Markhor Pakistan

Markhor Pakistan

Share

Silent guardians. Invisible protectors. We see everything. We reveal nothing. ( Fan page of Markhor Pakistan )
🛡️ | 🔒 | 👤

17/09/2026

شمالی وزیرستان | شیوا

شمالی وزیرستان کے علاقے شیوا کے گاؤں راغزئی میں ف ت ن ۃ ا ل خ وارج سے منسلک دہ ش ت گ ردوں نے مبینہ طور پر سیکیورٹی فورسز کو سڑک پر فائرنگ کا نشانہ بنایا۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے ح م لہ آوروں کا تعاقب کرکے انہیں گھیر لیا، جس کے بعد دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق کارروائی میں 4 دہ ش ت گرد ہ ل اک جبکہ 2 زخمی ہوئے۔ ہلاک دہ ش ت گ ردوں کی لاش یں ہیڈکوارٹر شیوا منتقل کر دی گئی ہیں۔

Disclaimer: This post is shared for news reporting and public awareness. Details regarding the initial attack, subsequent pursuit, militant affiliation, casualty figures, and transfer of bodies are based on provided or attributed source information and remain subject to official confirmation and further updates. This content does not endorse or glorify terrorism or violence.

17/09/2026

یہ آڈیو لیک محض ایک پیغام نہیں بلکہ اف غ ان ط ال ب ان اور ف ت ن ہ ا ل خ وارج کے زہریلے گٹھ جوڑ کا وہ لائیو ثبوت ہے جس نے ان کے تمام پاک دامن بننے کے ڈراموں اور جھوٹے دعوؤں کے پردے فاش کر دیے ہیں۔ تحریکِ طال ب ان پاکستان (TTP) کے نام نہاد سربراہ نور ولی محسود کی اپنے خوارجی کمانڈروں کے خفیہ واٹس ایپ گروپس میں گردش کرتی یہ آڈیو اس بات کا کھلا اور ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ اف غان س تان کی سرزمین پاکستان میں خون خرابے کے لیے کھلے عام استعمال ہو رہی ہے اور افغان طالبان ان خونخوار درندوں کی پیٹھ ٹھونک رہے ہیں۔ بلوچستان اور ضلع کرم میں ہ لاک ہونے والے اپنے اف غان کارندوں کے ماتم کے دوران نور ولی نے خود اپنے منہ سے اعتراف کر لیا ہے کہ افغان شہری پاکستان کی سالمیت پر حملوں میں برابر کے شریک ہیں، جس سے افغان عبوری حکومت کا منافقانہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔
اپنی بوکھلاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس خوارجی سربراہ نے پنجاب حکومت کو غیر قانونی افغان شہریوں کی بے دخلی روکنے کی گیدڑ بھبکی دی ہے، جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ غیر قانونی افغان عناصر ہی دراصل اس دہ ش ت گردانہ شبکے کے بنیادی سہولت کار ہیں۔ اپنے تمام تر مذہبی اور اخلاقی ماسک اتر جانے کے بعد، یہ دہ ش ت گرد اب پاک فوج اور ریاستی نظام کو "ظالم" قرار دے کر قیدیوں اور مخصوص سیاسی جماعتوں بالخصوص عمران خان اور پی ٹی آئی کا سہارا لے کر پاکستان کے سیاسی حالات کو زہر آلود کرنے کی خبیث کوشش کر رہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اندرونی پاور سٹرگل سے بلبلاتے ہوئے نور ولی نے اپنے ہی سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے خلاف زہر اگلا اور ملا عمر کے قریبی ساتھی ملا معتصم آغا کی کابل میں گرفتاری پر کھلم کھلا تنقید کی۔ یہ پوری آڈیو اس بات کا واضح پیغام ہے کہ ف ت ن ہ ال خ وارج اب آخری سانسیں لے رہا ہے اور سرحد پار بیٹھے اپنے آقاؤں کے بل بوتے پر پاکستان میں خلفشار پھیلانے کی آخری ناپاک کوششیں کر رہا ہے۔

Disclaimer: This post is shared for news reporting, counter-terrorism analysis, and public awareness. The authenticity, speaker identity, date, full context, and distribution history of the alleged audio leak require independent forensic verification. Claims concerning Afghan Taliban support, Afghan nationals’ involvement in attacks, facilitation networks, political actors, and internal Taliban disputes should not be treated as established solely on the basis of an unauthenticated recording. This content does not endorse or glorify terrorism or extremist propaganda.

17/09/2026

ہلمند میں 3 سالہ بچی سے نکاح: ط ال ب ان کے دعووں پر ایک اور سوال

مقامی رپورٹس کے مطابق، ط ال ب ان کے زیرِ اقتدار ہلمند میں ایک 60 سالہ ط ا ل ب ان کمانڈر نے صرف 3 سالہ بچی سے نکاح کیا ہے۔

یہ محض ایک خاندانی معاملہ نہیں بلکہ بچوں کے تحفظ، رضامندی اور بنیادی انسانی حقوق سے متعلق ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے۔

ا ف غ ان س تان میں کم عمری اور جبری شادیوں سے متعلق مسلسل سامنے آنے والی رپورٹس اس سوال کو مزید اہم بناتی ہیں کہ بچوں کے تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق کی ضمانت کون دے گا؟

اسلام کے نام پر قائم نظام میں ایک معصوم بچے کے ساتھ ایسا سلوک کسی بھی صورت معمول نہیں بننا چاہیے۔

Disclaimer: This post is shared for news reporting, child-protection awareness, and public-interest discussion. Claims regarding the alleged marriage in Helmand, including the reported ages, identity or Taliban affiliation of the individual involved, are based on attributed local reports and require independent verification. The post does not intend to target Islam, Afghan society, or any community; it highlights concerns regarding child safety, consent, and fundamental rights.

17/09/2026

کیا یہ انصاف ہے یا وکلاء کے لیے خصوصی شاہراہ؟ اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس ابھی چل رہا ہے، سزا بھی ہوئی نہیں، اپیل بھی زیرصل نہیں ہوئی، مگر سپریم کورٹ نے قطار توڑ کر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ضمانت تھما دی۔ عام آدمی کے لیے تو دفعہ ۴۲۶ کے تحریری وجوہ، آرٹیکل ۲۵ کی مساوات اور پروسیجرل قواعد آہنی دیوار بن جاتے ہیں، مگر ان دونوں کے لیے وہی قواعد نرم موم بن گئے۔ “دونوں وکیل ہیں” کہہ کر قانونی تقاضوں کو پس پشت ڈال دینا کوئی انصاف نہیں، بلکہ امتیازی سلوک کی صریح مثال ہے۔ پہلے جسٹس من اللہ نے قانون توڑنے کا اعتراف کیا، اب ضمانت نے اسکرپٹ مکمل کر دیا۔ یہ “لیگل بیل” نہیں، بلکہ ایک ادارہ جاتی روایات بن چکی ہے جہاں پیشہ ہی رعایت کا جواز بن جاتا ہے۔ اگر بنیاد عدالتی تاخیر ہے تو پھر ہزاروں عام قیدی بھی اسی معیار پر رہا ہوں۔ ورنہ یہ واضح پیغام ہے کہ رولز صرف عوام کے لیے ہیں؛ ایمان مزاری اور چٹھہ جیسے لوگوں کے لیے شارٹ کٹس خود تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ مساوات نہیں، بلکہ دوہرا معیار ہے جو انصاف کے نام پر مذاق اڑاتا ہے۔

Disclaimer: This post is shared for news reporting, legal analysis, and public-interest discussion. References to court proceedings, sentences, appeals, bail, judicial observations, and constitutional principles are based on publicly reported information and available court-related reporting. Any criticism expressed concerns the application and consistency of legal standards and should not be interpreted as an allegation of misconduct against any individual or institution. All parties retain their legal rights and remedies under the law.

17/09/2026

آپریشن 11 گرج اپڈیٹ: کوہاٹ ڈویژن میں 56 خ وارج ہ لاک، 100 شدید ز خمی:
سیکیورٹی فورسز نے درہ آدم خیل، کرک، اورکزئی، ہنگو، کرم اور پاڑہ چنار میں خ وارج کے ٹھکانوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ زمینی اور ڈرون آپریشنز مزید تیز کر دیے۔

اب تک 56 خ وارج ہ ل اک جبکہ 100 شدید زخمی ہو چکے ہیں۔ مقامی عوام نے آپریشنز کو سراہتے ہوئے قیامِ امن کی کوششوں میں تعاون کا اظہار کیا ہے۔

Disclaimer: This post is shared for news reporting and public awareness. The reported figures of 56 militants killed and 100 seriously injured, operational locations, militant affiliations, and claims of local public support are based on provided or attributed information and remain subject to official and independent verification. This content does not endorse or glorify terrorism or violence.

16/09/2026

پاکستان نے تقریباً پانچ دہائیوں تک لاکھوں اف غ ان شہریوں کو پناہ دی، نسل در نسل انہیں تحفظ، سہارا اور بنیادی سہولیات فراہم کیں۔

مگر اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اف غ ان شہری، رقم کی ادائیگی کے باوجود، ایک پاکستانی پشتون ولاگر کو کمرہ کرائے پر دینے سے انکار کر رہے ہیں۔

یہ ویڈیو اُن لوگوں تک ضرور پہنچنی چاہیے جو سوال اٹھاتے ہیں کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان طلبہ اور دیگر افراد کو ملک چھوڑنے کے لیے کیوں کہا جا رہا ہے۔

Disclaimer: This post is shared for news reporting and public discussion. The video’s location, context, participants, and stated reason for refusing accommodation should be independently verified. The conduct of individuals should not be generalized to Afghan refugees or Afghan people as a whole. Immigration and repatriation matters should be assessed under applicable law and official policy.

16/09/2026

‏اف غ ان س تان میں ،ط ال بان سیکیورٹی اہلکار ، تلاشی کے بہانے نوجوان لڑکیوں کے کپڑے اتار رہے ہیں۔ سر پر پگڑی چہرے پر سنت رسول "ص" اور کام ابلیس والے۔

‏نوجوانوں لڑکیوں کو زبردستی کہا جارہا ہے کہ آپ دونوں بہنیں اعتراف کہ ہمارے دو بندوں کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں۔

Disclaimer: This post is shared for news reporting, human-rights awareness, and documentation of alleged abuse. Claims concerning forced searches, humiliation, coercion, and demands for confessions are based on provided information and have not been independently verified. The allegations require credible investigation and authentication of any associated footage or testimony.

16/09/2026

پشاور | کوہاٹ روڈ
پشاور: سرہ خورہ پولیس چوکی کے باہر بم دھماکہ، اے ایس آئی شدید زخمی

پشاور کے علاقے کوہاٹ روڈ پر واقع سرہ خورہ پولیس چوکی کے باہر بم دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں چوکی کی بیرونی دیوار تباہ ہوگئی۔

پولیس کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں اے ایس آئی عمر خان شدید زخمی ہوئے، جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔
پولیس کے مطابق دھماکہ کی نوعیت کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔

Disclaimer: This post is shared for breaking-news reporting and public awareness. Details regarding the explosion, the officer’s condition, cause, and nature of the blast are based on preliminary police information and may change as the investigation progresses.

16/09/2026

آپریشن 11 گرج | کوہاٹ ڈویژن

سیکیورٹی فورسز نے درہ آدم خیل، کرک، اورکزئی، ہنگو، کرم اور پاڑہ چنار میں ف ت ن ۃ ال خ وارج کے مبینہ ٹھکانوں کے خلاف انٹیلیجنس بیسڈ زمینی اور ڈرون کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔
فراہم کردہ سیکیورٹی معلومات کے مطابق آپریشن کے دوران اب تک 56 خ وارج ہ ل اک جبکہ 100 شدید زخمی ہوئے ہیں۔ مختلف علاقوں میں مشتبہ ٹھکانوں اور نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری بتائی جا رہی ہیں۔
مقامی سطح پر آپریشن کی حمایت اور قیامِ امن کی کوششوں میں تعاون کے اظہار کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

Disclaimer: This post is shared for news reporting and public awareness. The reported figures of 56 militants killed and 100 seriously injured, locations of operations, militant affiliations, and claims regarding local public support are based on provided or attributed information and remain subject to independent and official verification. This content does not endorse or glorify terrorism or violence.

16/09/2026

کالعدم ت ح ری ک ط ال ب ا ن پاکستان (TTP) نے اپنے انگریزی جریدے Taliban Magazine کے خصوصی شمارے میں تنظیم کے قیام اور پاکستان کے خلاف مسلح کارروائیوں کے لیے اپنا نظریاتی جواز پیش کیا ہے۔
جریدے کے اداریے میں ٹی ٹی پی نے اپنے قیام کو 9/11 کے بعد اف غ ان س تان میں امریکی و نیٹو افواج کے ساتھ پاکستان کے تعاون اور سابق قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں سے جوڑا ہے۔ تنظیم نے ا ف غ ان مہاجرین اور قبائلی آبادی کے مسائل کو بھی اپنے بیانیے میں شامل کیا ہے۔
اس مواد کو ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستان کے خلاف اپنی مسلح مہم کو ’دفاعی جہاد‘ کے طور پر پیش کرنے اور اف غ ان سامعین میں اپنے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
ساتھ ہی ٹی ٹی پی اپنے ا ف غ ان ط ال ب ان کے ساتھ تاریخی تعلق اور وفاداری کو نمایاں کرتے ہوئے یہ مؤقف دہرا رہی ہے کہ اس کا ابتدائی مقصد ا ف غ ان س تان میں ط ال ب ان کی حمایت اور دفاع تھا۔ یوں تنظیم ماضی کے تعلق کو موجودہ مسلح بیانیے کے لیے نظریاتی سرمایہ بنانے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے۔
مذہبی اصطلاح کا استعمال کسی مسلح کارروائی کو خود بخود شرعی جواز نہیں دیتا؛ ’دفاعی جہاد‘ کا دعویٰ ٹی ٹی پی کا اپنا نظریاتی مؤقف ہے، کوئی غیر جانب دار طور پر ثابت شدہ مذہبی حکم نہیں۔

Disclaimer: This post is shared for news reporting, research, and counter-extremism analysis. References to “defensive jihad” represent TTP’s own ideological claims and should not be interpreted as validation of those claims or as authoritative Islamic rulings. The content does not endorse TTP, terrorism, recruitment, or political violence.

Category

Website

Address

Layyah