Multan One Digital

Multan One Digital

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Multan One Digital, Media/News Company, Multan.

05/05/2026

قربانی کا پیغام و حکم

اسلامی شریعت کے مطابق صاحب استطاعت (جس پر قربانی واجب ہے) وہ شخص ہے جو ایامِ قربانی (10، 11، 12 ذوالحجہ) میں صاحبِ نصاب ہو۔تفصیلی شرائط درج ذیل ہیں:نصاب کی مقدار: ایسا شخص جس کے پاس اپنی بنیادی ضروریات (رہائشی مکان، پہننے کے کپڑے، گھریلو سامان، سواری) سے زائد، ساڑھے 52 تولہ چاندی (تقریباً 612.36 گرام) یا ساڑھے 7 تولہ سونا (تقریباً 87.48 گرام) یا ان کی قیمت کے برابر نقد رقم، مالِ تجارت، یا زائد سامان موجود ہو۔سال گزرنا شرط نہیں: زکوٰۃ کے برعکس، قربانی کے لیے مال پر سال کا گزرنا شرط نہیں ہے۔ اگر قربانی کے ایام میں (12 ذوالحجہ کی شام تک) کوئی صاحبِ نصاب بن جائے تو اس پر قربانی واجب ہوگی۔ضرورت سے زائد مال: یہ مال یا رقم انسان کی حاجتِ اصلیہ (یعنی زندگی کی بنیادی ضروریات) سے زائد ہونا چاہیے۔عاقل و بالغ اور مقیم: صاحبِ استطاعت کا عاقل، بالغ اور مقیم (مسافر نہ) ہونا ضروری ہے۔اہم نکات:گھر کے افراد: گھر کے جس فرد (مرد یا عورت) کے پاس الگ سے نصاب کے برابر رقم ہو، اس پر قربانی واجب ہے، چاہے وہ گھر کا سربراہ ہو یا کوئی اور۔قرض: اگر کسی کے پاس نصاب کے برابر رقم ہے لیکن وہ واجب الادا قرض (جو فوری دینا ہو) ادا کرنے کے بعد نصاب سے کم رہ جاتا ہے، تو اس پر قربانی واجب نہیں۔مختصراً یہ کہ جس شخص کے پاس قربانی کے دنوں میں 52.5 تولہ چاندی یا اس کی قیمت کی رقم موجود ہو، وہ صاحب استطاعت ہے۔

آج کے ریٹ کے مطابق
412,072.5
روپے کی کوئی بھی اشیاء موجود ہو وہ صاحب استطاعت ہے

اگر کسی کی دکان میں اتنا مال ہو کہ وہ نصاب تک پہنچ جائے تو کیا اس پر قربانی واجب ہو گی؟

جواب
صورتِ مسئولہ میں جس شخص کی دکان میں اتنا مال ہو کہ وہ نصاب تک پہنچ جائے (اور بنیادی ضروری اخراجات اور قرض منہا کرنے کے بعد بھی نصاب کے بقدر مال موجود ہو) تو یہ صاحبِ نصاب ہے، اگر عید الاضحٰی کے دنوں میں بھی یہ شخص صاحبِ نصاب رہتا ہے تو اس پر قربانی واجب ہوگی۔
اگر کوئی عورت شرعی طور پر صاحبِ نصاب ہے تو اس پر قربانی کرنا مردوں کی طرح ہی واجب ہے۔ گھر کے سربراہ یا شوہر کی قربانی پورے گھر کی طرف سے کافی نہیں ہوتی بلکہ گھر کے ہر صاحبِ نصاب فرد (خواہ مرد ہو یا عورت) کو اپنی اپنی طرف سے الگ قربانی کرنی چاہیے۔عورت پر قربانی کے وجوب سے متعلق اہم نکات درج ذیل ہیں:نصاب کی شرط: اگر کسی عورت کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اتنی مالیت کی رقم یا ضرورت سے زائد سامان موجود ہو، تو وہ صاحبِ نصاب شمار ہوتی ہے۔سونا اور زیورات: اگر عورت کے پاس اپنی ملکیت میں سونا یا چاندی کے زیورات نصاب کے برابر ہیں، تو اسے قربانی کرنی ہوگی، چاہے وہ کماتی نہ ہو۔ اگر نقدی نہ ہو تو زیور کا کچھ حصہ فروخت کر کے یا قرض لے کر بھی قربانی دی جا سکتی ہے۔شوہر کی ذمہ داری: شرعی طور پر شوہر پر بیوی کی طرف سے قربانی کرنا واجب نہیں ہے، تاہم اگر وہ اپنی خوشی سے بیوی کی اجازت سے اس کی طرف سے قربانی کر دے تو بیوی کا واجب ادا ہو جائے گا۔مشترکہ قربانی: گھر کے تمام صاحبِ نصاب افراد بڑے جانور (گائے، اونٹ وغیرہ) میں الگ الگ حصہ بھی لے سکتے ہیں۔

28/04/2026

آج اگر الیکشن ہوں اور 3 امیدوار ہوں تو آپ کسے ووٹ دیں گے؟

1۔ا قرارالحسن

2۔جواداحمد

3۔ عمران خان

سابق صحافی اور عوام راج پارٹی کے روح رواں اقرارالحسن کے ساتھ لاہور ایئرپورٹ پر پیش آنے والے واقعے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا استعمال کرنیوالے کارکنان بھی متحرک ہیں اور اقرارالحسن بھی اپنا موقف پیش کررہے ہیں، ایسے میں ایئرپورٹ پر ہونیوالے مبینہ مکالمے کی وجہ سے جواد احمد بھی خبروں میں آگئے ہیں اور چاہنے والے اپنا اپنا موقف پیش کررہے ہیں، عوامی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سروے بھی اہمیت اختیار کرگیا۔

03/04/2026

غریب کی مشکلات سے بھری زندگی
سبق آموز کہانی

07/03/2026

دوسرے عشرہ کی دعا

21/02/2026

تذکرۂ صالحات

سیدۂ کائنات حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہُ عنہا

اللہ پاک کے پیارے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شہزادیوں میں سے آپ کی سب سے پیاری اور لاڈلی شہزادی حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء ہیں ، آپ ہی وہ ہستی ہیں جنہیں “ سَیّدۃُ نِساء اہل الجنّۃ “ اور “ سیّدۃ نِساء العالمین “ جیسے القابات عطا ہوئے۔ آپ وضع قطع اور شکل و صورت میں آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے بہت مشابہ تھیں۔ [1]

پُرنور ولادت : سیّدہ فاطمۃ الزہراء کی ولادتِ با سعادت اعلانِ نبوت سے 5 سال پہلے ہوئی۔ [2] جب آپ رضی اللہ عنہا کی ولادت ہوئی تو فضا آپ کے چہرے کے نور سے منور ہوگئی۔ آپ کی ولادت حضرت خدیجۃُ الکبری رضی اللہ عنہا کے گھر پر ہوئی اسی لئے اسے مولدِ فاطمہ کہا جاتا تھا ، [3] حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے دیگر اولاد کی طرح آپ کو دائی کے سپرد نہیں کیا کہ وہ آپ کو دودھ پلائے بلکہ انہوں نے خود اپنے زیرِ سایہ آپ کی شاندار پرورش کی ۔
عبادت و ریاضت : آپ روزوں اور عبادت و ریاضت کا بہت شوق رکھتی تھیں کئی بار ایسا ہوا کہ آپ نے پوری رات نماز پڑھتے ہوئے گزار دی۔ [5]

پردہ و حیا : شرم و حیا اور پردہ کرنا آپ کے اعلیٰ اوصاف میں سے تھا ، کبھی کسی غیر محرم کی نظر نہ پڑی ، بلکہ آپ کی یہ تمنا تھی کہ وصا ل کے بعد بھی مجھ پرکسی غیر مرد کی نظر نہ پڑے ، چنانچہ بروزِ محشر لوگوں کو نگاہیں جھکانے کا حکم ہوگا تاکہ آپ رضی اللہ عنہا پل صراط سے گزر جائیں۔ [6]

راہِ خدا میں خرچ : اللہ پاک کی راہ میں خرچ کرنا آپ کا محبوب اور پسندیدہ ترین عمل تھا۔ چنانچہ آپ کی یہ شان اللہ پاک نے قراٰنِ کریم میں بھی بیان فرمائی۔ [7]

ازدواجی زندگی : حضرت مولیٰ علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہُ عنہما کا نکاح یقیناً بہت عمدہ اور شاندار تھا جس میں خود ربّ کریم کی رضا اور نبیِّ کریم کی دُعائیں ، نصیحتیں اور شفقتیں شامل تھیں ، یہ مبارک نکاح ایک قول کے مطابق 26 یا 27 صفرسن 2ھ میں ہوا۔ [8]

نکاح کے بعد بی بی فاطمہ نے امورِ خانہ داری کی ذمہ داریوں کو نہایت خوش اسلوبی اور سلیقے سے نبھایا اور ہر طرح کی مشکلات پر صبر کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھا ، چکی پیسنے سے ہاتھوں میں نشان پڑجاتے ، پانی کی مشک بھر کر لانے کی مشقت ہوتی[9] آپ نے پھر بھی اپنی ازدواجی زندگی کا سفر صبر و شکر سے طے کیا۔
تربیتِ اولاد : آپ کے 3 بیٹے حسن ، حسین ، محسن اور 3 بیٹیاں زینب ، رقیہ اور ام کلثوم تھیں ، ان میں حضرت محسن اور رقیہ کا بچپن میں انتقال ہوگیا تھا۔ [10]

عشقِ رسول : آپ اپنے بابا جان سے بے انتہا محبت فرماتیں انہیں اپنی جگہ بٹھاتیں ان کی خوشی سے خوش اور ان کی تکلیف پر رنجیدہ ہوجاتیں ، ایک بار کفارِ مکہ نے مَعاذَ اللہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر نماز کی حالت میں اونٹنی کی بچہ دانی ڈال دی ، آپ کو معلوم ہوا تو بہت غمگین ہوئیں اور فوراً جا کر اسے ہٹایا۔ [11] غزوۂ احد کے موقع پر شدید جنگ میں کئی صحابۂ کرام شہید ہوئے بہت سے زخمی بھی ہوئے ، رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارک چہرہ پر بھی زخم آیا ، سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنے بابا جان کا مبارک چہرہ پانی سے دھو رہی تھیں ، مگر خون بند نہیں ہوتا تھا بالآخر کھجور کی چٹائی کا ایک ٹکڑا جلایا اور اس کی راکھ مبارک چہرے کے زخم پر رکھی جس سے خون تھم گیا۔ [12]

آقا کی اِن سے محبت : نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بھی اپنی لختِ جگر سے بہت محبت و شفقت کا معاملہ فرماتے اور ان کو اپنی نشست پر بٹھاتے۔ [13] نیز آپ سفر سے واپسی پر سب سے پہلے بی بی فاطمہ کے ہاں تشریف لاتے۔ [14] ایک موقع پر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : میری بیٹی فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جو چیز اسے بُری لگے وہ مجھے بُری لگتی ہے اور جو چیز اسے ایذا دے وہ مجھے ایذا دیتی ہے۔
[15]

ازواجِ مطہرات سے محبّت : ازواجِ مطہرات سے بی بی فاطمہ کا تعلق نہایت محبت بھرا تھا ، اس کی ایک جھلک ملاحظہ ہو ، ایک بار امّاں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کسی نے سوال کیا : حضور کو کون زیادہ محبوب تھا؟ فرمایا : فاطمہ ، پوچھا مَردوں میں؟ فرمایا : ان کے شوہر۔ [16] مفتی احمد یارخان رحمۃُ اللہِ علیہ یہاں فرماتے ہیں : یہ ہے حضرتِ عائشہ صِدیقہ کی حق گوئی کہ آپ نے یہ نہ فرمایا کہ حضور کو سب سے زیادہ پیاری میں تھی اور میرے بعد میرے والد بلکہ جو آپ کے علم میں حق تھا وہ صاف صاف کہہ دیا اگر یہ ہی سوال حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا سے ہوتا تو آپ فرماتیں کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو زیادہ پیاری جنابِ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں پھر ان کے والد۔ معلوم ہوا کہ ان کے دل بالکل پاک و صاف تھے۔ افسوس ان لوگوں پر ہے جواِن حضرات کو ایک دوسرے کا دُشمن کہتے ہیں۔ [17]

وصالِ پُر ملال : آپ آقا کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ظاہری پردہ فرمانے کے بعد حضور کی یاد اور فراق میں بے چین رہتیں ، آخر کار حضور کی وفات کے 6 ماہ بعد 3 رمضان المبارک کو آپ اس جہاں سے رخصت ہوگئیں۔ [18] صحیح قول کے مطابق اسلام کے پہلے خلیفہ ، امیرالمؤمنین حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہُ عنہ نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ [19] مختار قول یہ ہے کہ آپ کا مزارِ پُر انواربقیع شریف میں ہے۔ [


,r.a

19/02/2026

پہلے عشرے کی دعا

08/02/2026

All three ICC trophies winning Playing XI of Pakistan 🇵🇰
From 1992 to 2017 — generations of match-winners who made history.
World Cup, T20 World Cup, Champions Trophy 🏆🏆🏆

26/01/2026

نیچے اپنی رائے کا اظہار کیجیئے !!

25/01/2026

اسرائیل کے متعلق ٹرمپ اور وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کا بیان ۔۔

Website

Address

Multan