Awami Awaz.
@
20/07/2026
یہ باجوڑ کا وہ مقام ہے جس کو شنڈئی موڑ کہا جاتا ہے، جہاں 10 جولائی 2025 کو مولانا خان زیب کو قاتلانہ حملے میں شہید کیا گیا تھا۔ اسی مقام پر ان کے ساتھ موجود دیگر افراد پر بھی حملہ کیا گیا، جس میں جانی نقصان اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔ یہ جگہ باجوڑ کی حالیہ تاریخ کے ایک نہایت افسوسناک سانحے کی یاد دلاتی ہے۔
05/07/2026
آج تیمرگرہ، لوئر دیر میں ایک غریب ڈرائیور پر 3017 روپے کا چالان کیا گیا، جبکہ اس کی روزانہ کی کمائی بمشکل 1000 روپے ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کا پیٹ پالے یا جرمانہ ادا کرے؟
ہم ڈی پی او لوئر دیر اور ڈپٹی کمشنر لوئر دیر سے پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے۔ قانون کا نفاذ یقیناً ضروری ہے، مگر قانون کے ساتھ انصاف، رحم اور عوام کی معاشی حالت کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔
غریب عوام پر ایسا بوجھ نہ ڈالا جائے کہ وہ اپنے ہی ملک میں خود کو بے بس اور مایوس محسوس کرنے لگیں۔ ریاست کی ذمہ داری صرف قانون نافذ کرنا نہیں، بلکہ اپنے کمزور، محنت کش اور سفید پوش شہریوں کا سہارا بننا بھی ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ ایسا پاکستان بنے جہاں قانون بھی ہو، انصاف بھی ہو، اور غریب کی عزت، روزی اور امید بھی محفوظ ہو۔
یہ قلعہ صرف
اینٹوں اور پتھروں کا ڈھانچہ نہیں، بلکہ باجوڑ کی تاریخ، روایات اور عظمت کی ایک زندہ نشانی ہے۔ کبھی یہ قلعہ علاقے کی سیاسی، سماجی اور دفاعی اہمیت کا مرکز رہا، اور آج بھی اس کی دیواریں ماضی کی بے شمار داستانیں اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔
ملاکنڈ ڈویژن اور قبائلی اضلاع میں یکم جولائی 2026 سے تمام ٹیکسز نافذ ہو جائیں گے ، عوام کو تو کوئی فرق نہیں پڑتا اسلیے خاموش ہیں، لیکن یہ عوامی نمائندوں اور سیاسی جماعتوں کو کیا ہوگیا ہے جو خاموش ہیں ؟
25/06/2026
دیر طورمنگ درہ
دو فریقین کے درمیان دو دن سے کشیدگی جاری ہے۔ عوام گھروں میں محصور ہے
مونگ ولی خپل غرونہ سیزو
تاریخی واقع
bara) پاکستان کی تاریخ کا ایک نہایت افسوسناک باب ہے۔
اس واقعے کی مکمل معلومات درج ذیل ہیں:
پسِ منظر اور تاریخ
تاریخ اور مقام: یہ واقعہ 12 اگست 1948 کو ضلع چارسدہ کے علاقے بابڑہ کے میدان میں پیش آیا۔
محرک: یہ لوگ خدائی خدمت گار تحریک (سرخ پوش) کے کارکن تھے، جس کی قیادت خان عبدالغفار خان (باچا خان) کر رہے تھے۔ وہ اپنے رہنماؤں کی گرفتاری اور حکومت کے نافذ کردہ سخت قوانین کے خلاف پرامن احتجاج کر رہے تھے۔
واقعے کی تفصیلات
حکمِ فائرنگ: اس وقت کے صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کے وزیر اعلیٰ عبدالقیوم خان نے نہتے مظاہرین پر گولی چلانے کا حکم دیا۔
جانی نقصان:
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتیں کم بتائی گئیں،ضلع لیکن عوامی اور تاریخی ذرائع کے مطابق اس دن 600 سے زائد افراد شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے۔
عینی شاہدین کے مطابق، خواتین نے سروں پر قرآن پاک رکھ کر فائرنگ رکوانے کی کوشش کی، لیکن ان پر بھی رحم نہیں کیا گیا۔
ظلم کی انتہا: کہا جاتا ہے کہ جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے ان گولیوں کی قیمت بھی وصول کی گئی جو ان کے پیاروں کو مارنے کے لیے استعمال ہوئی تھیں۔
تاریخی اہمیت
اس واقعے کو "پشتونوں کی کربلا" بھی کہا جاتا ہے۔
آج بھی ہر سال 12 اگست کو اس واقعے کی یاد میں برسی منائی جاتی ہے اور اسے ایک سیاہ دن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
ایک کامیاب سیاست دان کی کہانی۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Dubai
DUBAI