Manzoor Levi

Manzoor Levi

Share

I am serving as a Social Activist and legal advisor.

01/03/2026

رہبرِ اعلیٰ ایران کی وفات

اخری ایسے ٹارگٹڈ حملے کے لئے معلومات کہاں سے ملی دشمن کو؟

یکم مارچ 2026 کو ہونے والے اس حملے کے بعد رات 12 بج کر 37 منٹ پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے انتقال کی خبر دی تھی۔

اگرچہ ابتدائی طور پر ایرانی ذرائع اس خبر کی تصدیق نہیں کر رہے تھے، تاہم اب ایرانی حکام کے مطابق رہبرِ اعلیٰ ایک حملے کے نتیجے میں وفات پا چکے ہیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ ان کے قریبی حلقے کے کئی اہم افراد اور خاندان کے ارکان کی وفات ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ​تادمِ تحریر سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق، درج ذیل اہم شخصیات اس واقعے کا نشانہ بنیں:

​1. ​امیر نصیر زادہ: ایران کے وزیرِ دفاع (جو اس سے قبل ایرانی مسلح افواج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف بھی رہ چکے تھے)۔

2. ​محمد پاکپور: پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی زمینی فوج کے کمانڈر۔

3. ​علی شمخانی: رہبرِ اعلیٰ کے سینیئر مشیر اور سابق سیکرٹری سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل۔

​بتایا جا رہا ہے کہ حملے کے وقت وہاں پاسدارانِ انقلاب کے کئی دیگر سینیئر کمانڈرز اور جوہری پروگرام سے وابستہ چند اہم عہدیدار بھی موجود تھے۔

​​بعض غیر ملکی خبر رساں اداروں (جیسے AP اور Fars News) نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس حملے میں آیت اللہ خامنہ ای کے خاندان کے چند قریبی ارکان بھی جاں بحق ہوئے ہیں، جن میں شامل ہیں:

1. ​ایک صاحبزادی
2. ​داماد
3. ​بہو
4. ​پوتا/نواسا

​​ایران نے باقاعدہ طور پر 40 روزہ سوگ اور 7 روزہ عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے اس حملے کا بدلہ لینے کا سخت عزم ظاہر کیا ہے، جبکہ تہران میں سکیورٹی ہائی الرٹ پر ہے

​اس واقعے نے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی ہے:

تہران سمیت بڑے شہروں میں سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔ جبکہ عوام میں بے یقینی کی لہر پائی جا رہی ہے۔

​​روس اور چین کی جانب سے تعزیتی بیانات سامنے آ رہے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی اتحادی ممالک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ خطے کے استحکام پر پڑنے والے اثرات کا اندازہ لگایا جا سکے۔

​بین الاقوامی تجزیہ کار اسے مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑے تنازع کا آغاز قرار دے رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی (Retaliation) کے خدشے کے پیش نظر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ٹرمپ کے اس خبر کو سب سے پہلے بریک کرنے پر عالمی میڈیا میں بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا امریکہ کے پاس اس حوالے سے کوئی انٹیلیجنس پہلے سے موجود تھی؟

آیت اللہ خامنہ ای پر مبینہ حملے اور اس کے پیچھے موجود انٹیلیجنس کے حوالے سے ابھی تک کوئی بھی باضابطہ یا حتمی رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے، لیکن دفاعی ماہرین اور ماضی کے واقعات کی روشنی میں چند اہم پہلوؤں پر غور کیا جا رہا ہے:

اس قسم کے حملوں میں عام طور پر اندرونی معلومات کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ "انسانی انٹیلیجنس" سے مراد وہ جاسوس یا "اندر کے لوگ" (Infiltrators) ہو سکتے ہیں جو رہبرِ اعلیٰ کی نقل و حرکت، خفیہ ٹھکانوں اور شیڈول سے واقف تھے۔ اسرائیل اور امریکہ پر ماضی میں بھی ایران کے ایٹمی پروگرام اور فوجی قیادت کے حوالے سے "اندرونی نیٹ ورک" رکھنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

​​جدید دور میں کسی بھی بڑے رہنما کو نشانہ بنانے کے لیے موبائل فون، سیٹلائٹ کمیونیکیشن یا ریڈیو سگنلز کا سراغ لگایا جاتا ہے۔ اگرچہ ایرانی قیادت انتہائی حساس مواصلاتی نظام استعمال کرتی ہے، لیکن ٹیکنالوجی کے ذریعے ان سگنلز کو ڈی کوڈ کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔ اس عمل کو سگنل انٹیلیجنس (SIGINT) کہتے ہیں۔

​​ایران کے سکیورٹی کیمروں یا کلوز سرکٹ ٹی وی (CCTV) نیٹ ورک میں ہیکنگ کے ذریعے رسائی حاصل کرنا بھی ایک ممکنہ راستہ ہو سکتا ہے۔ اس سے حملے کے وقت ہدف کی موجودگی کی 100 فیصد تصدیق کی جا سکتی ہے۔

​​چونکہ خبر سب سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے دی، اس لیے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ امریکی انٹیلیجنس اداروں (جیسے CIA یا NSA) نے سیٹلائٹ تصاویر یا "ہائی ٹیک ڈرون سرویلنس" کے ذریعے حملے کے فوری بعد کامیابی کی تصدیق کر لی ہوگی۔

​​بین الاقوامی تجزیہ کار اکثر ایران کے اندر پیچیدہ آپریشنز کا سہرا اسرائیلی انٹیلیجنس ایجنسی موساد (Mossad) کے سر باندھتے ہیں۔ ان کا ایران کے اندرونی حلقوں میں اثر و رسوخ اور جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال اس قسم کے حملوں کو ممکن بنا سکتا ہے۔

​یہ حملہ صرف کسی ایک ذریعے سے نہیں بلکہ ملٹی لیئر انٹیلیجنس (یعنی سیٹلائٹ، انسانی جاسوس اور سائبر ہیکنگ کا مجموعہ) کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ ایران اب اس بات کی تحقیقات کر رہا ہوگا کہ اس کی سکیورٹی میں اتنی بڑی دراڑ کہاں سے پیدا ہوئی۔

​علی خامنہ ای

علی خامنہ ای 19 اپریل 1939 کو مشہد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جواد خامنہ ای کا تعلق آذربائیجان کے علاقے "خامنہ" سے تھا، اس لیے نام کے ساتھ خامنہ ای لکھتے ہیں۔ خامنہ ای نے 1958 میں اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے قم کا رخ کیا، جہاں انہوں نے خمینی، آیت اللہ بروجردی اور علامہ طباطبائی جیسے جید علما سے استفادہ کیا۔

1960 کی دہائی میں انہوں نے امام خمینی کی تحریک میں عملی حصہ لیا، جس کے نتیجے میں قید، جلاوطنی اور سختیاں برداشت کرنا پڑیں۔

1981 میں ایک قاتلانہ حملے میں ان کا دایاں ہاتھ مفلوج ہو گیا، جس کے بعد انہیں ایران میں “زندہ شہید” کہا جانے لگا۔

انقلاب کے بعد علی خامنہ ای مختلف اہم مناصب پر فائز رہے اور 1981 سے 1989 تک ایران کے صدر رہے۔ ان کے دورِ صدارت میں ایران–عراق جنگ کے انتہائی مشکل سال شامل تھے۔

4 جون 1989 کو امام خمینی کے انتقال کے فوراً بعد، مجلسِ خبرگانِ رہبری نے آئینی ترمیم کے تحت علی خامنہ ای کو ایران کا نیا رہبرِ اعلیٰ منتخب کر لیا۔

علی خامنہ ای 1989 سے اب تک تقریباً 36 سال، 8 ماہ اور 24 دن سے ایران کے سپریم لیڈر ہیں۔

دفاع، خارجہ پالیسی، عدلیہ اور فوج سمیت تمام اہم ریاستی ادارے ان کی نگرانی میں کام کرتے ہیں۔ سیاست کے ساتھ ساتھ وہ ادب، شاعری اور ترجمہ نگاری سے بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔

18/01/2026

متحدہ عرب امارات سے ایک جماعت چالیس دن کیلئے روس میں تبلیغ کی غرض سے گئی۔
تو جس مسجد میں انکی تشکیل ہوئی بدقسمتی سے اسکا قفل بھی زنگ آلود ہوچکا تھا ۔
جماعت کے ساتھیوں نے مسجد کھولی تو ساری مسجد مٹی کا ڈھیر بنی ہوئی تھی ۔
پوری مسجد میں گرد جمع تھی انہوں نے پوری مسجد کی صفائی کی نماز کا وقت ہوا آزان کی آواز سن کر ایک بڑھیاتیز قدموں سے چلتی ہوئی مسجد کی دہلیز پر آکھڑی ہوئی ۔
اور حیرت سے جماعت کے ساتھیوں کو تکنے لگی ۔
غور سے اردگرد کا معائنہ کرتی رہی۔
ساتھیوں کے دریافت کرنے پر کہا کہ میں یہی پڑوس میں رپتی ہوں ستر سال ہوگئے ہیں میں نے کبھی اس مسجد میں کسی کو آتے نہیں دیکھا ۔
جیسا آپکو کرتے دیکھا یہ سب میرے باپ دادا کرتے تھے لیکن انکے بعد جوں جوں وقت گزرتا گیا سب بدلتا گیا ۔
جب تبلیغیوں نے یہ دل سوز باتیں سنیں تو رونے لگ گئے کہ ھم نے آنے میں بہت دیر کردی ۔
اگلے دن یہ لوگ محلے میں گھر گھر دکان دکان پر جا کرکے لوگوں کو جو ناسمجھی کی وجہ سے مرتد ہوچکے تھے انکو اسلام کی دعوت دی پھر سے مسلمان کیا اور مسجد میں لائے ۔
چند ہی ہفتوں میں پورے محلے میں دین کی لہر آ گئی ۔ جیسا کہ اسلام انکے کیلئے اک نیا مذہب ہو ۔
کچھ دنوں بعد محلے والوں نے 500 گز کی قالین پر تمام لوگوں کو جمع کیا اور جماعت والوں سے دین کے معاملات سیکھے اور مزید محنت کیلئے لوگوں کو تاکید کی ۔
پھر جب ان کے چالیس دن پورے ہوگئے تو انکی رخصتی کے دن اس محلے میں گھمسان کا عالم تھا جیسے کہ انکا کوئی خاص عزیز فوت ہوگیا ہو ۔ یہ آپ کہاں جا رہے ہیں ؟؟ کیا آپ لوگوں کو دکانیں چاہئیں؟ ؟
کیا آپ لوگوں کو مکان چاہئے یا عورتیں؟ ؟؟ دکان مکان کا بندوبست ھمارے ذمے ہے ھم اپنی بیٹیوں کے نکاح آپ سے کرنے کیلئے تیار ہیں بس آپ لوگ ھمارے ساتھ رہ کر ھماری اسلام سے متعلق مزید رہنمائی فرمائیں ۔
تو جماعت والوں نے انکو اپنی ترتیب سے متعلق بتایا لیکن وہ مانے ۔
وہ لوگ بضد تھے کہ آپ لوگ واپس نہ جائیں کہیں پھر سے ھماری نسلیں تباہ نہ ہوجائیں تبلیغیوں نے اپنی مجبوریاں اور تقاضے بتائے تو بلاخر اس بات پر وہ آمادہ ہوگئے کہ ھم لوگ جاتے ہی اک دوسری جماعت بھیجنے کے لئے اپنے مرکز میں درخواست کریں گے ۔
اس طرح سے یہ جماعت اللہ کی راہ سے واپس اپنے گھروں کو لوٹ آئی۔

امریکہ میں قریبا 52 صوبے ہیں وہاں کے لوگ جب رائیونڈ میں اجتماع پر آئے تو درخواست کی کہ ھمیں ہر صوبے کیلئے الگ سے ایک جماعت چاہئے جو در
در پہنچ کر اسلام کی حقانیت سے لوگوں کو مستفید کریں۔

امریکہ میں اک جماعت گئی اس جماعت کے دولوگ ایک بندے کے پاس دین کی غرض سے پہنچے تو اس نے اک بندے کا گریبان پکڑ کر کہا میرے ابو امی بغیر کلمہ پڑھے اس دنیا سے چلے گئے ہیں اس سب کے ذمہ دار تم لوگ ہو ۔
تم لوگوں نے دین پہنچانے میں بہت دیر کر دی قیامت کے دن میں تم لوگوں سے اس بات کا حساب لونگا ۔
جب اس آدمی کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس سے اس ملال کی وجہ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ کچھ ہی ماہ پہلے وہاں کی اک دوسری جماعت آئی تھی جنکی بدولت یہ بندہ اسلام سے متاثر ہوکر حلقہ بگوش اسلام ہوا ہے اور اسکو دکھ ہے کہ اسکے والدین بہت بڑی نعمت سے شرمندہ ہوکر ھمیشہ کیلئے جہنم کی آگ میں جلیں گے۔

فلپائن میں 400 سال پہلے 100 فیصد مسلمان تھے لیکن اسلام سے ناھم آہنگی کی بدولت یہ لوگ اسلام سے دور ہوتے گئے اور کچھ لوگ تو برائے نام مسلمان رہ گئے باقی سب مرتد ہوگئے ۔
کسی کا بھائی عیسائی تو کسی کا باپ ۔
جب پہلی بار 1976 میں رائیونڈ سے وہاں جماعت گئی تو سات آدمی اس کام میں لگ گئے پھر 1993 تک ایک لاکھ فلپائینی تبلیغ کی محنت پر گامزن ہوچکے تھے .
بنگلہ دیش میں تبلیغی اجتماع کے موقع پر ایک فرانسیسی آچانک ممبر پر آکر کہنے لگا کہ اے لوگو ھم نے تم لوگوں تک چھوٹی سے چھوٹی اپنی ایجادات بھیجی تاکہ سارے لوگ ھماری ایجادات سے مستفید ہوں لیکن تم نے لوگوں نے مفت کا کلمہ تک ھمارے اجداد سے روکے رکھا اسکا حساب اللہ تم سے لے گا ۔

چند سال پہلے تنزانیہ میں ایک جماعت گئی ۔
کچھ ماہ بعد انکا ایک خط رائیونڈ میں موصول ہوا کہ یہاں کے لوگوں میں دین کی اتنی طلب اور پیاس ہے کہ ایک دن میں 3ہزار لوگوں نے اسلام کی دعوت قبول کر لی ۔
اور جب وہ جماعت سال پورا کرکے واپس آئی تو کارگزاری میں بتایا کہ ایک سال میں 20 ہزار لوگ مسلمان ہوئے ہیں ۔

انگلینڈ میں 1952 میں جب پہلی جماعت گئی تو وہاں صرف دو مسجدیں تھیں اور اب تبلیغ کی محنت اور اللہ کے کرم سے 1500 مساجد ہیں۔ ۔
جن میں سے 100 سابقہ گرجا گھر ہیں ۔
انگلیڈ والوں کا کہنا ہے کہ وہاں اب گرجا گھر بہت کم رہ گئے ہیں جب بھی کوئی گرجا گھر فروخت ہونے لگتا ہے تو مسلمان خریداری میں پہل کرتے ہیں ایک گرجا گھر کی خریداری پر ایک ہندو نے مندر بنانے کیلئے قیمت میں چھڑائی کردی تو مسلمانوں کی عورتوں نے اپنے زیور بیچ کر اسکی رقم ادا کی اور گرجا گھر کی جگہ مسجد تعمیر کرائی ۔
یاد رہے گرجا گھروں کی جگہ مسجدوں کی تعمیر کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے حکومت نے پابندی بھی لگائی تھی ۔ اب وہاں گرجا گھر صرف اتوار والے دن کھولے جاتے باقی پورا ہفتہ بند رہتے ہیں ۔

یوگوسلاویہ میں جب پہلی جماعت گئی تو دور دور تک مسجدوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے انکو ہوٹل میں رہنا پڑا اور اب الحمدللہ دعوت و تبلیغ کی محنت سے وہاں آج 3500مساجد آباد ہیں ۔

ہالینڈ کا موجودہ تبلیغی مرکز پہلے پادریوں کا دینی مدرسہ تھا جہاں پر پادریوں کو دینی تعلیم دی جاتی تھی ۔

لندن میں جو تبلیغی مرکز ہے وہ پہلے عیسائیوں کا گرجا گھر تھا ۔
کینیڈا میں پادریوں کا ایک بہت بڑا مدرسہ تھا لیکن آج وہاں پر قرآن و حدیث کا درس دیا جاتا ہے ۔

فلپائن سے ایک جماعت کو کیوبا بھیجا گیا جس کی برکت سے وہاں کے 3000 مرتدوں نے کلمہ پڑھا اور 30 باقی لوگ بھی اسلام کی دولت سے مالا مال ہوئے ۔
جب یہ جماعت واپس آنے لگی تو کیوبا والے زارو قطار رونے لگے اور درخواست کی کہ ھمارے بھائیوں سے کہنا ھمیں بھول نہ جائیں ھمارے یہاں راہنمائی کیلئے اسلام کے فروغ کیلئے اور ھماری نسلوں کے ایمان کے تحفظ کیلئے آتے رہنا ۔

فلپائن میں عورتوں کی ایک جماعت گئی تو انکا بیان سن کر60 فلپائینی عوروتیں نے وہیں بیٹھ کر اپنے لئے برقعے منگوائے اور واپسی پر برقعوں میں ملبوس ہوکر واپس گھر ہوئی ۔
انہوں نے اپنے بچوں کو دین کی تعلیم کیلئے رائیونڈ بھیجا جب پتہ چلا کہ دینی تعلیم کیلئے پوری دنیا سے لوگ رائیونڈ کی طرف آرہے ہیں اور تعداد میں کثرت کی وجہ سے کچھ بچوں کو واپس کیا جارہا ہے تو فلپائنی عورتوں کی طرف سے ایک خط موصول ہوا کہ خدارا ھم نے اپنے زیور بیچ کر بچوں کو دین کہ تعلیم کیلئے روانہ کیا ہے خدا کیلئے انکو واپس نہ کرنا ورنہ یہ کبھی بھی دین کو سمجھ نہ سکیں گے ۔

کاپی پیسٹ

اچھی باتیں کوئی بھی شیئر نہیں کرتا ناچ گانے اور گناہ کی باتیں شیئر کرتے ہیں برائے مہربانی لائک شیئر اور فالو کر لیں شُکریہ

29/12/2025

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک شخص آپ سے ملنے مدینے کو چلا💙 جب مدینے کے پاس پہنچا تو آدھی رات کا وقت ہو چکا تھا۔۔ ساتھ میں حاملہ بیوی تھی تو اس نے مدینے کی حدود کے پاس ہی خیمہ لگا لیا اور صبح ہونے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔ بیوی کا وقت قریب تھا تو وہ درد سے کراہنے لگی۔۔۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے روز کے گشت پر تھے اور ساتھ میں ایک غلام تھا۔۔۔۔ جب آپ نے دیکھا کے دور شہر کی حدود کے پاس آگ جل رہی ہے اور خیمہ لگا ہوا ہے تو آپ نے غلام کو بھیجا کہ پتہ کرو کون ہے۔۔۔جب پوچھا تو اس نے ڈانٹ دیا کہ تمہیں کیوں بتاؤں۔۔ آپ گئے اور پوچھا تو بھی نہیں بتایا آپ نے کہا کہ اندر سے کراہنے کی آواز آتی ہے کوئی درد سے چیخ رہا ہے بتاؤ بات کیا ہے تو اس شخص نے بتایا کہ میں امیر المومنین حضرت عمر فاروق سے ملنے مدینہ آیا ہوں میں غریب ہوں ، رات زیادہ ہے تو خیمہ لگایا ہے اور صبح ہونے کا انتظار کر رہا ہوں، بیوی امید سے ہے اور وقت قریب آن پہنچا ہے تو آپ جلدی سے پلٹ کر جانے لگے کہ ٹھہرو میں آتا ہوں۔۔۔ آپ اپنے گھر گئے اور فوراً اپنی زوجہ سے مخاطب ہوئے کہا کہ اگر تمہیں بہت بڑا اجر مل رہا ہو تو لے لو گی زوجہ نے کہا کیوں نہیں تو آپ نے کہا چلو میرے دوست کی بیوی حاملہ ہے، وقت قریب ہے چلو اور جو سامان پکڑنا ہے ساتھ پکڑ لو۔۔۔۔
آپ کی بیوی نے گھی اور دانے پکڑ لئے اور آپ کو لکڑیاں پکڑنے کا کہا آپ نے لکڑیاں اپنے اوپر لادھ لیں ،،،
سبحان اللہ ۔۔۔ (یہ کوئی کونسلر، ناظم ، ایم پی اے یا ایم این اے نہیں یہ اس کا ذکر ہو رہا ہے دوستو جو کہ 22 لاکھ مربع میل کا بادشاہ ہے جس کے قوانین آج بھی چلتے ہیں جو عمر فاروق اعظم ہے ) ۔۔۔ جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو فوراً کام میں لگ گئے ۔۔۔۔۔ وہ شخص ایسے حکم چلاتا جیسے آپ شہر کے کوئی چوکی دار یا غلام ہیں،، کبھی پانی مانگتا تو آپ دوڑے دوڑے پانی دیتے کبھی پریشانی میں پوچھتا کہ تیری بیوی کو یہ کام آتا بھی ہے تو آپ جواب دیتے،، جبکہ اس کو کیا پتہ کہ امیر المومنین حضرت عمر فاروق خود ہیں۔۔۔۔ جب اندر بچے کی ولادت ہوئی تو آپ کی زوجہ نے آواز لگائی یا امیر المومنین بیٹا ہوا ہے تو یا "امیر المومنین" کی سدا سن کر اس شخص کی تو جیسے پاؤں تلے زمین نکل گئی اور بے اختیار پوچھنے لگا کیا آپ ہی عمر فاروق امیر المومنین ہیں ؟؟ آپ عمر ہیں ؟ وہی جس کے نام سے قیصر و کسریٰ کانپے آپ وہ ہیں وہی والے عمر ہیں جس کے بارے میں حضرت علی نے کہا کہ آپ کے لئے دعا کرتا ہوں اور جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا مانگ کر اسلام کے لئے مانگا وہی والے نا؟؟
آپ نے کہا ہاں ہاں میں ہی ہوں اس نے کہا کہ ایک غریب کی بیوی کے کام کاج میں آپ کی بیوی، خاتون اول لگی ہوئی ہے اور دھوئیں کے پاس آپ نے اپنی داڑھی لپیٹ لی اور میری خدمت کرتے رہے؟ تو سیدنا عمر رو پڑے اس بدو کو گلے سے لگایا اور کہا تجھے پتا نہیں توں کہاں آیا ہے ؟ ؟ یہ مدینہ ہے میرے آقا کا مدینہ یہاں امیروں کے نہیں غریبوں کے استقبال ہوتے ہیں۔۔۔ غریبوں کو عزتیں ملتی ہیں، مزدور اور یتیم بھی سر اٹھا کر چلتے ہیں۔“
سبحان اللہ
حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ کے اخلاق و عادات ۔
(کنزالعمال ج ۶ : ۳۴۳)
❤️
جزاک اللہ خیرا

Category

Website

Address


Gilgit