Zafar Rasheed 333
Zafar Rasheed 333
چوری کا بائیک چوری کرنے سے کھولنے تک صرف 28 منٹ
26/09/2026
*بعض رشتوں کا درد تب سمجھ آتا ہے، جب انسان خود اسی رشتے میں آتا ہے۔*
شام کی روشنی آہستہ آہستہ کم ہو رہی تھی، اور گھر کے صحن میں خاموشی کا راج تھا۔ اسلم صاحب صحن میں لگی لکڑی کی پرانی کرسی پر بیٹھے اپنے بوڑھے باپ کو دیکھ رہے تھے، جو کٹورے میں پڑی دال کو روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بھگو کر بمشکل چبا رہے تھے۔ باپ کے تھرتھراتے ہاتھ اور ان کی کمزور نظریں دیکھ کر اسلم کو اچانک ایک گہرا احساس گھیرنے لگا۔
کچھ سال پہلے کا واقعہ اسلم کے ذہن میں پردہ سیمیں کی طرح چلنے لگا۔ اس وقت وہ جوان تھے، دفتری زندگی کی دوڑ دھوپ اور بچوں کی دیکھ بھال میں اتنے مصروف رہتے تھے کہ جب ان کے والد انہی کرسی پر بیٹھ کر ان کا انتظار کرتے اور کچھ دیر پاس بیٹھنے کی خواہش ظاہر کرتے، تو اسلم اکثر جھنجھلا جاتے:
"ابو! آپ کو پتہ بھی ہے میں دن بھر کتنا تھک جاتا ہوں؟ آپ ہر وقت چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان کیوں ہو جاتے ہیں؟"
والد صاحب اس وقت خاموشی سے مسکرا دیتے اور نظریں جھکا لیتے۔ اسلم کو لگتا تھا کہ والد صاحب بلاوجہ جذباتی ہو رہے ہیں، وہ ان کے خاموش درد، تنہائی اور توجہ کی اس تڑپ کو کبھی نہ سمجھ سکے۔
پھر وقت بدلا۔ سال گزرتے گئے، اسلم کی اپنی اولاد بڑی ہو گئی، ان کی شادیاں ہو گئیں اور وہ اپنی دنیا میں مصروف ہو گئے۔ اب اسلم بوڑھے ہو چکے تھے۔ ہاتھ پیروں میں پہلے جیسی طاقت نہ رہی تھی اور دل چاہتا تھا کہ کوئی ان کے پاس بیٹھے، ان کی بات سنے، ان کی تکلیف کو سمجھے۔ لیکن ان کے بچے بھی دفتری اور خانگی زندگی کے انہی جھمیلوں میں اتنے ہی مصروف تھے، جتنے وہ کبھی اپنے والد کے وقت میں ہوا کرتے تھے۔
آج صبح ہی جب انہوں نے اپنے بیٹے سے صرف اتنی سی بات کہی تھی کہ "بیٹا! آج ذرا میرے ساتھ بیٹھ کر چائے پی لو، دل اداس ہے"، تو بیٹے نے گھڑی دیکھتے ہوئے جلدی میں جواب دیا: "ابو! مجھے دفتر سے دیر ہو رہی ہے، آپ بھی نہ جانے کیوں اتنے جذباتی ہو جاتے ہیں!"
بیٹے کا وہ جملہ اسلم کے دل پر تیر کی طرح لگا۔ وہی جملہ، وہی الفاظ، وہی انداز… ਜੋ دہائیوں پہلے وہ خود اپنے باپ سے کہا کرتے تھے۔
صحن کی پرانی کرسی پر بیٹھے اسلم صاحب کی آنکھوں سے ایک آنسو نکل کر گال پر ڈھل گیا۔ انہوں نے نظریں اٹھا کر اپنے والد کو دیکھا، جو اب لکڑی کے سہارے کھڑے ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ اسلم فوراً اٹھے، آگے بڑھے اور اپنے والد کا ہاتھ تھام کر انہیں سہارا دیا۔
باپ نے بیٹے کے چہرے پر آنسو دیکھے تو شفقت سے پوچھا: "کیا ہوا اسلم؟"
اسلم نے اپنے والد کے جھریوں بھرے ہاتھوں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا، انہیں چوما اور کپکپاتی آواز میں بولے: "ابو! مجھے معاف کر دیں۔ مجھے آج سمجھ آیا ہے کہ جب انسان خود اس رشتے اور اس عمر میں آتا ہے، تبھی اسے پتہ چلتا ہے کہ خاموش انتظار اور نظر انداز کیے جانے کا درد کتنا گہرا ہوتا ہے۔"
باپ نے بیٹے کا سر اپنے سینے سے لگا لیا۔ درد کا وہ احساس جو لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتا تھا، آج خود اس رشتے کا روپ دھار کر اسلم کے دل میں اتر چکا تھا۔
کلر سیداں روڈ پر حادثہ میں غلطی کس کی ؟
25/09/2026
جہلم ٹریفک حادثہ تین افراد زخمی
غیرت مند ہونا ہر ملک کے بس کی بات نہیں
25/09/2026
جہلم پولیس کی کاروائی
جہلم پل پر احتجاج کا راستہ روکنے کی تیاری مکمل
راولپنڈی راستے بند ہونے سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں
اسلام آباد موٹر وے کو بند کردیا گیا
Category
Website
Address
Jhelum