SAKK
SAKK promote the culture of Urdu, Potohari and Punjabi Poetry on Social Media Platforms.
شیرِ پوٹھوار اسد عباسی
29/09/2026
سلامتی کی ڈھیروں دعاہیں
Admin: Abid Betaab Khorevi
اظہر عاشقاں دا سدا صبر سالم
اوہ پیمانہ کی جہڑا چھلک گیا
بزرگ شعرخوان امن کا سفیر راجہ عابد ضمیر صاحب -
اپنے خوبصورت انداز میں اک شعر حمد و ثناء کا بیان کرتے ہووے
27/09/2026
پیر فضل حسین فضل گجراتی (یکم جنوری 1896ء – 22 اگست 1972ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے پنجابی زبان کے ایک ممتاز اور مایہ ناز شاعر تھے۔ انہیں پنجابی ادب میں اس لحاظ سے منفرد مقام حاصل ہے کہ وہ پہلے معلوم پنجابی شاعر ہیں جنہوں نے باقاعدہ طور پر پنجابی میں غزل کہنے کا سلسلہ شروع کیا۔ان کی زندگی اور ادبی خدمات کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:ابتدائی زندگی اور تعلیمپیدائش: وہ یکم جنوری 1896ء کو گجرات (پنجاب، پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام پیر فضل حسین شاہ تھا۔تعلیم: میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی۔نسبت: ان کا تعلق مشہور بزرگ حضرت شاہ دولہ دریائی کے خاندان سے تھا۔ادبی خدمات اور شاعریپنجابی غزل کے بانی: پیر فضل گجراتی کو جدید پنجابی غزل کا ایک اہم معمار مانا جاتا ہے، جس کی بدولت پنجابی شاعری میں غزل کو ایک نیا اور توانا لہجہ ملا۔کلام کی اشاعت: ان کی وفات کے بعد ان کا شعری کلام مختلف مجموعوں اور کلیات کی شکل میں شائع ہوتا رہا ہے۔ ڈاکٹر نبیلہ رحمٰن اور دیگر محققین نے ان کے کلام پر تحقیقی کام انجام دیا ہے۔استادانہ مقام: وہ معروف مزاحیہ شاعر انور مسعود سمیت کئی نامور شعرا کے استاد اور مربی بھی رہے، جنہوں نے ان کی صحبت سے شعری تربیت حاصل کی۔مشہور غزلیں اور اشعاران کی غزلوں میں روایتی پنجابی رنگ کے ساتھ ساتھ گہرا سوز و گداز پایا جاتا ہے۔ ان کی چند مشہور غزلوں کے عنوانات یہ ہیں:اوہ جنازہ میرا ویکھن آ گئےاوہ راتاں چنگیاں سن دن بھلے سَناوہدے دربان گلی سِر تے اُٹھا لیندے نیںپیر فضل گجراتی 22 اگست 1972ء کو اس فانی دنیا سے رخصت ہوئے، لیکن پنجابی غزل کی بنیاد رکھنے والے شاعر کے طور پر ان کا نام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا
چوہدری احتشام اکرم گجر کی زبانی پوٹھوہاری گپ
ایسی مزید ویڈیوز دیکھنے کے لئیے پیج کو فالو کریں
27/09/2026
شاگردان رامش
شاعر انقلاب امتیاز عالم کھوڑوی، سید اکسیرحسین گیلانی،شاہنواز احمد شاذب اور ان کے ساتھی سید توصیف گیلانی ایڈمن (SAKK عابد بیتاب) کی ملاقات اور ادبی بیٹھک
میزبان "" چوہدری نور حسین اور عبدلقیوم چوہدری
جناب چوہدری محمد الیاس صاحب
26/09/2026
دائم اقبال دائم (اپریل 1909ء — 13 اکتوبر 1984ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک معروف صوفی شاعر، ادیب اور درویش صفت شخصیت تھے۔ انہوں نے پنجابی اور اردو زبان میں گراں قدر صوفیانہ اور رومانوی کلام تخلیق کیا۔ان کی زندگی اور تاریخ کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:پیدائش اور خاندانی پس منظرپیدائش: وہ اپریل 1909ء میں پیدا ہوئے۔آبائی علاقہ: ان کا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع منڈی بہاؤالدین کی تحصیل پھالیہ کے تاریخی گاؤں واسو سے تھا۔والد کا نام: ان کے والد کا نام میاں غلام محمد تھا، جو اپنے علاقے کی ایک بااثر اور سماجی شخصیت مانے جاتے تھے۔شاعری اور صوفیانہ مزاجدائم اقبال دائم کا مزاج قلندرانہ اور فقیری تھا۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے عشقِ الٰہی، عشقِ رسول ﷺ، تصوف، اور انسان دوستی کا پیغام عام کیا۔ ان کا کلام اپنی سادگی اور گہری روحانیت کی وجہ سے عوام و خواص میں یکساں مقبول ہے۔ انہوں نے صوفیانہ کلام کے علاوہ پنجابی کی مشہور لوک داستانوں (جیسے سوہنی مہینوال اور لیلیٰ مجنوں) کو بھی اپنے رنگ میں قلمبند کیا۔ ان کی مشہور کتابوں میں "شاہنامہ کربلا" بھی شامل ہے۔وفاتان کا انتقال 13 اکتوبر 1984ء کو ہوا۔ ان کی وفات کے بعد بھی ان کا کلام پنجابی ادب اور تصوف سے وابستہ لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ ان کے مزار پر سالانہ عرس بھی عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔
پرنس آف مری خان مجتبی خان
رات پوے تے بے درداں نوں نیند پیاری آوے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Address
Manchester
Alerts
Be the first to know and let us send you an email when SAKK posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.