Hamara Quetta
BNN
15/07/2026
"زیارت کا دھرنا اب لواحقین کا نہیں، سیاست کا دھرنا بن چکا ہے"
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان کے ترجمان نور محمد دومٹر نے کہا ہے کہ زیارت واقعے پر جاری دھرنا اپنے اصل مقصد سے ہٹ چکا ہے اور اب یہ متاثرہ خاندانوں کے بجائے سیاسی مفادات کا پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لواحقین پس منظر میں چلے گئے ہیں جبکہ مختلف سیاسی عناصر دھرنے کو اپنے بیانیے اور سیاست چمکانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
نور محمد دومٹر نے کہا کہ حکومت واقعے کی شفاف، غیرجانبدار اور مکمل تحقیقات کر رہی ہے۔ اگر تحقیقات میں کسی بھی ادارے کا کوئی اہلکار، چاہے اس کا تعلق ایف سی، پولیس یا کسی اور سرکاری ادارے سے ہو، غفلت یا ملوث ہونے کا ذمہ دار ثابت ہوا تو اس کے خلاف بلاامتیاز اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس سانحے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ بنانے کے لیے استعمال کرنے کے بجائے توجہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلانے پر ہونی چاہیے۔ حکومت کی اولین ترجیح شہداء کے لواحقین کو انصاف فراہم کرنا، حقائق سامنے لانا اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہے۔
05/07/2026
ہنہ اوڑک میں حملہ: شہری اپنی مدد آپ کے تحت مزاحمت پر مجبور، پانچ زخمی ہسپتال منتقل، سینیٹر منظور کاکڑ نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا
مانیٹرینگ ڈیسک
کوئٹہ: کوئٹہ کے کے علاقے ہنہ اوڑک میں اتوار کی شام سے جاری مسلح حملے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی برقرار ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ مسلح افراد نے علاقے میں حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں، جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ زخمیوں کی حالت کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد علاقے کے شہری اپنی مدد آپ کے تحت دفاع پر مجبور ہیں اور مقامی لوگ مسلح افراد کا مقابلہ کر رہے ہیں، جبکہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مؤثر موجودگی نہ ہونے کے برابر بتائی جا رہی ہے۔
مقامی افراد کے مطابق یہ جھڑپیں اتوار کی شام سے مسلسل جاری ہیں اور کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود صورتحال مکمل طور پر قابو میں نہیں آ سکی۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ حملے کے فوراً بعد متعلقہ حکام کو اطلاع دی گئی، تاہم بروقت کارروائی نہ ہونے کے باعث شہریوں کو خود ہی اپنے علاقوں کی حفاظت کرنا پڑ رہی ہے۔
ان کے مطابق خوف و ہراس کی فضا برقرار ہے اور خواتین، بچے اور بزرگ شدید اضطراب کا شکار ہیں۔
دوسری جانب سینیٹر منظور کاکڑ نے واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے حکومت کی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا: "ہنہ اوڑک میں کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کا حملہ، پانچ افراد زخمی، حکومت غائب، عوام دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔"
سینیٹر منظور کاکڑ نے مزید کہا کہ اگر شہریوں کو اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے خود ہی ہتھیار اٹھانا پڑیں تو یہ ریاستی رٹ اور امن و امان کی صورتحال پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ متاثرہ علاقے میں فوری طور پر سکیورٹی فورسز تعینات کریں، زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کریں اور حملے میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کریں۔
واضح رہے کہ واقعے سے متعلق سرکاری حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ حملے کی نوعیت، حملہ آوروں کی تعداد اور نقصانات کی مکمل تفصیلات بھی سرکاری طور پر سامنے نہیں آئی ہیں۔
اس لیے بعض معلومات مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کے بیانات پر مبنی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔
04/07/2026
کوئٹہ: ہاشم نورزئی قتل کیس میں پولیس نے مقتول کے قریبی دوست کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم نہ صرف مقتول کا قریبی ساتھی تھا بلکہ قتل کے بعد تعزیت اور فاتحہ خوانی میں بھی شریک ہوتا رہا۔
اس پیش رفت کے بعد سوشل میڈیا پر حکومت اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف گردش کرنے والے غیر مصدقہ دعوؤں پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ حساس نوعیت کے مقدمات میں تفتیش مکمل ہونے سے پہلے غیر مصدقہ معلومات یا الزامات پھیلانے سے گریز کرنا چاہیے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور تمام حقائق قانون کے مطابق سامنے لائے جائیں گے۔
ملک پائند خان کلی میں جرگہ، ٹی ٹی پی کے خلاف لشکر کشی کا اعلان
رپورٹ: ہمارا کوئٹہ
کوئٹہ: ملک پائند خان کلی میں ایک بڑے عوامی جرگے کا انعقاد کیا گیا جس میں قبائلی عمائدین، مشران اور مقامی افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جرگے کی صدارت ملک پائند خان نے کی، جبکہ شرکاء نے پاکستان تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کے خلاف متفقہ طور پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے لشکر کشی کا اعلان کیا۔
جرگے سے خطاب کرتے ہوئے ملک پائند خان نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ریاست پاکستان اور پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ٹی ٹی پی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔
ملک پائند خان نے اپنے خطاب میں سلمان بازئی کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے شدید دکھ اور غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ “ہمارے نوجوان سلمان بازئی کو قتل کیا گیا، مگر اس کے بعد بھی ظلم ختم نہیں ہوا۔ آج 28 دن گزر چکے ہیں، اس کی لاش اب بھی پہاڑوں میں پڑی ہے۔ نہ اسے کفن دیا گیا، نہ دفنانے کی اجازت دی گئی۔ ہمیں اپنے ہی بیٹے کو سپردِ خاک کرنے کا حق بھی نہیں دیا گیا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں نے مقامی آبادی کو اپنی ہی سرزمین پر جینا دوبھر کر دیا ہے۔ “ہمارے گھر تباہ کیے گئے، ہمیں اپنے علاقوں سے ہجرت پر مجبور کیا گیا، ہمارے خاندان دربدر ہوئے۔ جب آپ نے ہمیں اپنی زمین پر سکون سے رہنے نہیں دیا تو اب ہم بھی آپ کو سکون سے نہیں رہنے دیں گے۔”
جرگے میں شریک قبائلی مشران اور عوام نے ملک پائند خان کے مؤقف کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کے خلاف متحد ہونے کا اعلان کیا۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف اجتماعی مزاحمت کی جائے گی اور علاقے میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔
جرگے کے اختتام پر شرکاء نے متفقہ طور پر دہشت گردی کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے اور ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
Category
Telephone
Website
Address
Quetta
87300
Alerts
Be the first to know and let us send you an email when Hamara Quetta posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.