Dr Sami Rides & Humanity
Humanity | Pakistan 🇵🇰
Join This mission ❤️
19/06/2026
11 ستمبر کا دن تاریخ کے ان سیاہ ترین دنوں میں شمار ہوتا ہے جب ایک لمحے میں ہزاروں زندگیاں بدل گئیں۔ دھواں، آگ اور خوف نے نیو یارک کی بلند عمارتوں کو موت کے جال میں بدل دیا تھا۔
اسی افراتفری کے درمیان ایک نوجوان ویلس کراؤتھر اپنی شناخت نہیں بلکہ انسانیت لے کر کھڑا تھا۔ اس نے اپنی قمیض منہ پر لپیٹ رکھی تھی تاکہ دھوئیں سے سانس لے سکے، مگر اس کے ذہن میں ایک ہی سوچ تھی: لوگوں کو باہر نکالنا ہے۔
وہ بار بار عمارت کے اندر واپس جاتا رہا۔ ایک بار، دو بار نہیں… درجنوں مرتبہ۔ وہ زخمیوں کو سہارا دیتا، انہیں محفوظ راستہ دکھاتا، اور دوبارہ دھوئیں میں غائب ہو جاتا تاکہ مزید جانیں بچا سکے۔
بہت سے لوگوں نے اسے صرف “سرخ بندانا والا آدمی” کہا، کیونکہ اس نے اپنا نام نہیں بتایا تھا۔ وہ اپنی شناخت نہیں، اپنی ذمہ داری نبھا رہا تھا۔
آخرکار، وہ بھی اسی عمارت کے اندر رہ گیا… جہاں سے وہ کبھی واپس نہ آ سکا۔
مگر اس نے جو کیا وہ ختم نہیں ہوا۔ اس کی قربانی نے درجنوں زندگیاں بچا دیں، اور اس کا نام بعد میں ان لوگوں نے پہچانا جن کی جانیں اس نے بچائی تھیں۔
یہ کہانی صرف ایک حادثے کی نہیں، یہ اس انسان کی ہے جس نے ثابت کیا کہ اصل بہادری اپنی جان بچانا نہیں، دوسروں کی جان کو اپنی زندگی پر ترجیح دینا ہے۔
اصل سوال یہ ہے: اگر ہم اسی لمحے میں ہوتے، تو کیا ہم خود کو بچانے کے بجائے کسی اور کو بچانے کا فیصلہ کر سکتے تھے؟
19/06/2026
ملبہ، خاموشی اور موت کی سرد ہوا… لیکن اس کے بیچ ایک ایسی ماں تھی جس نے انسانیت کو الفاظ سے نہیں، اپنے جسم سے ثابت کیا۔ 💔
زلزلہ آیا تھا۔ چند سیکنڈ میں گھر زمین بوس ہو گئے۔ دیواریں گریں، چھتیں ٹوٹیں، اور زندگی ایک لمحے میں ملبے میں بدل گئی۔ ہر طرف چیخیں تھیں… پھر آہستہ آہستہ وہ چیخیں بھی خاموش ہو گئیں۔
ریسکیو ٹیمیں جب پہنچی تو ہر جگہ لاشیں اور ٹوٹی ہوئی امیدیں تھیں۔ ایک گھر کے ملبے کے نیچے جب وہ پہنچے تو ایک عجیب منظر نے سب کو روک دیا۔
ایک ماں… جھکی ہوئی حالت میں، جیسے کسی نے اسے پتھر بنا دیا ہو۔ اس کا جسم مکمل طور پر مٹی اور اینٹوں کے درمیان دبا ہوا تھا، لیکن اس کے ہاتھ کسی چیز کو مضبوطی سے تھامے ہوئے تھے۔
جب احتیاط سے ملبہ ہٹایا گیا تو پتہ چلا… اس کے نیچے ایک چھوٹا سا بچہ محفوظ تھا۔
ماں نے اپنے جسم کو ڈھال بنا دیا تھا۔ چھت جب گری تو اس نے آخری لمحے میں اپنے بچے کو سینے سے لگا کر نیچے جھکا لیا۔ اس نے اپنی ہڈیاں توڑ لیں، لیکن بچے پر ایک خراش بھی نہ آنے دی۔
بچہ زندہ تھا۔
بہت کمزور، مٹی سے اٹا ہوا، مگر سانس لے رہا تھا۔
ماں نہیں رہی تھی… لیکن اس کی قربانی نے زندگی کو موت پر فتح دلا دی تھی۔
اس کے پاس کوئی آخری الفاظ نہیں تھے، کوئی خط نہیں تھا… مگر اس کی خاموشی سب سے بڑا پیغام تھی:
“اگر دنیا ختم بھی ہو جائے، تو ماں اپنے بچے کو پہلے بچاتی ہے۔”
یہ واقعہ صرف ایک حادثہ نہیں… یہ ماں کے عشق کی وہ انتہا ہے جہاں انسان اپنی زندگی کو دوسروں کی سانسوں کے بدلے قربان کر دیتا ہے۔ 🙂💔
اور سوال یہ ہے… ہم نے آج تک ماں کی اس قربانی کا حق ادا کیا ہے یا صرف اسے کہانی سمجھ کر بھول گئے ہیں؟
19/06/2026
پیٹرول کی قیمت میں حالیہ 74 روپے کمی کو عوام ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھ رہے ہیں، کیونکہ اس سے روزمرہ اخراجات میں کچھ حد تک کمی آنے کی امید ہے۔ تاہم دوسری طرف یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ گزشتہ ادوار میں قیمتوں میں اضافہ انتہائی تیزی سے ہوا تھا، جہاں ایک ہی مرحلے میں پیٹرول 200 روپے فی لیٹر تک مہنگا کر دیا گیا تھا، جس نے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔
عوامی رائے یہ ہے کہ اصل مسئلہ صرف قیمتوں کا بڑھنا یا کم ہونا نہیں، بلکہ اس میں استحکام کی کمی ہے۔ اچانک بڑے اضافے اور پھر جزوی کمی نے لوگوں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پالیسیوں کو مستقل اور متوازن رکھا جائے تاکہ عام شہری کو حقیقی ریلیف مل سکے۔
یہ رہے اس پوسٹ کے لیے 5 وائرل ہیش ٹیگز:
19/06/2026
دیپالپور میں پیش آنے والے ایک دل دہلا دینے والے واقعے میں مبینہ طور پر 12 سے 13 سال کی ایک بچی نے اپنے والد کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بچی ایک نوجوان سے شادی کرنا چاہتی تھی، لیکن والد اس رشتے پر رضامند نہیں تھے۔ اس معاملے پر گھر میں اکثر جھگڑے ہوتے تھے اور والد اپنی بیوی اور بیٹی کو مار پیٹ کا نشانہ بھی بناتے تھے۔ بالآخر کچی عمر کے جذبات، غلط فیصلوں اور گھریلو ماحول نے ایک ایسا سانحہ جنم دیا جس نے ایک پورے خاندان کو تباہ کر کے رکھ دیا۔
ایک باپ، جو سارا دن محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کے لیے رزق کماتا تھا، ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے چلا گیا۔ ایک ماں کی زندگی اجڑ گئی، اور ایک کم سن بچی، جس کے ہاتھوں میں کتابیں ہونی چاہئیں تھیں، وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ گئی۔ 💔🥀
یہ صرف ایک قتل نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی کئی تلخ حقیقتوں کا آئینہ ہے۔ والدین کی غفلت، بچوں کی تربیت سے دوری، گھریلو تشدد، موبائل فون کے بے لگام استعمال، جہالت اور کچی عمر کے جذبات نے مل کر کئی زندگیاں برباد کر دیں۔
ایک لمحے کے فیصلے نے ایک باپ کو قبر، ایک ماں کو عمر بھر کے غم، اور ایک بچی کو ایسی سزا دے دی جس کا بوجھ شاید وہ ساری زندگی اٹھاتی رہے گی۔
بچوں کو صرف کھانا اور کپڑے دینا کافی نہیں، ان کے جذبات کو سمجھنا، ان کی تربیت کرنا، ان کے دوست بننا اور ان پر نظر رکھنا بھی والدین کی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ بعض اوقات ایک غلط فیصلہ صرف ایک انسان کو نہیں، بلکہ پورے خاندان کو برباد کر دیتا ہے۔ 💔
18/06/2026
"کیا اپنے حق کی آواز بلند کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی سزا روزگار چھین لینا ہو؟" 💔
بلوچستان میں مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں اضافے اور ڈسپیرٹی ریڈکشن الاؤنس (DRA) کے مطالبے کے لیے احتجاج کرنے والے 34 اساتذہ کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔
محکمہ ہائر، ٹیکنیکل اینڈ کالجز ایجوکیشن بلوچستان نے چیف سیکریٹری کی منظوری سے بلوچستان ایمپلائز ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن ایکٹ 2011 (BEDA Act) کے تحت یہ کارروائی کی ہے۔ برطرف کیے جانے والوں میں ایک پروفیسر، پانچ ایسوسی ایٹ پروفیسرز، بارہ اسسٹنٹ پروفیسرز اور سولہ لیکچررز شامل ہیں۔
یہ اساتذہ "بلوچستان ایمپلائز گرینڈ الائنس" کے پلیٹ فارم سے اپنے جائز مطالبات کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔ اس سے قبل بھی تین اسسٹنٹ پروفیسرز کو اسی معاملے پر جبری ریٹائر کیا جا چکا ہے۔
اس فیصلے نے تعلیمی اور سیاسی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ ملازمین کی تنظیم نے اسے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے پورے بلوچستان میں احتجاجی تحریک مزید تیز کرنے اور دھرنوں کا اعلان کیا ہے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ جو لوگ قوم کے بچوں کو علم، شعور اور بہتر مستقبل دینے کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں، آج وہی اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے پر اپنے روزگار سے محروم کیے جا رہے ہیں۔ 💔📚
18/06/2026
کراچی یونیورسٹی کے گلشنِ اقبال کیمپس میں اساتذہ کا احتجاج شدت اختیار کر گیا۔ گزشتہ تین ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی، دو سال سے ہاؤس سیلنگ الاؤنس کی بندش اور میڈیکل سہولیات کی معطلی کے خلاف مشتعل اساتذہ نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کی گاڑی کا راستہ روک لیا، جبکہ ایک استاد احتجاجاً گاڑی کے سامنے سڑک پر لیٹ گئے۔
انجمنِ اساتذہ نے انتظامیہ اور وائس چانسلر کے خلاف امتحانات اور تمام تدریسی سرگرمیوں کا مکمل بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ دوسری جانب سول سوسائٹی اور اساتذہ کی مختلف تنظیموں نے موجودہ دور کو یونیورسٹی کی تاریخ کا بدترین انتظامی دور قرار دیتے ہوئے وائس چانسلر سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
وائس چانسلر کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے، لیکن تنخواہوں اور دیگر واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث اساتذہ کا احتجاج تاحال جاری ہے۔
ایک ایسا معاشرہ جو اپنے اساتذہ کو عزت اور ان کے بنیادی حقوق فراہم نہیں کر سکتا، وہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ 🙂💔
17/06/2026
اپنے فیس بک پیج کے بارے میں گھبرانے سے پہلے یہ ضرور پڑھیں 👇🏽
اگر آپ کے پیج کی مونیٹائزیشن اچانک ختم ہو گئی ہے، ریکمینڈیشنز کم ہو گئی ہیں، یا آپ کی ریچ بالکل خراب نظر آ رہی ہے…
تو یاد رکھیں، آپ اکیلے نہیں ہیں۔
اس وقت مختلف ممالک اور علاقوں کے بہت سے کریئیٹرز اسی مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف کسی ایک ملک یا چند پیجز تک محدود نہیں ہے۔ بہت سے پیج اونرز مونیٹائزیشن اور ریکمینڈیشنز میں غیر معمولی تبدیلیاں دیکھ رہے ہیں۔
جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں، اس سے لگتا ہے کہ یہ فیس بک کے سسٹم میں جاری اپڈیٹس اور تبدیلیوں سے متعلق ہو سکتا ہے۔
اس لیے براہِ کرم جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہ کریں۔
❌ اپنا پیج مت چھوڑیں۔
❌ پوسٹ کرنا مت بند کریں۔
❌ خوف کی وجہ سے اپنی پرانی پوسٹس ڈیلیٹ مت کریں۔
اس کے بجائے:
✅ اپنی ORIGINAL اور معیاری کانٹینٹ پوسٹ کرتے رہیں۔
✅ مستقل مزاجی برقرار رکھیں۔
✅ فیس بک کی Community Standards اور Monetization Policies پر عمل کریں۔
✅ ایسے شارٹ کٹس سے بچیں جو کسی خلاف ورزی کا سبب بن سکتے ہیں۔
اس وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ متحرک رہیں اور تمام پالیسیز پر عمل کرتے رہیں، جبکہ سسٹم اپنی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔
آج جو کچھ آپ محسوس کر رہے ہیں، وہ غالباً عارضی ہے، اور اس طرح کے پلیٹ فارم لیول مسائل وقت کے ساتھ اکثر درست ہو جاتے ہیں۔
یاد رکھیں، ایک برا ہفتہ آپ کی اس تمام محنت کو ختم نہیں کر سکتا جو آپ نے اپنے پیج کو بنانے میں کی ہے۔
ہمت نہ ہاریں۔
تخلیق کرتے رہیں۔
اور اپنے خواب پر یقین رکھیں۔
آپ کی مونیٹائزیشن واپس آ سکتی ہے۔
آپ کی ریکمینڈیشنز دوبارہ بہتر ہو سکتی ہیں۔
آپ کی آڈینس اب بھی موجود ہے۔
آپ یہاں تک پہنچنے کے لیے بہت محنت کر چکے ہیں، اب ہار ماننے کا وقت نہیں۔
اور اگر آج کسی نے آپ سے یہ نہیں کہا…
مجھے آپ پر یقین ہے۔ 💙
ہم سب آپ کی کامیابی اور واپسی کے لیے دعاگو ہیں۔
اگر آپ کا پیج بھی متاثر ہوا ہے تو ❤️ کمنٹ کریں تاکہ دوسرے کریئیٹرز کو احساس ہو کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔
اور اس پوسٹ کو ایسے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں جو انہی مسائل سے گزر رہے ہیں، تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔
— ڈاکٹر سمیع رائیڈز اینڈ ہیومینٹی
15/06/2026
ڈھائی لاکھ درخت…
نہیں، یہ صرف ایک عدد نہیں… یہ ایک آدمی کے خواب کی گواہی ہے۔
ایک ایسا خواب جو کاغذ پر نہیں لکھا گیا…
بلکہ زمین کی مٹی میں بویا گیا 🌱
خضر ولی چشتی
نہ کوئی سرکاری پروٹوکول…
نہ کوئی کروڑوں کا فنڈ…
نہ میڈیا کی تالیاں…
بس ایک عام سا انسان…
مگر حوصلہ ایسا کہ زمین بھی حیران رہ جائے۔
دو ہاتھ تھے…
مگر کام ایسا کہ پورا پاکستان سبز ہونے لگا۔
جب ہم کہتے رہے “گرمی بہت ہے…”
وہ دھوپ میں کھڑا ہو کر زمین کو سایہ دے رہا تھا۔
جب ہم سوچتے رہے “کوئی اور کر لے گا…”
وہ خاموشی سے ہر دن ایک نیا درخت لگا رہا تھا۔
اور پھر ایک دن…
مٹی نے گواہی دی:
یہ شخص عام نہیں۔
یہ وہ ہے جس نے 2.5 لاکھ بار زمین کو زندگی دی ہے۔
🌿 وہ کہتا نہیں، کر کے دکھاتا ہے:
درخت کاٹو مت… درخت لگاؤ۔
ہر گرا ہوا سایہ… دس نئے سائے بناؤ۔
یہ صرف شجرکاری نہیں…
یہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک وعدہ ہے۔
🌳 پاکستان کے بہترین موسمِ شجرکاری:
جب بارش زمین کو نرم کرتی ہے…
اور بہار امید کو جگاتی ہے…
🌿 اور درخت؟
نیم… شیشم… پیپل… برگد… املی…
یہ صرف درخت نہیں… یہ سانسیں ہیں مستقبل کی۔
آخر میں بات صرف اتنی سی ہے…
کچھ لوگ تاریخ لکھتے ہیں…
اور کچھ لوگ زمین کو دوبارہ زندہ کر دیتے ہیں۔
خضر ولی چشتی نے دوسرا راستہ چنا ہے۔ 🌱
#شجرکاری
15/06/2026
بلال پروفیشنل اسکیٹر، نے اپنی ایک پوسٹ میں ایک معصوم چھوٹی بچی کی خواہش کا ذکر کیا جس نے ان سے اسکیٹنگ شوز بطور تحفہ مانگے تھے۔ بلال نے کہا کہ اگر 24 گھنٹوں میں پوسٹ پر 2000 کمنٹس آ گئے تو وہ یہ شوز مفت میں دے دیں گے۔
یہ دیکھ کر دل خوشی سے بھر گیا کہ لوگوں نے ایک ننھی سی بچی کی خوشی کے لیے نہ صرف حصہ لیا بلکہ صرف 7 گھنٹوں کے اندر 2800 سے زیادہ کمنٹس کر کے اس خوبصورت چیلنج کو مکمل کر دیا۔
واقعی پاکستانی قوم کے دل بہت بڑے ہیں، جو دوسروں کی خوشیوں میں اپنی خوشی تلاش کرنا جانتی ہے۔ اللہ سب کو ایسے ہی خوش رکھے اور مسکراہٹیں بانٹنے کی توفیق دے۔ 🙏🥰
14/06/2026
بجٹ میں کسانوں کے لیے 95 ارب روپے، جبکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یعنی محنت کشوں کے لیے 95 ارب، اور بھکاریوں کے لیے 838 ارب۔ ترجیحات! 🫡
🫡🌾💸
Category
Website
Address
6000