Noor e Hidayat Foundation Pakistan

Noor e Hidayat Foundation Pakistan

Share

>- بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ: نُّورٌ عَلَىٰ نُورٍ ۗ يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَن يَشَاءُ ۚ - النور، ٣٥ -

05/10/2026
Photos from Noor e Hidayat Foundation Pakistan's post 13/09/2026

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
​«وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى»
(اور نیکی و تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو - سورۃ المائدہ: 2)

​مدرسة و حسينية نور الہدیٰ، نجف اشرف میں مسؤلِ مؤسسة سفينة النجاة کا بابرکت دورہ.

​مدرسة و حسينية نور الہدیٰ، نجف اشرف میں سماحة الشیخ محمد حسن فخر الدین (مسؤل مؤسسة سفينة النجاة آرگنائزیشن) کی تشریف آوری ایک سعادت مند اور بابرکت موقع ثابت ہوئی۔
​اس خوشگوار ملاقات کے دوران انہوں نے نورِ ہدایت کے صدر اور تمام اراکین سے تفصیلی گفتگو کی اور مدرسہ کے امور و سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ شیخِ محترم نے جس خلوص اور محبت کے ساتھ پہلے بھی اس مدرسة و حسينية کی معاونت فرمائی ہے، اسے ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
اسی جذبے کے تحت اس مرتبہ بھی ہر ممکن تعاون کی مکمل یقین دہانی کرائی۔
​مزید برآں، انہوں نے مدرسة و حسينية کے لیے ایک واٹر کولر (Water Cooler) فراہم کرنے کا بھی پرخلوص اعلان فرمایا۔

مسؤلِ ​مدرسة و حسينية اور نورِ ہدایت کے تمام اراکین، سماحة الشیخ محمد حسن فخر الدین صاحب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان کی اس خدمت كو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
​
​قَالَ الإِمَامُ الرِّضَا (عَلَيْهِ السَّلَامُ):
«مَنْ لَمْ يَشْكُرِ الْمُنعِم مِنَ الْمَخْلُوقِينَ لَمْ يَشْكُرِ اللهَ عز وجل»
(ترجمہ: امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا: "جس نے مخلوق کے احسان کا شکریہ ادا نہ کیا، اس نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا۔")
عيون أخبار الرضا.

​خداوندِ متعال ان کی توفیقاتِ خیر میں اضافہ فرمائے، ان کی اس خدمت اور معاونت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور انہیں جزائے خیر و اجرِ عظیم عطا فرمائے۔
​
نورِ ہدایت فاؤنڈیشن نجف اشرف عراق.

Photos from Noor e Hidayat Foundation Pakistan's post 04/09/2026

مبارکبادی
مدرسہ و حسینیہ نور الہدیٰ نجف اشرف میں نور ہدایت فاؤنڈیشن شعبہ نجف اشرف کے صدارتی انتخابات

بسم اللہ الرحمن الرحیم
> ﴿وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ﴾
> (ترجمہ: اور کہہ دیجیے کہ عمل کرو، عنقریب اللہ، اس کا رسول اور مومنین تمہارے عمل کو دیکھ لیں گے۔ [سورۃ التوبہ: 105])

17 ربیع الاول 1448 ہجری کو ولادتِ با سعادت سرورِ کائنات، خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفٰی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور بانیِ مذہبِ جعفریہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے پر مسرت و مسعود موقع پر مدرسہ و حسینیہ نور الہدیٰ نجف اشرف میں صدارتی انتخابات کا انعقاد کیا گیا۔
انتخابی عمل کے نتیجے میں سماحة الشيخ منير جوادی صاحب نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے نورِ ہدایت فاؤنڈیشن پاکستان (شعبہ نجف اشرف) کی صدارت کا اہم اور ذمہ دارانہ قلمدان سنبھال لیا ہے۔

انتخابات کے نتائج کے بعد ایک پروقار تقریب کا انعقاد ہوا جس میں سابقہ صدر سماحة الشيخ محمد بشير أنصاري صاحب نے نو منتخب صدر سماحة الشيخ منیر جوادی صاحب کو ہار پہنا کر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے نو منتخب صدر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے اس عظیم دینی اور علمی امانت کو ان کے سپرد کیا۔

ہم بارگاہِ الٰہی میں دست بدعا ہیں کہ پروردگارِ عالم نو منتخب صدر سماحة الشيخ منیر جوادی صاحب کو دینِ مبینِ اسلام اور مکتبِ اہل بیت (علیہم السلام) کی ترویج، حوزہ علمیہ اور طلابِ کرام کی خدمت کرنے کی توفیقِ عطا فرمائے اور اس عظیم امانت کو احسن طریقے سے نبھانے میں ان کا حامی و ناصر ہو۔
آمین یا رب العالمین!
من جانب:
نورِ ہدایت فاؤنڈیشن پاکستان
(شعبہ نجف اشرف، عراق)

21/06/2026

صلح امام حسن مجتبیٰ علیہ السّلام سے آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای تک کی حالات کے پیش نظر

*ایران، امریکہ مذاکرات اور تاریخِ عہد شکنی*

✒️ سید احمد رضوی

تاریخِ اسلام اور عالمی سیاست کا ایک نہایت اہم اور قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ اہلِ ایمان اور باطل قوتوں کے درمیان جب بھی صلح، مذاکرات یا مفاہمتی معاہدات طے پائے، اکثر یہ دیکھا گیا کہ معاہدے کی درخواست اور مذاکرات کی ضرورت دوسری جانب سے زیادہ محسوس کی گئی۔ لیکن افسوس کہ تاریخ کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد اس کی پاسداری میں سب سے زیادہ کمزوری بھی انہی قوتوں نے دکھائی جنہوں نے مذاکرات کی خواہش ظاہر کی تھی۔

اسلامی تاریخ میں صلحِ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اس حقیقت کی واضح مثال ہے۔ امام حسنؑ نے امتِ مسلمہ کے وسیع تر مفاد اور خونِ مسلم کی حفاظت کے لیے صلح کو قبول فرمایا، حالانکہ آپؑ حق پر تھے اور آپؑ کا موقف کسی کمزوری کا نتیجہ نہیں تھا۔ لیکن معاہدہ طے پاتے ہی معاویہ کی جانب سے اس کی شرائط کو پسِ پشت ڈالنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ یوں ثابت ہوا کہ حق و باطل کے درمیان ہونے والے معاہدات میں صرف تحریری دستاویز کافی نہیں ہوتی بلکہ اصل مسئلہ فریقین کی نیت اور کردار کا ہوتا ہے۔

یہی روش بعد کی تاریخ میں بھی بار بار دیکھی گئی۔ استعماری طاقتوں نے مختلف ادوار میں مسلم ممالک کے ساتھ معاہدات کیے، لیکن جب ان کے سیاسی یا معاشی مفادات کو خطرہ محسوس ہوا تو انہوں نے انہی معاہدات کو توڑنے، ان کی نئی تشریحات پیش کرنے یا انہیں بے اثر بنانے کی کوشش کی۔ گویا مذاکرات ان کے لیے ایک مستقل اصول نہیں بلکہ ایک وقتی حکمتِ عملی ہوتے ہیں۔

ایران اور امریکہ کے تعلقات بھی اسی تناظر میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ گزشتہ دہائیوں میں دونوں ممالک کے درمیان متعدد مذاکرات ہوئے۔ خاص طور پر جوہری معاہدے کے سلسلے میں دنیا نے دیکھا کہ طویل مذاکرات کے بعد ایک بین الاقوامی معاہدہ وجود میں آیا، لیکن بعد کے حالات نے یہ سوال پھر زندہ کر دیا کہ کیا مغربی طاقتوں پر مکمل اعتماد کیا جا سکتا ہے؟ کیا معاہدے ان کے نزدیک ایک اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہیں یا صرف سیاسی مفاد کا ایک ذریعہ؟

تاریخی تجربات یہی بتاتے ہیں کہ جب تک معاہدہ ان کے مفاد میں ہو، اس کی حمایت کی جاتی ہے، لیکن جیسے ہی حالات بدلتے ہیں، مختلف بہانوں سے اسے کمزور کرنے یا ختم کرنے کی کوشش شروع ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات اقتصادی دباؤ، بعض اوقات سیاسی شرائط اور بعض اوقات جنگی ماحول پیدا کرکے معاہدے کو عملی طور پر بے معنی بنا دیا جاتا ہے۔

قرآنِ کریم نے بھی اہلِ ایمان کو اسی حقیقت کی طرف متوجہ کیا ہے کہ دشمن کی سیاسی چالوں اور سابقہ کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن حکیم بعض معاہدہ شکن گروہوں کے بارے میں فرماتا ہے: «لَا أَيْمَانَ لَهُمْ» یعنی ان کے عہد و پیمان قابلِ اعتماد نہیں ہوتے۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ مؤمن کو سیاسی معاملات میں سادہ لوحی نہیں بلکہ بصیرت اور ہوشیاری سے کام لینا چاہیے۔

یہ بات درست ہے کہ اسلام مذاکرات کا مخالف نہیں۔ اگر صلح اور مذاکرات امت کے مفاد میں ہوں تو اسلام ان کی اجازت دیتا ہے بلکہ بعض مواقع پر انہیں ضروری قرار دیتا ہے۔ لیکن اسلام اندھے اعتماد کی تعلیم بھی نہیں دیتا۔ مذاکرات ہوں، مگر مکمل بیداری کے ساتھ؛ معاہدہ ہو، مگر تمام احتمالات کو سامنے رکھ کر؛ مفاہمت ہو، مگر ماضی کے تجربات کو فراموش کیے بغیر۔

آج جب ایران اور امریکہ کے درمیان ایک بار پھر مذاکرات اور مفاہمت کی باتیں ہو رہی ہیں تو ایرانی مذاکراتی ٹیم کے لیے ضروری ہے کہ وہ ماضی کے تجربات کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھے۔ اگر پہلے معاہدات میں بعض نقصانات یا مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو ان سے سبق حاصل کیا جائے اور ایسی ضمانتیں اور حکمتِ عملیاں اختیار کی جائیں کہ دشمن کو عہد شکنی کا موقع نہ ملے۔

تاریخ کا فیصلہ واضح ہے: اہلِ ایمان نے اکثر مواقع پر صبر، حکمت اور استقامت کے ذریعے کامیابی حاصل کی، لیکن دوسری جانب سے معاہدات کی خلاف ورزی اور وعدہ شکنی کی مثالیں بھی کم نہیں ملتیں۔ لہٰذا مذاکرات اگر ناگزیر ہوں تو انہیں قوت، بصیرت اور مکمل احتیاط کے ساتھ آگے بڑھانا چاہیے، کیونکہ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ معاہدے پر دستخط کرنا آسان ہے، مگر اس پر عمل درآمد کے لیے قابلِ اعتماد فریق کا ہونا ضروری ہے۔

19/06/2026

سوال :
تبلیغ دین پر کب سے اجرت شروع ہو گئی؟
علامہ ڈاکٹر سید احمد رضوی کا مدلل جواب ۔
1- جب سے اہل علم کی جگہ نادان ذاکروں کو بٹھانا شروع کردیا!
2- مجالس عزاء بانیوں کی شہرت اور نام کمانے کا ذریعہ بن گیا!
3- جب سے تعلیم اور ھنر سکھانے پر فیس کی اہمیت بڑھ گئی!
4- جب سے محافل و مجالس دینداری سیکھنے کے بجائے رسمی میلہ بنا دیا!
5- جب سے معیارات ختم کر کے منبر حسینی کو مافیاز کے حوالہ کردیا!
وگرنہ اب بھی سینکڑوں مجالس و محافل ہیں جہاں خطبا کو کچھ نہیں دیا جاتا بلکہ خطبا اپنے ہی جیب سے خرچ کرکے سفر کرتے ہیں اور یہاں تک کہ مجالس کے خرچے بھی دیتے ہیں ۔

09/06/2026

*🌹تبریک نامہ🌹*

*سرپرست اعلی* نور ھدایت فاؤنڈیشن پاکستان *حجۃ الاسلام و المسلمین جناب ڈاکٹر سید احمد رضوی صاحب* کی خدمت میں PHD کے تھیسس کا کامیاب دفاع کرنے پر *مبارکباد* پیش کرتے ہیں۔
امید ہے کہ آغا صاحب اپنے بے پناہ صلاحیتوں کو بروے کار لاتے ہوئے دین و ملت کی خدمت میں پہلے سے زیادہ مصروف عمل ہونگے۔
دعا ہے کہ خداوند متعال آغا صاحب کو مزید ترقیاں عنایت فرمائے اور ہمیں ایسی شخصیات سے بھر پور استفادہ کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔

نور ھدایت فاونڈیشن پاکستان

03/06/2026

حصہ(ششم)
ووٹ مذہبی پارٹی کو دے
یا سیاسی پارٹی کو؟
علامہ ڈاکٹر سید احمد رضوی کا مدلل جواب۔۔

29/05/2026

حصہ (پنجم)
ووٹ کی شرعی حیثیت کیا ہے اور کسے دینا چاہیے؟
مہمان : علامہ ڈاکٹر سید احمد رضوی
میزبان: محمد ابراہیم شہزاد

28/05/2026

نمائندوں کو گلگت بلتستان کے کن حقوق کے بارے میں جدوجہد کرنی چاہیے ؟
علامہ ڈاکٹر سید احمد رضوی کا مدلل جواب۔۔
میزبان: محمد ابراہیم شہزاد

Telephone

Website

Address


Gilgit

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Noor e Hidayat Foundation Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Subscribe

We will notify you when anything happens in Gilgit.