Zaeem Rasheed
Poet by Passion, Tax Advisor by Profession, Social Worker by Nature
ویڈیو چیٹ کی سہولت سے
لمس باتوں کا مل نہیں سکتا
تو مجھے چھو کے میری بات کو سُن !
شاعر زعیم رشید
کتاب : تروینی تیرے نام
ڈھلی جو شام تو بے اختیار یاد آیا
وہ ایک شخص مجھے بار بار یاد آیا
زعیم رشید
۔ #𝙪𝙧𝙙𝙪𝙨𝙝𝙖𝙮𝙧𝙞
میں کِتھے لے جاواں ایہہ دُکھ پالے ہوئے
عمراں توں ایہہ سونے وانگ سنبھالے ہوئے
دل دیاں سٹّاں پہلے پہل تے نیلیاں ہے سن
فر ایہہ پھٹ وی ہولی ہولی کالے ہوئے
تیرے نال اے رشتہ یار جدائی والا
تیرے وعدے وی پیراں دے چھالے ہوئے
آن کُھلوتے اَج فِر میرے بُوہے اُتّے
یار زعیم ایہہ دُکھ نیں کل دے ٹالے ہوئے
شاعر : زعیم رشید poetry official
دل اَگے نہ ہریا جاوے
تیز ہَوا کجھ کہہ جاندی اے
میرے اندر لہہ جاندی اے
جندڑی سب کجھ سہہ جاندی اے
پر ایہہ دُکھ نہ جریا جاوے
دل اَگے نہ ہریا جاوے
شاعر : زعیم رشید ایڈوکیٹ
کئی وعدے کیے خود سے
بہت سی قسمیں کھائی تھیں
محبت پھر نہیں کرنا
بڑا پختہ ارادہ تھا
مگر وہ عام سی لڑکی
وہ اب میری محبت ہے
وہ پہلے عشق کی باتیں
میں سب اس سے چھپاتا ہوں
مگر نظموں میں اس کے نام سے
میں پکڑا جاتا ہوں
شاعر : زعیم رشید
“15 سال سے زائد عمر کی لڑکی کو زبردستی والد کے ساتھ نہیں رکھا جا سکتا”
ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ!
محمد مصطفیٰ نے ضابطۂ فوجداری 1898 کی دفعہ 491 کے تحت ایک ہیبیس کارپس درخواست دائر کی، جس میں اپنی کمسن بیٹی کنزہ رانی کی بازیابی کی استدعا کی گئی۔ مؤقف یہ اختیار کیا گیا کہ بچی غیر متعلقہ افراد یعنی دانیہ بی بی عرف نسرین اور مزمل کے پاس رہ رہی ہے، جبکہ بطور والد اور فطری سرپرست، درخواست گزار کو اس کی تحویل سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت کے روبرو کنزہ رانی پیش ہوئی اور اس نے والد کو پہچانتے ہوئے ان کے ساتھ رہنے سے انکار کیا۔ اس نے بتایا کہ والد کی دوسری شادی اور سوتیلی ماں کے رویے کے باعث وہ خوفزدہ اور غیر مطمئن ہے، لہٰذا اپنی خالہ کے گھر رہنا چاہتی ہے۔ عدالت نے ابتدائی طور پر اسے دارالامان بھجوا دیا۔
ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ پنجاب ڈیسٹیٹیوٹ اینڈ نیگلیکٹڈ چلڈرن ایکٹ 2004 کے تحت ایسے بچوں کی تحویل چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کے ذریعے منظم کی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ پاکستانی قوانین، بشمول Majority Act، Guardian and Wards Act اور اسلامی قانون کے مطابق 18 سال عمرِ بلوغت کی حد ہے۔ پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس 2026 کے تحت بھی لڑکی کی شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ بچی بعض حوالوں سے “Destitute and Neglected Child” کے زمرے میں آ سکتی ہے، مگر چونکہ اس کی عمر 15 سال سے زائد ہے، اس لیے پنجاب ڈیسٹیٹیوٹ اینڈ نیگلیکٹڈ چلڈرن ایکٹ 2004 کے تحت اس کی تحویل کو عدالت کے ذریعے ریگولیٹ نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے اہم آبزرویشن دی کہ:
* کسی بالغ یا سمجھ بوجھ رکھنے والے بڑے بچے کو اس کی مرضی کے خلاف والدین کے گھر میں زبردستی نہیں رکھا جا سکتا۔
* آزادی، وقار اور تحفظ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔
* والدین کا کردار جبر نہیں بلکہ رہنمائی اور تحفظ فراہم کرنا ہے۔
* مذہب اور ثقافت کو انسانی وقار اور تحفظ کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر 15 سال سے زائد عمر کا بچہ اپنی مرضی سے کسی محفوظ اور اخلاقی ماحول میں رہ رہا ہو تو اسے زبردستی والدین یا شیلٹر ہوم بھیجنا مناسب نہیں، الا یہ کہ گارڈین کورٹ باقاعدہ فیصلہ کرے۔
چنانچہ عدالت نے حکم دیا کہ کنزہ رانی کو فوراً دارالامان سے رہا کیا جائے اور وہ اپنی مرضی کے مطابق خالہ کے ساتھ رہ سکتی ہے۔ البتہ اگر والد تحویل حاصل کرنا چاہتے ہیں تو وہ متعلقہ گارڈین کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں، جہاں معاملہ قانون کے مطابق طے کیا جائے
— in Lahore.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Satellite Town
Burewala
61010