SaGar Times

SaGar Times

Share

Daily News/Articles and current Updates

04/10/2026

انتہائی
افسوس کے ساتھ
اطلاع دی جاتی ہے کہ جامعہ
ڈابھیل کے مشہور و ممتاز استاد،
حضرت مولانا الیاس صاحب لوہاروی کا
انتقال پُرملال ہوگیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
حضرت الاستاذ مولانا الیاس رحت اللہ علیہ طللباء سے بہت ہی زیادہ محبت کرنے والے، ملنسار، علم کے سمندر، علم کے پہاڑ، بہت زیادہ پرسکون طبیعت کے حامل، مہمان نواز، نرم دل، رحمدل، بہادر، قوی، صابر اور اس طرح کے دیگر بہت سے صفات سے بھرپور شخصیت تھے. مولانا بہت یاد آئیں گے کیوں وہ ہمیں چھوڑکر ہم سب کے پیارے اللہ سے ملنے چلے گئے ہیں، لیکن چونکہ جدائی تو جدائی ہوتی ہے، جو اگرچہ عارضی ہی ہو، یہ پریشان تو کریگی، لیکن ہم صبر کرینگے اور انکے لئے دعاؤں کے ساتھ انکے بتائے ہوئے راستے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کر کے اپنے دل کو اور حضرت رحمہ اللہ علیہ کی روح کو سکون پہنچاتے رہیں گے، ان شآءاللہ۔ تدفین کل 5 اکتوبر 2026 کو صبح نو بجے ڈابھیل، سملک میں عمل میں آئے گی۔ (منقول) ( )

04/10/2026

نہایت
افسوس کے ساتھ
یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ
عالمِ اسلام کے صاحبِ نسبت بزرگ،
شاعرِ معرفت، حضرت اقدس انصار کامل الہ آبادی،
خلیفہ و مجاز (1) حضرت مولانا شاہ محمد احمد صاحب
پرتابگڈھی (رحمۃ اللہ علیہ)، (2) محی السنہ حضرت مولانا شاہ ابرارالحق صاحب ہردوئی (رحمۃ اللہ علیہ)، تقریباً سو سال کے قریب عمر میں انتقال فرماگئے۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللہ تعالیٰ حضرت کے درجات بلند فرمائے، ان کی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے اور تمام اہلِ خانہ، متعلقین و محبین کو صبرِجمیل عطا فرمائے۔ آمین۔ ( )

03/10/2026

حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
سے روایت ہے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم
مصائب سے بچنے کیلئے اللہ تعالٰی سے اس طرح
پناہ مانگا کرو: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ جَھْدِ الْبَلَاءِ وَ دَرْکِ الشَّقَاءِ وَسُوْءِ الْقَضَاءِ وَشَمَاتَۃِ الْاَعْدَاءِ؎
ترجمہ: اے اﷲ! میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں سخت ابتلاء سے اور بدبختی کے پکڑ لینے سے اور سوئے قضاء سے اور دشمنوں کے طعن وتشنیع سے۔ حدیثِ پاک کی یہ دعا اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ جَھْدِ الْبَلَاءِ وَ دَرْکِ الشَّقَاءِ وَسُوْءِ الْقَضَاءِ وَشَمَاتَۃِ الْاَعْدَاءِ روزانہ مانگنے کا معمول بنالیں۔ اس کی برکت سے ان شآءاللہ تعالیٰ سخت مصیبت سے، شقاوت و بدبختی سے، سو قضا سے اور دشمنوں کے طعن و تشنیع سے حفاظت رہے گی۔
جَھْدِالْبَلَاءِ کے جیم پر ضمہ اور فتحہ دونوں پڑھنا جائز ہے لیکن فتحہ کو ترجیح ہے، کیوں کہ فتحہ اخف الحرکات ہے۔ یہ مُرَجِّح بھی بیان ہوگیا۔ جَھْدِالْبَلَاءِکی محدثین نے دو شرح کی ہیں۔ ایک معنیٰ ہیں ایسی سخت بلاء اور مصیبت جس سے آدمی موت کی تمنا کرنے لگے۔ ایک مریض کا واقعہ میرا خود اپنا چشم دید ہے کہ دمہ کی وجہ سے اس کی سانس اندر نہیں جارہی تھی اور وہ کہہ رہا تھا کہ مجھے موت کا انجکشن لگادو۔ (اللہ تعالیٰ نے شفا عطا فرمائی) اور دوسری شرح حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی ہے کہ قِلَّۃُ الْمَالِ وَکَثْرَۃُ الْعِیَالِ یعنی مال کم ہو اور اولاد زیادہ ہو۔ مال کی کمی کی وجہ سے ان کی پرورش اور کھانے پینے میں سخت پریشانی ہوتی ہے، یہ بھی جَھْدِالْبَلَاءِ ہے جس سے پناہ مانگی گئی، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اموال کو اولاد پر مقدم فرمایا: فَقُلۡتُ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا ﴿ۙ۱۰﴾ یُّرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَیۡکُمۡ مِّدۡرَارًا ﴿ۙ۱۱﴾ (منقول) ( )

02/10/2026

بہار
کے عظیم عالم دین
اور اونچی نسبتوں کی حامل ادبی
شخصیت حضرت مولانا قاری شبیر صاحب قاسمی
(ناظم مدرسہ اسلامیہ شکر پور بھروارہ، دربھنگہ) طویل علالت کے بعد آج انتقال فرماگئے ہیں۔ یہ بہت بڑا علمی خلاء وخسارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، فردوس بریں کا مکیں بنائے اور پسماندگان وتلامذہ کو صبرِجمیل عطا فرمائے اور قوم وملت کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے:
(مفتی) شکیل منصور القاسمی
( )

02/10/2026

رسول اللّٰہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
أَكْثروا الصَّلاةَ عليَّ يومَ الجمُعةِ..... (البخاري)
جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو۔
( )

01/10/2026

"مکھی
کا تذکرہ اور
قرآن کی حیرت انگیز مثال"
— ایک غور طلب مضمون۔۔۔۔۔
قرآنِ کریم نے سورۂ حج، آیت 73 میں ایک نہایت بامعنی مثال دیتے ہوئے انسان کو مکھی کی کمزوری اور اپنی بے بسی پر غور کرنے کی دعوت دی ہے: "اے لوگو! ایک مثال بیان کی جاتی ہے، اسے غور سے سنو: جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، وہ سب مل کر بھی ایک مکھی پیدا نہیں کرسکتے، خواہ اس کے لیے سب جمع ہوجائیں۔ اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اسے اس سے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ طالب بھی کمزور اور مطلوب بھی۔"
یہاں قرآن صرف مکھی کی مثال نہیں دے رہا، بلکہ انسان کو یہ سمجھا رہا ہے کہ جن چیزوں کو وہ طاقتور سمجھ کر اللہ کے مقابل کھڑا کرتا ہے، وہ خود کتنی بے بس ہیں۔

مکھی کھانا واپس کیوں نہیں کرسکتی؟
آج حیاتیات ہمیں بتاتی ہے کہ مکھی انسانوں یا بہت سے دوسرے جانوروں کی طرح کھانے کو چبا کر نہیں کھاتی۔ اس کا منہ خوراک کو چبانے کے بجائے اسے مائع شکل میں لینے کے لیے بنا ہے۔ مکھی خوراک پر ہاضماتی رطوبتیں خارج کرتی ہے، جس سے خوراک نرم اور تحلیل ہونے لگتی ہے، پھر وہ اسے مائع کی صورت میں جذب کرتی ہے۔ اسی لئے قرآن کا یہ جملہ خاص طور پر غور طلب ہے:
"اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اسے اس سے چھڑا نہیں سکتے۔"
یعنی جس چیز کو مکھی اپنے طریقۂ خوراک کے ذریعے لے جائے، انسان کے لیے اسے اسی اصل حالت میں واپس حاصل کرنا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے۔

اصل پیغام کیا ہے؟
اس آیت کا مقصد محض مکھی کے جسمانی نظام کا سائنسی بیان دینا نہیں، بلکہ اللہ کی قدرت اور انسان کی بے بسی کو واضح کرنا ہے۔ ایک معمولی سی مکھی، جسے انسان آسانی سے کمزور اور حقیر سمجھتا ہے، قرآن اسی کو ایک ایسی مثال کے طور پر پیش کرتا ہے جس کے سامنے انسان کی طاقت بے بس نظر آتی ہے۔
آج جب ہم مکھی کے پیچیدہ حیاتیاتی نظام کو سمجھتے ہیں تو یہ آیت ہمیں مزید غوروفکر کی دعوت دیتی ہے کہ کائنات کی چھوٹی سے چھوٹی مخلوق بھی کس قدر حیرت انگیز نظام کے ساتھ پیدا کی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آخر میں فرمایا:
"طالب بھی کمزور ہے اور مطلوب بھی۔"
یہی اس آیت کا اصل سبق ہے: طاقت، اختیار اور حقیقی اقتدار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ مکھی جیسی معمولی مخلوق بھی انسان کو اپنی کمزوری کا احساس دلا سکتی ہے، بشرطیکہ انسان غور کرنے والی نگاہ رکھتا ہو۔ (منقول) ( )

Photos from SaGar Times's post 30/09/2026

عنوان: اجتہاد و قیاس
​کتاب و سنت سے اخذ و استنباطِ احکام کے اصول و مناہج

تالیف: مفتی شکیل منصور القاسمی

کل صفحات: 680
قیمت : 450
مع ڈاک صرفہ (اندرون ملک)
آرڈر کیجئے
۔👇
+91 91 99079 528
_________________
زیرِ نظر کتاب اسلامی فقہ، اصولِ فقہ، اجتہاد اور قیاس کے اصول و قواعد جیسے اہم موضوعات پر عظیم موسوعہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
۔۔۔۔۔
“کتابِ ہذا اپنے موضوع پر جامع وقیمتی موسوعہ (انسائیکلو پیڈیا) کی حیثیت رکھتی ہے۔ فاضل مؤلف نے اس کی ترتیب و تالیف میں اپنی تمام علمی و فقہی توانائیاں صرف کردی ہیں۔احقر کی نظر میں اردو میں اس موضوع پر اس سے جامع کتاب اب تک سامنے نہیں آئی۔ ذٰلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ۔” (حضرت مولانا مفتی سید محمد سلمان صاحب منصور پوری مدظلہ العالی، استاذِ حدیث و فقہ، دارالعلوم دیوبند)
( )

30/09/2026

سعودی
عرب ہمیشہ ام القری
کیلنڈر پر ہی فیصلہ کرتے ہیں،
رؤیت پر نہیں۔ اس کے لئے پچھلے 17
سال کا رکارڈ دیکھیں: (مولانا) ثمیرالدین قاسمی (انگلینڈ) ( )

29/09/2026

"آپ
کے کان میں
یہ دانت نما چھوٹی
سی ہڈی کتنا بڑا زندہ معجزہ ہے!"
آپ کے فون پر آنے والے نوٹیفکیشن کی ہلکی سی آواز اٹھتی ہے تو آپ فوری متوجہ ہوجاتے ہو لیکن اگر آپ کے کان میں دانت نما یہ ننھی سی ہڈی نہ ہو، تو آپ کو کچھ بھی سنائی نہیں دے گا، چاہے آپ کے برابر میں ایٹم بم ہی کیوں نہ پھٹ جائے!یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں، بلکہ سائنس کی دنیا کا ایک ایسا چونکا دینے والا سچ ہے جو انسان کو ہلاکر رکھ دیتا ہے اور الحاد جیسے تمام نظریات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے۔
انسانی کان کے اندر موجود اس انتہائی باریک ہڈی کو "اسٹیپس" (Stapes) کہا جاتا ہے۔ یہ اتنی چھوٹی ہے کہ اس کا سائز محض 3 ملی میٹر ہوتا ہے، یعنی چاول کے ایک عام دانے سے بھی کم۔ لیکن اس کا کام کائنات کا ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔ جب کوئی آواز ہمارے کان سے ٹکراتی ہے، تو یہ ننھی سی ہڈی اس آواز کے ارتعاش (Vibrations) کو بالکل درست مقدار میں بڑھا کر ہمارے اندرونی کان اور دماغ تک پہنچاتی ہے۔ اگر یہ ہڈی اپنی جگہ سے ذرا سی بھی ہل جائے، یا اس کی ساخت میں ایک ملی میٹر کے ہزارویں حصے جتنا فرق بھی آجائے، تو انسان ہمیشہ کے لیے مکمل بہرا ہوجاتا ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت اور کوئی مہنگی ترین مشین آپ کو وہ آواز دوبارہ نہیں سنا سکتی۔
اب ذرا ٹھنڈے دماغ سے سوچئے کہ چاول کے دانے سے چھوٹی یہ ہڈی، جو اتنی پیچیدہ اور نپی تلی کارکردگی دکھاتی ہے، کیا کسی حادثے یا اتفاق کا نتیجہ ہوسکتی ہے؟ کیا بے جان مٹی اور اندھے ارتقا نے خود بیٹھ کر یہ فیصلہ کیا تھا کہ انسانی کان کے اندر اتنی باریک ہڈی ہونی چاہئے جو آواز کو فلٹر کرے گی؟ہرگز نہیں! یہ ایک اتفاق نہیں ہے، بلکہ یہ اس عظیم الشان خالق کی کمال نشانی ہے جس نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھالا۔ یہ اس اللہ کے وجود کا واضح ثبوت ہے جس نے ہماری تخلیق کے ایک ایک ذرے میں اپنی حکمت اور ربوبیت کے نشانات چھوڑے ہیں۔
تبھی اس نے سورہ المومنون میں ارشاد فرمایا: وَهُوَ الَّذِي أَنْشَأَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۚ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ" اور وہی (اللہ) ہے جس نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل پیدا کئے۔ تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو۔"
انسان کا وجود محض ایک حادثہ کہنے والوں کے پاس اس ننھی ہڈی کی بے عیب کارکردگی کا کوئی جواب نہیں ہے۔ ہمارا وجود خود چیخ چیخ کر پکار رہا ہے کہ ہمارا ایک خالق ہے، ایک مالک ہے، جو بے انتہا علم اور قدرت والا ہے۔ آج اپنے کانوں سے سنی جانے والی ہر آواز پر اپنے رب کا شکر ادا کریں الْحَمْدُلِلَّه کہیں، اور اس پیغام کو آگے پھیلا کر دوسروں کو بھی اللہ کی اس عظیم نشانی پر غور کرنے کی دعوت دیں۔ سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم۔
Paradise LOLAB
Syed Aazib Lolabi
(منقول) ( )

28/09/2026

آخر
کب تک معصوم
بچوں پر ظلم ہوتا رہے گا؟
آج دل بہت دکھا... ایک ایسی
ویڈیو دیکھی جس میں ایک استاد
معصوم بچوں کو بے رحمی سے پیٹ رہا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر دل کانپ اٹھا۔ جبکہ استاد کا مقام والدین کے بعد سب سے بلند مانا جاتا ہے۔ استاد کا کام بچوں کو علم، اخلاق اور محبت دینا ہے، نہ کہ ان کے دلوں میں خوف اور نفرت پیدا کرنا۔ تشدد سے بچے علم سے محبت نہیں کرتے بلکہ تعلیم سے دور ہونے لگتے ہیں۔ ایک معصوم بچہ عزت، شفقت اور حوصلہ افزائی کا حق رکھتا ہے۔ اگر کوئی بچہ غلطی کرے تو اسے پیار، حکمت اور اچھے انداز سے سمجھایا جائے، کیونکہ سختی سے جسم پر زخم بنتے ہیں، لیکن بے رحمانہ تشدد سے دل اور ذہن پر ایسے زخم لگتے ہیں جو زندگی بھر نہیں بھرتے۔ ہم تمام اساتذہ سے ادب کے ساتھ درخواست کرتے ہیں کہ بچوں کے ساتھ نرمی، محبت اور رحم کا معاملہ کریں۔ یہی ایک سچے معلم کی پہچان ہے۔ آئیے! ہم سب مل کر بچوں پر تشدد کے خلاف آواز بلند کریں اور ایسے معاشرے کی تعمیر کریں جہاں ہر بچہ عزت، محبت اور محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کرسکے۔ اس ویڈیو کو اتنا شئیر کریں کہ ذمہ داروں تک پہنچ جائے۔ اللہ تعالیٰ تمام بچوں کی حفاظت فرمائے، اساتذہ کو صبر، حکمت اور بہترین اخلاق عطا فرمائے، اور ہمیں ہر ظلم کے خلاف حق بات کہنے کی توفیق دے۔ آمین۔ (منقول) ( )

Telephone

Address


Delhi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SaGar Times posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Subscribe

We will notify you when anything happens in Delhi.