Daily Chakwal

Daily Chakwal

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Daily Chakwal, Media/News Company, Chakwal.

ڈیلی چکوال
ضلع چکوال اور گرد و نواح کی تازہ، مستند اور بروقت خبریں!
عوامی مسائل، سماجی و سیاسی اپڈیٹس،
اور کاروباری تشہیر کے لیے ایک مؤثر اور معتبر پلیٹ فارم!
اپنی آواز عوام تک پہنچائیں ڈیلی چکوال کے ساتھ!

09/07/2026

چکوال کے قصبے سدوال سے تعلق رکھنے والے معروف صحافی اور کالم نگار ملک فداالرحمن ( تمغہ امتیاز ) انتقال کر گئے۔فداء الرحمن ادبی و ثقافتی تنظیم آئینہ اسلام آباد کے چیئرمین بھی تھے اور طویل عرصہ سے اسلام آباد میں مقیم تھے۔

08/07/2026
07/07/2026

*چوآ سیدن شاہ: آن لائن ہراسانی کے الزام پر معاملہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کو بھجوا دیا گیا*
*سوشل میڈیا پر مبینہ کردار کشی کے الزام، خاتون انصاف کی منتظر*

*چوآ سیدن شاہ: مبینہ سائبر ہراسانی کے الزام کا معاملہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے سپرد*
*آن لائن بدنامی کے الزام پر تحقیقات کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) متحرک*

*سوشل میڈیا کے مبینہ غلط استعمال کے الزام پر خاتون کی درخواست نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کو ارسال*

07/07/2026

بیوٹیفکیشن منصوبہ: اگر آج صرف شیشے ٹوٹے ہیں تو کل خدانخواستہ جانیں بھی جا سکتی ہیں
تحریر فیضان شیخ
گزشتہ روز تلہ گنگ میں بیوٹیفکیشن منصوبے کے تحت نصب کیے گئے دو دکانوں کے شیڈ اور فرنٹ بورڈ گر گئے۔ خوش قسمتی سے اس افسوسناک واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم متعدد دکانوں کے قیمتی فرنٹ شیشے ٹوٹ گئے اور دکانداروں کو مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

ہماری خبر نشر ہونے کے فوراً بعد انتظامیہ متحرک ہوئی اور چند ہی منٹوں میں متاثرہ مقام کو صاف کرا دیا، جس پر انتظامیہ کی بروقت کارروائی قابلِ تحسین ہے۔ تاہم اصل سوال صرف ملبہ اٹھانے کا نہیں بلکہ اس حادثے کی وجوہات معلوم کرنے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کا ہے۔

ہمارا مؤقف پہلے بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے کہ اگر اس منصوبے کی تعمیر میں کہیں بھی غفلت، ناقص میٹریل، غیر معیاری کاریگری یا انجینئرنگ کے اصولوں سے انحراف ہوا ہے تو فوری طور پر ماہرین پر مشتمل ایک آزاد تکنیکی ٹیم سے مکمل معائنہ کروایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بڑے جانی یا مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

حادثے کے بعد یہ تاثر دیا گیا کہ شیڈ نہیں گرے بلکہ دیوار گرنے کی وجہ سے شیڈ نیچے آئے۔ لیکن ایک تعمیراتی شعبے سے وابستہ شخص ہونے کے ناطے عرض کرنا چاہوں گا کہ یہ دیواریں بھی اسی بیوٹیفکیشن منصوبے کا حصہ تھیں۔ ان کی مضبوطی، معیار اور حفاظت کی ذمہ داری بھی اسی ٹھیکیدار اور متعلقہ نگران اداروں پر عائد ہوتی ہے۔

اگر دیوار پہلے سے کمزور تھی تو اس پر بھاری شیڈ اور بڑے سائز کے بورڈ کیوں نصب کیے گئے؟ اور اگر دیوار نئی تعمیر کی گئی تھی تو پھر اسے اس معیار کے مطابق کیوں نہیں بنایا گیا کہ وہ معمولی ہوا اور بارش کا بھی مقابلہ نہ کر سکی؟

اسی نوعیت کی دیواریں تلہ گنگ کے مختلف مقامات پر تعمیر کی گئی ہیں۔ اگر خدانخواستہ کسی مصروف وقت میں یہی دیوار یا شیڈ کسی راہگیر پر گر جاتا تو اس سانحے کی ذمہ داری کون قبول کرتا؟ کیا اس وقت بھی یہی وضاحتیں دی جاتیں کہ "اصل میں دیوار گری تھی، شیڈ نہیں"؟

تعمیراتی اصولوں کے مطابق ایسی فرنٹ دیواروں کو مضبوط بنانے کے لیے مناسب وقفوں سے سپورٹنگ ٹی (T) وال یا بٹرس دیے جاتے ہیں، یا پھر انہیں اسٹیل راڈز اور بھاری ٹی آئرن کے ذریعے مرکزی ڈھانچے کے ساتھ مضبوطی سے باندھا جاتا ہے تاکہ تیز ہوا، بارش اور دیگر موسمی دباؤ کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اگر یہ حفاظتی تقاضے نظر انداز کیے گئے ہیں تو یہ معمولی غلطی نہیں بلکہ ایک سنگین تکنیکی کوتاہی ہے۔

آج صرف شیشے ٹوٹے ہیں، مگر کل خدانخواستہ کوئی انسانی جان بھی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث تیز آندھیاں اور شدید بارشیں معمول بنتی جا رہی ہیں، اس لیے عوامی مقامات پر تعمیر ہونے والے ہر منصوبے میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ ناقابلِ قبول ہے۔

افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ کچھ حلقوں نے اس واقعے کو اجاگر کرنے کو "درجہ چہارم کی صحافت" قرار دیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا عوامی مفاد میں ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرنا صحافت نہیں؟ کیا صحافت صرف حادثے کے بعد لاشیں گننے کا نام ہے، یا حادثے سے پہلے خطرے کی نشاندہی کرنا بھی اس کی بنیادی ذمہ داری ہے؟

چند ماہ قبل بابِ چکوال کے لینٹر کا گرنا ،افسوسناک واقعے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ ایسے سانحات سے سبق سیکھنے کے بجائے اگر آج بھی تعمیراتی معیار پر سمجھوتہ کیا جائے تو یہ انتہائی تشویش ناک ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب بھر میں خوبصورتی، ترقی اور شہری سہولیات کے لیے متعدد بہترین منصوبے شروع کیے ہیں۔ اچھے کام کی تعریف کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے، لیکن اگر کہیں ناقص تعمیر، غفلت یا کمزور نگرانی کی وجہ سے یہی منصوبے اپنی تکمیل سے پہلے ہی مسائل پیدا کرنے لگیں تو اس سے نہ صرف عوام کو خطرہ لاحق ہوتا ہے بلکہ وزیراعلیٰ کے نیک نامی منصوبوں کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔ ایسے عناصر جو ناقص کام کر کے منصوبوں کو بدنام کرتے ہیں، درحقیقت حکومت کی نیک نیتی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

ہم وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مؤدبانہ گزارش کرتے ہیں کہ اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایک خصوصی تکنیکی ٹیم تلہ گنگ بھیجی جائے جو نہ صرف اس مقام بلکہ پنجاب بھر میں جاری بیوٹیفکیشن منصوبوں کا معیار، ڈیزائن، حفاظتی تقاضے اور تعمیراتی مضبوطی چیک کرے۔ ہر منصوبے کی باقاعدہ تکنیکی منظوری اور کوالٹی آڈٹ یقینی بنایا جائے تاکہ عوامی منصوبے عوام کے لیے سہولت اور خوبصورتی کا ذریعہ بنیں، کسی حادثے یا سانحے کا سبب نہیں۔

تنقید کا مقصد کسی منصوبے کی مخالفت نہیں بلکہ اس کی اصلاح ہے، کیونکہ مضبوط تعمیرات ہی مضبوط ریاست کی پہچان ہوتی ہیں۔

06/07/2026

For Public Interest 🥀

06/07/2026

جناح پارک عوام کو راس نا آیا ، پارک میں کوڑے دان ہونے کے باوجود جگہ جگہ کچرا۔ آخر قصوروار کون؟؟

رپورٹ ✒️ طہ جمال نمائندہ خصوصی ڈیلی چکوال

چکوال: ڈپٹی کمشنر چکوال میڈم سارہ حیات نے سابقہ الائیڈ پارک کی تزئین و آرائش کروا کر اس کو عوام کے لیے ایک خوبصورت تفریحی مقام بنایا اور یوم قائد کے موقع پر اس کا نام جناح پارک رکھا گیا۔

لیکن بقول شاعر: من اپنا پرانا پاپی ہے۔

چند لوگوں نے اپنی عادات نہیں بدلیں اور اسکو برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ آج پارک جانا ہوا تو یہ دیکھ کر انتہائی دکھ ہوا کہ پارک کے مختلف حصوں میں پلاسٹک کی بوتلیں، چپس کے خالی پیکٹ، شاپر اور دیگر کچرا بکھرا تھا۔ اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہ کچرا ہم میں سے ہی کچھ لوگ پھینکتے ہیں۔

یہی لوگ اپنے گھر کو تو صاف رکھیں گے لیکن عوامی مقام کو کچرا دان بنا دیں گے۔ پھر شکوہ بھی کریں گے کہ شہر گندا ہے انتظامیہ کام نہیں کرتی۔ یاد رکھیں! صفائی صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں، یہ ہر شہری کا اخلاقی اور قومی فرض ہے۔ اگر ہم خود ہی اپنے پارک، سڑکوں اور عوامی مقامات کو گندا کریں گے تو انتظامیہ کےلیے بھی انہیں ہر وقت صاف نہیں رکھنا ممکن نہیں۔

06/07/2026

تلہ گنگ میں بیوٹی فکیشن منصوبے کے تحت لگنے والا شیڈ بمع بورڈ زمین بوس دکانداروں کے شیشے ٹوٹ گئے
اگر ٹھیکیدار کی طرف سے کوئی کام میں ناقص مٹیریل استعمال کیا گیا ہے تو اس کی انکوائری ہونی چاہیے تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے

05/07/2026

جناح پارک چکوال میں بچوں کےلیے لگائے گئے جھولوں میں سے دو جھولے ٹوٹ گئے

چکوال:(طہ جمال سے) جناح پارک چکوال میں بچوں کی تفریح کے لیے نصب کیے گئے جھولوں میں سے دو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے۔

تفصیلات کے مطابق پارک میں نصب راؤنڈ اباؤٹ (گھومنے والا جھولا) مکمل طور پر خراب ہو چکا ہے اور اس کے ساتھ سی سا (See-Saw) بھی ٹوٹ چکا ہے اور اس کا ایک حصہ سرے سے غائب ہے۔

ذرائع کے مطابق بڑی عمر کے افراد بچوں کے جھولوں پر خود سواری کرتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ جھولے اپنی استعداد سے زیادہ وزن برداشت نہیں کر پاتے اور ٹوٹ جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر بھی بھی پارک میں بعض نوجوانوں کی جانب سے جھولوں کے غیر مناسب استعمال کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔

شہریوں نے ڈپٹی کمشنر چکوال سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹوٹے ہوئے جھولوں کی فوری مرمت کروائی جائے اور پارک میں سیکیورٹی کا مؤثر انتظام کیا جائے تاکہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔

05/07/2026

تلہ گنگ سے تعلق رکھنے والے

اسلام آباد: ایئرفورس کے بہادر گروپ کیپٹن عاصم خاتون کو بچاتے ہوئے شہید
ملزم اس کا دفتر میں کولیگ تھا، جس نے اسے کام پر ساتھ لے جانے کی پیشکش کی

ایئرفورس کے بہادر گروپ کیپٹن عاصم خاتون کو بچاتے ہوئے شہید ہوگئے جب کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق گروپ کیپٹن عاصم نائنتھ ایوینیو سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے ایک موٹرسائیکل سے ایک خاتون کو اترے ہوئے دیکھا جس کا ہاتھ موٹرسائیکل سوار کھینچ رہا تھا۔

رپورٹ کے مطابق گروپ کیپٹن عاصم ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے مڑ کر واپس آئے اور موٹرسائیکل کے قریب رکے جس پر لڑکی گاڑی کی دوسری طرف بھاگ آئی، اسی دوران مبینہ ملزم سعد نے گروپ کیپٹن عاصم کے ساتھ بدکلامی شروع کر دی اور کچھ ہی لمحوں میں ان پر فائر کھول دیا۔

گروپ کیپٹن عاصم زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے، جبکہ ملزم موقع سے فرار ہوگیا۔

پولیس کے مطابق خاتون نے بتایا ہے کہ ملزم اس کا دفتر میں کولیگ تھا، جس نے اسے کام پر ساتھ لے جانے کی پیشکش کی تھی، تاہم راستہ تبدیل کر کے اسے کہیں اور لے جانا چاہتا تھا جس پر وہ اس سے زور آزما رہا تھا۔

خاتون نے کہا کہ گروپ کیپٹن عاصم نے بر وقت مداخلت کرتے ہوئے مجھے محفوظ کیا۔

اس وقت قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں کر رہے ہیں۔

گروپ کیپٹن عاصم شہید نے سوگواران میں بیوہ، بیٹی اور بیٹا چھوڑے، گروپ کیپٹن عاصم کی قربانی کو ملک بھر میں خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

قومی اور سوشل میڈیا پر انہیں خواتین کے تحفظ کے لیے اپنی جان قربان کرنے والے بہادر افسر کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے، گروپ کیپٹن عاصم کی قربانی اس بات کی عکاس ہے کہ پاک فوج کے سپاہی صرف سرحدوں ہی نہیں عزت کے بھی رکھوالے ہیں۔

Want your business to be the top-listed Advertising & Marketing Company in Chakwal?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address


Chakwal
48800