Astore Media Network
Managing Director
مار خور
کوئی مانے یا نہ مانے پاکستان اکیلا 4 محاذوں پر جنگ لڑ رہا ھے ہماری ایجنسیاں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں تا کہ ہم پاکستانی محفوظ رہیں پاک فوج زندہ باد
25/09/2026
غذر: الخدمت کا سیلاب متاثرہ 31 کسانوں کی بحالی کے لیے عملی اقدام
غذر: الخدمت اسلامک مائیکرو فنانس گلگت بلتستان کے کسان بحالی منصوبہ کے تحت ضلع غذر کے 31 سیلاب متاثرہ کسانوں میں چھوٹے، ہاتھ سے چلنے والے ٹریکٹرز تقسیم کر دیے گئے۔
اس موقع پر صدر الخدمت فاؤنڈیشن گلگت بلتستان حاجی فرید اللہ خان، ڈپٹی کمشنر غذر عنایت اللہ، سیکرٹری جنرل نگران کونسل گلگت بلتستان محمد ثالث، ریجنل کوآرڈینیٹر الخدمت اسلامک مائیکرو فنانس گلگت بلتستان نظام الدین، نگران کونسل ضلع غذر کے صدر محمد اویس ایڈووکیٹ اور کوآرڈینیٹر ضلع غذر حاجی بہادر سمیت دیگر ذمہ داران شریک تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی پائیدار بحالی کے لیے امداد کے ساتھ ساتھ روزگار اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ کسان بحالی منصوبہ اسی مقصد کے تحت متاثرہ کسانوں کو زرعی وسائل فراہم کرکے انہیں دوبارہ اپنی زمینوں پر زرعی سرگرمیاں شروع کرنے میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔
الخدمت کے ذمہ داران نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کی بحالی، خودکفالت اور معاشی استحکام کے لیے عملی اور دیرپا اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
25/09/2026
استور ایکسائز پولیس انچارج شفقت کی سربراہی میں منشیات کے خلاف کریک ڈاؤن کیا۔ کارروائ میں کامیابی بھی ملی منشیات سے پاک کرنے کا عہد کیا ہے استور سے منشیات کو پاک کرینگے جن میں چرس آئس اور دیگر منشیات کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں گے ۔ اگر آپ بھی منشیات سے نفرت کرتے ہیں تو منشیات فروشوں کے خلاف آواز اٹھائیں نوجوان نسل کو بچائیں ۔شفقت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا
گلگت بلتستان کے تمام اساتذہ کی نظریں ایک ہی ون پوائنٹ ایجنڈے پر مرکوز ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان جناب امجد حسین ایڈووکیٹ سے پُرزور اپیل ہے کہ اساتذہ کے جائز اور دیرینہ مطالبے پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے اسے فوری طور پر حل کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔
24/09/2026
*گلگت بلتستان کے گورنمنت کالجز میں نئے تعینات شدہ لیکچررز کے لیے چار روزہ انڈکشن ٹریننگ پروگرام اختتام پذیر*
گلگت (پ ر) سیکریٹری ہائیر، ٹیکنیکل اینڈ اسپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ گلگت بلتستان راجہ رشید علی کا نوجوان لیکچررز کو پیشہ ورانہ ذمہ داری، تحقیق اور طلبہ کی رہنمائی پر خصوصی توجہ دینے کا پیغام
گورنمنٹ ڈگری کالج مناور گلگت کے بی ایس بلاک میں گلگت بلتستان کے مختلف سرکاری کالجوں میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے ذریعے حال ہی میں تعینات ہونے والے لیکچررز کے لیے منعقد کیا جانے والا چار روزہ انڈکشن ٹریننگ پروگرام آج اختتام پذیر ہو گیا۔
اختتامی تقریب میں سیکریٹری راجہ رشید علی، ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن کالجز گلگت بلتستان پروفیسر محمد عالم، ایڈیشنل ڈائریکٹر پلاننگ پروفیسر محمد بلال، ڈائریکٹر ٹیکنیکل ایجوکیشن گلگت بلتستان پروفیسر شیر علی، گورنمنٹ کالج مناور گلگت کے پرنسپل پروفیسر فدا حسن، تربیتی پروگرام کے فیکلٹی ممبران، ماہرینِ تعلیم اور نئے تعینات ہونے والے لیکچررز نے شرکت کی۔
اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری ہائر ایجوکیشن گلگت بلتستان راجہ رشید علی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں پہلی مرتبہ نئے تعینات ہونے والے کالج لیکچررز کے لیے اس نوعیت کا انڈکشن ٹریننگ پروگرام منعقد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیکچرر کی تعیناتی محض سرکاری ملازمت کا آغاز نہیں بلکہ طلبہ، اداروں اور معاشرے کے لیے ایک اہم پیشہ ورانہ ذمہ داری کا آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر تدریس کے لیے صرف مضمون پر عبور کافی نہیں بلکہ استاد کے لیے ادارہ جاتی نظام، طلبہ کی نفسیات، تدریسی طریقۂ کار، ٹیکنالوجی، تشخیص و جائزہ، تحقیق، ابلاغ اور پیشہ ورانہ اخلاقیات سے آگاہی بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈکشن ٹریننگ نئے اساتذہ کو ان تمام پہلوؤں کو سمجھنے اور اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے کے لیے تیار کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
سیکریٹری ہائیر ایجوکیشن نے کہا کہ کالج کے طلبہ اپنی تعلیمی دلچسپیوں، پیشہ ورانہ عزائم، اقدار اور معاشرے کے بارے میں اپنی سوچ تشکیل دینے کے اہم مرحلے میں ہوتے ہیں، اس لیے استاد کی ذمہ داری صرف نصاب مکمل کرانا نہیں بلکہ طلبہ میں سوال کرنے، تحقیق کرنے، تنقیدی اور تخلیقی انداز میں سوچنے اور خود اعتمادی پیدا کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیکچررز کو محض مضمون پڑھانے والے استاد کے بجائے طلبہ کے لیے رہنما اور سرپرست کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے تربیتی پروگرام کے مختلف موضوعات کو گلگت بلتستان کے تعلیمی نظام کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادارہ جاتی تعارف، کیریئر پروگریشن، اکیڈمک و اینڈراگوگک ٹریننگ، ڈیجیٹل و بلینڈڈ لرننگ، کمیونیکیشن، لیڈرشپ، تحقیق و اکیڈمک رائٹنگ، طلبہ کی رہنمائی و کونسلنگ اور اکیسویں صدی کی مہارتیں نئے لیکچررز کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ سیکریٹری ہائر ایجوکیشن راجہ رشید علی نے بین الشعبہ جاتی تدریس، مقامی تناظر، صنفی و سماجی ذمہ داری اور طلبہ مرکز تدریس کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے کالج متنوع معاشروں کی خدمت کر رہے ہیں، اس لیے تدریس میں خطے کے سماجی، ثقافتی اور تعلیمی حقائق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کا مقصد طلبہ کو صرف روزگار کے لیے تیار کرنا نہیں بلکہ انہیں ذمہ دار شہری اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنانا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید تعلیم میں استاد مرکز تدریس کے بجائے طلبہ مرکز تدریس کی طرف منتقلی ضروری ہے اور طلبہ کی تشخیص و جائزہ کا مؤثر نظام بھی اسی عمل کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق ایک استاد کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ نہیں کہ وہ کتنا بولتا ہے بلکہ یہ ہے کہ طلبہ کتنا سیکھتے، سمجھتے اور حاصل شدہ علم کو عملی طور پر استعمال کرتے ہیں۔
سیکریٹری ہائیر ایجوکیشن نے مزید کہا کہ تعلیم یافتہ ہونا اپنے ساتھ ذمہ داری بھی لاتا ہے اور استاد کا ذاتی کردار اکثر اس کے لیکچر سے زیادہ مؤثر انداز میں طلبہ کی تربیت کرتا ہے۔ انہوں نے نئے لیکچررز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے کالجوں کا معیار بالآخر وہاں تدریس سے وابستہ افراد کی وابستگی، قابلیت اور کردار پر منحصر ہوگا۔
اس موقع پر ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن کالجز پروفیسر محمد عالم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انڈکشن ٹریننگ پروگرام کا مقصد نئے لیکچررز کو کالج کے ماحول، تدریسی ذمہ داریوں اور جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تربیت کے دوران حاصل ہونے والی مہارتوں کو عملی تدریس میں بروئے کار لانا ہی اس پروگرام کی حقیقی کامیابی ہوگی۔ انہوں نے شرکاء کو تربیتی پروگرام کامیابی سے مکمل کرنے پر مبارکباد بھی پیش کی۔
گورنمنٹ کالج مناور گلگت کے پرنسپل پروفیسر فدا حسن نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ کالج کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ نئے تعینات ہونے والے لیکچررز کے لیے اہم تربیتی پروگرام کی میزبانی کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ جدید تعلیم کے تقاضوں سے ہم آہنگ تدریسی ماحول کے لیے اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے تربیتی پروگرام کے انعقاد میں تعاون کرنے والے تمام متعلقہ حکام، ماہرینِ تعلیم، فیکلٹی ممبران اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
چار روزہ انڈکشن ٹریننگ پروگرام کے دوران نئے لیکچررز کو Institutional Orientation and Career Progression، Academic and Andragogic Training، Digital and Blended Learning Skills، Communication and Leadership Development، Research and Academic Writing، Student Mentorship and Counselling، 21st Century Skills، Subject Integration and Interdisciplinary Teaching، Local Context, Gender and Social Responsibility، Student-Centred Approach اور Assessment and Evaluation of Students سمیت مختلف اہم موضوعات پر تربیت فراہم کی گئی۔
تربیتی سیشنز میں لیکچرز، عملی مشقوں، گروپ ڈسکشنز اور سوال و جواب کے ذریعے شرکاء کو جدید تدریسی تقاضوں سے روشناس کرایا گیا، تاکہ وہ اپنے متعلقہ کالجوں میں طلبہ کے لیے زیادہ مؤثر، تحقیقی اور تخلیقی تعلیمی ماحول تشکیل دے سکیں۔
اختتامی تقریب کے موقع پر تربیتی پروگرام میں شریک تمام فیکلٹی ممبران اور نئے تعینات ہونے والے لیکچررز میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر شرکاء نے تربیتی پروگرام کو اپنی پیشہ ورانہ اور تدریسی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے مفید قرار دیا۔
اختتامی تقریب کے آخر میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ گلگت بلتستان کے سرکاری کالجوں میں تدریس کے معیار کو مزید بہتر بنانے، اساتذہ کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے اور طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے مستقبل میں بھی اس نوعیت کے تربیتی پروگرام جاری رکھے جائیں گے۔
منشیات سے پاک گلگت بلتستان کل علماء کرام جمعہ کے خطابات میں چرس آئس اور دیگر منشیات کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں گے ۔ اگر آپ بھی منشیات سے نفرت کرتے ہیں تو منشیات فروشوں کے خلاف آواز اٹھائیں نوجوان نسل کو بچائیں ۔
24/09/2026
پولیس فزیکل ٹیسٹ ضلع استور میں ہی منعقد کیا جائے۔
استور کے نوجوان پہلے ہی بے روزگاری کی مشکلات سے دوچار ہیں۔ دوسرے ضلع میں فزیکل ٹیسٹ کے لیے جانے پر سفر رہائش اور کھانے پینے کے اخراجات ملا کر ایک امیدوار کا کم از کم 15 ہزار روپے خرچ ہو جاتا ہے جو ایک بے روزگار نوجوان کے لیے بہت بڑی رقم ہے خصوصاً خواتین امیدواروں کے لیے دوسرے ضلع کا سفر اور قیام مزید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے لہٰذا اعلیٰ حکام سے گزارش ہے کہ نوجوانوں اور خواتین امیدواروں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے فزیکل ٹیسٹ ضلع استور میں ہی منعقد کیا جائے۔
نوجوانوں کو روزگار کے مواقع دیں غیر ضروری اخراجات کا بوجھ نہیں۔
تارو گلگتی
سوشل ورکر استور
چلاس کے جلیل گاؤں سے تعلق رکھنے والے سون خان کی محنت اور اپنے بچوں کے لیے قربانی کی ایک قابلِ فخر داستان۔
سون خان نے محکمۂ صحت میں بطور ڈرائیور اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے دن رات محنت کی۔ آج ان کی محنت کا ثمر یہ ہے کہ ان کے تمام 6 بچے، تین بیٹے اور تین بیٹیاں، میڈیکل ڈاکٹرز ہیں۔
یہ صرف ایک خاندان کی کامیابی نہیں بلکہ اس بات کی روشن مثال ہے کہ والدین کی محنت، قربانی، حوصلے اور بچوں کی تعلیم پر توجہ نسلوں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
سون خان صاحب! آپ کی محنت اور قربانی کو سلام۔
آپ کے چھ ڈاکٹر بچے پورے جلیل گاؤں، چلاس اور گلگت بلتستان کے لیے باعثِ فخر ہیں۔
یہ داستان ہمیں سکھاتی ہے کہ وسائل محدود ہوں تو بھی اگر عزم مضبوط ہو تو کامیابی کا راستہ ضرور نکلتا ہے۔
24/09/2026
گلگت بلتستان میں جعلی نوٹوں کی بھر مار سکیورٹی ادارے نوٹس لیں
24/09/2026
محبت، خلوص اور غلط فہمیوں کے خاتمے کی خوبصورت مثال ❤️
آج شمس الاسلام صاحب اور ظہور صاحب کی ایک خوشگوار نشست ہوئی، جس میں معززینِ علاقہ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر دونوں افسران نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر ماضی کی غلط فہمیوں کو ختم کیا اور باہمی احترام، خلوص اور محبت کا اظہار کیا۔
دونوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ اپنے رشتے اور تعلق کو مزید مضبوط بنائیں گے اور علاقے کے وسیع تر مفاد میں باہمی تعاون، احترام اور بھائی چارے کو فروغ دیں گے۔
غلط فہمیاں ختم ہوں تو دل قریب آتے ہیں، اور رشتے مزید مضبوط ہوتے ہیں۔ 🤝❤️
Category
Telephone
Website
Address
Gilgit