SM Media Network

SM Media Network

Share

You go-to Straight Media Network for timely updates, latest happenings, informative insights, and engaging entertainment.

29/09/2026

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین سے سیکریٹری ایس آئی ایف سی جمیل احمد قریشی کی ملاقات، گلگت بلتستان میں توانائی، سیاحت اور دیگر شعبوں میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کے فروغ پر بریفنگ

28/09/2026

ریسکیو 1122 کے 134 عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کا حکم ،SAP، BECS اور NCHD کے 836 ملازمین کو بھی مستقل بنیادوں پر تعینات کرنے کیلئے سمری منظور

28/09/2026

گلگت بلتستان کے سرکاری ملازمین آئندہ ایک ماہ تک چھٹی نہیں لے سکیں گے، نوٹیفکیشن جاری

28/09/2026

وزیراعلی گلگت بلتستان امجد حسین کی سردیوں میں گلگت اور سکردو میں بجلی کی متوقع قلت کے پیش نظر محکمہ برقیات کو ہنگامی اقدامات کی ہدایت

28/09/2026

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے ڈی جی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) خطے کے نادار اور مستحق خاندانوں کی کفالت اور ان کی معاشی حالت کو مستحکم بنانے کے لیے ایک اہم اور سنگ میل حیثیت رکھنے والا منصوبہ ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے گلگت بلتستان کی 1 لاکھ 43 ہزار خواتین کو سالانہ 8 ارب روپے کی مالی معاونت شفاف انداز میں فراہم کی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس رقم کی باقاعدہ اور مسلسل فراہمی سے مستحق اور کمزور طبقات، بالخصوص خواتین کو مالی تحفظ حاصل ہو رہا ہے اور ان کے معاشی حالات میں بہتری آ رہی ہے۔وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے دفتر فراہم کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر ہدایت کی کہ گلگت بلتستان میں بھی مستحق افراد کے اکاؤنٹس میں ان کا رقم ٹرانسفر کیا جائے تاکہ باعزت طریقے سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے دی جانے والی مالی معاونت کو حاصل کرسکیں۔

28/09/2026

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے ریسکیو 1122 کے 134 عارضی ملازمین کو ریگولرائز کرنے کے احکامات جاری کئے تاکہ ملازمین دلچسپی اور دلجوئی کے ساتھ اپنی خدمات سرانجام دے سکیں۔ یہ ملازمین گزشتہ کئی سالوں سے عارضی طور پر اپنی خدمات سرانجام دے رہے تھے اور ان کی مستقلی سے ادارہ ہذا مضبوط بنیادوں پر کام چلانے کا اہل ہوگا۔ دریں اثناء وزیر اعلیٰ نے ریسکیو 1122 کے تمام ملازمین کو مبارک باد دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ ملازمین دن رات خدمت کے جذبے سے سرشار ہوکر عوام اور علاقے کی خدمت کرسکیں گے۔ اسی طرح SAP، BECS اور NCHD کے 836 ملازمین کو بھی صوبائی کابینہ کے ذریعے مستقل بنیادوں پر تعینات کرنے کیلئے سمری کی منظوری دی ہے تاکہ گزشتہ کئی سالوں سے تعیناتی کے انتظار میں بیٹھے ان اساتذہ کی دیرینہ مطالبے کو پورا کیا جارہاہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر امید ظاہر کی ہے کہ ان سکولوں کے اساتذہ اپنی خدمات بھرپور انداز میں سرانجام دیں گے اور عوامی خواہشات پر اترنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔

27/09/2026

وومن کارڈ سے معذوری کارڈ تک — حقوق اور ذاتی مفاد کے درمیان ایک باریک لکیر

تحریر ارشاد کاظمی

معاشرے میں بعض اوقات کسی فرد کی شناخت ہی اس کی سب سے بڑی دلیل بن جاتی ہے۔ عورت ہونے، معذوری رکھنے، اقلیتی پس منظر سے تعلق رکھنے یا کسی دوسرے کمزور طبقے سے وابستگی کو اپنی جائز محرومیوں اور حقوق کی بات کے لیے استعمال کرنا بالکل درست ہے۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب شناخت خود دلیل کا متبادل بن جائے اور اسے کسی اختلاف میں دوسروں کو دبانے، تنقید سے بچنے، ہمدردیاں حاصل کرنے یا ذاتی مفاد حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جانے لگے۔
اسی تناظر میں دنیا بھر میں “Woman Card” جیسی اصطلاح استعمال ہوتی رہی ہے۔ اس سے مراد عموماً وہ طرزِ عمل لیا جاتا ہے جس میں کوئی شخص اپنی صنفی شناخت کو کسی بحث میں اضافی اخلاقی یا سماجی فائدہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کرے۔ تاہم یہ اصطلاح خود بھی متنازع ہے، کیونکہ اسے حقیقی صنفی امتیاز یا ہراسانی کی شکایات کو مسترد کرنے کے لیے استعمال کرنا بھی درست نہیں۔اسی تصور کو سمجھنے کے لیے “Disability Card” یا “معذوری کارڈ” کی اصطلاح بطور ایک سماجی استعارہ استعمال کی جا سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ کوئی فرد اپنی معذوری کا ذکر کرے تو وہ معذوری کو ہتھیار بنا رہا ہے۔ اس کے برعکس، اپنی معذوری کا حوالہ دے کر سہولت، رسائی، مساوی مواقع یا قانونی حق کا مطالبہ کرنا بالکل جائز ہے۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی اختلافِ رائے میں اصل موضوع، دلیل یا عمل کے بجائے معذوری کو اس طرح پیش کیا جائے کہ دوسرا شخص اخلاقی طور پر بولنے، سوال کرنے یا اختلاف کرنے کا حق ہی کھو بیٹھے۔ اگر کسی شخص کی معذوری کو اس بات کے لیے استعمال کیا جائے کہ وہ دوسروں کی عزتِ نفس مجروح کرے، سوشل میڈیا پر انہیں نشانہ بنائے، اپنی ذات کے لیے ہمدردیاں حاصل کرے یا ہر تنقید کو اپنی معذوری کے خلاف حملہ قرار دے، تو یہ طرزِ عمل معذوری کے حقوق کی اصل روح سے مختلف ہو جاتا ہے۔یہ فرق سمجھنا بہت ضروری ہے: حق مانگنا معذوری کارڈ استعمال کرنا نہیں؛ معذوری کو دوسروں کی تذلیل سے بچنے یا ذاتی فائدے کے لیے ڈھال بنانا ایک الگ رویہ ہے۔دنیا کی معذوری حقوق کی تحریک کی تاریخ میں احتجاج، دھرنے، سِٹ اِنز، سڑکوں پر مظاہرے اور علامتی احتجاج سب دیکھنے کو ملتے ہیں۔ امریکہ کی 504 Sit-in سے لے کر مختلف ممالک کی accessibility campaigns تک، افرادِ باہم معذوری نے اجتماعی مزاحمت کے ذریعے اپنے مسائل کو نمایاں کیا۔ ان تحریکوں کا بنیادی مقصد کسی فرد کو زیر کرنا نہیں بلکہ ایسے نظام میں تبدیلی لانا تھا جو لوگوں کی ضروریات اور حقوق کو نظر انداز کرتا تھا۔یہی اصول گلگت بلتستان پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ یہاں افرادِ باہم معذوری کے حقوق کی جدوجہد محض چند موجودہ آوازوں کا نام نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ایسے افراد، والدین، کارکنان، رضاکاران اور سماجی ادارے موجود ہیں جو محدود وسائل کے باوجود اپنے اپنے علاقوں میں تعلیم، بحالی، ہنرمندی، آگاہی، خودمختاری اور بہتر سماجی شمولیت کے لیے کام کرتے آئے ہیں۔
گلگت ڈویژن ہو، دیامر ڈویژن ہو یا بلتستان ڈویژن، دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے بہت سے افراد اور اداروں کے لیے وسائل محدود ہیں، سہولیات محدود ہیں اور رسائی کے مسائل بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ اس کے باوجود وہ افرادِ باہم معذوری اور ان کے خاندانوں تک پہنچنے، انہیں تعلیم و تربیت کے مواقع فراہم کرنے، بحالی کی سہولیات سے جوڑنے اور معاشرے میں ان کی باوقار شمولیت کے لیے اپنی بساط کے مطابق کردار ادا کر رہے ہیں۔یہی وہ خاموش جدوجہد ہے جسے کسی بھی اجتماعی حقوق کی تحریک میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔لیکن یہاں ایک سنجیدہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے: اگر حکومتی وسائل، سرکاری انفراسٹرکچر، انسانی وسائل، مواقع، اعزازات، نمائندگی اور سرپرستی بار بار چند مخصوص افراد یا شخصیات کے گرد مرکوز ہونے کا تاثر پیدا ہو، تو ان تمام خاموش کارکنوں اور اداروں کا کیا ہوگا جو برسوں سے محدود وسائل میں گراس روٹ لیول پر کام کر رہے ہیں؟حکومتی سرپرستی کسی ایک فرد یا چند مخصوص آوازوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اگر افرادِ باہم معذوری کی فلاح و بہبود کے لیے وسائل مختص کیے جاتے ہیں تو ان کی تقسیم شفاف، منصفانہ اور ضرورت، اہلیت، حقیقی کام اور اجتماعی اثرات کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ گلگت، دیامر اور بلتستان ڈویژن کے مختلف علاقوں میں کام کرنے والے افراد اور اداروں کو بھی اپنی خدمات اور ضرورت کے مطابق مواقع ملنے چاہئیں۔
خصوصاً وہ لوگ جنہوں نے آج سے کئی دہائیاں قبل گلگت بلتستان جیسے نسبتاً کم وسائل والے خطے میں افرادِ باہم معذوری کے حقوق کی آواز بلند کرنے کی بنیاد رکھی، ان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔ کسی تحریک کی تاریخ صرف آج کے نمایاں چہروں سے نہیں بنتی؛ اس میں ان خاموش کرداروں کا حصہ بھی ہوتا ہے جنہوں نے اس وقت آواز اٹھائی جب شاید ان کی آواز سننے والا کوئی نہیں تھا۔دوسری جانب، اگر کوئی فرد اپنی معذوری کو دوسروں کی تذلیل، کردار کشی، بلیک میلنگ یا سوشل میڈیا پر عزتیں اچھالنے کے لیے استعمال کرے تو اس رویے کو محض اس بنیاد پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ متعلقہ شخص افرادِ باہم معذوری کی کمیونٹی سے تعلق رکھتا ہے۔ احتجاج اور اختلاف ہر انسان کا حق ہے، لیکن کسی کی عزتِ نفس پامال کرنا کسی حق کا حصہ نہیں۔یہاں ایک توازن بھی ضروری ہے۔ ایک فرد یا چند افراد کا رویہ پوری افرادِ باہم معذوری کی کمیونٹی کی نمائندگی نہیں کرتا۔ اسی طرح کسی ایک شخص کے غلط طرزِ عمل کی بنیاد پر پوری کمیونٹی کو موردِ الزام ٹھہرانا بھی ناانصافی ہوگی۔اب وقت آ گیا ہے کہ گلگت بلتستان میں افرادِ باہم معذوری کے حقوق کی تحریک کو شخصیات کے بجائے اصولوں، اداروں اور اجتماعی مفاد کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے۔ موجودہ صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ گلگت، دیامر اور بلتستان ڈویژن میں افرادِ باہم معذوری کے لیے مختص وسائل، سہولیات اور مواقع کی تقسیم کے لیے واضح اور شفاف طریقۂ کار وضع کریں، تاکہ سرکاری سرپرستی چند مخصوص آوازوں تک محدود نہ رہے۔ضرورت ہے کہ افرادِ باہم معذوری کے نمائندہ اداروں، گراس روٹ سطح پر کام کرنے والی تنظیموں اور انفرادی کارکنوں کی خدمات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے اور وسائل، تربیتی مواقع، سرکاری سہولیات، نمائندگی اور اعزازات کی تقسیم حقیقی کام، ضرورت، اہلیت اور کمیونٹی پر اثرات کی بنیاد پر کی جائے۔صوبائی سطح پر ایک ایسا شفاف مشاورتی فورم تشکیل دیا جانا چاہیے جس میں گلگت، دیامر اور بلتستان ڈویژن سے مختلف اقسام کی معذوری رکھنے والے افراد، خواتین، گراس روٹ اداروں اور تجربہ کار کارکنوں کی متوازن نمائندگی ہو، تاکہ معذوری سے متعلق پالیسیوں اور منصوبوں کے فیصلے چند افراد تک محدود نہ رہیں۔اس کے ساتھ ان افراد کو بھی باقاعدہ طور پر تسلیم اور حوصلہ افزائی دی جائے جنہوں نے کئی برس قبل، محدود وسائل اور کم سہولیات کے دور میں، گلگت بلتستان میں افرادِ باہم معذوری کے حقوق، تعلیم، بحالی اور سماجی شمولیت کی بنیاد رکھنے میں کردار ادا کیا۔ ان کے تجربے کو محض اعزازات تک محدود رکھنے کے بجائے پالیسی سازی اور آئندہ کے منصوبوں میں بھی شامل کیا جائے۔اسی طرح حقوق کی جدوجہد کے نام پر دھمکی، بلیک میلنگ، ذاتی تضحیک، کردار کشی یا سوشل میڈیا پر کسی کی عزتِ نفس مجروح کرنے کے واقعات کے لیے واضح ضابطۂ اخلاق اور شکایات کے مؤثر طریقۂ کار کی ضرورت ہے۔ اختلاف اور احتجاج کا حق برقرار رہنا چاہیے، لیکن کسی بھی شناخت کو دوسروں کے بنیادی احترام اور قانونی حدود سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا۔بالآخر حکومت، سول سوسائٹی اور افرادِ باہم معذوری کی نمائندہ آوازوں کو مل کر یہ یقینی بنانا ہوگا کہ وسائل شخصیت کے بجائے ضرورت کو، سرپرستی قربت کے بجائے کارکردگی کو، اور نمائندگی شور کے بجائے حقیقی خدمت کو ملے۔کیونکہ ایک مضبوط حقوق کی تحریک وہ نہیں جس میں چند افراد طاقتور ہو جائیں؛ مضبوط تحریک وہ ہے جس میں پوری کمیونٹی بااختیار ہو۔
معذوری کو حق کی آواز بنائیے، کسی کی تذلیل کی ڈھال نہیں۔
تحریک کو خدمت کا ذریعہ بنائیے، ذاتی مفاد کا نہیں۔
نمائندگی کو اختیار نہیں، جواب دہ ذمہ داری بنائیے۔
اور وسائل کو امانت سمجھئے، ذاتی جاگیر نہیں۔

25/09/2026

چائینہ میں بین الاقوامی انڈر 16 فٹبال چیمپئن شپ میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے بعد گلگت پڑی بنگلہ سے تعلق رکھنے والے زیدان شاہ نواز نے اسلام آباد میں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈوکیٹ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے علاقے کا نام روشن کرنے اور ٹورنامنٹ کا بیسٹ ڈیفینڈر اعزاز حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کی اور انہیں شیلڈ بھی پیش کی۔ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے کہا کہ زیدان شاہ نواز نئی نسل کےلئے مشعل راہ ہے صحت مندانہ سرگرمیوں میں حصہ لینے سے نوجوان زہنی طور پر مستحکم ہوجاتے ہیں۔

24/09/2026

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین اور چیئرمین واپڈا (واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی) لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید کے مابین اہم ملاقات ہوئی ۔ اس موقع پر گلگت بلتستان میں جاری توانائی منصوبوں (Power Projects) کی پیشرفت اور نئے ہائیڈرو پاور (پن بجلی) پروجیکٹس کی تعمیر کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ​ملاقات کے دوران خطے میں بجلی کے درپیش مسائل کے حل، زیر تعمیر منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے اور توانائی کے مزید وسائل پیدا کرنے کے لیے نئے پروجیکٹس کے لائحہ عمل کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان میں بجلی کے بحران پر قابو پانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، جس کے لیے واپڈا کے تعاون اور جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل انتہائی اہم ہے۔ چیئرمین واپڈا نے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ منصوبوں کی معیار اور رفتاری کو یقینی بنایا جائے گا۔​اس اہم اجلاس میں چیف سیکرٹری گلگت بلتستان ارشد مجید، سیکرٹری قانون فدا حسین اور سیکرٹری برائے وزیر اعلی گلگت بلتستان صفدر خان بھی شریک تھے۔

24/09/2026

گلگت بلتستان کے مسائل پر وزیراعظم کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت اسلام آباد میں منعقد ہوا۔وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین اور قائد حزب اختلاف گلگت بلتستان اسمبلی حافظ حفیظ الرحمن نے اجلاس میں خصوصی شرکت کی۔اجلاس میں گلگت بلتستان کے سیاسی، آئینی، قانونی اور معاشی مسائل کے حل کے لیے مختلف آپشنز کا جائزہ لیا گیا، جبکہ عوام کے مؤثر سیاسی و معاشی حقوق، قومی دھارے میں بھرپور شرکت اور خطے کی ترقی کے لیے قابلِ عمل اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی قومی دھارے میں مؤثر شرکت حکومت کی ترجیح ہے اور مسائل کے حل کے لیے حکومت، گلگت بلتستان کی قیادت اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری ہے۔اجلاس میں گلگت بلتستان کی معاشی و مالیاتی ضروریات، توانائی، سیاحت، قدرتی وسائل، ریونیو اور رابطہ کاری سمیت دیگر متعلقہ امور پر بھی غور کیا گیا۔

Telephone

Website

Address


Gilgit