Sharp Eye

Sharp Eye

Share

Sharp Eye is Pakistan's independent news agency. Initially news service was started in English, Urdu and Arabic languages.

Sharp Eye was founded by renowned journalist, columnist, poet and Chief Editor Dr. Mian Muhammad Azhar Amin Godizt in 1999 with the aim to provide true news to all types of media in different languages.

19/09/2026

BREAKING NEWS.... Educational Institutions Have Been Teaching ‘Fake Pakistan Studies’ for 79 Years, Claims Sharp Eye
پاکستان میں پچھلے 79 سال سے تعلیمی ادارے طلباء کو جعلی مطالعہ پاکستان پڑھا کرسنگین جرم کررہے ہیں۔

Photos from Sharp Eye 's post 19/09/2026

BREAKING NEWS....
Educational Institutions Have Been Teaching ‘Fake Pakistan Studies’ for 79 Years, Claims Sharp Eye

LAHORE (Sharp Eye) — September 19, 2026 For the past 79 years, educational institutions in Pakistan have been committing a serious crime by teaching students what is described as “fake Pakistan Studies.” Students should file cases against their respective educational institutions, stating that they are being charged exorbitant fees and other dues while being provided with fake education. Students should force the owners of their educational institutions to teach genuine Pakistan Studies. Government educational institutions will never accept this demand, and legal cases will have to be filed against them. Only those private educational institutions will be able to fulfill this demand that now want to come out of the criminal agenda of providing fake education. If educational institutions do not include Real Pakistan Studies in the courses of their students, then students should study it themselves, because a degree becomes useful in life only when it is accompanied by genuine knowledge. Students can obtain this book from the following link: https://godizt.gumroad.com/l/anuvnf

A student stated that a private university in Lahore forced every student to purchase a useless and fake Pakistan Studies book for Rs. 4,500 during the first semester of their BS program. Such alleged practices are continuing across educational institutions, which are making millions and billions of rupees through them, while consuming billions of rupees in annual Governments grants themselves instead of providing them to students in need. Sharp Eye has been collecting evidence regarding this matter for several years. All students should submit applications to the police for the registration of FIRs against their respective institutions over what they describe as the provision of fake and false knowledge, and should also file cases in consumer courts, alleging that their institutions are providing false and fabricated education. If, within one week, these so-called educational institutions do not include “Real Pakistan Studies by Dr. Godizt” in their courses on merit, Sharp Eye Publishers will also file civil and criminal cases against them. It should be remembered that Sharp Eye News Agency and Sharp Eye Publishers are two separate organizations. Sharp Eye Publishers is formally registered as a publishing house.



لاہور (شارپ آئی) 19 ستمبر 2026

پاکستان میں پچھلے 79 سال سے تعلیمی ادارے طلباء کو جعلی مطالعہ پاکستان پڑھا کرسنگین جرم کررہے ہیں۔ طلباء اپنے اپنے تعلیمی اداروں پر مقدمات دائر کریں کہ ان سے ظالمانہ فیسیں اور دیگر واجبات لے کر جعلی تعلیم دی جارہی ہے۔

طلباء اپنے تعلیمی اداروں کے مالکان کو حقیقی مطالعہ پاکستان پڑھانے پر مجبور کریں

یہ مطالبہ سرکاری تعلیمی ادارے تو کبھی بھی تسلیم نہیں کریں گے اور مقدمات فیس کرنا ہوں گے

صرف وہی پرائیویٹ تعلیمی ادارے یہ مطالبہ پورا کرسکیں گے جعلی تعلیم کے مجرمانہ ایجنڈے سے اب نکلنا چاہتے ہیں۔

اگر تعلیمی ادارے حقیقی مطالعہ پاکستان Real Pakistan Studies طلباء کے کورس میں شامل نہیں کرتے تو طلباء خود پڑھ لیں کیونکہ زندگی میں ڈگری تب کار آمد ہوتی ہے جب حقیقی علم بھی ہو

یہ کتاب طلباء اس لنک سے حاصل کرسکتے ہیں

https://godizt.gumroad.com/l/anuvnf

ایک طالب علم نے بتایا کہ لاہور کی ایک پرائیویٹ یونیورسٹی نے انہیں بی ایس کے پہلے سمسٹر میں ایک بے کار جعلی مطالعہ پاکستان کی کتاب ساڑھے چار ہزار روپے کی ہر طالب علم کو خریدنے پر مجبور کیا۔ ایسے جرائم تمام تعلیمی ادارے مسلسل کرکے کروڑوں اربوں کی دیہاڑیاں لگا رہے ہیں اور اربوں کی سالانہ گرانٹ ضرورت مند طلبا کو دینے کی بجائے خود ہڑپ کرہے ہیں۔ شارپ آئی اس کے کئی سال سے ثبوت اکٹھے کررہی ہے۔ تمام طلباء جعلی علم، جھوٹا علم دینے پر اپنے اپنے اداروں کے خلاف پولیس کو ایف آئی آر کی درخواستیں دیں اور کنزیومر کورٹس میں مقدمات بھی دائر کریں کہ ان کے ادارے جعلی جھوٹی تعلم دے رہے ہیں۔ ایک ہفتے کے اندر اندر اگر "حقیقی مطالعہ پاکستان از ڈاکٹر گاڈاِزٹ" میرٹ پر ان نام نہاد تعلیمی اداروں نے کورس میں شامل نہ کی تو شارپ آئی پبلشرز بھی ان پر سول کریمنل مقدمات دائر کرے گی۔ یاد رہے کہ شارپ آئی نیوز ایجنسی اور شارپ آئی پبلشرز دو علیحدہ ادارے ہیں۔ شارپ آئی پبلشرز باقاعدہ ایک پبلشنگ ہاوس کے طور پر رجسٹرڈ ادارہ ہے۔

Photos from Sharp Eye 's post 18/09/2026

BREAKING NEWS
District and Sessions Judge Lahore, Tariq Khurshid Khawaja, set fire to the record room of the Model Town Court. "Sharp Eye" is now in a position to prove it. If an inquiry (Live) is conducted, even the Chief Justice may turn out to be involved.
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہورطارق خورشید خواجہ نےماڈل ٹاون کورٹ کے ریکارڈ روم میں آگ لگوائی۔ شارپ آئی ثابت کرنے کی پوزیشن میں آگئی۔اگر لائیو انکوائری ہوئی تو چیف جسٹس بھی ملوث نکل سکتی ہے
CORRUPT JUDGES GETTING BRIBES THROUGH NAIB COURTS HENCE WORKING AS THEIR SUBORDINATES
پولیس کا ججوں کو مستقل حصہ پہنچانے کا نیٹ ورک نائب کورٹ اور تعمیل کنندہ پولیس ملازمین کے ذریعے قائم ہے
لاہور(شارپ آئی) 18 ستمبر 2026
شارپ آئی کے پاس کرپٹ جرائم پیشہ پولیس ملازمین بالخصوص سی ایس پی نوکروں کی ناجائز مدد کرکے سنگین جرائم میں ہمیشہ سے بچانے کے لیے خود ججز کا جرائم کرنے کے بے شمار ثبوت اکٹھے ہوگئے۔ پولیس اور اداروں کے سنگین جرائم ایکسپوز کرنے کی ہمت رکھنے والے سچوں ایمانداروں کو عدالتوں کے ذریعے مستقل یرغمال رکھ کر سالہا سال زندگیاں تباہ کرنے والے سپاریاں اُٹھانےوالے جج وکیل اور سرکاری وکیل ہیں۔ زیادہ ججز پولیس سے نائب کورٹ، تعمیل کنندہ (پولیس ملازموں) کے ذریعے پولیس افسران کی لگائی گئی بڑی دیہاڑیوں سے حصے لے کر مقدمات کی فائیل میں موجود سنگین پولیس کے جرائم کو بغیر سخت قانونی کاروائی گول کردیتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ چھوٹے چھوٹے پولیس اہلکار عدالت پر بدمعاش بنے ہوتے ہیں اورججوں کے کانے ہونے کی وجہ سے ججوں کو جو اشارہ کرتے ہیں وہ کام پولیس افسران کے حق میں کراتے ہیں۔ سرکاری وکیلوں کو بھی پولیس مال کھلا کر مرضی کے کام کراتی ہے۔ کینٹ کورٹ کے ایک ڈی ڈی پی کو ایک سب انسپکٹر نے کہا کہ ایس پی صاحبہ نےہنگامی طور پرڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان کے حکم پر ضمنی اخراج دستخط کی ہے ملزم آئی ایس آئی کا سہولت کار اور ونگ کمانڈر کا بیٹا ہے پوری آئی ایس آئی پولیس پر چڑھ گئی ہے لہذا فوری طور پرابھی منظور کرکے جوڈیشل مجسٹریٹ کو ابھی فارورڈ کردیں، میں نے ایس پی صاحبہ کو یہ کارکردگی ابھی فوری دکھانی ہے کہ سرکاری وکیل سے منظوری کرا آیا ہوں۔ شارپ آئی ذرائع کے مطابق تفتیشی نے ڈٰی ڈٰی پی پی کو بھاری رشوت بھی دی اور فوری منظوری کراکے جوڈیشل مجسٹریٹ تک فارورڈ کرادی بعد ازاں حیرت انگیز طور پر جوڈیشل مجسٹریٹ اظہر محمود نے بھی ایگری کرکے قانون آئین کی دھجیاں بکھیر دیں اور مدعی کی ایسی درخواست خارج کردی کہ یہ جج جیل جائے بغیر رہ ہی نہیں سکتا اگر میرٹ پر اس ملک میں کوئی احتساب کا نظام ہوتا۔ لیکن سب ججز فوج اور ایجنسیوں حتی کہ پولیس کی داشتائیں ثابت ہو رہی ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ایسے کھلے ننگے جھوٹے کیس جس میں پہلی پیشی پربے گناہ ملزم کو ڈسچارج کردینا لازم ہوتا ہے اس میں ججز سالہا سال پھنسائے رکھتے ہیں جو ثابت کرتا ہے۔ ایسے مقدموں میں دس دس بیس بیس تیس تیس سال بے گناہ ملزموں کو پھنسائے رکھتے ہیں کہ جس میں خود مدعی نے لکھا ہوتا ہے کہ میں اس کی جیب کاٹ کر بھاگ رہا تھا تو اس نے مجھے دھمکی دی اور جج دھمکی کے ایسے پرچوں میں بے گناہ ملزم کو دس دس سال نہ صرف لٹکاے رکھتے ہیں بلکہ انتہائی بدتمیزی کرتے ہیں۔ ایسے مقدمات کہ کسی کے گھرپر حملہ آور اندر گھس کر ڈاکے مار رہے ہیں دہشت گردی کررہے ہیں اور شریف آدمی اپنی جان بجانے کے لیے اپنے گھر کے اندر ہوئی فائر کرتا ہے۔ سالہا سال اس وقوعہ کی نہ صرف ویڈیوہر ہر پولیس افسر ہر ایجنسی ہر ادارہ حکومت اور ہر جج کو پیش کی جاتی اور مجسٹریٹ کے پاس 8 گواہ پیش ہوکر روبرو عدالت اس ویڈیو کی صداقت کی تصدیق کرتے ہیں اوربیان دیتے ہیں کہ جج صاحب شریف انسان پر پولیس اپنی نگرانی میں مسلسل حملے کرا رہی ہےاور نیچرل انداز میں لڑائی جھگڑا ظاہر کرکے قتل کرانے کی کوشش کررہی ہے لیکن مجسٹریٹ سے لیکر سیشن جج طارق خواجہ اور پچھلے سیشن ججز تک، ہائی کورٹ بھی سب جھوٹے مدعی حملہ آوروں اور پولیس کو بچانے کے لیے ایسے ایسے جرائم کرچکے ہیں اور کررہے ہیں کہ اگر مزاہب کا بتایا اللہ دیکھنے سننے والا ہوتا تو ان سب ججوں پر عزاب لے آتا۔ ججز مسلسل خود فائیلیں چوری کررہے ہیں۔ اسی کیس میں ایک ڈیڑھ سال قبل ایک جوڈیشل مجسٹریٹ سعید نے کسی کو کہا کہ ہائی کورٹ سے حکم ہے کہ ابھی اس صحآفی کا پولیس کریمنل ریکارڈ بنائے رکھنے کا حکم ہے۔ جبکہ عادی مجرم جو مسلسل عوام سے جعلسازی فراڈ کرتا ہے بار بار مختلف سادہ لوح افراد کو لوٹتا ہے۔ درجنوں ثبوت پیش کیے جاتے ہیں ان کو بچانے کے لیے پولیس اور ججز حقائق کی بجائے تیکنیکی چالاکیاں مکاریاں لگا کراپنے مستقل گاہک کو بچاتے ہیں۔ ڈیڑھ ڈیڑھ کروڑ کے فراڈز کے ناقابل تردید ثبوت اور ڈیڑھ کروڑ کےچیک باونس کی ضمانت ایڈشنل سیشن جج لے کر جرم کی انتہاء کرتے ہیں جبکہ ایک مکمل بے گناہ بچے کے خلاف صاف نظر آنے والے کیس میں سیشن جج اور متعدد اے ایس جیز نے جو کچھ کیا اور اب تک کررہے ہیں کیونکہ اس نے پولیس کے اعلی سی ایس پی افسران کے خلاف عدالت میں گواہی دی تھی۔ ایسے ججزپر اب تک عزاب الہی نہ آنا اللہ نامی کردار کو ایک مرتبہ پھر بے انصافوں ظالموں درندوں کا ہی پشت پناہ ثابت کرتا ہے جو وقت کی ظالم اور کافر ایسٹیبلشمنٹس کے خلاف آواز اُٹھانے والے نبیوں اور ان کی آل کو بھی قتل اور ذلیل و رسوا ہوتے دیکھ کر ہمیشہ خاموش رہا۔ لہزا ایسا خدا نہ تو عزت کے قابل ہے نہ ہی عبادت کے۔۔۔ ان کریمینلز کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔ عدلیہ بھی محض انتظامیہ کے لیے یرغمال بنانے کا انڈر ورلڈ ہے۔ ایسے بے شمار جرائم پولیس اور عدالتیں مل کر رہی ہیں۔ جب بھی کرپٹ ججوں کو مظلوموں نے ایسے جرائم کی کمپلینٹس ہائی کورٹ جوڈیشل کونسل، صدر مملکت وغیرہ کودیں تو چیف جسٹس اور دیگر اداروں کے افسران و ججز نے لمبا مال کھا کر بغیر انکوائری داخل دفتر کرادیں۔۔۔اور جی ایچ کیو کو مزید یرغمال جج استعمال کے لیے مل گیا جس کی ایک بڑی مثال حرامی کرپٹ جسٹس امین الدین خان ہے جو اپنے کرپشنز کے ریکارڈز کی وجہ سے جی ایچ کیو کا دلا بن کر ظلم بے انصافی کی مثالیں قائم کررہا ہے۔۔۔ جو ججز، وکیل یا سرکاری وکیل پولیس سمیت دیگر کسی بھی سرکاری درندے کے ناقابل تردید ثبوت سامنے آنے کے باوجود ان درندوں کو بچانے کے لیے داو پیچ کھیلنے، قانونی مکاریاں لگا کر سچوں ایمانداروں بے گناہوں کے کیس خراب کرنے اور ایسے گھناونے درندے مجرموں کو بچائے تو ایسے غداروں کو چوکوں میں لٹکائے بغیر اس ملک سے کرپشن لوٹ مار درندگیاں غداریاں دہشت گردیاں کبھی ختم نہیں ہو سکتیں۔ عدالتوں میں پولیس کے ناقابل تردید جرائم پر ان کے خلاف مقدمے کرنے والے مظلوموں سے عدالتوں پر قابض نائب کورٹس، تعمیلیے (پولیس ملازمین) سر عام بدتمیزی غنڈا گردی اور سازشیں کرتے ہیں۔ عدالتی ریکارڈ میں جعلسازیں فراڈز کرتے اور عملہ سے کراتے ہیں۔ ایسے درجنوں بدتمیز غنڈوں جعلساز پولیس اہلکاروں کے ثبوتوں کے ساتھ مظلوموں کی کمپلینٹس ہر فورم پر داخل ہوئیں لیکن بے سود ۔ دو مثالیں یہ ہیں کہ سیشن کورٹ لاہور میں سابق اے ایس جے ندیم کی عدالت کا نائب کورٹ اسلم اور ماڈل ٹاون جے ایم یوسف سلیم کی کورٹ کے تعمیلیہ مصطفی سمیت درجنوں حرامیوں کے جرائم اور ججز کو احکامات دینے کے ناقابل تردید ثبوت سامنے آنے کے باوجود انہیں جیل بھیجنے کی بجائے مزید بدتمیزی کرنے کے احکامات دئیے گئے یہ سب پولیس کے معمولی ملازم ججوں کو کھلی عدالت میں ایسے حکم دیتے ہیں کہ جناب یہ ثبوت جو سائل دے رہا ہے اسے واپس کردیں عدالتی ریکارڈ کا حصہ مت بنائیں اور جج فورآ سائل کے منہ پر وہ ثبوت یا درخواست دے مارتا ہے۔ شارپ آئی اس الزام کے متعدد ثبوت سامنے لائی لیکن چونکہ ٹاپ تک ہر سیٹ پر آج کرپٹ ترین درندہ بیٹھا ہے لہزا کوئی کاروائی نہیں کی جاتی۔۔ جے ایم یوسف سلیم جیسے معزور اندھے جج کو لاہور میں 6 تھانوں کے مقدمات کا انچارج بنانے کا مقصد یہ ہے کہ اسے تو نظر نہیں آتا۔ عملے سے جو مرضی جعلسازی کرالو۔ یوسف سلیم کے متعدد سنگین جرائم کی شکایتیں سیش جج لاہور اور ہائی کورٹ کو دی گئیں اور کہا گیا کہ اس بیچارے کو دفتری ڈیوٹی دیں اس کے اندھے ہونے کی وجہ سے عدالت میں مسلسل سنگین جرائم جعلسازیاں ہو رہی ہیں۔ اس جج نے اعلی پولیس افسران کے خلاف کئی سال سے دائر ایک استغاثۃ کو غیر حاضری مدعی کی بنیاد پر خارج کرنے کی سپاری اُٹھائی اور سابق ججوں کے پولیس کے خلاف چلنے والے انٹیرم آڈرز کو گول کرنے خراب کرنے کی سپاری اُٹھائی اور اسکے لیے مدعی کو حاضری کے باوجود بار بار غیر حاضر لکھا لیکن مدعی ہر مرتبہ فوری سیشن کورٹ میں اس غلط مجرمانہ حکم کے خلاف نگرانی دائر کرتا جس وجہ سے وہ استغاثہ تو خارج نہ کرسکا اور 512 میں داخل دفتر کرنا پڑا لیکن جن باقی کاموں کی سپاری اٹھائی تھی وہ کامیابی سے کرگیا اور اب تک جرم کررہا ہے اور سیشن جج طارق خواجہ جے ایم یوسف سلیم کے خلاف دائر ہونے والی ہر ٹی اے اتنے ثبوتوں کے باوجود خارج کردیتا ہے۔ ہر کنسالیڈیشن ناجائز خارج کردیتا ہے۔ جو ثابت کرتا ہے کہ احکامات کہاں سے آرہے ہیں۔ اس وجہ سے یہ مجسٹریٹ شکایت کرنے والے مظلوم سائلین کے ساتھ کھل کر مزید سنگین جرائم کررہا ہے اور شکایتوں کا بدلہ لے رہا ہے۔ بلکہ باقی بھی یہی رویہ کررہے ہیں۔ اصل مجرموں کو بچانے کے لیے جرائم اور مظالم کی انتہاء کررہا ہے۔ انہیں بچانے کے لیے فائلوں سے درخواستیں چوری کرلیتا ہے اور کہیں کوئی شنوائی نہیں ہوتی کیونکہ اگر یہ درخواست فائیل کا حصہ رہے تو مجرموں کو بچانا ناممکن ہے۔ ان جرائم میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور طارق خورشید خواجہ ملوث ثابت ہو گیا ہے۔ شارپ آئی کو ذرائع سے یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ یہ ججوں پر دباو ڈالتا ہے کہ لنکڈ کیس علیحدہ کرکے ظلم کرو۔ یہی حکم جے ایم یوسف سلیم کو ملا، یہی حکم پہلے کئی ججوں کو ملا اور یہی حکم ابھی 16 ستمبر 2026 کو اے ایس جے عائشہ جمشید کو ملا کہ جس نے ایک ہی معاملہ میں ایک ہی پارٹیوں کے کیسوں کو ایک ہی تاریخ پر چلتے چلتے اچانک علیحدہ کرکے ثابت کیا کہ ظلم کا حکم طارق خواجہ سے ملا ہے۔ شارپ آئی ذرائع سے اب یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ پولیس اور دیگر محکموں کے طاقتور افسران کو بچانے کے لیے ماڈل ٹاون کورٹ کے ریکارڈ روم میں دواہم مقدمات کی فائیلیں غائب کرا کے آگ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور طارق خورشید خواجہ نے لگوائی۔ عدالتوں پر مکمل طور پر پولیس کا قبضہ ہے اور ججز سر عام کہتے ہیں کہ ہم اپنی سیکیورٹی سے لیکرہر ایمرجنسی میں ہم پولیس کے محتاج ہیں۔ پولیس کی غنڈا گردی کی ایک مثال لے لیں کہ ایک سائل نے ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور نوید کو کہا کہ سر آپ کے وارنٹ نکلے ہیں تو ایس ایس پی بولا کہ "کیڑے مادر چود جج دی جرات ہوئی اے، اوس جج نے وی اپنے نال او ہی کرانا اے جیڑا جوڈیشل مجسٹریٹ اظہر محمود دے گھر وڑ کر پولیس نے کیتا سی۔" اس موقع پر ایس ایس پی کا پی ایس او انسپکٹر، دو لیڈیز پولیس ، ایک سب انسپکٹر اور تین سول گواہان وغیرہ سمیت متعدد موجود تھے۔ شارپ آئی ثابت کر سکتی ہے اگر یہ ایس ایس پی انکار کریں۔ اب ججز بتائیں کہ جو ایسے درندوں دہشت گردوں کے خلاف درخواست دیتے ہیں ان کے جرائم بے نقاب کرتے ہیں۔ ان سائلین کے ساتھ جب عدالت زیادتی کرتی ہے توکیا ایسے ججز کو ذبح نہیں کردینا چاہیے۔ اے ایس جے سیف اللہ سوہل قبضے کے نام پر دیہاڑیاں لگا رہا ہے اور جس کی دیہاڑی نہ ملے اس کے کیس کو مکمل غیر قانونی طور پر خارج کردیتا ہے۔ شارپ آئی کوسیف اللہ سوہل کے اس جرم کے متعدد ثبوت مل گئے ہیں۔ بلکہ ایک سائل نے ہائی کورٹ، جوڈیشل کونسل ، سپریم کورٹ اور صدر کو ثبوتوں کے ساتھ کمپلینٹ سیف اللہ سوہل کے خلاف بھجوائی لیکن بغیر انکوائر یکطرفہ یہ بھی دبا دی گئی اور آئی ایس آئی کو ایک اور مضبوط یرغمال مل گیا جیسا کہ اے ایس جے عرفان ، ندیم ، نوید سمیت متعدد کے جرائم کی کمپلینٹس یکطرفہ دبا کر اب ان سے آئی ایس آئی بھی سنگین جرائم کرا رہی ہے۔۔۔ ایسے ایسے خوفناک جرائم کیے جاتے ہیں جہاں پولیس یا سرکاری سور کے خلاف اس طرح ناقابل تردید ثبوت بن جائیں کہ ایک سے زائد کیس ہوں تو ججز ان مقدمات کو زبردستی علیحدہ علیحدہ کرکے ثبوت خراب کرکے سرکاری کرپٹ مجرموں کو بچاتے ہیں۔ ججوں کے سنگین جرائم کے خلاف کمپلینٹس ہائی کورٹس اور دیگر فورمز بغیر انکوائری داخل دفتر کردیتے ہیں۔ ججوں کی کرپشن کی انتہاء دیکھیں کہ مجسریٹ اور اینٹی کرپشن رنگے ہاتھوں رشوت لیتے پکڑتے ہیں وڈیو بنی ہوتی ہے اور مجرم سرکاری نوکر کی ضمانت ہوجاتی ہے۔ چوکیدار اگر خود ایک روپے کی بھی چوری کرتے رنگے ہاتھوں پکڑا جائے تو اسے عبرت کا نشان بنا دینا چاہیے ۔ اسے بھی اگر کوئی بھی رعائت دی جاتی ہے تو کرپشن کبھی ختم نہیں ہوسکتی اور کرپشن / جرم ختم ہونے کا سوچ کر بھی صرف لاء انفورسمنٹ ادارے ہی نہیں جعلی نظام عدل کوبھی خوف آجاتا ہے کہ گاہک کم ہوجائیں گے۔ یہ سب مل کر ہر وقت گاہک بڑھانے کے لیے سازشیں کرتے ہیں۔ اس ملک میں کوئی احتساب کا نظام نہیں جن کی وجہ سے ہر ادارے کا سرکاری نوکر اور عدلیہ سچوں ایمانداروں کی عزت جان مال لوٹ رہے ہیں۔ انہیں اگر خوف خدا کوئی یاد دلائے تو کہتے ہیں جا لے کا آ کون ساخدا ہے جو ہمیں پوچھ سکے۔ اب یہی آخری حل ہر مظلوم کے پاس ہے کہ کہے کہ اللہ اگر تو ہے تو ان درندے ججوں سے عزاب شروع کر۔ اصل مجرم یہی ہیں۔

Real Pakistan Studies by Dr. Godizt 17/09/2026

Congratulations: Real Pakistan Studies by Dr. Godizt can also be downloaded from this link
خوشخبری ۔۔ اب حقیقی مطالعہ پاکستان اس لنک سے بھی حاصل کی جاسکتی ہے

Real Pakistan Studies by Dr. Godizt BREAKING NEWSپاکستانی کی 79 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ اصلی مطالعہ پاکستانDr. Godizt wrote a book on Pakistan Studies with title “REAL PAKISTAN STUDIES BY DR. GODIZT”ڈاکٹر گاڈاِزٹ نے "حقیقی مطالعہ پاکستان اَز ڈا....

17/09/2026

میرے امریکہ کے دورے کے دوران 22 سالہ چھوٹے بھائی آفیسر نیشنل بنک آف پاکستان پر فوج اور پولیس نے اتنا تشدد کیا کہ اس کا دماغی توازن خراب ہوگیا۔ مجھے بلیک میل کرکے سچ لکھنے سے روکنے کے لیے معصوم پر ظلم کیا۔جو اس کی موت کی وجہ بنا ۔۔ اسے تشدد کرکے کہا گیا اپنے بھائی کو امریکہ فون کرکے دھوکے سے فوری پاکستان بلواو اور کہو والدہ کی حالت خراب ہے جلدی پاکستان واپس آئیں۔ اس نے کہا میں بھائی کو دھوکہ نہیں دوں گا اور پھر اس پر ظلم کے پہاڑ توڑکر قبر میں پہنچا دیا ۔ اس کے قتل کی ایف آئی نمبر 2005/185 درج ہوئی جن میں غدار جنرل پرویز مشرف ، متعدد فوجی، پولیس کے درجنوں مجرمان بشمول بلال صدیق کمیانہ ، مرزا فرحان بیگ ، سیکرٹری انفارمیشن انور محمود، وزیراعلی پنجاب پرویز الہی اور وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین سمیت متعدد مجرم نامزد ہیں یہ ایف آئی آر آج تک پینڈنگ ہے۔

Photos from Sharp Eye 's post 15/09/2026

BREAKING NEWS
پاکستانی کی 79 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ اصلی مطالعہ پاکستان
Dr. Godizt wrote a book on Pakistan Studies with title “REAL PAKISTAN STUDIES BY DR. GODIZT”
ڈاکٹر گاڈاِزٹ نے "حقیقی مطالعہ پاکستان اَز ڈاکٹر گاڈاِزٹ " کے عنوان سے کتاب پاکستانی طلباء کے لیے کتاب لکھ دی
لاہور (شارپ آئی ) 15 ستمبر 2026
ڈاکٹر گاڈاِزٹ نے "حقیقی مطالعہ پاکستان از ڈاکٹر گاڈاِزٹ Real Pakistan Studies by Dr. Godizt " کے عنوان سے کتاب پاکستانی طلباء کے لیے کتاب لکھ دی جو میٹرک تا پی ایچ ڈی طلباء اور مقابلے کے امتحان دینے والوں کے لیے یکساں مفید ہے۔یہ کتاب 14 ستمبر2026 کو شام 5 بجے شائع کردی گئی۔ کتاب میں شعبہ صحافت کا بھی ایک چیپٹر شامل کیا گیا ہے ۔کتاب میں 14 ستمبر 2026 تک کے حالات شامل کیے گئے ہیں۔12 اور 13 ستمبر 2026کو بھارت میں ہونے والی برکس کانفرنس کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے کہ کیسے بھارت چین دوستی کا نیا باب شروع ہوا ہے اور اسکے پاکستان پر کیا اثرات ہوں گے۔1947 سے قبل کی مختصر تاریخ بھی شامل کی گئی ہے اور ان حالات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے کہ جن کی وجہ سے مسلمانوں نے ایک علیحدہ وطن کی ضرورت سمجھی اور اسکے لیے بے شمار قربانیاں دیں۔ اُن حالات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے کہ یہ قربانیاں کیوں ضائع ہوگئیں اور جن مقاصد کے لیے علیحدہ وطن حاصل کیا گیا تھا وہ مقاصد آج تک پورے کیوں نہیں ہو سکے ۔کیوں پاکستان میں نہ تو اسلامی نظام آیا اور نہ ہی انسانیت کا وجود ہے۔ کیوں پاکستان ایک ایسی کرپٹ ترین ظالم بے انصاف ریاست بن چکی ہے کہ جس میں 25 کروڑ عوام کی وہ حالت ہے کہ اس کا 50 فیصد ظلم بھی بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ نہیں ہوا۔ظلم بے انصافی درندگی لوٹ مار حیوانیت کی کوئی ایسی مثال باقی نہیں جو پاکستانی ایسٹبلشمنٹ عوام کے ساتھ نہ کرتی چلی آرہی ہو۔۔ ۔ میٹرک تا پی ایچ ڈی کے لیے طلباء کےلیے حقیقی مطالعہ پاکستان میں سرکاری سلیبس کے مطابق بھی تمام چیپٹرز شامل کرنے کے ساتھ ساتھ یہ کوشش کی گئی ہے کہ نئی نسل اصل حقائق سے بھی ضرور آگاہ ہو اوروہ تاریخ جسے بزورِشمشیر ریکارڈ کا حصہ ریاستی اداروں پر قابض درندے بننے نہیں دیتے رہے وہ حقیقتیں بھی اس کتاب کا حصہ بنا دی گئی ہیں۔ حقیقی مطالعہ پاکستان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کیسے آئین پاکستان اقلیتوں کو تحفظ دینے کا حکم دیتا ہے لیکن عملی طور پر پاکستان میں اقلتوں کے ساتھ بھی خوفناک ظلم بربریت بے انصافیاں کی جاتی ہیں۔ زبردستی مذہب تبدیل کرکے مسلمان بننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔۔ اسلام چھوڑنے کی اجازت نہ ہے ۔ نادرا پاسپورٹ سمیت سرکاری ادارے اسلام چھوڑنے والے کے ریکارڈ میں تبدیلی مذہب نہیں کرتے ۔ انتظامیہ عدلیہ کے احکامات کو ایسے پیروں تلے روندتی چلی آرہی ہے کہ کہا جاسکتا ہے کہ ملک میں اصل عدلیہ کا آج تک ادارہ ہی موجود نہ ہے بلکہ عدلیہ کے نام پر انتظامیہ کی رکھلیں ہی موجود ہیں۔۔۔ CPEC سے لیکر SIFC تک مختلف منصوبوں کی اصل حقیقت کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے تاکہ طلباء حقیقی مطالعہ پاکستان سے مستفید ہوسکیں اور یہ جان سکیں کہ پاکستان کی تباہی کے اصل مجرم کون ہیں اور کون سے اقدامات سے پاکستان بچ سکتا ہے۔ کتاب کا ہدیہ 1000 روپے کھا گیا ہے اور یہ کتاب ان اکاونٹس میں پیسے بھیج کر رسید واٹس ایپ کرنے پر اسی واٹس ایپ پر کتاب بھیج دی جائے گی۔
Standard Chartered Bank IBAN PK49SCBL0000001295824401
Jazz Cash IBAN PK97JCMA2307923214050297
Easy Paisa IBAN PK31TMFB0000000049295955
WhatsApp No. 03214050297

14/09/2026

BREAKING NEWS
Dr. Godizt wrote a book on Pakistan Studies with title “REAL PAKISTAN STUDIES BY DR. GODIZT”
ڈاکٹر گاڈاِزٹ نے "حقیقی مطالعہ پاکستان اَز ڈاکٹر گاڈاِزٹ " کے عنوان سے کتاب پاکستانی طلباء کے لیے کتاب لکھ دی
لاہور (شارپ آئی ) 14 ستمبر 2026
ڈاکٹر گاڈاِزٹ نے "حقیقی مطالعہ پاکستان از ڈاکٹر گاڈاِزٹ Real Pakistan Studies by Dr. Godizt " کے عنوان سے کتاب پاکستانی طلباء کے لیے کتاب لکھ دی جو میٹرک تا پی ایچ ڈی طلباء اور مقابلے کے امتحان دینے والوں کے لیے یکساں مفید ہے۔کتاب میں شعبہ صحافت کا بھی ایک چیپٹر شامل کیا گیا ہے ۔کتاب کی قیمت 1000 روپے رکھی گئی ہے۔۔۔"پبلشر "کی طرف سے تحریر کردہ کتاب کا "پیش لفظ "من و عن تحریر کیا جارہا ہے۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک تاریخی جدوجہد، تہذیبی شناخت اور قومی عزم کا نتیجہ ہے۔ برصغیر کے سول مسلمانوں نے اپنی مذہبی، تہذیبی، سیاسی اور معاشرتی شناخت کے تحفظ کے لیے ایک طویل جدوجہد کی، بے شمار قربانیاں دیں، جانیں دیں۔جس کے نتیجے میں 14 اگست 1947ء کو پاکستان ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔لیکن اس مملکت خداد کہلانے والے ملک کو ناقابل احتساب ایسٹیبلشمنٹ نے اپنی عیاشی اور لوٹ مار کا اڈا بنا لیا ۔حقیقی مطالعۂ پاکستان از ڈاکٹر گاڈاِزٹ (Real Pakistan Studies by Dr. Godizt ) کا مقصد صرف تاریخ کے واقعات یاد کرنا نہیں بلکہ پاکستان کے قیام کے اسباب، اس کی نظریاتی بنیاد، جغرافیہ، معاشرت، معیشت، آئینی ارتقا، خارجہ پالیسی، قومی مسائل اور مستقبل کے امکانات کی اصل حقیقت سمجھنا ہے۔ آج تک ساری قوم کو گن پوائنٹ پر جعلی مطالعہ پاکستان پڑھایا گیا ہے۔اس لیے پاکستان کے نہ بکنے والے، نہ جھکنے والے سچے ، ایماندار، صحافی کالم نگار شاعر ڈاکٹر گاڈاِزٹ (میاں محمد اظہر امین) بہت سالوں سے اس بات کی ضرور محسوس کررہے تھے کہ کوئی تو تعلیمی نصاب کی ایسی کتاب ہونی چاہیے جس میں حقیقی تاریخ موجود ہو۔ جس میں پاکستان میں 79 سال میں ہونے والے تمام واقعات کا حقیقت کی روشنی میں احاطہ ہو۔ اسی لیے ڈاکٹر گاڈاِزٹ نے حقیقی مطالعہ پاکستان از ڈاکٹر گاڈاِزٹ تحریر کیا۔ جس کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ کتاب میٹرک سے لیکر ماسٹرز ، پی ایچ ڈی اور مقابلے کےامتحانات کے لیے یکساں مفید ہے۔ اس کتاب میں کوشش کی گئی ہے کہ پاکستان کے بارے میں اہم موضوعات کو سادہ، واضح اور درسی انداز میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ وہ حقیقیت بھی طلباء تک پہنچا دی جائے جو 79 سال سے پاکستان میں غیر قانونی ، غیر آئنی طور پر گن پوائنٹ پر ممنوع کی گئی ہے۔ تاریخی واقعات کو اِن کے پس منظر اور نتائج کے ساتھ بیان کیا گیا ہے تاکہ طالب علم محض تاریخیں یاد کرنے کے بجائے واقعات کے باہمی تعلق کو سمجھ سکیں۔ یہ اس لحاظ سے واحد مطالعہ پاکستان کی درسی کتاب ہے جس میں طلباء کو پہلی مرتبہ حقیقی مطالعہ پاکستان کا علم ہورہا ہے۔

Photos from Sharp Eye 's post 14/09/2026

BREAKING NEWS
Dr. Godizt wrote a book on Pakistan Studies with title “REAL PAKISTAN STUDIES BY DR. GODIZT”
ڈاکٹر گاڈاِزٹ نے "حقیقی مطالعہ پاکستان اَز ڈاکٹر گاڈاِزٹ " کے عنوان سے کتاب پاکستانی طلباء کے لیے کتاب لکھ دی
لاہور (شارپ آئی ) 14 ستمبر 2026
ڈاکٹر گاڈاِزٹ نے "حقیقی مطالعہ پاکستان از ڈاکٹر گاڈاِزٹ Real Pakistan Studies by Dr. Godizt " کے عنوان سے کتاب پاکستانی طلباء کے لیے کتاب لکھ دی جو میٹرک تا پی ایچ ڈی طلباء اور مقابلے کے امتحان دینے والوں کے لیے یکساں مفید ہے۔کتاب میں شعبہ صحافت کا بھی ایک چیپٹر شامل کیا گیا ہے ۔کتاب کی قیمت 1000 روپے رکھی گئی ہے۔۔۔"پبلشر "کی طرف سے تحریر کردہ کتاب کا "پیش لفظ "من و عن تحریر کیا جارہا ہے۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک تاریخی جدوجہد، تہذیبی شناخت اور قومی عزم کا نتیجہ ہے۔ برصغیر کے سول مسلمانوں نے اپنی مذہبی، تہذیبی، سیاسی اور معاشرتی شناخت کے تحفظ کے لیے ایک طویل جدوجہد کی، بے شمار قربانیاں دیں، جانیں دیں۔جس کے نتیجے میں 14 اگست 1947ء کو پاکستان ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔لیکن اس مملکت خداد کہلانے والے ملک کو ناقابل احتساب ایسٹیبلشمنٹ نے اپنی عیاشی اور لوٹ مار کا اڈا بنا لیا ۔حقیقی مطالعۂ پاکستان از ڈاکٹر گاڈاِزٹ (Real Pakistan Studies by Dr. Godizt ) کا مقصد صرف تاریخ کے واقعات یاد کرنا نہیں بلکہ پاکستان کے قیام کے اسباب، اس کی نظریاتی بنیاد، جغرافیہ، معاشرت، معیشت، آئینی ارتقا، خارجہ پالیسی، قومی مسائل اور مستقبل کے امکانات کی اصل حقیقت سمجھنا ہے۔ آج تک ساری قوم کو گن پوائنٹ پر جعلی مطالعہ پاکستان پڑھایا گیا ہے۔اس لیے پاکستان کے نہ بکنے والے، نہ جھکنے والے سچے ، ایماندار، صحافی کالم نگار شاعر ڈاکٹر گاڈاِزٹ (میاں محمد اظہر امین) بہت سالوں سے اس بات کی ضرور محسوس کررہے تھے کہ کوئی تو تعلیمی نصاب کی ایسی کتاب ہونی چاہیے جس میں حقیقی تاریخ موجود ہو۔ جس میں پاکستان میں 79 سال میں ہونے والے تمام واقعات کا حقیقت کی روشنی میں احاطہ ہو۔ اسی لیے ڈاکٹر گاڈاِزٹ نے حقیقی مطالعہ پاکستان از ڈاکٹر گاڈاِزٹ تحریر کیا۔ جس کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ کتاب میٹرک سے لیکر ماسٹرز ، پی ایچ ڈی اور مقابلے کےامتحانات کے لیے یکساں مفید ہے۔ اس کتاب میں کوشش کی گئی ہے کہ پاکستان کے بارے میں اہم موضوعات کو سادہ، واضح اور درسی انداز میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ وہ حقیقیت بھی طلباء تک پہنچا دی جائے جو 79 سال سے پاکستان میں غیر قانونی ، غیر آئنی طور پر گن پوائنٹ پر ممنوع کی گئی ہے۔ تاریخی واقعات کو اِن کے پس منظر اور نتائج کے ساتھ بیان کیا گیا ہے تاکہ طالب علم محض تاریخیں یاد کرنے کے بجائے واقعات کے باہمی تعلق کو سمجھ سکیں۔ یہ اس لحاظ سے واحد مطالعہ پاکستان کی درسی کتاب ہے جس میں طلباء کو پہلی مرتبہ حقیقی مطالعہ پاکستان کا علم ہورہا ہے۔

12/09/2026

جاوید ہاشمی کا اب اور ڈاکٹر گاڈاِزٹ کا 26 سال سے سوال : تم ایک چوکیدار ہو، مالکوں کا سب کچھ لوٹ لیا ۔ غدارو تم ہو کون؟
ہر غدار جنرل کا جواب: اوے بلڈی سویلین میں لاکھوں مسلح غنڈوں کا سرغنہ ہوں۔ امریکہ، چین سعودیہ، قطر، ترکی، یو اے ای، عمان، بحرین سمیت متعدد ممالک عوام کی عزت جان مال لوٹنے کے لیے ہمارے سر پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں۔۔۔ جاو جو اُکھاڑ سکتے ہو اُکھاڑ لو۔

Telephone

Address

Sharp Eye Headquarter, Qurtaba Chowk
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sharp Eye posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Subscribe

We will notify you when anything happens in Lahore.