Mr.Hunzai
"People are of two types: they are either your brothers in faith or your equals in humanity." (Nahjul Balagha, Letter 53)
عید غدیر مبارک
مشہور بروشسکی شاعر حیدر علی خواجہ کی جانب سے الیکشن کے نسبت سے بروشسکی میں ادبی پیغام آپکے سماعتوں کی نذر۔۔پسند آئے تو شئیر لازمی کریں۔۔
زیغم خان کی اس ویڈیو کو ایک دفعہ ضرور دیکھنا پسند اے تو شئیر اور لائک ضرور کرنا۔۔
سینٸر اینکر پرسن حبیب اکرام ہنزہ اور اسماعیلی کمیونٹی کے بارے حق پہ مبنی اپنا رپورٹ میں کیا فرما رہے ہیں ۔۔۔اپ بھی ملاحضہ فرماۓ۔۔۔
28/05/2026
لسبیلہ کی گمنام لاسی اسماعیلی کمیونٹی اور مُکھی ہاشو کی داستان
1742 میں جب لسبیلہ میں جاموٹ قبیلے کے جام عالی خان اول کی حکومت قائم ہوئی، تو ایرانی بلوچستان سے اسماعیلی خاندانوں نے امن کی تلاش میں ہجرت کی اور لسبیلہ کے ساحلی تجارتی مرکز 'سونمیانی' میں آباد ہو گئے۔ 1841 میں ایران میں بڑھتی ہوئی سختیوں کے بعد مزید خاندان یہاں پہنچے۔ سونمیانی میں ایران سے آئے اسماعیلیوں اور کچھ (گجرات) کے اسماعیلی تاجروں کا ملاپ ہوا۔ ان دونوں تہذیبوں کے ملاپ سے ایک مکسڈ نسل وجود میں آئی جسے "لاسی اسماعیلی" کہا گیا، جنہوں نے کچھی اسماعیلیوں سے مذہبی گیتوں (جنان) کا علم سیکھا۔
1842 میں جب امام حسن علی شاہ افغانستان سے کوئٹہ اور پھر لسبیلہ پہنچے، تو انہوں نے سونمیانی کے کچھی تاجر 'وارث کھٹو' (الوانی خاندان) کے ہاں قیام کیا اور انہیں برصغیر کی سرزمیں پر پہلا "وارث" کا اعلیٰ مذہبی خطاب دیا۔ 1796 اور 1852 کے قحط اور لسبیلہ کے حکمران جام میر خان دوم کی سختیوں کے باعث لاسی اسماعیلیوں نے اونٹوں پر 116 میل کا کٹھن سفر طے کیا اور کراچی (لیاری) منتقل ہو گئے۔ انہوں نے لیاری ندی کے کنارے مٹی اور گھاس سے پہلا جماعت خانہ بنایا، جسے بعد میں امام نے باقاعدہ "لاسی جماعت" کا نام دیا۔
اس ہجرت میں ایک 33 سالہ نوجوان بھی شامل تھا، جس کا نام 'ہاشم' (مکھی ہاشو) تھا۔ ان کے والد 'تار محمد' کا نام مقامی لہجے میں 'تھرو' بن گیا، جس سے ان کی نسل آج "ہاشوانی" (Hashwani) کہلاتی ہے۔
کراچی آمد پر وہ بالکل غریب اور دیوالیہ ہو گئے، لیکن ان کی بے پناہ ایمانداری دیکھ کر 1878 میں مشہور برطانوی فرم Ralli Bros. Ltd نے انہیں بلا شرط اپنی ایجنسی دے دی، جس سے وہ کراچی کے صفِ اول کے امیر ترین تاجر بن گئے۔ امیر ہونے کے بعد انہوں نے اپنی دولت غریبوں کے لیے وقف کر دی۔ لیاری کے غریب علاقوں میں پانی کے ٹینک لگوائے، بیواؤں کے وظائف مقرر کیے اور 1902 کے سیلاب میں خود پانی میں اتر کر 100 سے زائد ماہی گیروں کی جانیں بچائیں۔ وہ 1873 سے 1912 تک (39 سال) لاسی جماعت خانہ کے تیسرے مکھی رہے، جو تاریخ کا طویل ترین عرصہ ہے، اور 1910 میں 'اسماعیلیہ سپریم کونسل فار کراچی' کے پہلے صدر بنے۔ وہ انتہائی صابر اور حلیم انسان تھے۔ کونسل کے ایک جھگڑے میں مخالف نے ان پر مٹی پھینکی، مگر انہوں نے غصہ کرنے کے بجائے اسی شام اس کے گھر تقریب میں شرکت کی۔ ان کے اسی تقویٰ کی بنا پر 1902 میں امام نے مکھی ہاشو سمیت 13 مخلص پیروکاروں کے ساتھ تصویر کھنچوائی اور فرمایا: "اگر زمین پر جنت کے باسیوں کو دیکھنا ہے، تو انہیں دیکھ لو۔"
21 دسمبر 1915 کو 95 برس کی عمر میں مکھی ہاشو نے کراچی میں وفات پائی۔۔۔۔۔
27/05/2026
تمام عالم اسلام کو عید مبارک
مولاۓ کاٸنات سات روزہ پاکستان کی دورہ مکمل کر کے واپس چلے گۓ۔۔۔
Gahkuh bala Deedargah
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Gilgit