Farrukh Nawaz Farrukh

Farrukh Nawaz Farrukh

Share

محبت فاتح عالم

08/10/2026

نانا پاٹیکر: مکالمہ جب کردار بن جائے

تحریر: فرّخ نوازفرّخؔ

دنیا میں فلم کی جتنی بھی صنعتیں ہیں، ان میں بالی وڈ کا اپنا ایک نام، اپنا ایک مقام اور اپنی ایک الگ شناخت ہے۔ ہندی سنیما نے ہمیں بے شمار بڑے اور یادگار اداکار دیے، مگر کچھ فن کار ایسے ہوتے ہیں جنہیں صرف ’’بڑا اداکار‘‘ کہنا ان کے فن کے ساتھ ناانصافی محسوس ہوتا ہے۔ وہ اپنے کردار خود بناتے ہیں، اپنا لہجہ خود تراشتے ہیں اور اس انداز سے پردے پر اترتے ہیں کہ پھر ان کی نقل ممکن نہیں رہتی۔

نانا پاٹیکر بھی انہی اداکاروں میں سے ایک تھے۔

ان کی آواز، مکالمہ ادا کرنے کا انداز، چہرے کے تاثرات، لفظوں کے درمیان ٹھہراؤ اور اچانک بلند ہوتی ہوئی آواز، سب کچھ ایسا تھا کہ چند جملے سن کر ہی معلوم ہو جاتا تھا کہ سامنے نانا پاٹیکر ہیں۔ انہیں کسی بھی کردار میں دیکھ لیجیے، یہ احساس نہیں ہوتا تھا کہ یہاں کسی دوسرے اداکار کی جھلک موجود ہے۔ نانا اپنے کردار کو ادا نہیں کرتے تھے، اسے اپنے اندر اتار لیتے تھے۔

مجھے یاد ہے، بچپن میں کبھی راہ چلتے کسی گاڑی سے ایک مکالمہ سنائی دیا تھا:

’’سالا، ایک مچھر آدمی کو ہجڑا بنا دیتا ہے۔‘‘

اس وقت شاید معلوم بھی نہیں تھا کہ یہ آواز کس اداکار کی ہے، مگر وہ جملہ ذہن میں رہ گیا۔ بعد میں جب فلمیں دیکھنے کا شعور آیا تو معلوم ہوا کہ یہ یشونت کا نانا پاٹیکر تھا۔

پھر ترنگا میں ان کا انداز،

’’اپنا تو اصول ہے، پہلے لات، پھر بات، اُس کے بعد ملاقات‘‘،

اور کرانتی ویر میں ان کا وہ بے باک اور بے خوف لہجہ۔

لیکن اگر نانا پاٹیکر کے فن کی ایک ایسی تصویر منتخب کرنی ہو جس میں ان کی پوری اداکاری سمٹ آئے تو میرے ذہن میں صرف ایک منظر آتا ہے۔

کرانتی ویر۔

پھانسی کا پھندا سامنے ہے، موت چند قدم کے فاصلے پر کھڑی ہے، مجمع موت کا تماشا دیکھنے آیا ہے، اور نانا پاٹیکر کا کردار اس مجمع کی طرف دیکھ کر کہتا ہے:

’’آ گئے میری موت کا تماشا دیکھنے؟‘‘

بس پھر وہ منظر نہیں رہتا، ایک کیفیت بن جاتا ہے۔

اس مکالمے کو شروع سے آخر تک سنتے ہوئے ایک عجیب سی گرفت محسوس ہوتی ہے۔ آواز میں غصہ بھی ہے، طنز بھی، درد بھی اور سوال بھی۔ اور پھر وہ سوال جو صرف فلم کے کردار سے نہیں، پورے معاشرے سے ہے۔

’’یہ مسلمان کا خون ہے، یہ ہندو کا خون… بتا، اس میں مسلمان کا کون سا ہے اور ہندو کا کون سا؟‘‘

یہی نانا تھے۔ وہ مکالمہ بولتے نہیں تھے، مکالمے کو ایک کیفیت میں تبدیل کر دیتے تھے۔

اور پھر وجود کا وہ نانا، جو ایک بالکل مختلف رنگ میں سامنے آتا ہے۔ محبت میں گرفتار، بے قرار اور اپنی کیفیت کو لفظوں میں ڈھونڈتا ہوا:

’’کیسے بتاؤں میں تمہیں، میرے لیے تم کون ہو…

جاؤں کہیں، دیکھوں کہیں، تم ہو وہاں، تم ہو وہیں…‘‘

یہ وہی اداکار تھا جو چند لمحے پہلے پردے پر غصے کا طوفان بن سکتا تھا اور پھر محبت کی ایک نظم کو ایسی آواز دے سکتا تھا کہ سننے والا خود اس کیفیت میں اتر جائے۔

شاید یہی کسی بڑے فن کار کی اصل پہچان ہے۔ وہ صرف ایک طرح کے کردار کا آدمی نہیں ہوتا۔ وہ غصہ بھی بن سکتا ہے، درد بھی، محبت بھی، جنون بھی اور خاموشی بھی۔

نانا پاٹیکر اب پردۂ سیمیں پر نیا کردار ادا کرنے کے لیے موجود نہیں۔ آج وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ مگر کچھ لوگ دنیا سے جاتے ہیں، اپنی آواز سے نہیں جاتے۔

ان کے مکالمے رہ جاتے ہیں، کردار رہ جاتے ہیں، آنکھوں کا وہ مخصوص انداز رہ جاتا ہے، آواز کا اتار چڑھاؤ رہ جاتا ہے اور سب سے بڑھ کر وہ یاد رہ جاتی ہے جو کسی ایک منظر، کسی ایک جملے یا کسی پرانی فلم کے اچانک سامنے آ جانے سے پھر زندہ ہو جاتی ہے۔

ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لیے نانا پاٹیکر صرف ایک اداکار نہیں تھے۔ وہ ہماری فلمی یادوں کا ایک حصہ تھے۔

بچپن میں سنی ہوئی ایک آواز سے لے کر یشونت، ترنگا، کرانتی ویر، وجود اور نہ جانے کتنے کرداروں تک، نانا نے اپنے لیے ایک ایسی جگہ بنائی جہاں شاید کسی دوسرے اداکار کا پہنچنا ممکن ہی نہیں۔

نانا پاٹیکر کا کوئی دوسرا نہیں تھا۔

اور شاید کوئی دوسرا ہوگا بھی نہیں۔

پردۂ سیمیں کا ایک منفرد فن کار رخصت ہوا۔

خراجِ تحسین، نانا پاٹیکر۔

آپ کا فن زندہ رہے گا۔

08/10/2026

السلام علیکم!

آپ میں سے بہت سے احباب میرے ادبی اور تخلیقی سفر سے پہلے ہی واقف ہیں۔ میری شاعری، نثر، افسانے، ادبی تحریریں، ڈراما تجزیے اور دیگر تخلیقی کام اب اس پیج پر باقاعدگی سے شیئر کیے جائیں گے۔

آپ سے گزارش ہے کہ میرے اس پیج کو Follow کر لیجیے، تاکہ آئندہ میری نئی تخلیقات اور تحریریں براہِ راست آپ تک پہنچتی رہیں۔

آپ کی محبت، توجہ اور رفاقت میرے لیے ہمیشہ باعثِ حوصلہ رہی ہے۔

خوش رہیے، آباد رہیے۔ 🌿

08/10/2026

آٹھ اکتوبر 2005ء اور ایک اَدھوری یاد
تحریر: فرّخ نوازفرّخؔ
“میری خودنوشت سے اقتباس”

نوٹ:- زلزلے کے وقت آپ کہاں تھے اور آپ نے کیا محسوس کیا؟؟؟
•••

آج آٹھ اکتوبر ہے۔ کیلنڈر پر ایک تاریخ، مگر میری یادوں میں یہ ایک ایسا دن ہے جس کے ساتھ زمین کے لرزنے، لوگوں کے سہم جانے، مسجدوں کے بھر جانے، رابطوں کے کٹ جانے اور ایک دوست کی ہمیشہ کے لیے گم ہو جانے کی کہانی جڑی ہوئی ہے۔

آٹھ اکتوبر 2005ء کو آنے والا زلزلہ محض ایک قدرتی آفت نہیں تھا۔ 7.6 شدت کے اس زلزلے نے پاکستان کے شمالی علاقوں، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں میں زندگی کا نقشہ بدل دیا۔ ہزاروں گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے، بستیاں اجڑ گئیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے اور ستر ہزار سے زیادہ انسان اس قیامت خیز حادثے کی نذر ہو گئے۔

لیکن میری آٹھ اکتوبر کی یاد کسی اخبار کی خبر یا اعداد و شمار سے شروع نہیں ہوتی۔ میری یاد ایک فلائنگ کوچ سے شروع ہوتی ہے۔

میں اس صبح صوابی سے بونیر جا رہا تھا۔ وقت تقریباً سوا آٹھ بجے کا تھا۔ مجھے عموماً گاڑی میں بیٹھتے ہی نیند آ جاتی ہے۔ بونیر کے ڈگر اور دیوانہ بابا کے مقام پر ان دنوں میری ایک سائٹ تھی۔ پاکٹل کا ٹاور اور ایک دوسری سائٹ، جہاں رافٹ فاؤنڈیشن کا کام ہونا تھا۔ کنسلٹنسی کو تقریباً ساڑھے دس بجے کا وقت دیا ہوا تھا، اس لیے مجھے کسی خاص جلدی کی بھی فکر نہیں تھی۔

گاڑی کے شیشے والی سائیڈ کے ساتھ بیٹھا تھا۔ آنکھ لگ گئی۔

پھر نہ جانے کس لمحے آنکھ کھلی۔

میں نے باہر دیکھا تو سکول کے بچے بھاگے جا رہے تھے۔ کچھ لوگ گھروں سے باہر نکل رہے تھے۔ چند دیواریں گری ہوئی نظر آئیں، مگر غنودگی کی حالت میں میری توجہ دیواروں سے زیادہ بچوں پر تھی۔ ایک لمحے کے لیے مجھے لگا شاید دوپہر کے ساڑھے بارہ یا ایک بجے کا وقت ہے اور سکول کی چھٹی ہو چکی ہے۔ میں گھبرا گیا کہ کہیں گاڑی میں اتنی دیر تک سو تو نہیں گیا۔

پھر گھڑی دیکھی۔

ابھی تو آٹھ بج کر کچھ ہی منٹ ہوئے تھے۔

گاڑی کے اندر ایک عجیب خاموشی تھی۔ سب لوگ سہمے ہوئے تھے۔ کوئی کچھ نہیں بول رہا تھا۔ مگر مجھے ابھی تک پوری طرح اندازہ نہیں تھا کہ ہوا کیا ہے۔

البیلا چوک پر گاڑی رکی۔ میں نیچے اترا۔ فلائنگ کوچ دو قدم آگے بڑھی ہی تھی کہ زمین نے ایک بار پھر زور سے کروٹ لی۔

اس بار مجھے سمجھ آ گیا۔

زلزلہ آیا تھا۔

لوگ گھروں اور دکانوں سے باہر نکل آئے۔ ہر طرف افراتفری تھی، مگر اس افراتفری میں ایک عجیب خاموشی بھی تھی۔ چند لمحوں تک سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا ہو رہا ہے۔ پھر دل نے فوراً مسجد کا رخ کیا۔

مجھے لگا، اس وقت دو نفل پڑھنے چاہییں۔ اللہ سے معافی مانگنی چاہیے۔ حالات کی بہتری کی دعا کرنی چاہیے۔

مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک اور ہی منظر تھا۔

جس مسجد میں شاید دو سو لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی، وہاں ایک ہزار سے زیادہ لوگ جمع تھے۔ وضو کی جگہوں پر رش تھا۔ صفوں میں بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی۔ کوئی دعا کر رہا تھا، کوئی ذکر میں مشغول تھا، کوئی حسبنا اللہ ونعم الوکیل پڑھ رہا تھا۔ ہر چہرے پر خوف تھا اور ہر زبان پر اللہ کا نام۔

باہر زمین ہل رہی تھی، اندر دل۔

رابطے تقریباً مکمل طور پر منقطع ہو چکے تھے۔ اس زمانے میں نہ آج کے اسمارٹ فون تھے، نہ انٹرنیٹ، نہ واٹس ایپ۔ میرے پاس ایک پرانا موبائل تھا،گاؤں میںاُس وقت موبائل ٹاؤر یا سگنل کا نام و نشان نہ تھا۔ البتہ نانی جان کے گھر پی ٹی سی ایل تھا۔ میں پی سی او(پبلک کال آفس) کی طرف گیا، مگر بجلی اور ٹیلی فون کا نظام بھی درہم برہم ہو چکا تھا۔

اب ذہن میں صرف ایک سوال تھا:

گھر والے کیسے ہوں گے؟

والد، والدہ، دونوں بہنیں۔

کہاں جاؤں؟ کس سے رابطہ کروں؟ کیا کروں؟ واپس گھر کیسے پہنچوں؟

ہر چند منٹ بعد زمین دوبارہ ہل جاتی۔ لوگ ایک دوسرے کو سہارا دے رہے تھے۔ کوئی گر جاتا تو دوسرا اسے اٹھاتا۔ کوئی خوف زدہ تھا تو کوئی اسے حوصلہ دیتا۔ صحت مند اور کمزور، جوان اور بوڑھے، سب ایک دوسرے کے قریب آ گئے تھے۔ اس وقت کسی کی حیثیت، کسی کا عہدہ، کسی کی دولت اہم نہیں تھی۔ سب صرف انسان تھے اور سب کو ایک دوسرے کی ضرورت تھی۔

وقت گزرتا گیا۔ گیارہ، بارہ اور پھر ایک بجے کے قریب حالات کچھ سنبھلنے لگے، مگر خوف ختم نہیں ہوا تھا۔

زلزلے کے اتنے جھٹکے آ چکے تھے کہ ذہن نے اپنے ہی خدشے پیدا کر لیے تھے۔

گاڑی میں بیٹھوں گا تو گاڑی الٹ جائے گی۔
زمین پر قدم رکھوں گا تو زمین پھٹ جائے گی۔
کسی کمرے میں داخل ہوں گا تو چھت گر پڑے گی۔

یہ خوف شاید زمین سے زیادہ ہمارے اندر ہل رہا تھا۔

کسی طرح ایک ڈاٹسن میں جگہ ملی۔ ڈرائیور نے لفٹ دی اور میں صوابی پہنچا۔ وہاں سے سیدھا گھر آیا۔

اللہ کا کرم تھا۔ گھر میں سب خیریت سے تھے۔

مگر اس رات جب بجلی بحال ہوئی اور ٹی وی پر تباہی کے مناظر سامنے آنا شروع ہوئے تو معلوم ہوا کہ جو کچھ میں نے چند گھنٹوں میں محسوس کیا تھا، وہ تو اس قیامت کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ تھا۔

ہری پور، مانسہرہ، بالاکوٹ اور دوسرے علاقوں کی تباہی دیکھ کر دل پھٹنے لگتا تھا۔ بستیاں ملبے میں بدل چکی تھیں، گھر ختم ہو چکے تھے، سکولوں کے بچے، خاندان، بوڑھے، جوان، سب اس سانحے کی زد میں آ گئے تھے۔
لیکن آٹھ اکتوبر میرے لیے صرف ایک قومی سانحہ نہیں۔

یہ سعد کی یاد بھی ہے۔

زلزلے سے چند روز پہلے، تقریباً تین اکتوبر کو، میں مانسہرہ سے واپس آیا تھا۔ میرے ساتھ ایک روم میٹ تھا، سعد۔ ہم ایک ہی پروجیکٹ پر کام کرتے تھے۔ کمپنی کا نام ٹیک کارپ ہولڈنگ تھا۔ میں سول انجینیئرنگ سے وابستہ کام دیکھتا تھا اور سعد الیکٹریکل انجینئر تھا۔ ٹیلی کمیونیکیشن سائٹ پر جنریٹر، ٹرانسفارمر اور بجلی سے متعلق معاملات اس کے ذمے تھے۔

میری ٹرانسفر کچھ دن کے لیے بونیر کی سائٹس پر ہو گئی تھی، جبکہ سعد مانسہرہ میں ہی رہ گیا تھا۔

پھر آٹھ اکتوبر آ گیا۔

زلزلے کے بعد سعد سے رابطہ کرنے کی بہت کوشش کی، مگر رابطہ نہ ہو سکا۔ جس ہوٹل میں ہمارا قیام تھا، وہاں بھی معلومات کرنے کی کوشش کی۔ اتنا معلوم ہوا کہ افراتفری میں کچھ لوگ وہاں سے نکل گئے تھے، کچھ وہیں رہ گئے تھے، اور ہوٹل کا ایک حصہ مکمل طور پر زمین بوس ہو گیا تھا۔

لیکن سعد کہاں تھا؟

آج تک معلوم نہیں ہو سکا۔

سعد پشاور کا رہنے والا تھا۔ دبلا پتلا، خوبصورت، ہلکے پھلکے مزاج کا ایک نوجوان۔ یہ اس کا پہلا پروجیکٹ تھا جس کے لیے وہ اتنے عرصے کے لیے گھر سے باہر نکلا تھا۔ وہ اکثر اپنی والدہ سے فون پر بات کرتا اور میرے بارے میں بتاتا کہ میرے ساتھ ایک دوست ہے، جس کا نام فرخؔ ہے، اور یہ پہلے بھی کئی پروجیکٹس پر کام کر چکا ہے۔

سعد کو باہر کا کھانا راس نہیں آتا تھا۔

ایک دن اس نے کہا کہ ہوٹل کا کھانا مجھ سے کھایا نہیں جاتا۔ ہم نے طے کیا کہ چکن بنائیں گے۔ چکن اور اُس کے ساتھ حروری لوازمات منگوائے۔ مجھے خود چکن بنانا نہیں آتا تھا۔ میں نے والدہ کو فون کیا۔ انہوں نے فون پر مجھے ایک ایک مرحلہ سمجھایا کہ چکن کیسے صاف کرنا ہے، کیسے دھونا ہے اور کیسے پکانا ہے۔

میں نے اس کے لیے کھانا بنایا۔

جو سالن بچ گیا، سعد نے کہا:

یہ فریزر میں رکھوں گا۔ جب تک یہ ختم نہیں ہوتا، میں باہر کا کھانا نہیں کھاؤں گا۔

اس نے یہی بات فون پر اپنی والدہ سے بھی کہی تھی۔

یہ سعد کے ساتھ میری آخری محفوظ یاد ہے۔

کتنی عجیب بات ہے نا!

انسان کو کبھی معلوم نہیں ہوتا کہ کون سی ملاقات آخری ملاقات ہے، کون سی بات آخری بات ہے اور کون سا کھانا کسی دوست کے ساتھ زندگی کی آخری مشترکہ یاد بن جائے گا۔

ان دنوں نہ ٹچ موبائل تھے، نہ انٹرنیٹ، نہ سوشل میڈیا۔ میرے پاس ایک نوکیا ۳۳۱۰ موبائل تھا جو میرے ماموں سعودیہ سے لائے تھے اور میں نے جیسے تیسے اُن سے لے لیا تھا اور سعد کے پاس بھی ایک سادہ سا سام سنگ فون تھا، جس میں اینٹینا ہوتا تھا، نیلی سی روشنی جلتی تھی۔ ہم سائیٹ پر کام میں مصروف ہوتے کبھی کبھار وقت ملتا تو موبائل کی ہردلعزیز سنیک گیم کھیلتے اور اپنے ہی بنائے ہوئے ریکارڈ توڑ کر خوش ہوتے۔ اور جب میں سعد ایک ساتھ ہوتے تو رات گئے تک باتیں کرتے تھے۔ وہ اپنے گھر کی باتیں کرتا، میں اپنی باتیں کرتا۔ میں اسے اپنے شعر سناتا۔ وہ سنتا۔ زندگی بہت سادہ تھی، مگر شاید اسی لیے بہت خوبصورت بھی تھی۔

پھر ایک دن زمین ہلی اور ہماری وہ دنیا کہیں پیچھے رہ گئی۔

میں نے سعد کو ڈھونڈنے کی بھرپور کوشش کی۔ رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ ہوٹل سے معلومات لینے کی کوشش کی۔ مگر کوئی جواب نہ ملا۔

آج اکیس برس ہونے کو آئے ہیں۔

میں نے فیس بک پر بھی کبھی سعد کو تلاش کیا، مگر کہیں نظر نہیں آیا۔ وقت نے اس کے چہرے کے نقش بھی میرے ذہن پر دھندلے کر دیے ہیں۔ اب اس کی مکمل صورت یاد نہیں، مگر کچھ چیزیں اب بھی یاد ہیں۔
وہ دبلا پتلا سا لڑکا،اس کا پشاورسے تعلق،اس کا پہلی بار گھر سے اتنے دور آنا،اس کا باہر کا کھانا پسند نہ کرنا۔میری بنائی ہوئی چکن کی وہ آخری پلیٹ اور اس کا اپنی والدہ سے کہنا: “میرے ساتھ ایک دوست ہے، فرخؔ۔”

میں نہیں جانتا سعد کہاں ہے۔

میں یہ بھی نہیں جانتا کہ مانسہرہ کے اس ہوٹل کے ملبے میں اس کے ساتھ کیا ہوا۔ میرا دل آج بھی اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں کہ وہ اس سانحے میں ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گیا ہوگا۔

دل اب بھی ایک عجیب سی امید رکھتا ہے۔

شاید سعد کہیں ہوگا۔

شاید کسی شہر میں، کسی گلی میں، کسی گھر میں، کسی زندگی کے ساتھ زندگی گزار رہا ہوگا۔ شاید اسے بھی کبھی کسی آٹھ اکتوبر کو ایک دوست یاد آتا ہوگا جس کا نام فرخؔ تھا، جس نے اس کے لیے پہلی بار اپنی والدہ سے فون پر طریقہ پوچھ کر چکن پکایا تھا۔

اور شاید اسے بھی یاد ہو کہ ایک زمانے میں دو دوست رات گئے تک بیٹھ کر باتیں کیا کرتے تھے اور ایک دوست دوسرے کو اپنے شعر سنایا کرتا تھا۔

زندگی آگے بڑھ جاتی ہے۔

لوگ آتے ہیں، چلے جاتے ہیں۔ کچھ رشتے وقت کے ساتھ مدھم پڑ جاتے ہیں، کچھ چہرے یادداشت کی دھند میں کھو جاتے ہیں، مگر کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جو انسان کے اندر کہیں بہت گہری جگہ بنا لیتی ہیں۔

آٹھ اکتوبر بھی میرے لیے ایسی ہی ایک یاد ہے۔

اس دن بہت سے لوگوں نے اپنے پیارے کھوئے۔ کسی نے ماں کھوئی، کسی نے باپ، کسی نے بیٹا، کسی نے بیٹی، کسی نے اپنا گھر، کسی نے اپنا روزگار اور کسی نے اپنی پوری بستی۔

کسی کا نقصان وقت نے پورا کر دیا ہوگا، کسی کا زخم بھر گیا ہوگا، کسی نے دوبارہ گھر بنا لیا ہوگا، کسی نے دوبارہ زندگی شروع کر لی ہوگی۔ مگر جن لوگوں کے دلوں میں کسی اپنے کی جگہ ہمیشہ کے لیے خالی ہو گئی، وہ جگہ شاید آج بھی خالی ہوگی۔

میری دعا ہے کہ آٹھ اکتوبر 2005ء میں جن لوگوں کے چراغ بجھ گئے، اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔

جنہوں نے اپنے پیارے کھوئے، اللہ ان کے دلوں پر صبر اور سکون کی مرہم رکھے۔

جنہوں نے اپنے گھر اور مال و متاع کھوئے، اللہ نے ان کے لیے اس نقصان کا نعم البدل پیدا کیا ہو۔

اور اے اللہ!

ہمیں دوبارہ کبھی ایسی آزمائش نہ دکھانا۔

نہ ہماری زمین اس طرح لرزے، نہ ہمارے گھر اس طرح اجڑیں، نہ کوئی ماں اپنے بچے کو ملبے میں تلاش کرے، نہ کوئی بچہ اپنے والدین کو پکارے، نہ کوئی دوست کسی سعد کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے اکیس برس گزار دے۔

آٹھ اکتوبر ہمیں صرف ایک زلزلہ یاد نہ دلائے۔

یہ ہمیں یہ بھی یاد دلائے کہ زندگی کتنی ناپائیدار ہے، انسان کتنا بے بس ہے، اور ایک دوسرے کا سہارا بن جانا شاید انسان ہونے کی سب سے بڑی خوبی ہے۔

سعد جہاں بھی ہو، اللہ اسے اپنی امان میں رکھے۔

اور اگر وہ اس دنیا میں نہیں رہا تو اللہ اسے اپنی رحمت میں جگہ دے۔

آمین

طالبِ دعا،
فرّخ نوازفرّخؔ

08/10/2026

وہ دل نشین، جانِ جگر ہو گیا آخر
ہم پر بھی محبت کا اثر ہو گیا آخر

میں تجھ سے جدا ہو کے اذیت میں رہا پر
جیون تھا کسی طور بسر ہو گیا آخر

فرّخ نوازفرّخؔ

20/05/2026

ایسا نہیں کہ خاص نشانے سے آ لگے
تیری کماں کے تیر بہانے سے آ لگے

گھیرا ہے مجھ آج اُداسی نے اس قدر
دل کر رہا ہے آج تو شانے سے آ لگے

بنارس عاجز

Category

Telephone

Address

Swabi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Farrukh Nawaz Farrukh posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Subscribe

We will notify you when anything happens in Swabi.