Al Jannat

Al Jannat

Share

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً ( 208 )البقرة.

14/09/2026

اللہ سے بات منوانے کا آسان طریقہ
میں نے ایک سفید ریش بزرگ سے ایک سوال پوچھا
اللہ تعالیٰ سے بات منوانے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟"
وہ مسکرائے' قبلہ رو ہوئے' پاؤں لپیٹے' رانیں تہہ کیں ' " اپنے جسم کا سارا بوجھ رانوں پر شفٹ کیا اور مجھ سے پوچھا
"تمہیں اللہ سے کیا چاہیے؟"
ہم دونوں اس وقت جنگل میں بیٹھے تھے' حبس اور گرمی کا موسم تھا' سانس تک لینا مشکل تھا' میں نے اوپر دیکھا' اوپر درختوں کے پتے تھے اور پتوں سے پرے گرم' پگھلتا ہوا سورج تھا' میں نے مسکرا کر عرض کیا اگر بادل آ جائیں' ذرا سی ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں تو " "موسم اچھا ہو جائے گا
وہ ہنسے اور آہستہ سے بولے "لو دیکھو" وہ اس کے بعد بیٹھے بیٹھے رکوع میں جھکے اور پنجابی زبان میں دعا کرنے لگے
اللہ جی! کاکے کی دعا قبول کر لے' اللہ جی! ہماری سن " لے" وہ دعا کرتے جاتے تھے اور روتے جاتے تھے' پہلے ان کی پلکیں گیلی ہوئیں' پھر ان کے منہ سے سسکیوں کی آوازیں آئیں اور پھر ان کی آنکھیں چھم چھم برسنے لگیں' وہ بری طرح رو رہے تھے۔
میں ان کی حالت دیکھ کر پریشان ہو گیا' میں نے زندگی میں بے شمار لوگوں کو روتے دیکھا لیکن ان کا رونا عجیب تھا۔
وہ ایک خاص ردہم میں رو رہے تھے' منہ سے سسکی نکلتی تھی' پھر آنکھیں برستیں تھیں اور پھر "اللہ جی! ہماری سن لے" کا راگ الاپ بنتا تھا۔
میں پریشانی' استعجاب اور خوف کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ انھیں دیکھ رہا تھا' وہ دعا کرتے جاتے تھے' روتے جاتے تھے اور سسکیاں بھرتے جاتے تھے' میں نے پھر وہاں ایک عجیب منظر دیکھا۔
جنگل میں سورج کی موجودگی کے باوجود ہوا میں خنکی بڑھ گئی جس سے پسینہ خشک ہو گیا اور پتوں، شاخوں اور پودوں میں ایک ہلچل سی مچ گئی، اتنے میں بادل کا ٹکڑا سورج کے آگے آ گیا اور وہ شکر ادا کرنے لگے۔
ہمارے سر کے درمیان بن کر ٹھہر گیا وہ روتے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور شکر ادا کرنے لگے۔
اوہ دیر تک "اللہ جی!
آپ کا بہت شکر ہے' اللہ جی! آپ کی بہت مہربانی ہے " کہتے رہے' وہ دعا سے فارغ ہوئے' ذرا سا اوپر اٹھے' ٹانگیں سیدھی کیں اور منہ میری طرف کر کے بیٹھ گئے' ان کی سفید داڑھی آنسوؤں سے تر تھی' انھوں نے کندھے سے رومال اتارا' داڑھی خشک کی اور پھر بولے " دیکھ لو! اللہ نے اپنے دونوں بندوں کی بات مان لی"
میں نے ان کا ہاتھ پکڑا' چوما اور پھر عرض کیا "باباجی لیکن اللہ سے بات منوانے کا فارمولہ کیا ہے' اللہ کب' کیسے اور کیا کیا مانتا ہے ؟
وہ مسکرائے' شہادت کی دونوں انگلیاں آنکھوں پر رکھیں اور پھر بولے "
"یہ دو آنکھیں فارمولہ ہیں"
باباجی نے مزید بتایا کہ انہوں نے یہ فارمولہ اپنی ماں سے سیکھا تھا، جو بچپن میں ان کا رونا دیکھ کر تڑپ اٹھتی تھیں اور ان کی ہر بات پوری کر دیتی تھیں. اور میری خواہش، میری ضرورت بھی پوری کرتی تھی۔
میں ماں کی اس کمزوری کا جی بھر کر فائدہ اٹھاتا تھا، میں رو رو کر اس سے اپنی پسند کے کھانے بھی بنواتا تھا، اس سے نئے کپڑے اور نئے جوتے بھی لیتا تھا اور کھیلنے کے لیے گھر سے باہر بھی جاتا تھا۔
وہ رکے اور پھر آہستہ سے بولے "میں نے جب مولوی صاحب سے قرآن مجید پڑھنا شروع کیا تو مولوی صاحب نے ایک دن فرمایا۔
"اللہ تعالیٰ انسان سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے"
یہ فقرہ سیدھا میرے دل میں لگا اور میں نے سوچا،
'میں رو کر اپنی ایک ماں سے سب کچھ منوا لیتا ہوں،
اللہ اگر مجھ سے ستر ماؤں جتنی محبت کرتا ہے تو پھر میں رو رو کر اس سے کیا کیا نہیں منوا سکتا۔" وہ رکے اور بولے۔
بس وہ دن ہے اور آج کا دن ہے' میں روتا ہوں' اللہ کی ذات میں ستر ماؤں کی محبت جگاتا ہوں اور میری ہر خواہش' میری ہر دعا قبول ہو جاتی ہے!
جزاک اللہ۔۔
Everyone Products

12/09/2026

میں تو صرف اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا ۔ کہہ دیجیے بے شک میں تمہارے لئے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ کسی بھلائی کا ۔ کہہ دیجیے بے شک مجھے اللّٰہ سے کوئی بھی پناہ نہیں دے سکتا اور میں اس کے سوا کوئی جائے پناہ ہرگز نہیں پاؤں گا

ّٰہ_پاک ہم صرف تجھے ہی پکارتے ہیں ، تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور تجھ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ ہمارے دلوں میں اپنی توحید اور اپنی محبت کو مضبوط فرما ۔ ہمیں ہر قسم کے شرک ، باطل سہاروں اور غلط عقیدوں سے محفوظ فرما ۔ ہماری ہر مشکل میں ہمارے لئے کافی ہو جا اور ہر نقصان سے ہماری حفاظت فرما ۔ ہماری پریشانیوں کو آسانی میں بدل دے ، ہمیں سیدھی راہ پر قائم رکھ اور اپنے سوا کسی کا محتاج نہ فرما ۔ ہمارے گناہوں کو معاف فرما اور ہماری دعائیں قبول فرما 🤲❤️

10/09/2026

ّٰہ_کو_پکارو یا رحمن کو پکارو ، جس نام سے بھی پکارو ، اسی کے لئے سب اچھے نام ہیں ۔ اور اپنی نماز نہ بہت بلند آواز سے پڑھو اور نہ بالکل آہستہ بلکہ ان دونوں کے درمیان کا راستہ اختیار کرو ۔ اور کہہ دیجیے سب تعریف اللّٰہ ہی کے لئے ہے جس نے نہ کوئی اولاد بنائی ، نہ بادشاہی میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ کمزوری کی وجہ سے کوئی اس کا مددگار ہے اور اس کی بڑائی بیان کرتے رہو ، خوب بڑائی

ہمیں ہمیشہ سیدھے راستے پر قائم رکھ ۔ ہمارے گناہوں کو معاف فرما ۔ ہماری توبہ قبول فرما اور ہمیں دنیا میں بھی بھلائی اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما ۔ اے اللّٰہ پاک ہمیں اپنے خوبصورت ناموں کے ذریعے تجھے پکارنے ، ہر حال میں تیرا شکر ادا کرنے اور تیری بڑائی بیان کرنے کی توفیق عطا فرما ۔ ہمارے دلوں کو اپنے ذکر سے سکون عطا فرما ۔ ہماری دعائیں قبول فرما ۔ ہماری مشکلات آسان فرما اور ہمیں دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا فرما

04/09/2026

#اللّٰہ_کے_ذمے_توبہ قبول کرنا ان ہی لوگوں کے لئے ہے جو نادانی سے برائی کر بیٹھتے ہیں ، پھر جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں ۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جن کی توبہ اللّٰہ قبول فرماتا ہے اور اللّٰہ خوب جاننے والا ، حکمت والا ہے

تمام صغیرہ و کبیرہ گناہوں کو معاف فرما ۔ ہماری خطاؤں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما ۔ ہماری توبہ کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما ۔ ہمارے دلوں کو پاکیزہ کر دے اور ہمیں دوبارہ گناہوں کی طرف لوٹنے سے محفوظ فرما ۔ ہمیں گناہوں سے بچنے ، غلطی کے بعد فوراً سچی توبہ کرنے اور اپنی رحمت و مغفرت کا مستحق بننے کی توفیق عطا فرما 🤲❤️

30/08/2026

کیا آپ کو پتہ ہے کہ وہ آخری خوش نصیب کون تھا جو نبی کریم ﷺ کی قبرِ انور تک گیا؟

روضہ رسول کا جو باہری کمرہ ہم دیکھتے ہیں جالیوں کے اندر سے ہمیں ایک پردا نظر آتا ہے۔ بہت سے لوگ اس پردے کو آپ ﷺ کی قبرِ انور سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ پردا ایک اندرونی حجرے کی پانچ کونوں والی دیوار کے اوپر پڑا ہے۔ اس پانچ کونوں والی دیوار کے اندر ایک اور چار کونوں والی دیوار ہے جس کے اندر حضور ﷺ ، حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کی قبر مبارک ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اندرونی حجرے میں نہ کوئی دروازہ ہے اور نہ کوئی کھڑکی۔ عمر بن عبدالعزیز نے 91 ہجری میں اسے سیاہ پتھر کی دیواروں سے بند کر دیا۔ صدیوں سے اندر کوئی نہیں گیا تھا۔

رمضان المبارک 886ھ میں مسجد نبوی کے مینار پر آسمانی بجلی گری۔ مینا گر کر چھت سے ٹکرا گیا، جس سے موذن شہید ہو گیا۔ آگ مسجد نبوی اور مدینہ کے گھروں میں بھڑک اٹھی۔ آپ ﷺ کی قبر مبارک کے گرد شہر جل گیا۔

سلطان الاشرف قطبی نے مسجد کو دوبارہ تعمیر کرنے اور مقدس حجرے کی صفائی کا حکم دیا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمرے میں کس کو بھیجتے ہیں؟ اُنھوں نے ایک آدمی کا انتخاب کیا۔ ایک عالم۔
علی بن احمد السمھودی۔ ایک شافعی فقیہ، مفتی، اور مدینہ کے سب سے بڑے تاریخ۔ آپ کا سلسلہ نسب علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔ جو شخص مدینہ کو سب سے بہتر جانتے تھے۔ اُنہیں اس کے دل میں بھیجا گیا۔

بغیر کسی داخلے کے، خیال کیا جاتا ہے کہ وہ دیوار اور زمین کے درمیان ایک خلا سے داخل ہوئے تھے۔ چیمبر کا فرش باہر کی زمین سے نیچے بیٹھا تھا۔ قبروں تک پہنچنے کے لیے انہیں تین ہاتھ نیچے اترنا پڑا۔
انہوں نے لکھا کہ عقب سے اندر داخل ہوتے ہی وہ رک گئے۔ ایک خوشبو ان سے ملی جو انہوں نے اپنی زندگی میں نہیں جانی تھی۔ وہ ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھے۔ وہ صرف وہیں کھڑے رہ سکتے تھے۔

وہ جتنی دیر ہو سکا وہیں کھڑے رہے۔ انہوں نے تمام انبیاء سے افضل کو سلام کیا۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کو۔ اور انہوں نے ہر ممکن دعا کی۔ اکیلے، کمرے میں، ان تینوں کے ساتھ۔
انہوں نے لکھا ہے کہ قبریں اب نظر نہیں آتیں تھیں، سوائے اس کے پیچھے ایک ٹیلے کے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تھی۔ انہوں نے کنکر کو چھوا۔ یہ نم تھا، جیسے تازہ ہو۔
یہ 500 سال پہلے کی بات ہے۔ دوبارہ اس کمرے میں کوئی داخل نہیں ہوا۔ وہ آخری تھے۔ اور جو کچھ انہوں نے وہاں پایا وہ ایک خوشبو اور تازہ زمین تھی۔
آج بھی اگر کوئی روضہ رسول کے اندر جاتا ہے تو وہ باہر والے کمرے تک جاتا ہے جبکہ اندر والی پانچ کونوں والی دیوار کے آگے کوئی نہیں جا سکا۔
اللہ کریم سے دعا ہے کہ سب کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی با ادب حاضری کی سعادت نصیب فرمائے آمین ثم آمین۔
یہ معلومات اچھی لگی ہوں تو اپنے دوست احباب کے ساتھ بھی شیئر کریں۔
تحریر: محمد وقاص
روضہ رسولﷺ
مدینہ منورہ سعودی عرب

27/08/2026

مالک بن دینار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
میں ایک دن بصرہ میں داخل ہوا تو دیکھا کہ لوگ جامع مسجد میں جمع ہیں اور ظہر سے عشاء تک اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہے ہیں۔ کوئی مسجد سے باہر نہیں نکلا تھا۔

میں نے پوچھا: “ کیا معاملہ ہے؟”

لوگوں نے کہا: “آسمان نے بارش روک دی ہے، دریا اور نہریں خشک ہو گئی ہیں، اور ہم اللہ تعالیٰ سے بارش طلب کر رہے ہیں۔”
میں بھی ان کے ساتھ شامل ہوگیا۔ وہ نماز پڑھتے اور دعا کرتے رہے، آخرکار لوگ واپس جانے لگے اور آسمان سے بارش کا ایک قطرہ بھی نہ برسا یہاں تک کہ ہر شخص اپنے گھر روانہ ہوگیا۔

میں مسجد ہی میں بیٹھا رہا، کیونکہ میرا اپنا کوئی گھر نہ تھا۔

اتنے میں ایک دبلا پتلا، سیاہ فام نوجوان، جس کی پنڈلیاں باریک تھیں اور لباس نہایت معمولی تھا، مسجد میں داخل ہوا۔ اس نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر عرض کیا:
إلهي وسيدى ومولاي إلى كم تَرُدُّ عبادك فيما لا يَنقُصُك ، أنفدَ ما عندك أم نفدت خزائن رحمتك ؟سيدي أقسمتُ عليكَ بحبك لي إلا سقيتنا غيثَك الساعة.
“اے میرے اللہ! اے میرے آقا! اے میرے مولیٰ! تو اپنے بندوں کو کب تک ایسی چیز کے معاملے میں واپس لوٹاتا رہے گا جس سے تیرے خزانے میں کوئی کمی نہیں آتی؟ کیا تیرے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہوگیا ہے، یا تیری رحمت کے خزانے ختم ہوگئے ہیں؟ میرے آقا! میں تجھے تیری میرے لیے محبت کی قسم دیتا ہوں کہ اسی وقت ہمیں اپنی بارش عطا فرما!”

ابھی اس نے اپنے ہاتھ نیچے بھی نہ کیے تھے کہ آسمان پر بادل چھا گئے، ہر طرف سے گھٹائیں جمع ہوگئیں اور ایسی موسلادھار بارش شروع ہوگئی جیسے مشکیزوں کے منہ کھول دیے گئے ہوں۔

مالک بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں:
میں اس نوجوان کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ مسجد سے نکلا تو میں اس کے پیچھے چل پڑا۔ وہ گلیوں اور راستوں سے گزرتا ہوا ایک گھر میں داخل ہوگیا۔ میں نے اس گھر کو پہچاننے کے لیے زمین کی مٹی کا ایک ٹکڑا اٹھایا اور دروازے پر نشان لگا دیا۔

جب سورج طلوع ہوا تو میں انہی گلیوں سے ہوتا ہوا اس نشان تک پہنچا۔ معلوم ہوا کہ وہ ایک ایسے شخص کا گھر تھا جو غلام فروخت کرتا تھا۔

میں نے اس سے کہا:
“میں تمہارے پاس سے ایک غلام خریدنا چاہتا ہوں۔”

اس نے مجھے کئی غلام دکھائے؛ لمبے، چھوٹے اور وجیہہ۔

میں نے کہا:“نہیں، کیا تمہارے پاس ان کے علاوہ کوئی اور غلام بھی ہے؟”

اس نے کہا:“فروخت کے لیے تو یہی ہیں، البتہ ایک سیاہ فام غلام ہے جو گھر کے پیچھے ایک خستہ حال کمرے میں سو رہا ہے۔ وہ خدمت کے قابل نہیں، اس سے کسی کام کا فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔”

میں نے کہا: “مجھے وہ دکھاؤ۔”

جب وہ غلام میرے سامنے لایا گیا تو میں نے اسے پہچان لیا۔ یہ وہی نوجوان تھا جو گزشتہ رات مسجد میں دعا کر رہا تھا۔

میں نے کہا: “میں اسے خریدتا ہوں۔”

غلام فروش نے کہا:
لعلك تقول غشّني الرجل.. هذا لا ينفع فى شيء !
“شاید تم یہ سمجھ رہے ہو کہ میں نے تمہیں دھوکا دیا ہے! یہ واقعی کسی کام کا نہیں ہے۔”

میں نے کہا: “میں اسے ہی خریدنا چاہتا ہوں۔”

وہ اس کی قیمت بہت کم کرنے لگا اور آخرکار اسے میرے حوالے کر دیا۔

راستے میں غلام نے اپنا سر اٹھا کر مجھ سے پوچھا:
“میرے آقا! آپ نے مجھے کیوں خریدا؟ اگر آپ کو طاقت چاہیے تو مجھ سے زیادہ طاقتور لوگ موجود ہیں، اگر آپ کو وجاہت چاہیے تو مجھ سے زیادہ خوب صورت لوگ موجود ہیں، اور اگر آپ کو کسی ہنر مند کی ضرورت ہے تو مجھ سے زیادہ ماہر لوگ موجود ہیں؛ پھر آپ نے مجھے کیوں خریدا؟”

میں نے کہا:
“کل لوگ مسجد میں جمع تھے اور پورا بصرہ ظہر سے عشاء کے بعد تک اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہا، مگر ان کی دعا قبول نہ ہوئی۔ لیکن جب تم مسجد میں داخل ہوئے، آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ نے فوراً تمہاری دعا قبول کرلی اور تمہاری مراد پوری فرمادی!”

غلام نے کہا:
لعله غيرى؟ وما يدريك أنتَ لعله رجل آخر؟
“شاید وہ میرے علاوہ کوئی اور ہو؟ تمہیں کیسے معلوم کہ کوئی دوسرا شخص نہ ہو؟”

میں نے کہا:“نہیں، وہ تم ہی تھے۔”

اس نے پوچھا:“کیا تم نے مجھے پہچان لیا ہے؟”

میں نے کہا: “ہاں۔”

پھر پوچھا:“کیا تمہیں یقین ہوگیا ہے کہ وہ میں ہی تھا؟”

میں نے کہا: “ہاں۔”

مالک بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“اللہ کی قسم! اس کے بعد اس نے میری طرف نگاہ تک نہ اٹھائی۔ وہ خاموش رہا۔”

جب ہم قریب ترین مسجد کے پاس پہنچے تو اس نوجوان نے کہا:

“کیا آپ مجھے اس مسجد میں داخل ہونے کی اجازت دیں گے؟”

وہ مسجد میں داخل ہوا، دو رکعت نماز پڑھی، پھر عرض کیا:
إلهي أُذيعَ السر بيني وبينك ، فلن يطيب لي بذا عيش فاقبضني إليكَ .
“اے میرے اللہ! میرے اور تیرے درمیان جو راز تھا، وہ ظاہر ہوگیا۔ اب میرے لیے یہ زندگی خوش گوار نہیں رہی، پس مجھے اپنی طرف بلا لے!”

پھر وہ دیر تک سجدے میں پڑا رہا۔

مالک بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں:

“میں نے اسے ہلایا تو معلوم ہوا کہ وہ وفات پا چکا تھا۔”

سبحان اللہ! کیا ہی راز تھا اس کا، اور اخلاص کے کس مقام پر وہ پہنچ چکا تھا!

اللهم استر عوراتنا وآمن روعاتنا ، اللهم اجعلنا من عبادك الأتقياء الأنقياء الأخفياء
اے اللہ! ہمارے عیوب پر پردہ ڈال، ہماری گھبراہٹوں کو امن میں بدل دے، اور ہمیں اپنے متقی، پاکیزہ اور گمنام بندوں میں شامل فرما۔ آمین۔

.

حلية الأولياء / أبو نعيم الأصبهاني (١٧٣/١٠)
من كنوز الإسلام( ٤٣)

26/08/2026

#یومِ_ولادتِ_مصطفیٰ_ﷺ❤️

#رَحْمَةً_لِّلْعَالَمِينَ_نبی_کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی زندگی ہمارے لئے محبت ، اخلاق ، صبر ، عدل ، رحم ، عفو و درگزر اور اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت کا بہترین نمونہ ہے ۔ لاکھوں کروڑوں درود و سلام پیارے نبی کریم ﷺ پر جن پر اللّٰہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں ۔

اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔
اللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔

ّٰہ_پاک_ہمیں اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے سچی محبت عطا فرما ۔ آپ ﷺ کی سنت پر چلنے کی توفیق عطا فرما ۔ ہمارے اخلاق کو نبی کریم ﷺ کے اخلاق کی خوشبو سے مہکا دے ۔ ہمارے دلوں کو ایمان، تقویٰ، محبت اور اخلاص سے منور فرما اور قیامت کے دن ہمیں آپ ﷺ کی شفاعت نصیب فرما 🤲❤️

21/08/2026

❤️🌙

ّٰہ_پاک اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں ۔ اے ایمان والو تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو (سورۃ الاحزاب 56)

اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ
اللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰی سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰی إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ

ّٰہ_پاک جمعہ مبارک اور درودِ پاک کے صدقے ہمارے دلوں کو نورِ ایمان سے بھر دے ۔
ہمیں گناہوں سے توبہ کی توفیق عطا فرما ۔
ہماری مشکلات کو آسانیوں میں بدل دے ۔
ہمارے رزق میں برکت ۔ صحت میں عافیت اور گھروں میں سکون و رحمت نازل فرما ۔ ہمیں
حضور ﷺ کی سچی محبت اور شفاعت نصیب فرما آمین_یا_رب_العالمین🤲❤️

20/08/2026
17/08/2026

نسبت سے فرق تو پڑتا ہے

گندم میں کنکر ہوتا ہے، کیا وہ کنکر گندم کے بھاؤ نہیں بکتا؟
آپ مٹھائی کی دکان سے مٹھائی خریدتے ہیں کیا گتے کا ڈبہ یا ٹوکری اسی مٹھائی کے ریٹ میں نہیں ملتی؟

حالانکہ مٹھائی کا ریٹ کم و بیش 1500 روپے کلو ہے اور گتے کا ڈبہ اس کے مقابلے میں انتہائی سستا ہے پھر واضع تضاد ہونے کے باوجود قیمت میں یکسانیت کیوں ھے؟

گتے کا ڈبہ مٹھائی کے ریٹ میں کیوں بکتا ھے ؟
وجہ صرف یہ ہے کہ وہ مٹھائی کے ساتھ جڑ گیا ہے اس کی نسبت گتے کی بجائے مٹھائی سے ھے ایک مشہور کہاوت ھے کہ اچھوں کے سنگ ترے یعنی اچھوں کے ساتھ لگ کے برے بھی کنارے پر لگ جاتے ہیں لوہا یعنی IRON بھی لکڑی کے ساتھ لگ کر تیرنے لگ جاتا ہے میرے خیال میں آپ کو میری بات سمجھ اگئی ہوگی

اب ذرا اگے چلتے ھیں
اﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺩﻭ ﺍﯾﻨﭩﯿﮟ ﻟﯿﮟ، ﺍﯾﮏ ﺍﯾﻨﭧ ﮐﻮ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﻨﭧ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﺨﻼ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺎ ﺩﯼ۔ ﺍﯾﻨﭩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺟﯿﺴﯽ، ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺍیک، ﻟﮕﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ۔۔۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﮏ ﮐﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﻣﺴﺠﺪ ﺳﮯ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮐﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﺨﻼء سے۔ ﺟﺲ ﺍﯾﻨﭧ ﮐﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﺨﻼء ﺳﮯ ﮨﻮﺋﯽ، ﻭﮨﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﻨﮕﺎ ﭘﺎؤﮞ ﺑﮭﯽ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﺍﯾﻨﭧ ﮐﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻠّٰﻪ ﺳﮯ ﮨﻮﺋﯽ۔۔۔ ﻭﮨﺎﮞ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﯿﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ٹیکتے ﮨﯿﮟ، ﺍس کو ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﻮﻣﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺑﻮﺳﮧ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺩوﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺭُﺗﺒﮯ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻕ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮﺍ۔ ﻗﯿﻤﺖ ﺍﯾﮏ ﺗﮭﯽ، ﭼﯿﺰ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﯾﻨٹیں ﺍﯾﮏ ہی ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻧﮯ ﻟﮕﺎئی تھیں ۔ ﻓﺮﻕ ﺻﺮﻑ ﯾﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﺍﻟﮓ ﺍﻟﮓ ﺗﮭﯽ۔

ﺍﭘﻨﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﷲ والوں ﺳﮯ ﺭﮐﮭﯿﮟ، ﯾﻘﯿﻨﺎً! ﺑﮩﺖ ﻓﺮﻕ ﭘﮍے ﮔا اچھوں کی صحبت اچھا بناتی ہے اور بروں کی صحبت برائیوں میں مبتلا کر دیتی ہے یقینا اچھی صحبت اور اچھی دوستی کا فائدہ دنیا میں بھی ہے اور اخرت میں بھی اللہ تعالی عزوجل ہمیں دنیا اور اخرت میں بھلائی عطا فرمائے اچھے دوستوں کے ساتھ اچھی دوستی نبھانے کی توفیق عطا فرماۓ
آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم

Telephone

Address

W Block New Multan
Multan
00006