Engr. Fazal Rabbi Jan
Development Professional, Entrepreneur,Social Activist
Travelor,Motivational Speaker.
09/08/2026
اچھا گمان رکھنا بھی عبادت جیسی خوبصورت نیکی ہے۔
لوگوں سے ان کے معیار پر اتر کر بات نہ کریں. اپنا معیار بلند، اپنا ظرف وسیع اور اپنی زبان نرم رکھیں۔
ہر کسی کے رویّے کا جواب اسی انداز میں دینا ضروری نہیں۔
کبھی خاموشی بھی وقار ہوتی ہے درگزر بھی طاقت ہے اور اچھا گمان بھی نیکی۔
لوگ جیسے بھی ہوں آپ اپنا ظرف نہ بدلیں
کیونکہ اللہ آپ کے الفاظ سے پہلے آپ کی نیت دیکھتا ہے۔
کبھی رات کی خاموشی میں دنیا کی چمک دمک دیکھ کر ہم عروج و زوال کا اصل سبق بھول جاتے ہیں۔
حالانکہ قدرت کا ہر دن اور ہر رات ہمیں یہی سمجھاتا ہے کہ عروج عارضی ہے اور زوال بھی مستقل نہیں۔
بس وقت بدلتا رہتا ہے، کردار باقی رہتا ہے۔
شاید یہی زندگی کا سب سے بڑا سبق ہے۔
02/08/2026
اگر پاکستان میں کبھی صدارتی نظام نافذ ہوتا ہے تو اس کا سب سے بڑا سیاسی فائدہ پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) اور عمران خان کو پہنچ سکتا ہے--------
ایسے میں ایک سوال تو بنتا ہے...
-----------------تیرا کیا ہوگا------- کالیا؟
آپ کے خیال میں صدارتی نظام سے سب سے زیادہ فائدہ کس سیاسی جماعت یا رہنما کو ہوگا اور کیوں؟ اپنی رائے ضرور دیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمٰن کو چاہیے کہ عمران خان کی سخت زبان، سیاسی غلطیوں اور ماضی کے تلخ بیانات کو ایک طرف رکھ کر قومی مفاد میں انہیں مذاکرات کا موقع دیں اور تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلیں۔
آج پاکستان کو انتقام کی سیاست نہیں بلکہ مفاہمت، برداشت اور ایک نئے، وسیع البنیاد چارٹر آف ڈیموکریسی کی ضرورت ہے۔
بصورتِ دیگر------
خدشہ ہے کہ ایک بار پھر ٹی وی چینلز پر قومی ترانے اور غیر معمولی نشریات کا ماحول دیکھنے کو مل سکتا ہے، جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے خوش آئند نہیں۔
30/07/2026
ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ کچھ بدل رہا ہے۔ پہلے مولانا، پھر بلاول اور اب وہ شخصیات بھی مختلف انداز میں بات کر رہی ہیں جنہیں عموماً اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھا جاتا ہے۔
کیا یہ کسی نئی سیاسی سمت کا اشارہ ہے
یا محض اتفاق؟ وقت ہی بتائے گا۔
28/07/2026
پیارے طلبہ------
میٹرک کے نتائج آئندہ ہفتے متوقع ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ سب کو بہترین کامیابی عطا فرمائے۔
آج میرا خصوصی پیغام اُن طلبہ کے لیے ہے جن کے نمبر شاید توقع سے کم آئیں۔ مایوس ہرگز نہ ہوں۔ یاد رکھیں، کامیابی صرف نمبروں سے نہیں بلکہ مہارت، محنت اور درست فیصلے سے حاصل ہوتی ہے۔
ضروری نہیں کہ ہر طالب علم FSc یا FA ہی کرے۔ آج کے دور میں ہنر اور تکنیکی تعلیم کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ نرسنگ، میڈیکل لیبارٹری ٹیکنالوجی، ریڈیالوجی، فارمیسی ٹیکنیشن، آٹوموٹو، الیکٹریکل، مکینیکل، سول، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت (AI) اور دیگر ٹیکنیکل شعبوں میں بے شمار مواقع موجود ہیں۔
خاص بات یہ ہے کہ ان شعبوں کے ماہر ٹیکنیشنز اور پروفیشنلز کی مشرقِ وسطیٰ یورپ، امریکہ اور چین میں بھی بہت زیادہ مانگ ہے، جہاں وہ باعزت روزگار اور بہترین مستقبل حاصل کر سکتے ہیں۔
داخلوں کا وقت قریب ہے اس لیے فیصلہ دوسروں کی دیکھا دیکھی نہیں بلکہ اپنی صلاحیت، دلچسپی اور مستقبل کے مواقع کو مدنظر رکھ کر کریں۔
میں جلد ہی اس موضوع پر ایک رہنمائی ویڈیو بھی شیئر کروں گا۔
یاد رکھیں- آپ کے میٹرک کے نمبر نہیں بلکہ آپ کی مہارت، محنت اور کردار آپ کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں۔
زندگی کی خوبصورتی آزمائشوں میں پوشیدہ ہوتی ہے جو انسان کو ہر قدم پر مضبوط بناتی ہیں۔-------
جس طرح تیز ہوائیں درختوں کی جڑوں کو مزید گہرا کر دیتی ہیں اسی طرح مشکلات انسان کے حوصلےکردار اور بصیرت کو نکھارتی ہیں۔ اگر سفر میں چیلنج نہ ہوں تو کامیابی کی خوشی بھی ادھوری رہ جاتی ہے۔ اس لیے ہر مشکل کو اپنے خلاف نہیں بلکہ اپنی تعمیر کا ایک نیا مرحلہ سمجھیں کیونکہ یہی آزمائشیں مستقبل میں آپ کی کامیابی کی سب سے روشن داستان بن جاتی ہیں۔
جرأت، حوصلہ اور حق کے لیے کھڑے ہونے کا جذبہ ہی قوموں کی تقدیر بدلتا ہے۔ ریا کی بہادری اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک پُرعزم نوجوان بھی اپنے عزم اور ہمت سے آواز بلند کر سکتا ہے۔
پاکستان کو ایسے ہی بہادر، باشعور اور باصلاحیت نوجوانوں کی ضرورت ہے جو سچ، انصاف اور مثبت تبدیلی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
نوجوان کسی بھی قوم کی اصل طاقت ہوتے ہیں — ان کا حوصلہ ہی روشن مستقبل کی بنیاد بنتا ہے۔
پاکستان میں طویل المدتی اور مستقل پالیسیوں کا ہمیشہ فقدان رہا ہے۔ چند سال پہلے حکومت سولرائزیشن کی بھرپور تشہیر کر رہی تھی، عوام کو سولر سسٹم لگانے کی ترغیب دی جا رہی تھی اور بجلی کے متبادل ذرائع اپنانے کی حوصلہ افزائی کی جا رہی تھی۔ اس سے پہلے سی این جی کو مستقبل کا بہترین ایندھن قرار دیا گیا، مگر کچھ عرصے بعد وہ پالیسی بھی دم توڑ گئی۔ اب پوری توجہ الیکٹرک گاڑیوں (EVs) پر مرکوز ہے اور انہیں ملک کے مستقبل کے ٹرانسپورٹ نظام کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال صاحب الیکٹرک گاڑیوں کے منصوبوں پر نہایت جوش و خروش سے تقاریر کر رہے ہیں، لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ملک میں اس کے لیے ضروری انفراسٹرکچر موجود ہے؟ کیا چارجنگ اسٹیشنز کا مؤثر اور وسیع نیٹ ورک قائم ہو چکا ہے؟ کیا الیکٹرک گاڑیوں کے معیار، حفاظتی تقاضوں اور بعد از فروخت (After-Sales) سروس کی ضمانت موجود ہے؟ اگر ان بنیادی مسائل کو حل کیے بغیر صرف اعلانات کیے جائیں تو عوام کا اعتماد کیسے بحال ہوگا؟
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں طاقتور مفادات، خصوصاً تیل سے وابستہ حلقے، کسی بھی متبادل نظام کو آسانی سے کامیاب نہیں ہونے دیتے۔ عوام چاہتے ہیں کہ حکومت وقتی اعلانات اور نمائشی منصوبوں کے بجائے ایسی مستقل، قابلِ عمل اور پائیدار پالیسیاں بنائے جو حکومتوں کی تبدیلی سے متاثر نہ ہوں اور جن پر برسوں تک تسلسل کے ساتھ عمل درآمد ہو۔
اگر مقصد سوشل میڈیا پر تنقیدی پوسٹ کرنا ہے تو میں اسے مزید مختصر، زیادہ پراثر اور عوامی انداز میں بھی لکھ سکتا ہوں۔
25/07/2026
ہم چترالیوں کی ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ ہم اکثر بروقت، دوراندیشی اور طویل المدتی علاقائی مفادات کو سامنے رکھ کر فیصلے نہیں کرتے۔ ہمارے بہت سے سیاسی رہنما، سماجی کارکن، تاجر، وی لاگرز، صحافی، وکلا، حتیٰ کہ عام لوگ بھی کسی معاملے پر جلد بازی میں رائے قائم کر لیتے ہیں اور جذبات میں آکر اس کا بھرپور اظہار بھی کر دیتے ہیں۔ کچھ ہی عرصے بعد انہی فیصلوں، آراء اور بیانات پر نظرِ ثانی یا پچھتاوا بھی سامنے آجاتا ہے۔
میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ ہزارہ، کشمیر، ملاکنڈ ڈویژن کے دیگر اضلاع اور سابق فاٹا کے لوگ عمومی طور پر اپنےذاتی، اجتماعی، علاقائی اور طویل المدتی مفادات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ شاید ہمیں بھی جذباتی ردِعمل کے بجائے حکمت، مشاورت، اتحاد اور اجتماعی دانش کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔
یہ صرف میری ذاتی رائے ہے۔ آپ اس سے کس حد تک اتفاق یا اختلاف کرتے ہیں؟
اپنی رائے مہذب انداز میں ضرور شیئر کریں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Chitral