Legal Aim

Legal Aim

Share

Law Made Easy. Legal awareness in Urdu & English. Legal awareness only.

Learn rights, PPC, civil, criminal, family, tax, labour & business laws, court procedure, FIR, bail, Khula, contracts & landmark judgments for Pakistan.

Photos from Legal Aim's post 22/09/2026

سپریم کورٹ کا وراثت میں خواتین کے حق پر تاریخی فیصلہ
Mohammad Boota Vs Mst. Fatima
[2023 SCMR 1901] - تحریر کردہ: جسٹس عائشہ اے ملک

بنچ: چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس اطہر من اللہ

پس منظر:
یہ کیس ریاست بہاولپور کی زرعی اراضی کی وراثت کا تھا۔ دین محمد نامی شخص کو کالونائزیشن ایکٹ کے تحت زمین الاٹ ہوئی تھی۔ اس کی وفات کے بعد اس کے بیٹوں نے 1952 اور 1956 میں وراثتی انتقالات اپنے نام کرا لیے اور بیٹیوں کو وراثت سے محروم کر دیا۔ بیٹیوں نے 1985 اور 1994 میں دعویٰ دائر کیا کہ انہیں وراثت سے محروم کیا گیا ہے۔ ٹرائل کورٹ، اپیلٹ کورٹ اور ہائیکورٹ نے بیٹیوں کے حق میں فیصلہ دیا، جسے بھائیوں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ بھائیوں کے دو اعتراض تھے: 1) اس وقت رواج (Custom) کے تحت بیٹیاں زرعی زمین میں حقدار نہیں تھیں۔ 2) مقدمہ 40 سال بعد دائر ہوا، معیاد ختم ہو چکی ہے۔

سپریم کورٹ نے شریعت کے نفاذ کی پوری تاریخ واضح کر دی:

1. 1872 سے 1951 تک کا قانون:
- Punjab Laws Act 1872 کی دفعہ 5 کہتی تھی کہ وراثت کے مقدمات کا فیصلہ رواج (Custom) کے مطابق ہوگا، لیکن اگر رواج انصاف، مساوات اور ضمیر کے خلاف ہو تو محمدی قانون (شریعت) لگے گا۔ اس وقت فریق کو رواج ثابت کرنا پڑتا تھا۔
- "1937 کا شریعت ایکٹ" آیا جس نے کہا کہ مسلمانوں میں وراثت کا فیصلہ رواج پر نہیں بلکہ شریعت پر ہوگا، لیکن اس میں زرعی زمین شامل نہیں تھی، اس پر رواج ہی چلتا رہا۔
- 1948 کا پنجاب شریعت ایکٹ (Punjab Act IX of 1948):
یہ پاکستان بننے کے بعد 15 مارچ 1948 کو نافذ ہوا۔ اس نے واضح کر دیا کہ زرعی زمین سمیت تمام وراثتی معاملات کا فیصلہ شریعت کے مطابق ہوگا، چاہے کوئی رواج اس کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ یہ قانون ریاست بہاولپور پر بھی لاگو تھا۔
- 1951 کا شریعت ایکٹ:
اس نے 1948 کے ایکٹ میں مزید وضاحت کی۔

2. سب سے اہم دفعہ - 2-A کا اضافہ (1983):
بعد میں *1962 کے West Pakistan Muslim Personal Law (Shariat) Act* میں 1983 کے آرڈیننس کے ذریعے دفعہ 2-A شامل کی گئی۔ اس دفعہ نے تو فیصلہ کن طور پر کہہ دیا کہ:
اگر 1948 کے شریعت ایکٹ سے پہلے کسی عدالت نے رواج کی بنیاد پر کسی مرد وارث کو زرعی زمین کا مالک قرار دے دیا تھا یا بیٹیوں کو محروم کرنے کا ڈگری جاری کی تھی، تو وہ تمام ڈگریاں، فیصلے اور احکامات *کالعدم، ناقابل عمل اور غیر قانونی* تصور ہوں گے۔ اور ایسے تمام زیر التواء مقدمات ختم ہو جائیں گے۔

مطلب:
جہاں فریقین مسلمان ہوں، وہاں وراثت میں ہمیشہ شریعت ہی قانون ہوگا، رواج نہیں۔

3. بھائیوں کا دوسرا بہانہ - کرایہ داری (Tenancy):
بھائیوں نے کہا کہ ہم نے زمین کی قیمت 1958 میں ادا کی تھی اس لیے ہم خود مالک ہیں۔ عدالت نے اسے مسترد کر دیا۔ عدالت نے کہا کالونائزیشن ایکٹ کی دفعہ 20 کے تحت اصل کرایہ دار دین محمد ہی تھا۔ اس کے بیٹے اس کے قانونی وارث کے طور پر آئے۔ انہوں نے خود کو دین محمد کا وارث ظاہر کر کے فائدہ لیا، اب وہ وراثت سے انکار نہیں کر سکتے۔ _(حوالہ: Saeed-ud-Din vs Hafeez 2013 SCMR 1133)_

4. معیاد (Limitation) کا اعتراض - 40 سال بعد دعویٰ؟
بھائیوں نے کہا انتقال 1952 میں ہوا اور دعویٰ 1985 میں، یہ تاخیر ہے۔

سپریم کورٹ نے اس اعتراض کو بھی مسترد کر دیا اور قرار دیا:
- وراثت میں کوئی معیاد نہیں چلتی:
جب بھائی بہنوں کا حق دباتے ہیں اور انہیں ان کے حصے سے محروم رکھتے ہیں تو معیاد اس وقت شروع ہوتی ہے جب بہنوں کو اس فراڈ یا انکار کا علم ہوتا ہے۔ _(حوالہ: Saadat Khan vs Shahid-ur-Rehman PLD 2023 SC 362)_
- غلط انتقال سے ملکیت نہیں بنتی:
اگر انتقال شریعت کے خلاف کسی مرد کے حق میں غلط طور پر کر دیا گیا ہو تو اس سے اسے کوئی حق ملکیت نہیں ملتا۔ _(Mst. Gohar Khanum vs Mst. Jamila Jan 2014 SCMR 801)_
- خاتون کی وراثت پر کوئی معیاد نہیں:
جہاں عورت کو اس کے خاندان نے وراثت سے محروم رکھا ہو، وہاں معیاد کا قانون نہیں چلے گا۔ _(Shahla vs Jahan Afroz Khilat 2020 SCMR 352)_
- مشترکہ کھاتہ دار (Co-sharer):
باپ کی وفات پر ہر وارث مشترکہ مالک بن جاتا ہے۔ وراثتی انتقال صرف ریونیو ریکارڈ درست کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ ایک مشترکہ کھاتہ دار کے خلاف دوسرے پر معیاد نہیں چلتی۔

حتمی فیصلہ:
ان تمام وجوہات کی بنا پر سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کے فیصلوں میں مداخلت سے انکار کر دیا۔ بھائیوں کی اپیلیں خارج۔ بہنوں کو دین محمد کی زرعی اراضی میں ان کے شرعی حصے کا حقدار قرار دیا گیا۔

Civil Appeals Dismissed

یہ فیصلہ خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ میں ایک سنگ میل ہے۔

مزید اہم عدالتی فیصلوں، وراثت کے قوانین اور سپریم کورٹ کی تازہ ترین ججمنٹس کے لیے ہمارے پیج کو فالو کریں۔

Follow for more Updates

21/09/2026

لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ کا ضمانت سے متعلق اہم فیصلہ
PLJ 2026 Cr.C. (Note) 174

محمد مزمل طاہر بنام ریاست
Crl. Misc. No. 11525-B of 2025 - فیصلہ 14 جنوری 2026
جناب جسٹس چوہدری سلطان محمود

قانون جس پر فیصلہ ہوا:
ضابطہ فوجداری دفعہ 498 - ضمانت قبل از گرفتاری
تعزیرات پاکستان دفعہ 337-A(ii), 148, 149 اور 354

کیس کا پس منظر:
ملزم پر الزام تھا کہ اس نے فریقین کے درمیان لڑائی جھگڑے میں مدعی کو چوٹیں پہنچائیں۔ دفعات میں دفعہ 354 PPC بھی شامل تھی جو کہ "ناقابل راضی نامہ (Non-Compoundable)" جرم ہے۔ دوران سماعت مدعی خود عدالت میں پیش ہوا اور بیان دیا کہ فریقین کے درمیان صلح ہو چکی ہے اور اسے ملزم کی ضمانت پر کوئی اعتراض نہیں۔

عدالت نے کیا قرار دیا؟
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ:

1۔ صلح کا اصول ضمانت میں اہم ہے:
بے شک دفعہ 354 تعزیرات پاکستان ناقابل راضی نامہ جرم ہے، لیکن جب فریقین کے درمیان صلح ہو جائے اور مدعی عدالت میں آ کر کہہ دے کہ اسے کوئی اعتراض نہیں، تو ضمانت کا فیصلہ کرتے وقت اس صلح کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

2۔ ضمانت میں نرمی برتی جا سکتی ہے:
یہ ایک طے شدہ اصول ہے کہ ضمانت کے مقدمات میں، خاص طور پر "ضمانت قبل از گرفتاری" میں، اگر مدعی کو اعتراض نہ ہو اور فریقین اپنا تنازعہ خوش اسلوبی سے حل کر چکے ہوں، تو عدالت کو نرمی والا رویہ (Lenient View) اختیار کرنا چاہیے۔

3۔ حوالہ جات:
عدالت نے اپنے فیصلے میں 2010 PCr.LJ 1482 اور 2013 PCr.LJ 1458 پر انحصار کیا۔

حتمی فیصلہ:
عدالت نے ملزم محمد مزمل طاہر کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی۔

Bail Allowed

یہ فیصلہ ان تمام وکلاء کے لیے نہایت اہم ہے جو 354 PPC جیسے ناقابل راضی نامہ جرم میں صلح کی بنیاد پر ضمانت کے لیے دلائل دیتے ہیں۔

مزید اہم عدالتی فیصلوں، ضمانت کے نئے قوانین اور ہائیکورٹ کے تازہ ترین فیصلوں کے لیے ہمارے پیج کو فالو کریں۔

Follow for more Updates

Photos from Legal Aim's post 21/09/2026

سپریم کورٹ کا خلع اور ظلم کی بنیاد پر تنسیخ نکاح سے متعلق تاریخی فیصلہ
PLJ 2026 SC 406

Mst. Selab Akhtar Vs Quwat Khan
CPLA No. 4792 of 2025 - فیصلہ 06 جنوری 2026
بنچ: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس شاہد بلال حسن، جسٹس شکیل احمد

پس منظر کیس:
فریقین کی شادی 19.09.2016 کو تحصیل مٹہ ضلع سوات میں شریعت محمدی کے مطابق ہوئی، 30 تولہ سونا حق مہر مقرر ہوا۔ بیوی کا موقف تھا کہ شوہر اور سسرال نے ظلم، جبر، ذہنی اذیت اور تشدد کا نشانہ بنایا اور گھر سے نکال دیا۔
بیوی نے فیملی کورٹ سوات میں دعویٰ دائر کیا: 1) ظلم کی بنیاد پر تنسیخ نکاح، 2) 30 تولہ حق مہر کی واپسی، 3) نان نفقہ۔
فیملی کورٹ نے 29.06.2019 کو فیصلہ دیا: ظلم ثابت نہیں ہوا لیکن عدالت نے خود ہی نکاح کو *خلع کی بنیاد پر* ختم کر دیا۔ اور کہا کہ 10 تولہ بیوی پہلے ہی وصول کر چکی ہے، باقی 20 تولہ خلع کے تحت واپس کرنا ہوگا۔ صرف عدت کا خرچ 5000 روپے ماہانہ دیا، ماضی کا نان نفقہ خارج۔
اپیلٹ کورٹ اور پھر پشاور ہائیکورٹ مینگورہ بنچ (22.09.2025) نے بھی یہی فیصلہ برقرار رکھا۔ جس پر بیوی نے سپریم کورٹ میں اپیل کی۔

سپریم کورٹ کے سامنے بنیادی سوال:
کیا جب بیوی ظلم کی بنیاد پر خلع کا دعویٰ کرے اور ظلم ثابت نہ کر سکے، تو کیا فیملی کورٹ اسے زبردستی خلع پر مجبور کر کے اس کا حق مہر ضبط کر سکتی ہے؟

سپریم کورٹ نے قرار دیا:

1. ظلم اور خلع میں مالی فرق بہت بڑا ہے:
اگر ظلم ثابت ہو جائے تو بیوی کو پورا حق مہر ملتا ہے اور اسے معاف نہیں کرنا پڑتا۔ لیکن اگر خلع کی بنیاد پر نکاح ختم ہو تو بیوی کو حق مہر واپس کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے عدالت بیوی کے دعویٰ کو میکینکل طور پر خلع میں تبدیل نہیں کر سکتی۔ اس سے بیوی کے قیمتی مالی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔

2. خلع بیوی کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا:
سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلوں _Ibrahim Khan vs Mst. Saima Khan (PLD 2024 SC 645)_ اور _Dr. Faryal Maqsood vs Khurram Shehzad Durrani (PLD 2025 SC 262)_ کا حوالہ دے کر کہا:
خلع ایک الگ قانونی راستہ ہے جو بیوی کے واضح اور رضاکارانہ فیصلے پر مبنی ہے۔ اگر بیوی نے صرف ظلم کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے تو عدالت کو اس سے *واضح طور پر پوچھنا ہوگا* کہ کیا وہ ظلم والا دعویٰ چھوڑ کر خلع لینا چاہتی ہے؟ اس کی باخبر اور آزاد مرضی معلوم کرنا ضروری ہے۔

3. اگر نکاح ناقابل تلافی حد تک ٹوٹ چکا ہو تو کیا ہوگا؟
عدالت نے کہا کہ حقیقت سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں۔ اگر:
- ظلم قانون کے مطابق ثابت نہ ہو
- لیکن شادی حقیقت میں مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہو، میاں بیوی الگ رہ رہے ہوں، نفرت بڑھ چکی ہو اور بیوی واپس جانے سے صاف انکار کر رہی ہو
تو عدالت زبردستی ان کو ساتھ رہنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ ایسی صورت میں عدالت کو بیوی کو *آپشن (Choice)* دینا چاہیے کہ وہ اپنا دعویٰ واپس لے یا قانونی شرائط پر خلع قبول کر لے۔ مردہ رشتے کو صرف کاغذوں میں زندہ نہیں رکھا جا سکتا۔

4. ظلم کا مطلب اب صرف جسمانی تشدد نہیں:
سپریم کورٹ نے وضاحت کی کہ ظلم کا دائرہ اب بہت وسیع ہو چکا ہے۔ اس میں شامل ہے:
مسلسل تذلیل، جذباتی تشدد، جبر، کنٹرول، محرومی، بے عزتی اور ایسا رویہ جس سے ساتھ رہنا ناقابل برداشت ہو جائے۔ ذہنی ظلم بھی ظلم میں شامل ہے۔

*5. ثبوت کا معیار:*
فیملی کیسز میں ثبوت کا معیار _Preponderance of Probabilities_ ہے، یعنی فوجداری مقدمات کی طرح سخت ثبوت کی ضرورت نہیں۔ حالات، رویہ اور ریکارڈ کو دیکھا جائے گا۔

موجودہ کیس میں سپریم کورٹ کا حکم:
سپریم کورٹ نے اس نکتے کو بہت اہم قرار دیا کہ فیملی کورٹ نے بیوی سے اس کی واضح مرضی معلوم کیے بغیر اس کا دعویٰ خلع میں بدل کر اس کا 20 تولہ حق مہر ضبط کر لیا، جو درست نہیں۔

یہ فیصلہ تمام فیملی وکلاء اور خلع کے کیسز کے لیے ایک رہنما فیصلہ ہے۔

مزید اہم قانونی فیصلوں اور اپڈیٹس کے لیے ہمارے پیج کو فالو کریں۔
Follow for more Updates

Photos from Legal Aim's post 20/09/2026

سپریم کورٹ کا حراستی تشدد پر بڑا فیصلہ
PLD 2026 Supreme Court 205

خالد محمود وغیرہ بنام ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈی جی خان
سول پٹیشن نمبر 1041، 1042 اور 1327 آف 2024 - فیصلہ 21 اگست 2025
بنچ: جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان

واقعات:
درخواست گزار ضلع پولیس ڈی جی خان میں ہیڈ کانسٹیبل اور کانسٹیبل تعینات تھے۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے زریاب خان نامی شخص کو 18.06.2020 سے 23.06.2020 تک بغیر کسی ایف آئی آر اور وارنٹ گرفتاری کے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا، تشدد کیا جس سے وہ جاں بحق ہو گیا۔ ان کے خلاف دفعہ 302 تعزیرات پاکستان کے تحت مقدمہ درج ہوا۔ سیشن عدالت نے شک کا فائدہ دے کر انہیں بری کر دیا۔
لیکن اسی دوران پنجاب پولیس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 1975 کے تحت محکمانہ انکوائری بھی شروع ہوئی۔ انکوائری آفیسر نے انہیں قصوروار قرار دیا اور DPO نے 2 سال کے لیے تنخواہ میں کمی کی سزا تجویز کی۔ مگر RPO ڈی جی خان جو کہ مجاز اتھارٹی تھے، انہوں نے شوکاز نوٹس جاری کر کے سزا کو بڑھا کر *نوکری سے برخاستگی* میں تبدیل کر دیا۔ ان کی محکمانہ اپیلیں اور سروس ٹربیونل کی اپیل بھی 17.01.2024 کو خارج ہو گئی۔

سپریم کورٹ کے سامنے موقف:
فوجداری مقدمہ میں بری ہونے کے بعد مس کنڈکٹ کا الزام ختم ہو جاتا ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا:

1۔ فوجداری مقدمہ میں بریت، محکمانہ کارروائی سے بریت نہیں ہے
مس کنڈکٹ کی تعریف پنجاب پولیس رولز 1975 کے رول 2(iii) میں دی گئی ہے۔ فوجداری جرم اور محکمانہ بدعنوانی دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ شک کا فائدہ دے کر بری ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ محکمانہ مس کنڈکٹ کے مرتکب نہیں ہوئے۔

2۔ غیر قانونی حراست اور تشدد سنگین بدعنوانی ہے
بغیر ایف آئی آر کے کسی شخص کو حراست میں رکھنا اور تشدد کا نشانہ بنانا اختیارات کا ناجائز استعمال ہے اور یہ Grave Misconduct کے زمرے میں آتا ہے۔

3۔ مجاز اتھارٹی سزا بڑھا سکتی ہے
مجاز اتھارٹی کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ مجاز آفیسر کی تجویز کردہ سزا کو مسترد کر دے، کم کر دے یا *بڑھا دے*۔ تمام قانونی تقاضے پورے کرنے اور ملزمان کو سننے کے بعد تنخواہ میں کمی کی سزا کو برخاستگی میں تبدیل کرنا بالکل درست تھا کیونکہ پہلی سزا جرم کی سنگینی کے مطابق نہیں تھی۔

4۔ آئین حراستی تشدد کی اجازت نہیں دیت
آئین پاکستان کے آرٹیکل 4، 10، 14، 10A - ہر شہری کا حق ہے کہ اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک ہو، اس کی جان، آزادی اور عزت نفس کا تحفظ کیا جائے۔ غیر قانونی حراست، تشدد اور ماورائے عدالت قتل کسی بھی صورت میں جائز نہیں۔ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شخص کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے۔ عدالت نے انسانی حقوق کے عالمی منشور 1948 کا بھی حوالہ دیا۔

حتمی فیصلہ:
سپریم کورٹ نے سروس ٹربیونل کے فیصلے میں مداخلت سے انکار کر دیا۔ درخواست گزار کوئی بھی ایسا اہم قانونی نکتہ پیش نہ کر سکے جو عوامی اہمیت کا ہو۔ چھٹی کی درخواستیں خارج، ملازمت سے برخاستگی برقرار۔

یہ فیصلہ تمام پولیس افسران، سروس لاء کے وکلاء اور انسانی حقوق کے کارکنان کے لیے پڑھنا بہت ضروری ہے۔

مزید اہم عدالتی فیصلوں، قانونی اپڈیٹس اور سپریم کورٹ کے تازہ ترین فیصلوں کے لیے ہمارے پیج کو فالو کریں۔
Follow for more Updates

Photos from Legal Aim's post 20/09/2026

سپریم کورٹ کا انتہائی اہم فیصلہ | قبضہ کا قانون

PLD 2026 Supreme Court 211
محمد خورشید خان ایڈووکیٹ بنام دوست محمد خان

Criminal Petition No. 562 of 2022 - فیصلہ 12 نومبر 2025
بنچ: جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس علی باقر نجفی

پس منظر:
شکایت کنندہ کی 11 مرلہ زمین خسرہ نمبر 1032 موضع نواں شہر جنوبی ضلع ایبٹ آباد پر ملزمان نے 2012 میں ناجائز قبضہ کیا۔ ٹرائل کورٹ نے 18.11.2015 کو ملزم نمبر 1 دوست محمد خان کو "Illegal Dispossession Act 2005" کے تحت 3 سال قید کی سزا دی اور حکم دیا کہ 1 ماہ کے اندر زمین کا قبضہ مدعی کو واپس کیا جائے۔ عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے اسے پروبیشن پر رکھا گیا۔
دونوں فریقین نے پشاور ہائیکورٹ ایبٹ آباد بنچ میں اپیل کی۔ اپیل زیر سماعت تھی کہ مجرم دوست محمد خان وفات پا گیا۔ ہائیکورٹ نے 21.03.2022 کو حکم دیا کہ مجرم کی وفات کے بعد اپیل ختم ہوگئی ہے اور قبضہ واپسی کا معاملہ بھی ختم۔ اس حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر ہوئی۔

سپریم کورٹ کے سامنے اہم قانونی سوال:
کیا اگر Illegal Dispossession Act میں سزا یافتہ مجرم اپیل کے دوران فوت ہو جائے تو قبضہ واپسی کا حکم بھی ختم ہو جائے گا؟

سپریم کورٹ نے قرار دیا:

1۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 431 خاموش ہے:
دفعہ 431 Cr.P.C صرف یہ بتاتی ہے کہ سزا کے خلاف اپیل مجرم کی موت پر ختم ہو جاتی ہے، سوائے جرمانہ کی سزا کے۔ لیکن یہ دفعہ اس صورتحال کے بارے میں خاموش ہے جہاں سزا کے ساتھ ساتھ پراپرٹی کا قبضہ واپس کرنے کا حکم بھی ہو۔

2۔ اسپیشل قانون عام قانون پر حاوی ہوگا:
یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ _Special Law Overrides General Law_
ناجائز قابضین ایکٹ 2005 ایک اسپیشل قانون ہے۔ اس کی دفعہ 9 کہتی ہے کہ ضابطہ فوجداری تب ہی لاگو ہوگا جب وہ اس ایکٹ سے متصادم نہ ہو۔

3۔ سزا ختم، مگر قبضہ واپسی کا حق باقی رہے گا:
- مجرم کی وفات پر اپیل کا فوجداری حصہ (جیل کی سزا) تو دفعہ 431 کے تحت ختم ہو جائے گا۔
- لیکن دفعہ 8(1) کے تحت قبضہ واپسی کا حکم ایک "Civil Consequence" ہے۔ یہ حکم صرف مجرم پر نہیں بلکہ اس کے ذریعے دعویٰ کرنے والے ہر شخص (Legal Heirs) پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
- اس لیے قبضہ واپسی کے حد تک اپیل "زندہ رہے گی اور ختم نہیں ہوگی۔" اگر ایسا نہ کیا گیا تو اس خاص قانون کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا جو کہ ناجائز قبضہ کے خلاف مالک کو تحفظ دینے کے لیے بنایا گیا ہے۔

عدالت کا حتمی حکم:
سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کا حکم 21.03.2022 جزوی طور پر کالعدم قرار دے دیا۔ قرار دیا کہ سزا بڑھانے کی اپیل تو ختم ہوگئی لیکن قبضہ واپسی کی حد تک کیس دوبارہ زندہ کیا جاتا ہے۔ کیس کو ہائیکورٹ کو واپس بھیج دیا گیا کہ وہ فوت شدہ مجرم کے قانونی ورثاء کو سن کر صرف قبضہ واپسی کے نکتے پر میرٹ پر فیصلہ کرے۔

یہ فیصلہ ہر اس شخص اور وکیل کے لیے انتہائی اہم ہے جو ناجائز قبضہ کے کیسز میں کام کرتا ہے۔

مزید قانونی اپڈیٹس، نئے قوانین اور اہم عدالتی فیصلوں کے لیے ہمارے پیج کو فالو کریں۔
Follow for more Updates

Photos from Legal Aim's post 19/09/2026

سپریم کورٹ کا انتہائی اہم فیصلہ برائے ثالثی قانون
PLD 2026 Supreme Court 217

Zhongzing Telecom Pakistan (Pvt) Ltd بنام Imperial Electric Company (Pvt) Ltd
CPLA No. 197 of 2025 - فیصلہ 13 نومبر 2025
بنچ: جسٹس شکیل احمد اور جسٹس عامر فاروق

اس کیس میں سپریم کورٹ نے ثالثی ایوارڈ کو عدالت میں دائر کرنے کی معیاد کے حوالے سے ایک بہت بڑی قانونی الجھن کو ختم کر دیا۔

پس منظر:
پٹیشنر اور رسپانڈنٹ کے درمیان PTCL سائٹس پر DG سیٹس کی سپلائی کا معاہدہ ہوا۔ معاہدے میں ثالثی کی شق تھی کہ CEO PTCL ثالث ہوگا۔ ثالث نے رسپانڈنٹ کے حق میں 3 کروڑ 35 لاکھ روپے کا ایوارڈ دیا۔ یہ ایوارڈ پہلے سول عدالت میں دائر ہوا مگر مالی اختیار سماعت نہ ہونے کی وجہ سے واپس ہوا، بعد میں ثالث نے خود ہی ڈسٹرکٹ جج کے سامنے دائر کر دیا۔ پٹیشنر نے اعتراض لگایا کہ ایوارڈ قانون معیاد آرٹیکل 178 کے تحت وقت گزرنے کے بعد دائر ہوا ہے۔

عدالت کے سامنے سوال تھا:
کیا ایوارڈ کی فائلنگ پر قانون معیاد 1908 کا آرٹیکل 178 لگے گا یا آرٹیکل 181؟ اور کیا یہ فرق پڑتا ہے کہ ایوارڈ فریق نے دائر کیا ہے یا ثالث نے خود دائر کیا ہے؟

سپریم کورٹ نے قرار دیا:

1۔ آرٹیکل 178 کب لگے گا؟
- آرٹیکل 178 ثالثی ایکٹ 1940 کی دفعہ 14(1) کے تحت ہے۔
- اس کے لیے لازمی شرط ہے کہ ثالث کی طرف سے فریق کو ایوارڈ بننے کا نوٹس دیا گیا ہو۔
- نوٹس ملنے کے بعد فریق کے پاس 90 دن ہوتے ہیں کہ وہ عدالت سے رجوع کرے کہ ایوارڈ کو رول آف کورٹ بنایا جائے۔
- نوٹس کا ملنا _sine qua non_ ہے، نوٹس کے بغیر آرٹیکل 178 لگ ہی نہیں سکتا۔

2۔ آرٹیکل 181 کب لگے گا؟
- اگر ثالث نے نوٹس نہیں دیا اور فریق صرف ثالث سے درخواست کرتا ہے کہ وہ دفعہ 14(2) کے تحت ایوارڈ عدالت میں جمع کرائے، تو وہاں *آرٹیکل 181* لگے گا۔
- آرٹیکل 181 کے تحت معیاد "3 سال "ہے، جو اس دن سے شروع ہوتی ہے جب ایوارڈ بنا اور فریق کو اس کا علم ہوا۔

3۔ اگر ثالث خود ایوارڈ دائر کر دے تو؟
- اگر ثالث خود اپنی مرضی سے بغیر کسی عدالتی حکم کے ایوارڈ عدالت میں دائر کر دے تو وہ اپنے کسی ذاتی فائدے کے لیے درخواست نہیں کر رہا، اس لیے اس پر آرٹیکل 178 بالکل لاگو نہیں ہوتا۔

موجودہ کیس میں فیصلہ:
اس کیس میں رسپانڈنٹ نے کبھی بھی دفعہ 14(2) کے تحت عدالت میں درخواست ہی نہیں دی تھی، بلکہ ثالث نے خود 01.09.2022 کو ڈسٹرکٹ جج کے پاس ایوارڈ دائر کر دیا تھا۔ اس لیے آرٹیکل 178 کی شرائط پوری نہیں ہوتیں اور اس کو غلط طور پر استعمال کیا گیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ درست تھا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ہائیکورٹ کا فیصلہ قانون کے مطابق ہے، اس میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں۔

نتیجہ: چھٹی کی درخواست خارج، پٹیشن خارج۔

یہ فیصلہ ثالثی کے تمام وکلاء اور کمپنیوں کے لیے نہایت اہم ہے، کیونکہ اکثر ایوارڈ کی فائلنگ میں معیاد کا اعتراض اٹھایا جاتا ہے۔
Follow For More Updates

Photos from Legal Aim's post 19/09/2026

لاہور ہائیکورٹ کا اہم ترین فیصلہ
PLD 2026 Lahore 580

محمد خالد وسیم بنام حکومت پنجاب
رٹ پٹیشن نمبر 72110 آف 2024
جناب جسٹس محمد امجد رفیق نے 14 جنوری 2025 کو فیصلہ سنایا

معز لاہور ہائیکورٹ نے کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ 1925 کے تحت جرائم سے متعلق ایک بہت بڑی قانونی کنفیوژن کو ختم کر دیا ہے۔

عدالت کے سامنے اہم نکات:

1۔ "جرمانہ (Penalty)" اور "سزا (Punishable)" میں فرق
- دفعہ 60(a) سے (h) تک کے جرائم صرف *جرمانہ* کے قابل ہیں، اور جرمانہ لگانے کا اختیار *رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز* کے پاس ہے۔
- دفعہ 60(i)، 62 اور 62A کے تحت جرائم *قابل سزا* ہیں اور ان کی سزا دینے کا اختیار صرف *عدالت* کے پاس ہے۔

2۔ مقدمہ چلے گا کہاں؟ اور اینٹی کرپشن کا کردار کیا ہے؟
- کوآپریٹو ایکٹ کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا 5 سال ہے، اس لیے ضابطہ فوجداری کی دوسری فہرست (Second Schedule) کے تحت یہ مقدمات "مجسٹریٹ فرسٹ کلاس" کے ٹرائل کے قابل ہیں۔
- رجسٹرار کو چاہیے تھا کہ وہ متعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے شکایت درج کرتا۔
- رجسٹرار کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کیس کو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو بھجوا دے تاکہ بالواسطہ طور پر اسپیشل جج اینٹی کرپشن کو منتقل ہو جائے۔

3۔ اینٹی کرپشن کو کوئی اختیار نہیں
عدالت نے قرار دیا کہ:
- اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو رجسٹرار کے ریفرنس پر کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ کے تحت *تفتیش / انکوائری کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔
- اگر مینجمنٹ کمیٹی کے ممبران کا کوئی عمل تعزیرات پاکستان یا کسی دوسرے قانون کے تحت جرم بنتا ہے اور وہ پاکستان کرمنل لاء (ترمیمی) ایکٹ 1958 کے شیڈول میں شامل ہے تو متاثرہ شخص "براہ راست اسپیشل جج "کے سامنے درخواست دائر کر سکتا ہے۔ پھر اسپیشل جج دفعہ 5(6) کے تحت متعلقہ پولیس افسر کو تفتیش کا حکم دے سکتا ہے۔

عدالت کا حتمی فیصلہ:
رجسٹرار کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن کو بھیجا گیا ریفرنس نمبر RCS/H/ACE/2023/1601 خارج کر دیا گیا۔ اور رجسٹرار کو حکم دیا گیا کہ وہ احتساب عدالت کے حکم کے مطابق قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائے۔

یہ فیصلہ کوآپریٹو سوسائٹیز، نیب اور اینٹی کرپشن کے مقدمات کرنے والے تمام وکلاء کے لیے انتہائی اہم ہے۔

Photos from Legal Aim's post 18/09/2026

⚖️ ضمانت کا اہم قانون | قانونی ضمانت بوجہ تاخیر دفعہ 497 ضابطہ فوجداری*

حوالہ: 2017 M L D 1376
صفت اللہ بنام سرکار - پشاور ہائیکورٹ
جج: سید افسر شاہ صاحب
فیصلہ: 11 اپریل 2017

عدالت نے اصول واضح کر دیے:

1. تیسری شرط (Third Proviso) دفعہ 497 کی تشریح:

الف) اگر کسی ملزم پر ایسا جرم ہے جس کی سزا موت نہیں، اور وہ *ایک سال (1 Year)* سے مسلسل جیل میں ہے اور ٹرائل ختم نہیں ہوا، تو عدالت *پابند ہے* کہ اسے ضمانت پر رہا کرے۔

ب) اگر جرم کی سزا موت ہے، اور ملزم دو سال (2 Years)* سے مسلسل جیل میں ہے اور ٹرائل ختم نہیں ہوا، تو بھی عدالت پابند ہے کہ اسے ضمانت دے، بشرطیکہ ٹرائل میں تاخیر ملزم کی وجہ سے نہ ہوئی ہو۔

2. چوتھی شرط (Fourth Proviso):
یہ قانونی حق ان ملزمان کو نہیں ملے گا جو:
- پہلے سے سزا یافتہ ہو
- عادی، سخت، خطرناک مجرم ہو
- دہشت گردی میں ملوث ہو

اس کیس کے حقائق:
- 25 کلو چرس، 5 کلو ہیروئن، اور 5 کلو 200 گرام افیون گاڑی کے خفیہ خانوں سے برآمد ہوئی۔
- ایک ملزم جو 09.03.2015 سے جیل میں تھا، اس کا ٹرائل 2 سال تک مکمل نہ ہوا اور تاخیر اس کی وجہ سے نہیں تھی، اس لیے عدالت نے اسے قانونی ضمانت پر رہا کر دیا۔
- باقی دو ملزمان کی 2 سال کی مدت پوری نہیں ہوئی تھی، اس لیے ان کی درخواستیں قبل از وقت ہونے کی وجہ سے خارج کر دی گئیں۔

اہم نکتہ: دفعہ 51 CNSA کی رکاوٹ کے باوجود بھی قانونی ضمانت (Statutory Bail) دی جا سکتی ہے۔ یہ ملزم کا قانونی حق ہے، عدالت کی صوابدید نہیں۔

حوالہ جات: Gul Zaman کیس 1999 SCMR 1271

#ضمانت #وکلاء

📌 مزید روزانہ کیس لاء، ضمانت کے اصولوں اور قانونی اپڈیٹس کے لیے ہمارا پیج فالو کریں۔

👉 Follow For More Updates

Photos from Legal Aim's post 18/09/2026

جعلی / بوگس چیک دینا خاندان کا معاشی قتل ہے - ضمانت خارج
اہم قانونی حوالہ: 2017 MLD 1383

عدالت: چیف کورٹ گلگت بلتستان
فریقین: محمد الیاس بنام سرکار
*زیر دفعہ:* 489-F / 420 ت پ، 497 ض ف

1. مقدمہ کے حقائق (Facts of the Case):
مدعی نے الزام لگایا کہ ملزم محمد الیاس نے اس سے رقم ادھار لی اور واپسی کے لیے مبلغ "3,50,000 روپے" کا چیک دیا۔ جب مدعی نے چیک بینک میں جمع کروایا تو بینک نے یہ کہہ کر چیک ڈس آنر کر دیا کہ اکاؤنٹ میں رقم موجود نہیں ہے (Insufficient Funds)۔ جس پر ملزم کے خلاف تھانہ میں بجرم 489-F اور 420 ت پ درج کیا گیا۔

2. ملزم کے وکیل کے دلائل:
الف) یہ لین دین کا سول نوعیت کا معاملہ ہے جس کو فوجداری رنگ دیا گیا ہے۔
ب) دفعہ 489-F ممنوعہ کلاز (Prohibitory Clause) میں نہیں آتی، اس لیے ضمانت دینا اصول ہے اور انکار کرنا استثناء ہے۔
ج) ملزم کا مزید تفتیش کے لیے ضرورت نہیں، چالان جمع ہو چکا ہے۔

3. استغاثہ / سرکار کا موقف:
ملزم نے بددیانتی سے بوگس چیک جاری کیا ہے، یہ فراڈ ہے، اس لیے ضمانت کا حقدار نہیں۔

4. لفظ "بددیانتی" (Dishonesty) کی قانونی تعریف:
عدالت نے دفعہ *24 تعزیرات پاکستان* کا حوالہ دیا:
"جو کوئی بھی کسی شخص کو ناجائز فائدہ پہنچانے یا کسی دوسرے شخص کو ناجائز نقصان پہنچانے کی نیت سے کوئی کام کرتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ وہ کام بددیانتی سے کرتا ہے۔"
چیک جاری کرتے وقت رقم کا بندوبست نہ کرنا بددیانتی کو ظاہر کرتا ہے۔

5. عدالت کے انتہائی اہم ریمارکس (Most Important Observations):

1. مدعی کے پاس رقم واپسی کے لیے دیوانی عدالت میں دعویٰ دائر کرنے کا حق موجود ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ فوجداری کاروائی بھی بیک وقت چلائی جا سکتی ہے۔ دونوں کاروائیاں ایک ساتھ چل سکتی ہیں۔ اس نکتہ پر عدالت نے *1981 SCMR 37* پر انحصار کیا۔
2. بوگس چیک جاری کرنے کا رجحان دن بدن بڑھ رہا ہے اور اس طریقے سے معصوم لوگوں کو دھوکہ دے کر ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم کیا جا رہا ہے۔
3. عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ "بوگس چیک جاری کرنا ایک خاندان کا مالی / معاشی قتل (Financial Murder of a family) ہے اور اس جرم سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔"

6. حتمی فیصلہ:
مندرجہ بالا وجوہات کی بنا پر عدالت نے ملزم کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست خارج کر دی۔

اگر آپ کو چیک ڈس آنر کا سامنا ہے تو فوری قانونی کاروائی کریں اور اس طرح کی معلومات جاننے اور اپڈیٹ رہنے کے لئے ہمارے پیج کو فالو کریں ۔

Photos from Legal Aim's post 17/09/2026

📜 سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ | قتل سے اقدامِ قتل میں تبدیلی
2026 SCMR 1223 |
فیصلہ: 24 ستمبر 2025
بنچ: جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس ملک شہزاد احمد خان
خلاف فیصلہ: ہائی کورٹ بلوچستان، سبی بنچ کا فیصلہ مورخہ 28.02.2018 (Crl. Jail Appeal No. 08 of 2016)

⚖️ 1. مقدمے کا مکمل پس منظر:

1. FIR نمبر 39/2015 مورخہ 17.09.2015 تھانہ خان کوٹ، ضلع نصیر آباد۔
2. وقت و مقام: 17.09.2015 صبح 7 بجے، مدعی کے گھر میں۔ FIR اسی دن 9 بجے یعنی 2 گھنٹے میں درج۔ تھانے سے فاصلہ 7/8 کلومیٹر، لہٰذا FIR بروقت تھی۔
3. الزام: مدعی رشید علی (PW-1) اپنے بھائی نوبت خان (بعد میں فوت) اور چچا عبدالعزیز (PW-2) کے ساتھ چائے پی رہا تھا کہ پدری کزن "رسول بخش"ٹی ٹی پستول سمیت آیا، للکارا کہ نوبت کو زندہ نہیں چھوڑوں گا اور فائرنگ کر دی۔
4. زخم: نوبت خان کو 3 فائر لگے (گردن کی دائیں جانب، سینے کی دائیں جانب، دائیں بازو)۔
5. محرک: 2/3 دن پہلے گھریلو معاملے پر جھگڑا۔ لیکن نہ تاریخ، نہ وقت، نہ جگہ کا ذکر ریکارڈ پر لایا گیا۔
6. ٹرائل کورٹ: سیشن جج نصیر آباد نے 29.03.2016 کو دفعہ" 302(b) ت پ کے تحت عمر قید "اور 2 لاکھ معاوضہ بطور 544-A ض ف، عدم ادائیگی پر 6 ماہ مزید قید کا حکم دیا۔ دفعہ 382-B کا فائدہ بھی دیا۔
7. ہائی کورٹ: بلوچستان ہائی کورٹ سبی بنچ نے 28.02.2018 کو سزا برقرار رکھی۔

⚖️ 2. سپریم کورٹ کا نکتہ وار تجزیہ:

A. چشم دید گواہان فطری اور قابل اعتماد تھے:
- رشید علی (PW-1)* خود مدعی اور جائے وقوعہ یعنی اپنے ہی گھر کا رہائشی تھا، اس لیے *فطری چشم دید گواہ تھا۔
- عبداللہ عزیز (PW-2) مدعی کا حقیقی چچا اور اسی گاؤں کھوٹ شاہ نواز خان عمرانی کا رہائشی تھا۔ اپنے بھائی کے گھر اس کا موجود ہونا غیر فطری یا ناممکن نہیں۔
- عبدالعزیز ملزم کا بھی پدری چچا ہے، ریکارڈ پر کوئی عناد یا جھوٹا ملوث کرنے کا ثبوت نہیں۔
- دونوں پر لمبی جرح ہوئی مگر بیان نہ ٹوٹا۔ عدالت نے کہا ان کی شہادت قابل اعتماد اور اطمینان بخش ہے۔

B. طبی شہادت سے تائید:
ڈاکٹر اعجاز علی (PW-5) نے 17.09.2015 کو زخمی نوبت خان کا طبی معائنہ کیا اور 3 آتشیں اسلحہ کے زخموں کی تصدیق کی۔ اس سے فائرنگ والا حصہ ثابت ہوتا ہے۔

C. آلہ قتل کی برآمدگی سے مزید تائید:
ملزم کی نشاندہی پر "ٹی ٹی پستول برآمد" ہوا اور فرانزک سائنس لیبارٹری کوئٹہ کی مثبت رپورٹ (Ex.P/6-G)* آئی۔ برآمدگی گواہ عبداللہ کانسٹیبل نمبر 1045 (PW-3) پر بھی لمبی جرح ہوئی مگر ملزم کے حق میں کچھ نہ نکلا۔

*D. محرک ثابت نہ ہوا لیکن مہلک نہیں:
عدالت نے پیرا 8 میں قرار دیا کہ محرک کی کوئی تفصیل، تاریخ، وقت، جگہ ریکارڈ پر نہیں۔ اس لیے محرک ثابت نہیں۔ لیکن اگر محرک کو نکال بھی دیا جائے تو باقی ٹھوس شہادت سے جرم ثابت ہوتا ہے۔

E. سب سے اہم نکتہ - موت کا ثبوت ہی موجود نہیں - پیرا 10:

یہ وہ نکتہ ہے جس پر سارا کیس تبدیل ہوا۔

1. مدعی نے کہا کہ نوبت خان 21.09.2015 کو دوسرے ہسپتال میں فوت ہوا، لیکن کوئی پوسٹ مارٹم رپورٹ نہیں، کوئی ڈیتھ سرٹیفکیٹ ریکارڈ پر نہیں۔
2. جس ڈاکٹر نے زخمی کا معائنہ کیا اس نے اسے دوسرے ہسپتال ریفر کر دیا۔ بعد میں صرف مدعی کی زبانی اطلاع پر کہا کہ وہ فوت ہو گیا۔
3. ڈاکٹر نے جرح میں مانا کہ میت اس کے سامنے پیش نہیں کی گئی۔
4. عدالت نے کہا ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ نوبت خان 21.09.2015 کو فوت ہوا، اور وہ انہی زخموں سے فوت ہوا یا روڈ ایکسیڈنٹ، ہارٹ اٹیک یا کسی اور وجہ سے کسی اور تاریخ کو فوت ہوا۔

F. قانونِ شہادت آرٹیکل 129(g) کے تحت منفی تاثر (Adverse Inference):

G. قیاس آرائی ثبوت کا نعم البدل نہیں - پیرا 10 اور 11:
عدالت نے دو سنہری اصول دہرائے:

> "Presumptions or probabilities, howsoever strong, can not be a substitute of conclusive proof"
> چاہے کتنا ہی مضبوط امکان ہو، وہ ٹھوس ثبوت کا نعم البدل نہیں۔ فوجداری مقدمے میں ثبوت حتمی ہونا چاہیے۔

- Naveed Asghar vs State PLD 2021 SC 600 Para 33: جرم کا فیصلہ محض زیادہ امکان پر نہیں، بلکہ ٹھوس شواہد اور اس سے نکلنے والے لازمی نتائج پر ہونا چاہیے۔ محض قیاس کافی نہیں۔
- Ghulam Qadir vs State 2008 SCMR 1221 Para 16: شک کا فائدہ دینے کے لیے ایک سے زیادہ خامی ضروری نہیں۔ ایک ہی معقول شک پورے کیس کو مشکوک بنا دیتا ہے۔ ملزم پر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا بوجھ نہیں۔ جرم کا فیصلہ محض زیادہ امکان پر نہیں ہو سکتا۔
- Abdul Mateen vs Sahib Khan PLD 2006 SC 538
- *Muhammad Luqman vs State PLD 1970 SC 10

نتیجہ: محض اس اندازے پر کہ چونکہ زخم ملزم نے لگائے تھے اس لیے موت بھی انہی زخموں سے ہوئی ہو گی، 302(b) کی سزا نہیں دی جا سکتی۔

⚖️ 3. حتمی حکم - پیرا 11, 12 اور 1234:

عدالت نے قرار دیا:

> "استغاثہ دفعہ 302(b) ت پ یعنی قتل عمد کا جرم شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے، لیکن یہ شک سے بالاتر ثابت ہے کہ ملزم نے مقتول کے جسم کے اہم حصوں پر فائر کر کے شدید زخمی کیا۔"

لہٰذا
1. پٹیشن کو اپیل میں تبدیل کر کے جزوی طور پر منظور کیا جاتا ہے۔
2. دفعہ 302(b) کی سزا کالعدم ـ
3. ملزم کو دفعہ 324 ت پ کے تحت 10 سال قید بامشقت اور 50,000 روپے جرمانہ، عدم ادائیگی پر 6 ماہ مزید قید سادہ۔
4. دفعہ 337L(i) ت پ کے تحت 7 سال قید بامشقت اور مقتول کے ورثاء کو 1,00,000 روپے دمان ـ عدم ادائیگی پر دفعہ 337Y(2) ت پ کے تحت کاروائی۔
5. ٹرائل کورٹ کا دفعہ 544-A ض ف کے تحت معاوضے کا حکم برقرار۔
6. دفعہ 382-B ض ف کا فائدہ یعنی پہلے سے گزاری ہوئی مدت شمار ہو گی۔

Order Accordingly.
💡 وکلا اور عوام کے لیے 3 اہم سبق:
1. پوسٹ مارٹم نہ لانا مہلک:
قتل کے مقدمے میں اگر ڈاکٹر پیش نہ ہو، پوسٹ مارٹم اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ ریکارڈ پر نہ لایا جائے تو آرٹیکل 129(g) کے تحت کیس 302 سے 324 پر آ جائے گا۔
2. رشتہ دار گواہ ناقابل اعتبار نہیں:
اگر وقوعہ گھر میں ہو تو گھر کے افراد فطری گواہ ہوتے ہیں۔ محض رشتہ داری کی بنیاد پر ان کی گواہی رد نہیں ہوتی۔
3. برآمدگی کی اہمیت:
چشم دید + میڈیکل + آلہ قتل کی برآمدگی + مثبت FSL = اقدامِ قتل (324) پکا ثابت، چاہے محرک ثابت نہ بھی ہو۔

Note: Follow for more Updates
ہم آپ کو روزانہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے اہم فیصلے آسان اردو میں فراہم کرتے ہیں۔ ہمارے پیج کو فالو کریں تاکہ کوئی قانونی اپڈیٹ مس نہ ہو۔

Website

Address

District Courts Multan
Multan

Opening Hours

Monday 08:00 - 21:00
Tuesday 08:00 - 21:00
Wednesday 08:00 - 21:00
Thursday 08:00 - 21:00
Friday 08:00 - 21:00
Saturday 08:00 - 21:00