاں اسی طرح ۔۔۔۔۔ کیونکہ ان حقیقتوں کو ساٹھ ستر سال سے تو ، کوئی ختم نہیں کرسکا ،
ایک آدھ حقیقت بتاتا ہوں ،
یہ جملے اپنی تقاریر میں ضرور شامل رکھنا ۔۔۔
"ہر صورت میں میرٹ قائم رکھا جائے گا"
"ملک سے کرپشن کا خاتمہ کریں گے"
"قانون سے کوئی بھی بالاتر نہیں ہے"
یعنی یقیناً کوئی قانون سے بالاتر ہے ، ان کی بات سن کر وہ سوچنے لگا-
نہ کوئی میرٹ ہے ۔۔۔۔
نہ ہی کرپشن ختم ہوئی ہے ۔۔۔۔
بس ، یہ دلاسے ہی ہیں ، عوام کو دینے کے لئیے.....
پھر وہ بزرگ سیاستدان رخصت ہوگئے -
لیکن اس کے ذہن میں ، یہ جملے گھومنے لگے ،
ان کا کیا توڑ ہوسکتا ہے ۔۔۔۔
وہ سوچ رہا تھا -
اُدھر ابنِ آدم سوچ رہا تھا ۔۔۔۔
زندہ تلخ حقیقتیں ، جو بہت سارے سال و ماہ سے ہمارے ملک میں چل رہی ہیں ،
چل پھر رہی ہیں ،
پھل پھول رہی ہیں ،
کبھی کسی دور میں ، کسی حقیقت پر خزاں آجاتی ہے ، پتے جھڑ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔
تو دوسری پر بہار کا موسم آجاتا ہے -
اسی طرح موسم بدلتی ، یہ حقیقتیں گزشتہ ساٹھ ستر سال سے زندہ ہیں -
" غریب کو اس کی دہلیز پر انصاف ملے گا "
" کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی"
" کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا "
اسی طرح ، ہر دور میں صاحب اقتدار نے ، یہ حقیقت ضرور بیان کی ہے ۔۔۔۔
" ملک اس وقت نازک موڑ سے گزر رہا ہے "
ہر کسی نے یہ جملہ بولا ، لیکن اس کی وجوہات تلاش نہیں کیں ، یا شاید ڈھونڈنے میں کامیاب نہیں ہوسکے -
ہر برسات کے موسم میں ، یا کسی بھی ناگہانی آفت ، کے وقت یہ جملہ بھی اکثر سنائی دیتا ہے ۔۔۔۔
" کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں "
لیکن اگلے موسم میں ، موقع پر حالات ویسے ہی ہوتے ہیں ،
یہی حقیقت ہے ۔۔۔۔۔۔
زندہ حقیقت -
- - - - - - - - - - - - - - * * * - - - - - - - - - - - - - -
تحریر : علی ناصر رضوی
عنوان : زندہ حقیقتیں
تاریخ : 12-نومبر -2025
# # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # #
اسلام وعلیکم ! میں اپنی کہانیوں کو کتابی شکل میں لانے کا ارادہ رکھتا ہوں ، آپ کی سپورٹ اور تعاون کی ضرورت ہے -
رابطہ واٹس ایپ # 03335215599 # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # #
بیگم صاحبہ کی بچوں سے گفتگو ہورہی تھی ،
شو بز کے ڈرامے ، آج کل کیسے جارہے ہیں ۔۔۔
اداکارہ ، اداکار کی ایکٹنگ ۔۔۔۔
شخصیت کے بارے میں۔۔۔۔
رائے ۔۔۔
سکرین پر چھائے چہرے ۔۔۔۔۔
وہ خاموشی سے ان کے گفتگو سن رہا تھا ، یہ اس کی دلچسپی کی فیلڈ نہیں تھی ، اس لئیے اس کی معلومات بھی نہ ہونے کے برابر تھیں -
اس کے ذہن میں ، نہ جانے کیوں ، یہ لفظ آگیا۔۔۔....
چمکتے چہرے ۔۔۔۔۔
ساتھ ہی یہ دوسرے لفظ ۔۔۔۔۔
چمکتے پتھر ۔۔۔۔۔۔۔
اچانک اس کی سوچ کی پرواز ، شہر کی سب سے بڑی مسجد ،
جو ملک بھر کی مساجد میں بھی اپنا ایک نمایاں مقام رکھتی تھی ،
۔۔۔۔۔ کے باہر جا پہنچی -
سفید پتھر ۔۔۔۔۔ سفید سنگ مرمر ۔۔۔۔۔
مسجد کے طویل و عریض صحن میں ، فرش پر لگا سفید سنگ مرمر ۔۔۔۔۔
صبح کی دھوپ میں ۔۔۔۔۔
سورج کی خوشگوار کرنیں ۔۔۔۔
سفید فرش پر پڑتیں ۔۔۔۔
تو سفید پتھر چمکنے لگتے ۔۔۔۔
سورج کی کرنیں تو کسی کو نظر نہیں آتیں ۔۔۔
البتہ ، چمکتا سفید فرش ، سب ہی کو اپنی طرف متوجہ کرلیتا ۔۔۔۔
سفید سنگ مرمر ۔۔۔۔۔
سفید پتھر ۔۔۔۔۔۔
چمکتے پتھر ۔۔۔۔۔۔۔
نظر اوپر اٹھی تو وہاں ایک اور چمکتا منظر تھا ۔۔۔۔
مسجد کے اونچے مینار ، سفید سنگ مرمر نے انھیں چاروں طرف سے اپنے اندر لپیٹ رکھا تھا ،
مینار پر لگ سفید پتھر بھی چمک رہے تھے ،
چمکتے پتھر ۔۔۔۔۔۔
عمومی طور پر پتھر کے بارے میں یہ تاثر نہیں بنتا -
لیکن یہ تاثر ، کبھی کبھی ، تراشے ہوئے پتھر ، نادر اور قیمتی پتھر کی چمک دیکھ کر مانند پڑ جاتا ہے -
جیولری سیٹ ، انگوٹھی ، لونگ میں لگے قیمتی پتھر ۔۔۔۔۔
لونگ گواچا ۔۔۔۔۔۔ ایک خوبصورت یاد نے ذہن کی کھڑکی پر دستک دی -
اپنی چمک اور خوبصورتی سے چمکتے یہ پتھر ، اصلی ہیرہ کے جوہر شناسوں کو بھی تذبذب میں ڈال دیتے ہیں ،
یہ چمکتے پتھر ۔۔۔۔۔
پتھر ہیں ، یا کہ ۔۔۔۔
ہیرا ۔۔۔۔۔
دنیا کی ایک مہنگی ترین چیز ۔۔۔۔
جو بادشاہوں اور ملکاؤں کے تاج کی زینت بنتے ہیں -
کوہ نور ہیرا ۔۔۔۔۔
عظیم دور کا ، ایک یادگار قیمتی ہیرا ۔۔۔۔
جبکہ عوام ان چمکتے پتھروں کو ہی دیکھ کر خوش ہو جاتی ہے ،
جیب کی مجبوری ۔۔۔۔۔
پھر اس کی سوچ نے کروٹ لی اور ماضی کے جھروکے میں جھانکنے لگی ۔۔۔۔۔
شاداب روڈ ۔۔۔۔
شہر کی سب سے بہتر سڑک ۔۔۔۔۔
اس پر مڑتے ہی ، چال میں فرق آ جاتا تھا ۔۔۔
چاہیے پیدل ہو ، یا موٹر سائیکل پر ۔۔۔۔۔۔
سڑک کے اطراف نئے گھر بنے ہوئے تھے ۔۔۔
نئے اور خوبصورت ۔۔۔۔۔
ان ہی میں سے ، ایک بہت خوبصورت گھر ۔۔۔
ٹریپولی ہائوس ۔۔۔۔۔
خوبصورت مکینوں کا ، خوبصورت گھر ۔۔۔
سفید فیسنگ پر لگے شیشے ۔۔۔۔
جدید طرز تعمیر کا ایک خوبصورت منظر ۔۔۔
اوپر کی منزل کے کمروں کی کھڑکیوں پر لگے شیشے ۔۔۔۔
کبھی کارنر والے کمرے کی کھڑکی کھلی ہوتی ، تو کسی وقت کوئی خوبصورت چہرہ نظر آجاتا ۔۔۔۔
چمکتے چہرے ۔۔۔۔۔
جب کھڑکی بند ہوتی ۔۔۔۔۔ شیشوں کے پیچھے پردوں کی جھلک آرہی ہوتی تھی ۔۔۔
چمکتے شیشے ۔۔۔۔
صبح اور شام کے وقت ۔۔۔ شیشوں پر پڑنے والی سورج کی مدھم کرنیں ، ان شیشوں کو بھی چمکا دیتی تھیں ۔۔۔
چمکتے شیشے ۔۔۔۔
ادھر ابن آدم سوچ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
ایک پرانی کہاوت۔۔۔۔۔
ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی !
کچھ چمکتی چیزیں ، سراب ہوتی ہیں -
واقعی کیا خوب یہ جملہ ہے ۔۔۔۔۔
کبھی کبھی چمکتے شیشے ۔۔۔۔
چمکتے چہرے ۔۔۔۔۔
دھوکا دے جاتے ہیں ،
ہیرے کے متلاشی کو ۔۔۔۔۔۔
ہر کوئی ہیرا نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔
شیشے کی چمک وقتی ہوتی ہے ۔۔۔۔
ہیرے کی چمک دائمی ہوتی ہے -
ہیرا ، گندی نالی میں گر کر بھی ہیرا ہی رہتا ہے ،
نالی سے نکال کر صاف کرنے پر ، پھر سے چمکنے لگتا ہے ۔۔۔۔
اچھائی چمکنے لگتی ہے ۔۔۔۔
دنیا کے گند میں گر کر ، اس سے نکلنے کی کوشش کریں ، استغفار کریں ،
اللّٰہ تعالیٰ کی ذات ، بہت غفور الرحیم ہے -
- - - - - - - - - - * * * - - - - - - - - - -
تحریر : علی ناصر رضوی
عنوان : چمکتے چہرے
تاریخ : 26-اکتوبر -2025
وہ آج بھی ، روزانہ کی طرح ، ناشتے کے بعد ، لاونج میں بیٹھا ، ٹی ـ وی دیکھ رہا تھا -
سکرین پر ہر طرف پانی ہی پانی تھا ،
چار پانچ دن سے یہی خبریں تھیں ،
سیلاب کے مناظر ۔۔۔۔
نقل مکانی ۔۔۔۔
بے سروسامانی ۔۔۔۔۔
زندگی کی بقاء کے لئے کوششیں ۔۔۔
پریشان چہرے ۔۔۔
تباہی ۔۔۔۔
نقصان ۔۔۔۔۔
امدادی ٹیموں کی کارروائیاں ۔۔۔۔۔
ہمارے پڑوسی ملک نے اپنے ڈیموں سے ، تینوں دریائوں میں پانی چھوڑ دیا تھا ،
گرچہ اس برسات میں ، کچھ زیادہ ہی بارشیں ہوئی تھیں ـ ہمارے شمالی علاقاجات میں بھی کافی مالی و جانی نقصان ہوا تھا -
صوبے میں ، سالوں سے خشک پڑے یہ دریا پانی سے بھر گئے تھے ، بلکہ پانی کی زیادتی سے ابل پڑے تھے ،
پانی کا بہاؤ تھا کہ آئے ہی جارہا تھا ، تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھا ،
دریاؤں میں ،
بیراجوں میں ، پانی کی سطح بڑھ رہی تھی ،
لاکھوں کیوسک پانی ۔۔۔۔۔
دریا بپھرے ہوئے تھے ،
بہت سے مقامات پر بند ٹوٹ گئے تھے ،
دو ہزار گاؤں ، شہر ، علاقے پانی میں ڈوب گئے تھے ۔۔۔۔۔۔
پندرہ لاکھ افراد ، سیلاب سے متاثر ہوئے تھے -
ٹی ـ وی سکرین پر دکھی مناظر دیکھتے دیکھتے ، اس کا دماغ اسے پچاس سال پرانے زمانے میں لے گیا -
جب وہ لوگ ایک چھوٹے سے شہر میں رہتے تھے ،ان کا گھر گلی کے کارنر والا تھا ، اپنے گھر کی زمین پر بنے کمرے ، اس کے اوپر کی منزلیں ان کی رہائش گاہ تھیں ،
کمروں اور باورچی خانے کے درمیان میں بنا صحن بھی ان کے ہی گھر کا حصہ تھا -
گھر کی ڈیوڑھی اور اس سے ملحقہ برآمدہ کی دوسری چھت ، پڑوسی سے سانجھی تھی ،
پڑوسی ڈیوڑھی میں بنی سیڑھیوں سے اوپر چلے جاتے تھے ،
ان کی رہائش گراؤنڈ فلور پر بنی دکانوں اور پہلی منزل پر بنے دفتروں ، کے اوپر بنتی تھی-
دوسری منزل ۔۔۔۔۔
بہت سالوں سے وہ لوگ اسی طرح رہ رہے تھے ، تعلقات میں کبھی نرمی گرمی آجاتی تھی -
عمومی طور پر تعلقات نارمل ہی رہتے تھے ، دو مختلف خاندان ، مختلف تہذیبیں ، جو کوشش کے باوجود ایک نہیں ہوسکتے تھے-
لیکن اچھے پڑوسی تو ضرور ہوسکتے تھے ، جو کہ وہ یقیناً کوشش بھی کرتے تھے -
اب وہاں تیسری نسل بھی جوان ہونا شروع ہوگئی تھی -
وہ تیسری نسل کی نمائندگی کرتا تھا-
ڈیوڑھی سے ملحقہ برآمدے کی دوسری چھت پر ایک غسل خانے بنا ہوا تھا ، اس کی نکاسی کا پانی نیچے ان کے صحن میں ،برآمدے کے ساتھ ساتھ بنی ، نالی میں آتا تھا ،
پھر وہاں سے گزرتا ، ڈیوڑھی سے ہوتا ہوا ، باہر گلی میں بنی بڑی نالی میں چلا جاتا تھا -
عام طور پر اوپر سے آنے والا پانی ،نہانے دھونے کا،
نارمل انداز میں باہر گلی میں جارہا ہوتا تھا ،
مگر جب پڑوسی اپنے غسل خانے میں کپڑے دھوتے ، تو ٹب میں بھرے صابن والے پانی کو غسل خانے کے ایک کونے میں بنی ہودی ، چھوٹی حوضی ، میں انڈیل دیتے تھےـ
تو نیچے نالی میں سیلاب آجاتا تھا ، صابن والا پانی ، نالی سے نکل کر ، تین چار فٹ تک صحن میں پھیل جاتا تھا ،
پھر پانی تو ، کچھ دیر بعد ، نالی سے نکل جاتا تھا ، نالی میں پانی کا بھاؤ نارمل ہوجاتا تھا ،
صحن میں پھیلنے والا پانی ، اپنے پیچھے ، صابن کی جھاگ چھوڑ جاتا تھا ،
صاف ستھرا صحن ، گندہ ہوجاتا تھا ،
امی کو جھاڑو لے کر ، پانی سے ، صحن کو دھونا پڑتا تھا ،
ہفتے میں ایک دفعہ کا تو ، یہ عمل ۔۔۔۔
صابن کے پانی کا سیلاب ۔۔۔۔
ضرور ہوتا تھا -
امی کو اپنے صحن کی روزانہ کی معمول کی صفائی کی علاؤہ اس وجہ سے پھر سے صفائی کرنا پڑتی تھی ، ان کی صحت بھی اتنا ٹھیک نہیں رہتی تھی -
وہ بچپن سے یہ دیکھ رہا تھا ، پرائمری اسکول سے ہائی اسکول ۔۔۔۔۔
اس کے والد صاحب ، چھوٹے چچا ، کئی مرتبہ نرمی اور اخلاق سے پڑوسی چاچا کو ، یہ مسلہ بتا چکے تھے ،اور اس کا کوئی حل نکالنے کا کہہ چکے تھے ،
پڑھے لکھے ، مہذب سے والد صاحب ، اس بات کو جھگڑے میں بدلنا نہیں چاہتے تھے ،
پڑوسی چاچا نے کبھی اس کا کوئی حل نہیں نکالا ، نہ ہی ان کی فیملی نے ۔۔۔۔ شاید سنجیدہ ہی نہیں لیا تھا -
اس کی امی کو ، بہت سے سالوں سے یہ مشکل ، برداشت کرنا پڑ رہی تھی ،
غیر ضروری محنت ، کرنا پڑ رہی تھی -
اسے اکثر یہ دیکھ کر غصہ آتا تھا ،
اب جب وہ کالج میں آگیا تھا ، پڑھائی کے ساتھ ساتھ ، پچھلے وقتوں کے حساب ، چکانا چاہتا تھا ،
پہلے زمانے کی ناانصافیوں کا جواب دینا چاہتا تھا ،
اور حل نکالنا چاہتا تھا -
پھر اس نے وہی کیا جو سوچا تھا ،
اپنی زبان میں ،
وقت کی آواز میں ،
جو اب بدل چکا تھا ،
پڑوسیوں کو سمجھایا ،
آئندہ زیادتی نہیں ہونی چاہیے ،
ہر مسئلہ کا حل ہوتا ہے ،
بشرطیکہ ، نیک نیتی سے کاوش ہو ،
مسئلہ حل ہو جاتا ہے -
حل بھی بتایا ۔۔۔۔۔
پانی سے بھرے بڑے ٹب ، کو ایک دفعہ میں ہی ، ہودی میں نہ انڈیل دیں ،
ہاتھ روک کے ، ٹب کو تین چار بار میں ، تھوڑا سا وقفہ دے کر ، پانی کو ہودی میں انڈیلیں ،
چھوڑیں ۔۔۔۔۔
تھوڑی زحمت تو ہوگی ، لیکن پڑوسی ضرور مشکل سے محفوظ رہے گا ،
اس کے علاقے میں سیلاب نہیں آئے گا -
پھر وہ لوگ ، دوسرے شہر میں شفٹ ہونے سے پہلے ، چار پانچ سال اس گھر میں رہے ، لیکن کبھی صابن والے پانی والا کا سیلاب ، صحن کی نالی میں نہیں آیا -
پڑوسی اس کی بات سمجھ چکے تھے -
ٹی -وی کی سکرین پر اب تک سیلاب کے نقصانات کی ، تباہیوں کی خبر چل رہی تھی -
ہمارے پڑوسی ملک جو اب تک زیادتیوں کی بہت سی لائنیں کراس کرچکا تھا ،
اسے اب بتانے کا ، بامعنی سمجھانے کا وقت آچکا تھا -
ادھر ابنِ آدم سوچ رہا تھا ،
اچھا پڑوسی ہونا ، کتنی بڑی نعمت ہے -
- - - - - - - - - * * * - - - - - - - -
تحریر : علی ناصر رضوی
عنوان : پڑوسی
تاریخ : 31-اگست-2025
Category
Website
Address
Alerts
Be the first to know and let us send you an email when Nasir Rizvi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.