Mufti Maroof Rahi

Mufti Maroof Rahi

Share

in the name of Allah �

18/09/2026

افسوسناک خبر !
انتہاںٔی افسوس کیساتھ یہ اطلاع دی جاتی ھے کہ جامع مسجد جامعہ ملّیہ اسلامیہ دھلی کے امام وخطیب بزرگ عالمِ دین حضرتِ اقدس مولانا قاری محمد سلیمان صاحب قاسمی میواتی رحمۃ اللہ علیہ طویل علالت کے بعد ابھی کچھ دیر پہلے میکس اسپتال ساکیت نئی دھلی میں انتقال فرماگئے ھیں ۔ اِنَّا للہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ۔ اللھم اغفرلہ وارحمہ ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ حضرت مولانا کی مغفرت فرمائے ٬ درجات بلند فرمائے ٬ غریقِ رحمت فرمائے ٬ قبر کو نور سے منور فرمائے پسماندگان و متعلقین و ومُحبّین وشاگردانِ رشید وجملہ اھل خانہ کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یاربّ العالمین
محمد طاھر قاسمی دھلوی
18؍ ستمبر 2026ء شبِ جُمعرات

17/09/2026

گم شدہ کی تلاش 😭😭
*قاری جمیل اختر صاحب* یہ بہارکے رہنے والے ہیں اور روانہ شکارپور ضلع بجنور کے ایک ادارے جامعہ عربیہ معارف العلوم میں تعلیمی خدمت انجام دیا کرتے تھے اور یہ کل سے لا پتہ ہیں
دراصل ہوا یہ کہ یہ پرسوں 14 تاریخ کو بہار سے چلیں اور انہیں کل 15 تاریخ کو صبح کے وقت مرادآباد اترنا تھا ٹرین سے لیکن طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے یہ مرادآباد نہ اتر سکے اور دہلی پہنچ گئے پھردہلی سے انہوں نے گھر کو فون کیا اور کہا کہ میری طبیعت زیادہ خراب ہے میں ٹرین سے دوسری ٹرین بھی نہیں بدل سکتا لیکن کسی صاحب نے ان سے ملاقات کی اور پھر ان سے فون لے کر ان کے گھر پہ بات کی اور کہا کہ میں انہیں ہاسپٹل لے کر کے جا رہا ہوں لیکن اس نے اپنا نام نہیں بتایا اور فون کاٹ دیا معلوم نہیں اب کیا ہوا کہ وہ ہاسپٹل لے کر کے گئے ہیں یا نہیں گئے اس کے بعد سے ان سے رابطہ بھی نہیں ہو پایا ہے اور فون بھی بندآرہا ہے کل دوپہر دو بجے سے لاپتہ ہیں گھر کے تمام افراد بھی کل سے پریشان ہیں اگر کوئی صاحب ان کو کہیں ہاسپٹل میں دیکھے یا کہیں پتہ چلے تو برائے کرم ان نمبرات پر مطلع فرما دے مہربانی ہوگی

رابطہ نمبرات
9835948817
6202980781
7545985254
9759645229

17/09/2026

مفتی سلمان ازہری صاحب کے لیے دیوبندیوں نے دعائیں کیں تھی
لیکن اگر کوئی عالمِ دین ہمیں آپس میں لڑانے کی کوشش کرے تو۔۔۔۔

16/09/2026

बिहार पंचायत चुनाव में। ہمارے علاقے کی پنچایتی

16/09/2026

"اگر میں مسلمان ہوتا تو مجھے بھی جیل میں ڈال دیا جاتا"
ابھیجیت دیپکے نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر وہ مسلمان ہوتے تو شاید انہیں بھی جیل میں ڈال دیا گیا ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمر خالد کا ٹرائل شروع کیا جانا چاہیے۔
دیپکے کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عمر خالد طویل عرصے سے جیل میں ہیں اور ان کے معاملے میں مقدمے کی کارروائی کو لے کر مسلسل سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ابھیجیت دیپکے نے اپنے بیان کے ذریعے ایک طرف مبینہ امتیازی سلوک کی جانب اشارہ کیا، وہیں دوسری جانب عمر خالد کے معاملے میں ٹرائل شروع کیے جانے کا مطالبہ بھی کیا۔

16/09/2026

نہایت افسوس اور دل گرفتگی کے ساتھ یہ خبر ملی کہ *دارالعلوم وقف دیوبند میں زیرِ تعلیم ایک طالب علم،* جو عربی ہفتم میں پڑھ رہا تھا اور میوات سے تعلق رکھتا تھا، آج ایک اچانک حادثے کا شکار ہو کر اس دنیا سے رخصت ہوگیا .....😭💔
معلوم ہوا کہ عصر کے بعد وہ چائے ناشتہ کرنے کے لیے ایک دکان پر گیا تھا۔ دکان میں بجلی کے کام سے متعلق کچھ تار باہر نکلا ہوا تھا، اسی دوران اچانک اس کا ہاتھ اس تار سے چھو گیا اور اسے شدید کرنٹ لگ گیا۔ وہ بے ہوش ہوگیا، فوراً اسپتال لے جایا گیا، لیکن زندگی نے مزید مہلت نہ دی۔ مغرب کی اذان سے کچھ دیر پہلے یہ حادثہ پیش آیا اور مغرب کے فوراً بعد اس کے انتقال کی خبر آگئی .....💔🌼
یہ خبر سن کر دل بہت غمگین ہے۔ ایک طالب علم، جو اپنے گھر سے دور علمِ دین حاصل کرنے کے لیے دارالعلوم آیا تھا، جس کے والدین نے اسے ایک نیک مقصد کے لیے گھر سے روانہ کیا تھا، آج اچانک ان سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوگیا۔ موت کا کوئی وقت مقرر نہیں، نہ جوانی اس سے محفوظ ہے اور نہ صحت و تندرستی۔ انسان اپنے مستقبل کے کتنے ہی منصوبے بناتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کا فیصلہ سب سے مقدم ہے .....💯💔
ہم اس غم کی گھڑی میں مرحوم کے اہلِ خانہ، اساتذہ، ساتھی طلبہ اور متعلقین کی خدمت میں دلی تعزیت پیش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کم سن طالب علم کی مغفرت فرمائے، اس کی قبر کو نور سے بھر دے، درجات بلند فرمائے، اسے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اس کے والدین و اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے
اللہ تعالیٰ دارالعلوم وقف دیوبند کے تمام طلبہ کی حفاظت فرمائے، ہر قسم کے حادثات اور آفات سے محفوظ رکھے آمین ......💫💞😭
اللّٰهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه۔

15/09/2026

اِس خبر میں کتنی سچائی ہے کوئی بتا سکتا ہے؟

15/09/2026

سادگی کا پیکر، خاکساری کی مثال اور زمین سے جڑا ہوا ایک عوامی رہنما

یہ تصویر محض ایک تصویر نہیں، بلکہ سادگی، خاکساری اور زمینی حقیقت سے جڑے رہنے کا ایک خاموش پیغام ہے۔
چھ بار کے رکنِ اسمبلی اور ڈھائی سال تک بہار حکومت میں وزیر رہنے والے حاجی عبدالجلیل مستان صاحب مرحوم کو اگر کوئی شخص صرف ان کے عہدوں اور سیاسی قد سے پہچانے تو شاید ان کی اصل شخصیت کو پوری طرح نہ سمجھ سکے۔ ان کی اصل پہچان یہ تھی کہ بڑے سے بڑا منصب ملنے کے باوجود ان کے رہن سہن میں عام آدمی جیسی سادگی اور مزاج میں عاجزی برقرار رہی۔
آج کی سیاست میں جب عہدہ، پروٹوکول اور آسائشیں بعض اوقات انسان کو اپنے ہی لوگوں سے دور کر دیتی ہیں، ایسے وقت میں مستان صاحب کی یہ تصویر ایک بڑا سبق دیتی ہے۔ ایک طرف برسوں کی سیاست کا تجربہ، کئی مرتبہ اسمبلی کی رکنیت اور وزارت کا منصب، اور دوسری طرف عام لوگوں کے درمیان بالکل سادہ انداز میں بیٹھ کر کھانا تناول کرنا—یہ منظر اپنے اندر بہت کچھ کہہ رہا ہے۔

یہی تو اصل زمینی جڑاؤ ہے۔

سیاست کا مطلب صرف اقتدار تک پہنچنا نہیں، بلکہ ان لوگوں کے درمیان رہنا بھی ہے جنہوں نے اپنے ووٹ اور اعتماد سے آپ کو اس مقام تک پہنچایا ہے۔ انسان جب عوام سے دور ہو جاتا ہے تو شاید عہدہ باقی رہتا ہے، لیکن عوام سے تعلق کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص بڑے منصب پر پہنچ کر بھی اپنی مٹی، اپنے لوگوں اور اپنی عام زندگی کو نہیں بھولتا، وہ دلوں میں جگہ بناتا ہے۔
حاجی عبدالجلیل مستان صاحب مرحوم کی یہ تصویر آج کے تمام سیاسی لوگوں، خصوصاً ایم پی، ایم ایل اے اور عوامی نمائندوں کے لیے ایک خاموش مگر مؤثر پیغام ہے کہ:
منصب بڑا ہو سکتا ہے، مگر انسان کو بڑا بننے کے لیے سادگی اور خاکساری نہیں چھوڑنی چاہیے۔

آپ چاہے کتنے ہی بڑے عہدے پر فائز کیوں نہ ہو جائیں، اپنی زمینی حقیقت کو کبھی نہ بھولیں۔ جن گلیوں، چوراہوں، بازاروں اور عام لوگوں کے درمیان سے سفر شروع کیا ہے، ان سے اپنا تعلق ہمیشہ قائم رکھیں۔
مستان صاحب اب ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں، مگر ان کی زندگی کے کئی پہلو آنے والی نسلوں کے لیے سبق بن سکتے ہیں۔ یہ تصویر بھی انہی سبق آموز یادوں میں سے ایک ہے۔
اللہ تعالیٰ حاجی عبدالجلیل مستان صاحب مرحوم کی سیاسی، سماجی اور عوامی خدمات کو ان کی مغفرت اور نجات کا ذریعہ بنائے، ان کی لغزشوں کو معاف فرمائے، قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
خامہ بقلم:
مفتی محمد معروف راہی پورنوی
امیدوار ضلع پریشد، امور حلقہ نمبر 29

15/09/2026

♠کیا آپ کو آیوش ملک یاد ہیں؟💡
اتر پردیش کے شاملی کا وہی نوجوان،
جس کا مبینہ مذہب تبدیل کرنے کا معاملہ چند ماہ قبل سوشل میڈیا سے لے کر قانونی حلقوں تک کافی زیرِ بحث رہا تھا۔
ابتدائی طور پر ایک کروڑ پتی دوا تاجر کے بیٹے آیوش نے خود میڈیا کے سامنے آ کر دعویٰ کیا تھا کہ اس نے کسی دباؤ کے بغیر اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے اور اپنا نام محمد علی رکھ لیا ہے۔
اس کے بعد آیوش کے والد کی شکایت پر پولیس نے مبینہ غیر قانونی تبدیلیٔ مذہب کے تحت مقدمہ درج کیا اور اس کی مبینہ اہلیہ چاندنی قریشی اور اس کے والد اسلام قریشی کو جیل بھیج دیا گیا تھا۔
اسی دوران جون کے آخری ہفتے میں اس معاملے میں ایک بڑا موڑ آیا، جب آیوش ملک کی ایک ویڈیو سامنے آئی۔ اس ویڈیو میں اس نے اپنے خاندان کی مرضی کا احترام کرتے ہوئے دوبارہ سناتن دھرم اختیار کرنے اور ’گھر واپسی‘ کرنے کا دعویٰ کیا، ساتھ ہی اپنے والدین سے معافی بھی مانگی۔
لیکن حیران کن بات یہ رہی کہ اس ’گھر واپسی‘ والی ویڈیو کے بعد آیوش کے بارے میں مبینہ طور پر مکمل خاموشی چھا گئی اور عوامی سطح پر اس کی کوئی خبر سامنے نہیں آئی۔
وہ کہاں ہے اور کس حال میں ہے؟
اسی خاموشی کو توڑتے ہوئے آیوش کے ایک دوست نے الہ آباد ہائی کورٹ میں بندی پرتیَکشیکرن (Habeas Corpus) کی عرضی دائر کر دی۔
عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ ’گھر واپسی‘ کے بعد سے آیوش کو اس کے خاندان نے سرکاری مشینری کی مبینہ ملی بھگت سے غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا ہے اور اس کی شخصی آزادی سلب کر لی گئی ہے۔
ان انتہائی سنگین الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔
جسٹس سندیپ جین کی بنچ نے مشاہدہ کیا کہ دستاویزات سے بادی النظر میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ آیوش نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا تھا اور چاندنی سے شادی کی تھی۔
عدالت نے آیوش کے والد دیوراج سنگھ ملک کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پولیس کو واضح ہدایت دی ہے کہ آیوش ملک کو 16 ستمبر 2026 کو ہر حال میں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔
اب کئی ماہ کی پراسرار خاموشی اور سماج سے مبینہ طور پر کٹی ہوئی زندگی کے بعد، پورے ملک کی نظریں 16 ستمبر کو عدالت میں ہونے والے آیوش کے بیان پر ٹکی ہیں۔
کیونکہ آیوش خود سامنے آ کر ہی یہ واضح کر سکے گا کہ اس کی ’گھر واپسی‘ اور اس کی موجودہ صورتحال کی اصل حقیقت کیا ہے۔ (شہادت خان)

14/09/2026

سابق رکنِ اسمبلی امور و سابق وزیرِ حکومتِ بہار جناب عبدالجلیل مستان صاحب مرحوم کی آخری آرام گاہ
یہ تصویر ایک ایسی حقیقت کی یاد دلا رہی ہے جس سے ہر انسان کو ایک دن گزرنا ہے۔
سابق رکنِ اسمبلی امور اور سابق وزیرِ حکومتِ بہار جناب عبدالجلیل مستان صاحب مرحوم آج اس دنیا سے رخصت ہو کر اپنے رب کے حضور پہنچ چکے ہیں، اور یہ مٹی کی آغوش اُن کا آخری آرام گاہ بن گئی ہے۔
کل تک جن کی آواز ایوانِ اسمبلی میں گونجتی تھی، جن کے گرد لوگوں کا ہجوم رہتا تھا، آج وہ خاموشی کے ساتھ اس قبر میں آرام فرما ہیں۔ عہدہ، اقتدار، سیاست اور دنیا کی تمام مصروفیات یہیں رہ جاتی ہیں؛ انسان کے ساتھ صرف اس کے اعمال اور لوگوں کی دعائیں جاتی ہیں۔
عبدالجلیل مستان صاحب نے طویل عرصے تک عوامی زندگی میں رہ کر اپنے علاقے کی نمائندگی کی۔ آج ان کے آخری سفر کی یہ تصویر ہم سب کے لیے ایک بڑا سبق ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور واپسی اپنے رب ہی کی طرف ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، قبر کی منزلیں آسان فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ، متعلقین اور تمام چاہنے والوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
تمام احباب سے مرحوم کے لیے خصوصی دعائے مغفرت کی درخواست ہے۔
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
شریکِ غم
مفتی محمد معروف راہی پورنوی
امیدوار، ضلع پریشد امور حلقہ نمبر 29

Category

Telephone

Website

Address


Purnea