Youngistan

Youngistan

Share

To create awareness among the Young generation of Pakistan.

10/08/2026

ڈاکٹر کرم الٰہی، دیر سے تعلق رکھنے والے ایک باصلاحیت، دیانت دار اور فرض شناس کسٹمز افسر ہیں، جو اسلامیہ کالج اور جامعہ پشاور کے فارغ التحصیل ہیں۔ جہاں جہاں ان کی تعیناتی ہوئی، انہوں نے اسمگلنگ اور غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں کے خلاف بلاخوف و خطر اپنی ذمہ داریاں ادا کیں، حتیٰ کہ بلوچستان میں اپنی آخری تعیناتی کے دوران بھی وہ اسمگلر مافیا کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہے۔ آج اگر وہ اپنی دیانت، اصول پسندی اور فرض شناسی کے باعث تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں تو یہ ایک سنجیدہ سوال ضرور اٹھاتا ہے کہ کیا ایمانداری کی قیمت یہی ہے؟ انہیں کسی بھی الزام سے پہلے شفاف اور منصفانہ تحقیقات اور مکمل قانونی حقِ دفاع دیا جانا چاہیے؛ اور اگر الزامات ثابت نہ ہوں تو ان کی عزتِ نفس بحال کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر بحال کیا جانا چاہیے۔ ایماندار افسر کو تنہا چھوڑ دینا دراصل بدعنوان عناصر کو حوصلہ دینا ہے۔
پاکستانی حکام نے مبینہ طور پر پاکستان کسٹمز کے سینئر افسر ڈاکٹر کرم الٰہی کو کرپشن کے الزامات کے تحت گرفتار کر لیا ہے، جبکہ ان کے فیملی کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے بلوچستان میں ایک بااثر اسمگلنگ نیٹ ورک کے خلاف سخت کارروائی کی تھی۔

کرم الٰہی بلوچستان میں بطور کلیکٹر کسٹمز خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے بااثر اسمگلروں سے منسلک ایک کمپنی کو بلیک لسٹ کیا اور صوبے میں غیر قانونی تجارت اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے متعدد اقدامات کیے۔

ان کے رشتہ داروں کا دعویٰ ہے کہ انہیں ابتدائی طور پر مری سے مبینہ طور پر اغوا کیا گیا اور بعد ازاں وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کی جانب سے پشاور میں گرفتار ظاہر کیا گیا۔

کرم الٰہی کو ان کے حامی پاکستان کسٹمز کے انتہائی دیانت دار افسران میں شمار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق گریڈ 20 کے افسر ہونے کے باوجود وہ اب بھی کرائے کے مکان میں رہتے ہیں اور ان کے پاس اپنی گاڑی بھی نہیں، جبکہ بعض جونیئر کسٹمز افسران نے مبینہ طور پر نمایاں اثاثے اور دولت جمع کر رکھی ہے۔

ان کے رشتہ دار مزید الزام عائد کرتے ہیں کہ حکام ان کے اہلِ خانہ پر دباؤ ڈال رہے ہیں اور انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے تاکہ کرم الٰہی کو کسی سمجھوتے پر مجبور کیا جا سکے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کرم الٰہی بلوچستان میں بڑے پیمانے پر اسمگلنگ میں مبینہ طور پر ملوث بااثر افراد کے بارے میں اہم معلومات منظرِ عام پر لانے کے لیے تیار ہیں۔

کرم الٰہی کے خلاف عائد الزامات اور ان کے مبینہ اغوا، حراست اور اہلِ خانہ کو ہراساں کیے جانے سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ تحقیقات اور متعلقہ پاکستانی حکام کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔

ان کے دوستوں کا کہنا ہے کہ معاملے کی منصفانہ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے سینئر ججز پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے۔ ان کا مؤقف ہے کہ مبینہ طور پر بااثر اسمگلروں کے ملوث ہونے کی وجہ سے سول افسران کے لیے آزادانہ تحقیقات کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

19/07/2026

نیچے نقشے میں ایک انتہائی اہم عالمی تعلیمی حقیقت کی وضاحت کی گئی ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ دنیا کے کن ممالک میں بچے اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور کن ممالک میں انہیں غیر ملکی زبان میں پڑھنا پڑتا ہے- نقشے کا بڑا حصہ (بشمول شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ، یورپ، روس، چین اور آسٹریلیا) پیلے رنگ میں دکھایا گیا ہے- ان ممالک میں اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم کا بنیادی ذریعہ وہاں کی اپنی مادری یا قومی زبان ہے (جیسے امریکہ اور برطانیہ میں انگریزی، چین میں چینی، فرانس میں فرانسیسی اور جاپان میں جاپانی)- یہاں کے بچوں کو پہلے کوئی نئی زبان سیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ وہ بچپن ہی سے اپنے گھر کی زبان میں ریاضی، سائنس اور دیگر مضامین آسانی سے سمجھ لیتے ہیں، جِس سے ان کی ذہنی نشوونما تیز ہوتی ہے- نقشے میں افریقہ کا بیشتر حصہ اور جنوبی ایشیاء (بشمول پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش) اور فلپائن وغیرہ سرخ رنگ میں دکھائے گئے ہیں- ان ممالک میں تعلیم کا بنیادی ذریعہ (Medium of Instruction) کوئی غیرملکی زبان ہے (عام طور پر انگریزی یا فرانسیسی)، جو ان کے گھروں یا گلی محلوں میں نہیں بولی جاتی- یہ وہ ممالک ہیں، جو ماضی میں کِسی بیرونی طاقت (جیسے برطانوی یا فرانسیسی سلطنت) کی نوآبادیات (Colonies) رہے ہیں- آزادی کے بعد بھی ان ممالک نے اپنے تعلیمی نظام میں اُسی غیر ملکی زبان کو برقرار رکھا- سرخ رنگ والے ممالک (جیسے پاکستان یا افریقی ممالک) میں بچوں کو دوہرا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے- انہیں پہلے ایک بالکل نئی اور غیر ملکی زبان (مثلاً انگریزی) سیکھنی پڑتی ہے اور پھر اسی زبان میں مشکل مضامین جیسے سائنس یا ریاضی کو سمجھنا پڑتا ہے- مادری زبان نہ ہونے کی وجہ سے اکثر بچے تصورات (Concepts) کو سمجھنے کے بجائے انہیں صرف یاد یا رٹا مارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں- انگریزی یا کسی دوسری غیرملکی زبان میں تعلیم دینے کی وجہ سے معاشرے میں ایک بڑا طبقاتی فرق پیدا ہو جاتا ہے- جو طبقہ اُس غیرملکی زبان پر عبور حاصل کر لیتا ہے، وہ معاشی اور سماجی طور پر آگے نکل جاتا ہے جبکہ مادری زبان بولنے والے پیچھے رہ جاتے ہیں- یہ نقشہ واضح کرتا ہے کہ ترقی یافتہ دنیا (پیلا رنگ) اپنے بچوں کو ان کی مادری زبان میں تعلیم دے کر آگے بڑھ رہی ہے جبکہ زیادہ تر ترقی پذیر دنیا (سرخ رنگ) اب بھی تعلیمی نظام کے لیے غیرملکی زبانوں پر انحصار کر رہی ہے، جو تعلیمی پسماندگی کی ایک بہت بڑی وجہ ہے-

Photos from Youngistan's post 30/06/2026

خصوصی رپورٹ
پشاور رنگ روڈ پر ہسپتال کیلئے بے نظیر بھٹو کے دور میں 105 کنال زمین، مگر تین دہائیاں گزرنے کے باوجود ہسپتال نہ بن سکا
پشاور کو آج بھی ایک جدید سرکاری ہسپتال کی ضرورت ہے، کیونکہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال، خیبر ٹیچنگ ہسپتال اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پر مریضوں کا غیر معمولی دباؤ ہے۔
دستیاب دستاویزات اور ماضی کی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور (1988) میں پشاور رنگ روڈ پر نئے ہسپتال کے لیے تقریباً 105 کنال زمین حاصل کی گئی تھی۔ بعد ازاں اس منصوبے کو "شہید محترمہ بے نظیر بھٹو ہسپتال" کے نام سے آگے بڑھانے کی کوشش بھی ہوئی، مگر منصوبہ عملی طور پر مکمل نہ ہو سکا۔
(Dawn News)
ذرائع کے مطابق یہ زمین آج بھی موجود ہے مگر ہسپتال کی تعمیر اج تک نہیں ہو سکی۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اس زمین پر آج کل کچرا پھینکا جا رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ،
اس زمین کی موجودہ قانونی حیثیت کیا ہے؟ اور یہ کس کے قبضے میں ہے؟ یا یہ اب بھی محکمہ صحت کی ملکیت ہے؟
اگر ہاں، تو وہاں ہسپتال کیوں تعمیر نہیں کیا گیا؟
گزشتہ 30 سے 35 برسوں میں مختلف وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اس منصوبے کے لیے کیا اقدامات کیے؟
بعض مبصرین کا خیال ہے کہ حکومتوں کی تبدیلی، فنڈز کی عدم فراہمی، عدالتی معاملات اور سیاسی ترجیحات اس منصوبے کی تکمیل میں رکاوٹ بنتی رہیں۔ 2014 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، منصوبہ مختلف ادوار میں انہی وجوہات کی بنا پر آگے نہ بڑھ سکا۔
(Dawn News)
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس معاملے کو سیاسی نہیں بلکہ عوامی صحت کے مسئلے کے طور پر دیکھا جائے۔ اگر زمین موجود ہے تو وہاں جدید سرکاری ہسپتال تعمیر کیا جائے، چاہے اس کا نام کچھ بھی رکھا جائے، کیونکہ اصل ضرورت پشاور اور خیبرپختونخوا کے عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
حال ہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلع مہمند کے رہنما ڈاکٹر عالم زیب مہمند نے پاکستان کے صدر جناب آصف علی زرداری کو ایک خط بھی لکھا ہے جس پر باقاعدہ جواب بھی موصول ہوا ہے۔
نندارا (NANDARA) اس معاملے پر مزید تحقیقات جاری رکھے گا اور متعلقہ اداروں سے اس زمین کی موجودہ حیثیت، ریکارڈ اور منصوبے کی تازہ معلومات بھی حاصل کرے گا۔

15/06/2026

بینظیر انکم سپورٹ ۔۔۔838 ارب مطلب 83 ہزار 8 سو کروڑ روپے۔
اگر ایک فیکٹری 50 کروڑ میں لگتی ہے تو 838 ارب روپے میں 1676 فیکٹریاں لگائی جا سکتی ہیں۔
اگر ایک فیکٹری میں کم سے کم بھی 500 لوگوں کو روزگار فراہم کیا جائے تو 8 لاکھ 38 ہزار لوگوں کو روزگار دیا جا سکتا ہے
لیکن حیرت ہے قوم کو مزید بھکاری بنانے کیلئے یہ حکومتیں کیوں ایسے فیصلے کرتی ہیں۔
#خودار #قوم
#بکھاری قوم

Photos from Youngistan's post 07/06/2026

تیزاب صرف چہروں پر نہیں، ہمارے معاشرے کے ضمیر پر بھی پھینکا جاتا ہے!

جب کسی عورت یا بچی پر تیزاب پھینکا جاتا ہے تو صرف اس کا چہرہ نہیں جلتا، اس کے خواب، اس کا اعتماد، اس کی پہچان اور اس کی زندگی بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر ایسے جرائم کے پیچھے کوئی اجنبی نہیں ہوتا، بلکہ کبھی شوہر، کبھی بھائی، کبھی استاد، کبھی ساتھی اور کبھی کوئی ایسا شخص ہوتا ہے جو عورت کی کامیابی، خودمختاری یا انکار کو برداشت نہیں کر پاتا۔

ڈاکٹر ماہ نور جیسے واقعات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ آخر ہم کس معاشرے میں رہ رہے ہیں؟ ایک ایسا معاشرہ جہاں ایک باصلاحیت، محنتی اور کامیاب خاتون کی ترقی بعض لوگوں کو برداشت نہیں ہوتی۔

سوال یہ نہیں کہ متاثرہ خاتون نے کیا کیا تھا، سوال یہ ہے کہ مجرم نے خود کو انسان کہلانے کا حق کیوں کھو دیا؟

تیزاب دراصل چہروں پر نہیں، ہمارے اجتماعی ضمیر، ہماری سوچ اور ہمارے معاشرتی رویوں پر پھینکا جا رہا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے جرائم پر فوری اور سخت کارروائی ہو، متاثرین کو مکمل انصاف ملے اور معاشرے میں یہ واضح پیغام جائے کہ عورت کی عزت، تحفظ اور کامیابی پر حملہ پورے معاشرے پر حملہ ہے۔

خاموشی جرم کو طاقت دیتی ہے، آواز اٹھانا انسانیت کا تقاضا ہے۔

30/05/2026

پاکستان صرف ان کیلئے نہیں۔ سب کا پاکستان
تنخواہوں میں تفریق ختم کیا جائے۔ بجٹ
"جب مہنگائی ہر طرف بڑھ جائے تو ہر طبقہ اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے قیمتوں میں اضافہ کرتا ہے۔ مگر سرکاری ملازم کی امید صرف بجٹ پر ٹکی ہوتی ہے کہ شاید حکومت کچھ ریلیف دے دے، ورنہ وہ اسی محدود تنخواہ پر صبر و شکر کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

28/05/2026

آج کل ڈاکٹروں اور ہیلتھ کیئر اسٹاف پر سوشل میڈیا کا بہت مشکل وقت چل رہا ہے۔ ہر اُس شخص کے ہاتھ میں موبائل ہے جسے نہ ہسپتال کے نظام کی سمجھ ہے اور نہ مریض کے علاج کے پیچیدہ مراحل کا علم، مگر معمولی سی بات پر ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی جاتی ہے۔ اس میں حقیقت کیا ہے، قصور وار کون ہے، حالات کیا تھے — یہ سب جاننے کی کوشش کم ہی کی جاتی ہے۔ صرف ایک کلپ وائرل ہوتی ہے اور پورا ڈاکٹر، نرسنگ اسٹاف یا ہسپتال انتظامیہ عوامی عدالت میں مجرم بنا دی جاتی ہے۔

لوگ شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ ہسپتال ایک مکمل چین سسٹم کے تحت چلتا ہے۔ اوپر ایڈمنسٹریشن سے لے کر نیچے سویپر، وارڈ بوائے، نرس، ٹیکنیشن، فارماسسٹ اور ڈاکٹر تک ہر شخص مریض کی دیکھ بھال میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ ڈاکٹر اکیلا پورا نظام نہیں ہوتا بلکہ اس بڑی مشینری کا صرف ایک حصہ ہوتا ہے۔ اگر کسی ایک جگہ کمی یا وسائل کی قلت ہو تو اس کا اثر پورے نظام پر پڑتا ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ علاج اور سہولیات حاصل کرنے کے باوجود صرف گلے شکوے ہی کرتے نظر آتے ہیں۔ شکرگزاری کم اور تنقید زیادہ ہو چکی ہے۔ یہ رویہ ڈاکٹروں اور دیگر عملے کے دل توڑ دیتا ہے، کیونکہ وہ دن رات اپنی ذہنی، جسمانی اور جذباتی توانائیاں جھونک کر لوگوں کی خدمت کرتے ہیں۔

دوسری طرف حقیقت یہ بھی ہے کہ ڈاکٹرز، اسٹاف اور انتظامیہ خود شدید دباؤ اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔ کم بجٹ، محدود وسائل، ناکافی ہیومن ریسورس اور بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ہسپتال چلانا کسی جنگ سے کم نہیں۔ جہاں ایک ڈاکٹر یا نرس کو ایک مریض دیکھنا چاہیے وہاں وہ بیک وقت دس دس مریضوں کو سنبھال رہے ہوتے ہیں۔ چوبیس چوبیس گھنٹے کی ڈیوٹیاں، ایمرجنسیز، مریضوں کا دباؤ اور وسائل کی کمی کے باوجود ان سے فرشتوں جیسی کارکردگی کی توقع کی جاتی ہے۔

حکومتیں صرف اشتہارات اور میڈیا بیانات کے ذریعے “ہر چیز مفت” ہونے کے دعوے کرتی ہیں، مگر زمینی حقیقت کچھ اور ہے۔ اس پالیسی نے عوام اور ہسپتال عملے کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا ہے جبکہ اصل ذمہ دار سکون سے تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ نقصان صرف ڈاکٹر یا عملہ نہیں اٹھا رہا بلکہ مریض بھی اس ٹوٹے ہوئے نظام میں ذلیل اور پریشان ہو رہے ہیں۔ مہنگائی نے لوگوں کی قوتِ خرید ختم کر دی ہے، سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات تو موجود ہیں مگر شدید بوجھ کی وجہ سے وہ مؤثر انداز میں استعمال نہیں ہو پا رہیں۔

میرے عزیز ڈاکٹروں، نرسوں اور ہیلتھ کیئر ورکرز!
یہ معاشرہ حقیقت سے بہت دور اور جذبات میں بہنے والا معاشرہ ہے۔ اکثریت کو ہسپتال کے مسائل، وسائل کی کمی اور نظام کی پیچیدگیوں کا اندازہ نہیں۔ اس لیے لوگوں کے ساتھ نرمی، ہمدردی اور اچھے اخلاق سے پیش آئیں۔ آپ کی 24 گھنٹے کی انتھک محنت شاید کسی کو نظر نہ آئے، لیکن ایک چھوٹی سی غلطی — چاہے وہ آپ کی نہ بھی ہو بلکہ وسائل کی کمی کی وجہ سے ہوئی ہو — آپ کو مجرم بنا سکتی ہے۔

آج ڈاکٹر اس معاشرے کا سب سے آسان “سافٹ ٹارگٹ” بن چکا ہے۔ لوگ اپنے اصل حقوق کے لیے طاقتور حلقوں کے سامنے آواز اٹھانے سے ڈرتے ہیں، مگر ڈاکٹر کے سامنے چیخنا، ویڈیو بنانا اور سوشل میڈیا ٹرائل کرنا آسان سمجھتے ہیں۔ اس لیے اپنی عزتِ نفس، ذہنی سکون اور مستقبل کے بارے میں ضرور سوچیں۔ اگر بہتر مواقع ملیں اور کوئی مجبوری نہ ہو تو ہجرت پر بھی غور کریں، کیونکہ مسلسل ذہنی دباؤ، بے قدری اور عدم تحفظ کے ماحول میں انسان زیادہ دیر خوش اور مطمئن نہیں رہ سکتا۔

اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے ادا کریں، لوگوں کے ساتھ انسانیت اور اخلاق سے پیش آئیں، مگر ساتھ ہی اپنی حفاظت، عزت اور مستقبل کو بھی ترجیح دیں۔ کیونکہ آج نہیں تو کل، اس ٹوٹے ہوئے نظام کا الزام کسی نہ کسی صورت آپ پر ہی ڈال دیا جائے گا۔

22/05/2026

یہ حکومت کے ایک نمائندے کی ٹوئٹ ہے۔ ہم حکومتِ خیبرپختونخوا خصوصاً وزیراعلیٰ صاحب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس بجٹ میں ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں فوری اور خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔
ڈاکٹرز دن رات عوام کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں، مگر مہنگائی اور کم تنخواہوں کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔
Muhammad Sohail Afridi
Young Pakistan

21/05/2026

شیر افضل مروت نے علی امین گنڈاپور کو وزیراعلی خیبرپختونخوا کے عہدے پر بحال کرنے کیلئے وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر کر دی

متن میں کہا گیاہے کہ علی امین گنڈاپور کو ڈی نوٹیفائی کرنا غیر قانونی اور آئین سے متصادم ہے
علی امین گنڈا پور کا استعفیٰ ایک سزایافتہ نااہل فرد واحد کی ڈکٹیشن پر لیا گیا
سہیل آفریدی کی بطور وزیر اعلیٰ تقرری کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے
علی امین گنڈاپور کو دوبارہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا بحال کیا جائے

20/05/2026

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کر کے صنعتیں اور فیکٹریاں لگائی جائے.

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Islamabad?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Islamabad