The Simple Path

The Simple Path

Share

Sharing reminders, Quran, Hadith, and beneficial knowledge to strengthen our Imaan and live a better Islamic life.

Empowering others to understand the true, simple path of Islam through the Quran and Sunnah.

30/09/2026

🌿 🌟 40 دن، 40 سنتیں — دن 29 🌟

⏳ آج کی پیاری سنت: *وقت کی قدر کرنا*
وقت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، مگر اکثر انسان اسے ضائع کر دیتے ہیں۔

*قرآن ہمیں وقت کی اہمیت یاد دلاتا ہے:*
“زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک عمل کیے، حق کی وصیت کی اور صبر کی وصیت کی۔”
📖 سورۃ العصر: 1-3

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ خسارے میں رہتے ہیں: صحت اور فارغ وقت۔”
📖 صحیح البخاری

💡 وقت صرف گزارنے کی چیز نہیں، لگانے کی چیز ہے۔
ایک بچہ اپنا وقت قرآن سیکھنے، نماز کی پابندی، علم حاصل کرنے، والدین کی خدمت، کھیل میں توازن اور کسی نفع بخش کام میں لگائے تو یہی وقت اس کے مستقبل کو بنا سکتا ہے۔

*🌸 آج کا چیلنج:*
آج اپنے دن کا کم از کم 30 منٹ کسی ایسے کام کے لیے مخصوص کریں جو آپ کے دین، علم یا کسی دوسرے انسان کے لیے فائدہ مند ہو۔

*📚 اب تک سیکھی گئی سنتیں:*
مسواک اور صفائی، سلام کو عام کرنا، کھانے کے مسنون آداب، خوش اخلاقی، سوموار اور جمعرات کا روزہ، معاف کرنا، سونے کے مسنون آداب، ہمسائیوں کا خیال رکھنا، قرآن سے روزانہ تعلق، تحفہ دینا، اذان کا جواب دینا، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، درود شریف پڑھنا، ضرورت مند کی مدد کرنا، غصے پر قابو پانا، چھوٹوں سے شفقت، پانی پینے کے مسنون آداب، بڑوں کا احترام، صبح کے مسنون اذکار، گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانا، اسراف سے بچنا، راستے کا حق ادا کرنا، سچائی، مضبوط بننا اور نفع بخش کام کرنا، زبان کی حفاظت، دوسروں کے لیے دعا کرنا، نماز کی حفاظت، علم سیکھنا اور سکھانا، وقت کی قدر کرنا۔

*🌿 سنت صرف جاننی نہیں، اپنانی ہے* ۔ ❤️

30/09/2026
30/09/2026

ایک جیسی اشیاء فروخت کرنے والے دکانداروں میں بھی اتنا حسد اور بُعد نہیں ہوتا، جتنا اسلام کے ایک ہی شعبے کی طرف بلانے والی دینی جماعتوں کے افراد میں نظر آ رہا ہے۔

اس کی ایک بڑی وجہ اخلاص کی کمی اور جماعتی عصبیت ہے۔

شیخ الاسلام حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے اسی تناظر میں ایک جملہ فرمایا کہ:

"کام مقصود تھا، لوگوں نے جماعت اور تنظیم کو مقصود بنا دیا۔"

ہمارے شیخ و مرشد حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا یہ خاصہ تھا کہ انہوں نے مختلف دینی جماعتوں اور محنتوں کو جمع کرکے دکھایا۔ ان کا مزاج یہ تھا کہ دین کے کسی ایک شعبے کو تقابلی انداز میں پیش نہ کیا جائے، بلکہ ہر دینی محنت کو دین کے مجموعی کام کا ایک حصہ سمجھا جائے۔

کاش! دیگر جماعتوں کے ذمہ داران اور کارکنان بھی اس مزاج کو سمجھیں۔

آج جماعتوں کی کمی نہیں، بلکہ بعض اوقات ایک جماعت کے اندر بھی کئی جماعتیں بنتی جا رہی ہیں۔ لیکن اصل مسئلہ جماعتوں کی کثرت نہیں، بلکہ آپس کا بُعد، حسد، بدگمانی اور ایک دوسرے کی دینی محنت کو کم تر سمجھنا ہے۔

اس کا ایک حل یہ ہے کہ جماعتوں کے سربراہان اور ذمہ داران اپنے کارکنوں کو یہ سمجھائیں:

"دین کی مختلف محنتیں ہو رہی ہیں، ہم بھی اس میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ ہم کل نہیں، بلکہ اس مجموعی دینی کام کا ایک جز ہیں۔"

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک ساتھی عملی طور پر ایک وقت میں ایک ہی جماعت کے ساتھ کام کر سکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ دوسری دینی محنت کرنے والوں سے محبت نہ رکھے، ان کے لیے دعا نہ کرے یا جہاں ممکن ہو ان کی معاونت نہ کرے۔

ہمارے حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے دردِ دل میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ دین کے کسی ایک شعبے کو تقابلی انداز میں پیش نہ کیا جائے کہ یہی سب کچھ ہے اور باقی محنتیں کم تر ہیں۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے اپنے حصے کی محنت کرتے ہوئے ایک دوسرے کے لیے دل میں محبت، احترام اور خیرخواہی پیدا کرے۔ یہی اخلاص کا تقاضا ہے اور یہی امت کے اتحاد کی ضرورت ہے۔

29/09/2026

سبق نمبر 23 — غزوۂ اُحد

اس سبق میں جانیے کہ شوال 3 ہجری میں غزوۂ اُحد کے موقع پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کس طرح بہادری، صبر اور رسول اللہ ﷺ سے بے مثال محبت کا مظاہرہ کیا۔ اس واقعے میں ہمیں نبی کریم ﷺ کے حکم کی پابندی اور مشکل حالات میں ثابت قدم رہنے کا اہم سبق بھی ملتا ہے۔

اس سبق سے بچوں کو اطاعت، صبر، قربانی، رسول اللہ ﷺ سے محبت اور اللہ تعالیٰ پر بھروسے کا درس ملے گا۔

#احد

29/09/2026

*عاملوں کی کارستانیاں اور عوام کے لیے ایک اہم سبق*

آج ہمارے معاشرے میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو ہر پریشانی، بیماری، گھریلو مسئلے اور رکاوٹ کا حل عاملوں، تعویذات اور مختلف عملیات میں تلاش کرتا ہے۔ حالانکہ ایک مسلمان کی پہلی اور بنیادی توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہونی چاہیے۔
جھاڑ پھونک یعنی رقیہ شرعیہ اگر قرآن و سنت کے مطابق ہو تو جائز ہے، لیکن عوام کو چاہیے کہ اپنی حاجات اور مشکلات کے لیے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکیں، نماز کا اہتمام کریں، دعا کریں، صلاۃ الحاجت پڑھیں، صدقہ کریں، مسنون اذکار کا اہتمام کریں اور اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کریں۔
افسوس یہ ہے کہ بعض عامل حضرات عوام کے اس رجحان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں: ’’فلاں کام کر دیں گے، فلاں مشکل ختم کر دیں گے، فلاں شخص کو آپ کے قدموں میں لے آئیں گے، فلاں مسئلہ چند دن میں حل ہو جائے گا۔‘‘ پھر بعض اوقات لوگوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے: ’’آپ پر سایہ ہے، فلاں اثر ہے، بندش ہے یا آپ کے ساتھ فلاں مسئلہ ہے۔‘‘
یہاں عوام کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ہر پریشانی کو جنات، سایہ، بندش یا جادو قرار دینا درست نہیں۔ بعض اوقات انسان کی پریشانی کے حقیقی اسباب دنیاوی، نفسیاتی، طبی یا معاشرتی ہوتے ہیں، جن کے لیے متعلقہ ماہرین سے رجوع کرنا چاہیے۔
علماء کرام کی بھی ذمہ داری ہے کہ اپنے خطابات اور دینی مجالس میں عوام کو صرف عاملوں کے دروازوں تک جانے کی ترغیب دینے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے دروازے تک پہنچنے کی ترغیب دیں۔ عوام کو مسنون دعائیں، اذکار، نماز، صدقہ، رقیہ شرعیہ اور دیگر ثابت شدہ اعمال سکھائے جائیں۔
ہمیں لوگوں کے دل عاملوں کے ساتھ نہیں، اللہ تعالیٰ کے ساتھ جوڑنے ہیں۔
عوام کے لیے بھی سبق یہی ہے کہ ہر دعوے دار کے پیچھے نہ چلیں، ہر بات پر یقین نہ کریں اور خوف کی حالت میں اپنا مال کسی کے حوالے نہ کریں۔ شرعی علاج ہو تو شرعی اصولوں کے مطابق ہو، دعا ہو تو اللہ سے ہو اور امید بھی اسی ذات سے ہو۔
یاد رکھیں!
سبب اختیار کرنا جائز ہے، مگر دل کا بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر ہونا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے، صحیح اور غلط میں فرق کرنے اور ہر قسم کے دھوکے سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

29/09/2026

🌿 🌟 40 دن، 40 سنتیں — دن 28 🌟

📚 آج کی پیاری سنت: *علم سیکھنا اور سکھانا*

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے۔”
📖 صحیح البخاری

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اللہ تم میں سے ایمان والوں اور جنہیں علم دیا گیا ہے، ان کے درجات بلند فرمائے گا۔”
📖 سورۃ المجادلہ: 11

علم صرف کتابیں پڑھنے کا نام نہیں؛ بلکہ صحیح بات سیکھنا، اس پر عمل کرنا اور پھر حکمت کے ساتھ دوسروں تک پہنچانا بھی علم کا حصہ ہے۔

*جو بچہ آج قرآن پڑھنا سیکھ رہا ہے، حدیث سمجھ رہا ہے، اپنے استاد سے علم حاصل کر رہا ہے اور سیکھی ہوئی اچھی بات کسی دوسرے کو بتا رہا ہے، وہ کل دین کے لیے بہت بڑا کام کر سکتا ہے۔*

اور یاد رکھیں! علم حاصل کرنے کی راہ بھی اللہ کے ہاں بہت قدر والی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص علم کی تلاش میں راستہ اختیار کرتا ہے، اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔
📖 صحیح مسلم

*🌸 آج کا چیلنج:*
آج کوئی ایک دینی بات ایسی سیکھیں جو پہلے معلوم نہ تھی، اسے اچھی طرح سمجھیں اور پھر گھر میں کسی ایک فرد کو بھی سکھائیں۔

*📚 اب تک سیکھی گئی سنتیں:*
مسواک اور صفائی، سلام کو عام کرنا، کھانے کے مسنون آداب، خوش اخلاقی، سوموار اور جمعرات کا روزہ، معاف کرنا، سونے کے مسنون آداب، ہمسائیوں کا خیال رکھنا، قرآن سے روزانہ تعلق، تحفہ دینا، اذان کا جواب دینا، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، درود شریف پڑھنا، ضرورت مند کی مدد کرنا، غصے پر قابو پانا، چھوٹوں سے شفقت، پانی پینے کے مسنون آداب، بڑوں کا احترام، صبح کے مسنون اذکار، گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانا، اسراف سے بچنا، راستے کا حق ادا کرنا، سچائی، مضبوط بننا اور نفع بخش کام کرنا، زبان کی حفاظت، دوسروں کے لیے دعا کرنا، نماز کی حفاظت، علم سیکھنا اور سکھانا۔

*🌿 سنت صرف جاننی نہیں، اپنانی ہے۔ ❤️*

29/09/2026

*مشاجراتِ صحابہ*

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں

"اگر کسی بادشاہ کے محل میں شہزادوں کے درمیان کسی مسئلے میں چپقلش یا لڑائی ہو جائے، تو محل کے بھنگی، چپڑاسی اور خاکروب کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ شہزادوں کی اس لڑائی کے بیچ میں پڑیں اور آپس میں تبصرے کریں اور ان کے درمیان فیصلہ کریں، بلکہ بادشاہ کا معاملہ جانے اور اس کے شہزادے جانیں، یہ بھنگی اگر بحث میں پڑیں تو ان کی گردن ماری جائے گی، بالکل یہی مثال حضرت صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی ہے، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شہزادے ہیں۔ ان کے درمیان جو مشاجرات ہوئے، امت کے کسی فرد کو خاکِ روب یا چپڑاسی کی طرح کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ ان مقدس ہستیوں کے بارے میں اپنی زبان طعن دراز کرے اور ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے وہ قضا اور عدالت کی کرسی کو سنبھالے۔

28/09/2026

ایک مرتبہ خلیفہ ہارون الرشید نے امام ابو یوسف سے شکوہ کیا کہ حضرت! کیا وجہ ہے کہ اب مدرسے میں بچوں کا داخلہ کم ہو گیا ہے اور لوگ اپنے بچوں کو دین کی تعلیم کے لیے پہلے کی طرح نہیں بھیج رہے؟ امام ابو یوسف نے خلیفہ کی بات سن کر مسکرا دیا اور فرمایا کہ آپ کے اس سوال کا جواب اگلے سال دوں گا۔

کچھ دن گزرے عید آ گئی۔ خلیفہ ہارون الرشید نمازِ عید کے لیے عیدگاہ پہنچا تو اس نے دیکھا کہ مصلےسے امام صاحب غائب ہیں۔ خلیفہ کے انتظار اور بلاوے کے باوجود امام صاحب نہیں آئے۔ سورج بلند ھونے لگا، خلیفہ نے سختی سے لوگوں کو بھیجا تو لوگ آ کر کہنے لگے کہ انہوں نے شرط رکھی ہے کہ میں باہر تب آؤں گا، جب میری پالکی کے ایک کونے کو خود خلیفہ ہارون الرشید اپنے کندھے پر اٹھا کر لے جائے۔

ہارون الرشید ایک عالم دوست حکمران تھا، وزراء اور لوگوں کی حیرانگی اور منع کرنے کے باوجود شرط مان لی اور آگے بڑھ کر امام ابویوسف کی پالکی کا ایک کونا اپنے کندھے پر اٹھا کر بھرے ھوئے عید گاہ کیطرف چلنا شروع دیا۔ عیدگاہ میں پہلے ہی ہزاروں کا مجمہ تھا لیکن خلیفہ اور امام صاحب کے مطالبات کا سن کر مجمہ بیسیوں گنا بڑھ چکا تھا۔

جب پالکی عید گاہ پہنچی تو امام صاحب نے اسے رکوانے کا حکم دیا، وہ نیچے اترے اور ہارون الرشید کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ بادشاہ سلامت! یاد ہے آپ نے مجھ سے پوچھا تھا کہ مدرسے میں بچوں کا داخلہ کیوں کم ہو گیا ہے؟ اب اپنے چاروں طرف اس ہجوم کو دیکھو۔ جب لوگوں نے یہ منظر دیکھ لیا ہے کہ دین کا علم پڑھنے والے کی پالکی کو وقت کا بادشاہ کندھا دے رہا ہے، تو اگلے سال نہیں،کل صبح ہی دیکھنا کہ لوگ اپنے بچوں کو بازوؤں سے پکڑ پکڑ کر مدرسے لائیں گے تاکہ ان کے بچے بھی علمِ دین حاصل کر کے اس بلند مقام پر پہنچ سکیں۔
۔
پاکستان میں 2024، 25 اور 26 کے تین سالوں کے صدارتی ایوارڈز میں سے 73 ایوارڈز اداکاروں، فنکاروں، گلوکاروں، سوشل میڈیا انفلوانسرز اور فلمی ڈائریکٹرز کو، 10 ایوارڈز سائنٹسٹ اور ایجوکیشنسٹ کو اور 4 ایوارڈز مختلف مسالک کے علماء کو ملے۔

حکومتی ترجیحات فیصلہ کرتی ہیں کہ ملک چند سالوں میں کس پوزیشن پہ کھڑا ھو گا۔
اب ہمارا ملک کس سمت میں جا رہا ہے یا جائے گا اس سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔

28/09/2026

میراث کے معاملے میں حیلے بہانے شاید دنیا میں چل جائیں۔ آپ ظاہری چالاکی سے اپنی بہنوں کا حق دبا لیں، انہیں ان کے شرعی حصے سے محروم کر دیں، لیکن یاد رکھیں! اللہ تعالیٰ کی عدالت میں نہ کوئی حیلہ چلے گا، نہ بہانہ اور نہ سفارش۔
وہاں حقوق العباد کا ایک ایک حق ادا کرنا ہوگا، ایک ایک روپے کا حساب دینا ہوگا۔ نمازیں، روزے، حج، عمرے اور ذکر و اذکار اپنی جگہ بڑی نیکیاں ہیں، لیکن اگر کسی بندے کا حق دبایا ہے تو قیامت کے دن انہی نیکیوں سے اس حق کا بدلہ چکانا پڑ سکتا ہے۔
لہٰذا آج ہی میراث کو شرعی طریقے کے مطابق تقسیم کریں اور اپنی بہنوں اور تمام حق داروں کا حق خوش دلی سے ادا کریں۔ یاد رکھیں، دنیا کی چند روزہ جائیداد کے لیے آخرت کی دائمی زندگی برباد کرنا دانش مندی نہیں

Category

Address

Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Simple Path posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Subscribe

We will notify you when anything happens in Islamabad.