Muhammad Ahmad
Quran and Hadees
Bayanaat
Personal writes
and Tableegh
06/08/2026
دربار میں حاضر ہے اک بندۂ آوارہ
آج اپنی خطاؤں کا لادے ہوئے پشتارہ
سرگشتہ و درماندہ ہے ہمت و ناکارہ
وارفتہ و سرگرداں بے مایہ و بے چارہ
شیطاں کا ستم خوردہ اس نفس کا دکھیارا
ہر سمت سے غفلت کا گھیرے ہوئے اندھیارا
#نعت #دعاء
02/08/2026
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
✍ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ
━━❰・ پوسٹ نمبر 03 ・❱━━━
*ووٹ ڈالتے ہوئے لگائی گئی روشنائی کے ہوتے ہوئے وضو اور غسل کا حکم*
ووٹ ڈالتے وقت انگوٹھے پر جو روشنائی لگائی جاتی ہے ، اس روشنائی کا جسم یا تہہ نہیں بنتی، بلکہ پکی سیاہی ہوتی ہے جو انگوٹھے سے آسانی سے نہیں اترتی،اس لیے ممکنہ حد تک اس سیاہی کو انگوٹھے سے رگڑ کر دھولیا جائے ، اگر اس کا رنگ نہیں اترتا تو بھی وضو اور غسل ہوجائے گااور نماز درست ہوگی۔
''فتاوی ہندیہ'' میں ہے:
'' وإن كانت شيئاً لا يزول أثره إلا بمشقة بأن يحتاج في إزالته إلى شيء آخر سوى الماء كالصابون لا يكلف بإزالته. هكذا في التبيين . وكذا لا يكلف بالماء المغلي بالنار. هكذا في السراج الوهاج. وعلى هذا قالوا: لو صبغ ثوبه أو يده بصبغ أو حناء نجسين فغسل إلى أن صفا الماء يطهر مع قيام اللون. كذا في فتح القدير''. (1/ 42)
📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں
▪الدرالمختار 1/537 باب الانجاس
▪فتاوی قاسمیہ 5/68
▪المسائل المھمہ 6/42
▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 89
—————«•»—————
28/07/2026
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
✍ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ
━━❰・ پوسٹ نمبر 02 ・❱━━━
*وضو اور غسل میں نقلی چوٹی (Wig ) کا حکم*
نقلی چوٹی (wig ) عموما دو طرح کی ہوتی ہے ، ایک قسم وہ ہے جس کو آپریشن وغیرہ کے ذریعے سر پر اس طرح فٹ کردی جاتی ہے کہ وہ سر سے جدا نہیں ہوسکتی ، اس کی حیثیت جسم کی مستقل عضو کی ہے، وضو کرتے وقت اس پر مسح کرنا اور غسل کے وقت اس کو دھونا کافی ہے ، اور وگ کی دوسری قسم وہ ہوتی ہے جسے بآسانی لگایا اور اتارا جاسکتا ہے وہ ٹوپی کے حکم میں ہے وضو اور غسل کے دوران اس کو اتارنا ضروری ہے۔
📚 حوالہ جات:
▪️بدائع الصنائع 1/108
▪فتاوی قاسمیہ 23/623
▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 87
27/07/2026
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
✍ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ
━━❰・ پوسٹ نمبر 01 ・❱━━━
*وضو اور غسل میں مصنوعی اعضاء (Foboluos Organs ) دھونے کا حکم*
سرجری کے ذریعے جوڑے جانے والے اعضاء ہاتھ پاوں وغیرہ دو طرح کے ہوتے ہیں:
ایک وہ جو بدن سے جدا نہیں کئے جاسکتے، اور دوسرے وہ جو بدن سے بغیر مشقت کے جدا کئے جاسکتے ہیں۔ اول قسم کے اعضاء کا حکم اصلی اعضاء کی طرح ہوگا یعنی وضو اور غسل کے دوران ان کو دھونا ضروری ہوگا اور دوسری قسم کے اعضاء کا حکم عضو اصلی کی طرح نہ ہوگا یعنی ان کو وضو اور غسل میں دھونا ضروری نہیں ہے۔
📚 حوالہ:
▪ جدید فقہی مسائل 1/88
▪محقق ومدلل جدید مسائل 1/114
▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 86
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
Category
Address
Multan
66000