Jani Vlogs
Like and share our page to see all the new videos coming
I hope you like our page very much
18/09/2026
چودہ سال قبر میں! 😢
یہ شامی شخص 14 سال تک اپنے ہی گھر کے اندر بنی قبر میں چھپ کر زندہ رہا۔
بشار الاسد کے دور میں یہ موسٹ وانٹڈ یعنی مطلوب ترین افراد میں شامل تھا۔ سیکورٹی ادارے اسے تلاش کر رہے تھے۔ گرفتاری کے خوف سے اس نے اپنے گھر کے کونے میں ایک قبر نماز جگہ بنائی۔ اس میں بیٹھ کر سامنے دیوار کھڑی کرا دی۔ پھر 14 سال تک اسی تنگ جگہ میں چھپ کر زندگی گزاری۔ ضروریات زندگی کی رسائی کے لیے دیوار کے نیچے دو تین بلاک برابر جگہ خالی چھوڑی گئی تھی۔ پھر بیوی نے اس سوراخ کو بھی چھپانے کے لیے اوپر پردہ لٹکا دیا۔
بیوی کے سوا کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ زندہ ہے۔ یہاں تک کہ اس نے اپنے بچوں کو بھی بتا رکھا تھا کہ ان کا باپ مر چکا ہے۔ بچے جب سو جاتے تو وہ خاموشی سے دیوار کے اندر چھپے اپنے شوہر کے لیے کھانا اور پانی پہنچاتی، اس کے کپڑے دھوتی اور اس کی زندگی کا راز اپنے سینے میں دفن رکھتی۔
دوسری طرف بچوں کی پرورش اور گھر کے اخراجات بھی اسی کے ذمے تھے۔ وہ گھر بیٹھے کام کرتی، بچوں کے لیے رزق کا انتظام کرتی اور بیک وقت ایک خاندان، ایک راز اور ایک خوف کو سنبھالتی رہی۔
سوچیے... 14 دن یا ماہ نہیں، 14 سال!
14 سال ایک شخص کا قبر جیسی تنگ جگہ میں چھپ کر زندگی گزارنا اور ایک عورت کا ہر روز اس خوف کے ساتھ جینا کہ اگر راز کھل گیا تو شوہر گرفتار ہو جائے گا۔ سچی بات ہے کہ ہم سے تو چودہ گھنٹے بھی یہ نہیں ہوسکتا۔
اس میں ایک شوہر پر بیتے سنگین ترین حالات کی داستان الم بھی اور ایک عظیم خاتون کے صبر، وفاداری اور قربانی کی داستان بھی، جس نے اپنے شوہر کو زندہ رکھنے کے لیے 14 سال تک اس راز سے اپنے بچوں کو بھی علم ہونے نہیں دیا۔
13/09/2026
ایک تصویر 1885ء کی ہے، دوسری 2025ء کی۔ درمیان میں پورے 140 سال کا فاصلہ ہے۔ پہلی تصویر میں کھجور کے درختوں کے درمیان زمین پر پڑا ہوا ایک دیوقامت فرعون دکھائی دیتا ہے، جبکہ دوسری میں وہی عظیم مجسمہ ایک محفوظ عمارت کے اندر موجود ہے۔ آج 2026ء میں بھی یہ مصر کے قدیم شہر میمفس (Memphis)، موجودہ میت رہینہ (Mit Rahina) کے آثار کا ایک اہم حصہ ہے۔
یہ کوئی عام مجسمہ نہیں، بلکہ مصر کے سب سے طاقتور اور مشہور فرعونوں میں شمار ہونے والے رعمسیس دوم (Ramesses II) کا عظیم الجثہ پتھریلا مجسمہ ہے۔ رعمسیس دوم نے تقریباً 1279 سے 1213 قبل مسیح تک حکومت کی۔ یعنی جس شخص کا چہرہ ہم اس تصویر میں دیکھ رہے ہیں، اس کا زمانہ آج سے تین ہزار سال سے بھی زیادہ پرانا ہے۔
مجسمہ چونے کے پتھر سے تراشا گیا تھا اور اصل میں سیدھا کھڑا تھا، مگر اس کی ٹانگوں اور پاؤں کا کچھ حصہ ضائع ہوچکا ہے۔ اس کے باوجود زمین پر لیٹی ہوئی حالت میں بھی اس کی جسامت ایسی ہے کہ ساتھ کھڑا انسان نہایت چھوٹا دکھائی دیتا ہے۔ چہرے کی بناوٹ، شاہی سرپوش، سینہ، بازو، ہاتھ اور جسم پر تراشی گئی باریک تفصیلات آج بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔
یہ مجسمہ میمفس کے اس علاقے سے ملا جہاں کبھی دیوتا پتاح (Ptah) کا عظیم مندر موجود تھا۔ میمفس قدیم مصر کے اہم ترین شہروں میں سے تھا اور اس علاقے سے رعمسیس دوم کے نام اور تصاویر والے بہت سے آثار مل چکے ہیں۔ آج بھی یہاں ہونے والی کھدائیوں سے پتاح اور رعمسیس دوم سے متعلق پتھر اور نقوش سامنے آتے رہے ہیں۔
لیکن اس مجسمے کی کہانی میں ایک دلچسپ الجھن بھی ہے۔ میمفس سے رعمسیس دوم کے ایک سے زیادہ دیوقامت مجسمے ملے ہیں۔ ایک مشہور گلابی گرینائٹ کا مجسمہ وہ ہے جو برسوں قاہرہ کے رعمسیس اسکوائر میں کھڑا رہا اور اب گرینڈ ایجپشن میوزیم (Grand Egyptian Museum) کے عظیم ہال میں موجود ہے۔ وہ تقریباً 11 میٹر بلند اور 83 ٹن وزنی ہے۔ تصویر میں زمین پر لیٹا ہوا مجسمہ اس سے الگ، چونے کے پتھر کا مجسمہ ہے جو میت رہینہ میں محفوظ ہے۔
1885ء کی تصویر شاید اس پوری کہانی کا سب سے حیرت انگیز حصہ ہے۔ نہ جدید عجائب گھر ہے، نہ حفاظتی عمارت، نہ روشنیوں سے آراستہ نمائش۔ کھجوروں کے درمیان ایک عظیم پتھریلا فرعون زمین پر پڑا ہے اور اس کے برابر کھڑا ایک شخص اس کے غیر معمولی حجم کا اندازہ کرواتا ہے۔
پھر 140 سال آگے آجائیے۔
2025ء کی تصویر میں وہی مجسمہ ہے، مگر دنیا بدل چکی ہے۔ اب اس کے گرد باقاعدہ عمارت ہے، اوپر سے لوگ اسے دیکھ رہے ہیں، حفاظتی انتظام موجود ہے اور وہ چیز جو کبھی کھلے میدان میں پڑی تھی اب مصر کے محفوظ تاریخی آثار میں شامل ہے۔
لیکن اصل فاصلہ 1885ء سے 2025ء کا بھی نہیں۔
اصل فاصلہ اس زمانے سے ہے جب یہ مجسمہ نیا تھا۔
اس وقت یہ دیوقامت مجسمہ زمین پر لیٹا ہوا نہیں بلکہ سیدھا کھڑا تھا۔ اس کے سامنے سے گزرنے والے عام انسان اس کے مقابلے میں انتہائی چھوٹے دکھائی دیتے ہوں گے۔ ایسے شاہی مجسموں کا مقصد صرف بادشاہ کی شکل محفوظ کرنا نہیں تھا؛ ان کی غیر معمولی جسامت خود اقتدار، طاقت اور فرعون کی شاہی حیثیت کا اظہار تھی۔
آج منظر بالکل الٹ چکا ہے۔
وہ فرعون جس کے نام سے کبھی ایک عظیم سلطنت کا اقتدار وابستہ تھا، آج اس کا مجسمہ زمین پر خاموش پڑا ہے اور عام لوگ اوپر بنی راہداری سے اسے دیکھتے ہیں۔
تین ہزار سال سے زیادہ عرصے میں سلطنت چلی گئی، شاہی محل چلے گئے، دربار ختم ہوگئے، وہ لوگ بھی چلے گئے جنہوں نے اسے تراشا تھا۔ 1885ء میں اس کے ساتھ تصویر بنوانے والا شخص بھی تاریخ بن چکا، مگر رعمسیس دوم کا پتھر میں تراشا ہوا چہرہ 2026ء میں بھی ہمارے سامنے موجود ہے۔
اوپر والی تصویر میں 1885ء ہے، نیچے والی میں 2025ء، اور ان دونوں کے درمیان صرف ایک مجسمہ نہیں پڑا۔۔۔ 140 سال کا گزرتا ہوا زمانہ دکھائی دے رہا ہے۔
مناسب لگے تو پوسٹ آگے تک ضرور پہنچائیے۔
Category
Contact the public figure
Website
Address
Multan
Alerts
Be the first to know and let us send you an email when Jani Vlogs posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.