ARY News

ARY News

Share

This is a fan page

06/09/2026

مزدور کسان پارٹی کے چیئرمین سالار فیاض علی ایک حادثے میں زخمی ہو گئے۔ انہیں ہری چند جمال آباد ھسپتال میں ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد مزید علاج کے لیے پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال (LRH) ریفر کر دیا گیا ہے۔ تمام دوستوں، کارکنوں اور عوام سے سالار فیاض علی کی جلد صحت یابی کے لیے خصوصی دعا کی درخواست ہے۔

Photos from ARY News's post 01/09/2026

Find the different

18/08/2026

"پی ٹی آئی حکومت کو اس بات پر راضی کر رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں مزید صوبے بنائے جائیں، اور اس کے بدلے ہم عمران خان کو رہا کر دیں گے۔ یہ ایک ڈیل ہے۔"

11/08/2026

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا اچانک نیشنل چینلز پر آنا بڑا عجیب ہے۔
جو چینلز بڑے بڑے جلسوں کو کوریج نہیں دے رہے تھے، آج بھرپور کوریج دے رہے ہیں۔
ہم خوش بھی ہیں اور حیران بھی!

10/08/2026

دسمبر 2025 میں خیبرپختونخوا اسمبلی نے ہزارہ کو الگ صوبہ بنانے کے لیے وفاقی حکومت سے آئینی عمل شروع کرنے کا مطالبہ کرنے والی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ قرارداد PTI کے رکن نذیر احمد عباسی نے پیش کی تھی۔
لیکن اس معاملے نے خود PTI کے اندر سوالات پیدا کر دیے۔ فروری 2026 میں PTI کے رکن سجاد برکوال نے اسمبلی میں اس قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی قیادت سے مناسب مشاورت نہیں کی گئی اور خیبرپختونخوا کی تقسیم قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا عمران خان یا پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو اس فیصلے پر اعتماد میں لیا گیا تھا؟
اگر
PTI
کی مرکزی قیادت خیبرپختونخوا کی تقسیم کے حق میں تھی تو پارٹی کے اندر اس معاملے پر واضح پالیسی کیوں سامنے نہیں آئی؟ اور اگر قیادت اس کے حق میں نہیں تھی تو PTI کے رکن کی جانب سے ایسی قرارداد کیسے منظور ہو گئی؟
یہاں سے سیاسی قیاس آرائیاں شروع ہوتی ہیں کہ کہیں صوبے کی تقسیم کو کسی بڑے سیاسی سمجھوتے کا حصہ تو نہیں بنایا جا رہا۔ خصوصاً ایسے وقت میں جب عمران خان کی رہائی PTI کی سب سے بڑی سیاسی ترجیح ہے۔ 2026 میں PTI کے پارلیمانی حلقوں کی جانب سے بھی عمران خان اور دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کو مرکزی ترجیح قرار دینے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
اگر واقعی کوئی ایسا سمجھوتہ موجود ہے جس میں ایک طرف عمران خان کی رہائی اور دوسری طرف خیبرپختونخوا کی تقسیم ہو، تو یہ کسی ایک سیاسی جماعت کا اندرونی معاملہ نہیں رہے گا۔ یہ تقریباً پورے صوبے کے مستقبل، شناخت، وسائل، سیاسی طاقت اور آنے والی نسلوں کا مسئلہ بن جائے گا۔

09/08/2026

ANP walo pti ne soba taqseem karne ilan kardya
Jagoo

09/08/2026

پی ٹی آئی کے دوست کہتے ہیں کہ غازی تحصیل کا نوٹیفکیشن جعلی ہے اور تمہیں ہماری حکومت پر تنقید کرنے کے لیے بہانہ چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ آپ بھی فین کلب سے باہر نکلیں اور اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچیں۔ اگر یہ نوٹیفکیشن جعلی بھی ہو، تو ایسے حکومت پر کوئی کیسے اعتماد کرے جس نے تین مرتبہ ہزارہ صوبے کے قراردادیں منظور کی ہیں؟
پہلی مرتبہ مارچ 2014 میں، دوسری مرتبہ جنوری 2022 میں اور تیسری مرتبہ دسمبر 2025 میں کیا پی ٹی آئی حکومت نے ہزارہ صوبے کے قراردادیں منظور نہیں کیں؟ اور وفاقی حکومت کو عمل درآمد کے لیے نہیں بھیجیں؟
کیا یہ بھی جعلی ہیں؟ جس حکومت نے صوبے کی خودمختاری اور اس کے وجود کی گردن پر تین مرتبہ تقسیم کی چھری چلائی ہو، اس پر کوئی کیسے اعتماد کرے؟ اعتماد تو انہوں نے خود ہی ختم کر دیا ہے، کیونکہ یہ سب کچھ صوبائی ریکارڈ کا حصہ ہے۔
حکمرانی کا یہ حال ہے کہ صوبے کو دیوالیہ کر دیا۔ 2013 میں خیبر پختونخوا پر قرض تقریباً 250 ارب روپے تھا، جبکہ اب صوبائی حکومت کا سرکاری قرض تقریباً 680 ارب روپے ہے۔ یعنی 13 سال میں قرض 430 ارب روپے بڑھ گیا۔
کیا یہ قرضے اور اعداد و شمار بھی جعلی ہیں؟ کیا اس قرضے کا بڑا حصہ صوبائی وزراء اور مشیروں کی جیبوں میں نہیں گیا؟ اگر نہیں گیا تو پھر کہاں گیا؟
امن و امان کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ عوام خوف کے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔ بم دھماکے معمول بن گئے ہیں، لوگوں کے کاروبار تباہ ہیں اور غریب عوام زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ میرٹ کے بجائے ہر محکمے میں بھرتیاں یا تو سفارش پر ہوتی ہیں یا پیسوں کے ذریعے۔ کیا یہ بھی جعلی ہے؟
صوبے کے وسائل اور دیگر زمینی معدنیات پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں، اور اس نقصان کا سارا بوجھ مہنگائی کی صورت میں بجٹ کے ذریعے عوام سے وصول کیا جاتا ہے۔ کیا یہ بھی جعلی ہے؟
کیا صوبائی حکومت کا کام صرف ’’804‘‘ کے نعرے لگانا ہے؟ یہ بھی لگاتے رہیں، لیکن منافقت کی انتہا یہ ہے کہ وہ اپنے لیڈر کے ساتھ بھی مخلص نہیں ہیں۔ قومی وسائل کی لوٹ مار اور اپنے مراعات کے لیے کشمکش ان کی ترجیحات ہیں۔
13 سال میں صوبے کو دیوالیہ کر دیا۔ نااہلی کے مزید کتنے ثبوت چاہیے؟ ذرا آنکھیں کھولیں اور سچ بولیں۔

Photos from ARY News's post 09/08/2026

افسوس ناک خبر
تخت بھائی ٹی ایم او کی تعیناتی اور اچانک واپسی، کئی سوالات جنم لینے لگے
7 اگست 2026 کو ٹی ایم او تخت بھائی کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری ہونا اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ متعلقہ افسر کو اس اہم ذمہ داری کے لیے اہل اور موزوں سمجھا گیا۔ سرکاری سطح پر کسی افسر کی اہلیت اور کارکردگی کو تسلیم کرنا نہ صرف ادارہ جاتی بہتری بلکہ دیگر افسران کے لیے بھی حوصلہ افزائی کا باعث بنتا ہے۔
ذرائع کے مطابق، عثمان علی نشاد کو عوامی مقبولیت بھی حاصل ہے اور مقامی سطح پر انہیں ایک فعال اور قابل افسر کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس سے ان کی تعیناتی کو مزید تقویت ملتی ہے۔
تاہم، تعیناتی کے محض ایک روز بعد ہی رات کے وقت چھٹی کے دوران اسی حکم کو واپس لینے کا فیصلہ کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ اگر یہ تقرری میرٹ اور انتظامی ضرورت کے تحت کی گئی تھی تو صرف 24 گھنٹوں میں اس فیصلے کی واپسی کی وجوہات عوام کے سامنے لانا ناگزیر ہے۔
حکومتی و انتظامی معاملات میں شفافیت، تسلسل اور میرٹ کی پاسداری انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ قابل افسران کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ ایسے فیصلوں میں وضاحت عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔

04/08/2026

ڈرو اس دن سے جب 29 صوبے بن گئے اور ایسے چھوٹے چھوٹے فرعونوں کی تعداد 29 گنا زیادہ ہو گی اور ملک ترقی کی بلندیوں کو چھوئے گا۔۔اسٹنٹ کمشنر صاحبہ کا بارش اور لال کارپٹ پہ رومانس!

Category

Website

Address


Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ARY News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Subscribe

We will notify you when anything happens in Islamabad.