Haider Azadari
Asslam o Alaikum
Welcome on my page.
27/07/2026
میں 2023 میں پہلی بار شام گیا، سعودیہ ایران اور عراق تو گروپ کے ساتھ جاتا رہتا ہوں مگر شام کا بمع قافلہ پہلا تجربہ تھا، اندر اندر سے خوفزدہ بھی تھا کہ پہلی بار جا رہا ہوں اور زائرین بھی ساتھ ہیں وہاں کے ماحول کا بھی علم نہیں ہے مگر یہ بھی اطمینان تھا کہ تمام زائرین اپنے قریبی جاننے والے ہیں، جہاں میں پریشان تھا وہاں دل میں خوشی بھی تھی کہ عقیلہ بنی ہاشم سیدہ زینب بنت علیؑ کی زیارت بھی کروں گا اور دیگر زیارات بھی نصیب ہوں گی، جب ہم کراچی سے دمشق کے لئے جہاز میں بیٹھ گئے تو میری پچھلی سیٹ پہ سرائیکی بوڑھی خواتین بیٹھی تھیں وہ خواتین بھی پہلی بار شام کی زیارات پہ جارہی تھیں ، بزرگ عورت ساتھ والی خاتون کو کہہ رہی تھی "سینڑ زینبؑ کو اوں دے بھراواں دا پُرسہ ڈیساں، مولا حسینؑ دی دھی سکینہ دی قبر کُوں گل لا کے بہوں روساں پچھساں بی بی سینڑ کیویں پئی نبھدی ھیوی" اردو میں آپ کو ترجمہ بتاتا ہوں کہ وہ کہہ رہی تھیں سیدہ زینبؑ کو ان کی بھائیوں کو تعزیت کروں گی اور امام حسینؑ کی کم سن بیٹی سکینہ بنت الحسینؑ کی قبر کو گلے سے لگا کر پوچھوں گی اے بی بی کیسے گزر رہی ہے؟ یہ جملے شائد غیر شیعہ قارئین کو تو عام سے لگیں مگر جو بچپن سے مجالس عزاء میں مدینہ سے مکہ ، مکہ سے کربلاء اور کربلاء سے زندان شام والے آلِ رسولؑ کے مصائب سنتے آئے ہیں ان کے لئے باعثِ گریہ ہوں گے۔
ان خواتین کے یہ جملے سننے کے بعد وہ خواتین رونے لگیں اور ہمارے بھی آنسو نکل آئے، مجھے شروع سے امام حسینؑ کی کم سن بیٹی جنابِ سکینہؑ سے دلیِ لگاو ہے ، جہاز میں مجھے اچانک یہ یاد آیا کہ شام میں صرف سیدہ زینبؑ تو نہیں ہیں بہت سی مقدس ہستیوں کے ساتھ ساتھ وہ ہستی بھی دفن ہے جو امام حسینؑ کی تہجد کی دعاوں کا صلہ تھیں۔
دمشق پہنچنے کے بعد ہم ائیرپورٹ سے ہوٹل پہنچے اور پھر حرمِ سیدہؑ زینبؑ کی زیارت کو چلے گئے ، موسمِ سرما میں زائرین کا زیادہ رش نہیں ہوتا تاہم رش کم ہونے کی وجہ سے بہت آسانی سے زیارت نصیب ہوئی ، ایک طرف مرد اور دوسری طرف خواتین ہوتی ہیں، دوسری جانب پاکستانی خواتین کے رونے اور آہ و بُکا کی صدائیں سُن کر ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے واقعی سیدہ زینبؑ سامنے بیٹھی ہیں اور پاکستانی زائرین کو بتا رہی ہیں کہ "کربلاء میں کیا ہوا اور شام میں اولادِ رسولؐ پہ کیا گزری"
ہم دوسرے دن دمشق شہر روانہ ہوئے، یزید کے محل جسے اب جامع مسجد اموی کہا جاتا ہے، وہاں پہنچنے سے تھوڑا پہلے گلی کی نُکڑ پہ تیر کے نشان کے ساتھ لکھا تھا "الی السیدہ رقیہ بنت الحسینؑ" عرب لوگ شہزادی سکینہ بنت امام حسینؑ کو رقیہؑ کے نام سے پُکارتے ہیں، زائرین نے کہا ہم پہلے جنابِ سکینہؑ کی زیارت کو جانا چاہتے ہیں، ہم اس تیر کے نشان سے بتائے راستے کی جانب چلے گئے، بہت تنگ گلیاں، ان گلیوں سے دوسری گلیوں سے راستے نکلتے ہیں، جب ہم وہاں پہنچے تو وہاں ایک شخص نے بتایا کہ اس مقام کو "خرابہِ شام" کہا جاتا تھا اور یہ وہ جگہ ہے جہاں ایک پرانا اور بوسیدہ مکان ہوا کرتا تھا اور اس کی چھت نہیں تھی اور یہیں آلِ رسولؑ اسیرانِ کربلاء کو قید کیا گیا تھا، یہیں پہ امام حسینؑ کی بیٹی سکینہؑ شہید ہوئیں اور پھر یہیں پہ دفن کردی گئیں۔
ہم افسردہ دل کے ساتھ اندر داخل ہوئے ، وہاں بھی رش نہیں تھا پاکستانی اور انڈین زائرین ہی نظر آئے، ایک طرف چند عراقی و لبنانی زائرین نوحے پڑھ رہے تھے ہمیں بس ایک ہی بے چینی تھی کب وہ ننھی قبر دیکھیں جسے واپس مدینہ آکر سیدہ زینبؑ اور جنابِ ربابؑ یاد کرکے روتی تھیں۔ بس سامنے ایک سنہری ضریع تھی اور اس کے درمیان میں ایک چھوٹی سی قبر تھی۔ بس پھر ہماری روح وہیں رہ گئی اور ہم کچھ دیر وہاں بیٹھ کر واپس آگئے۔
علماء و ذاکرین سے اکثر مجالس میں سنتے ہیں کہ جب سیدہ زینبؑ کو یزید نے رہائی دی اور آپ دمشق سے واپس مدینہ کے لئے روانہ ہونے لگیں تو جب محمل پہ سوار ہوئیں تو چہرہ اقدس محمل سے باہر نکالا اور شام کی عورتو! کو شہزادی سکینہ بنت امام حسینؑ کی قبر کی جانب اشارہ کرکے فرمایا اے شام کی عورتو! تمہارے پاس ہم اپنی ایک نشانی چھوڑ کر جارہے ہیں "اس کا خیال رکھنا"۔
ہمارے سرائیکی ، پنجابی ذاکر اکثر ایک بند پڑھتے ہیں جس کا ایک مصرعہ ہے کہ "میں وِچ دنیا دے مرکز ہاں اولاد دیاں درداں دا" جب مقتل کی کتب میں جنابِ سکینہؑ کی مظلومانہ شہادت پڑھتے ہیں تو یہ مصرعہ سچ ثابت ہوتا کہ یہ صبر امام حسینؑ کا ہی تھا کہ لاکھوں کی فوج میں چار سالہ بیٹی کو چھوڑ کر سجدہِ توحید ادا کیا، اپنے چھ ماہ کے بیٹے کو قبر میں سینے پہ سلائے ہیں اور چار سالہ بیٹی آج بھی دشمنوں کے شہر میں تنہاء دفن ہے۔
ایامِ شہادت شہزادی سکینہ بنت الحسینؑ 💔
21/07/2026
فضل الرحمان کو جواب
*"انگریز والا سوال اور حسینی جواب"*
اکثر سنا ہوگا کہ ایک *انگریز* نے پوچھا:
"شیعہ 1400 سال بعد کیوں رو رہے ہیں؟"
بتایا گیا: "ان کے امام 1400 سال پہلے بےگناہ شہید ہوئے تھے"
*انگریز* ہنس کر بولا: "اب یاد آیا؟"
تو سنو! یہ جواب صرف شیعہ کا نہیں، ہر حق پرست کا جواب ہے:
*1۔ منافقت بند کرو*
تم کہتے ہو "1400 سال پرانا ماتم کیوں؟"
لیکن خود تم 1400 سال پرانی نماز، روزہ، حج، درود کے پیروکار ہو۔
اگر "پرانا" ہونا جرم ہے تو اپنی ساری سنت چھوڑ دو۔
*ڈبل اسٹینڈرڈ نہیں چلے گا۔*
*2۔ ہمیں "آج" پتہ نہیں چلا*
ہمیں تو ہر محرم پتہ چلتا ہے۔ ہر مجلس میں پتہ چلتا ہے۔
تم نے کربلا کو کتابوں میں دفن کیا، ہم نے اسے سڑکوں پر زندہ رکھا۔
فرق بس اتنا ہے۔
*3۔ اصل مسئلہ ماتم نہیں، بغضِ آلِ محمد ﷺ ہے*
جس دن یزید نے کہا "بنی ہاشم نے بادشاہت کا کھیل کھیلا ہے"
اسی دن سے اس کے ماننے والوں کو حسین کا نام چبھتا ہے۔
کربلا کو "سیاسی واقعہ" کہہ کر تم دراصل حق کے قاتلوں کا دفاع کر رہے ہو۔
*4۔ یہ ماتم نہیں، احتجاج ہے*
ہم اس لیے نہیں روتے کہ ہم کمزور ہیں۔
ہم روتے ہیں کیونکہ ہم حسین کے لشکر میں ہیں۔
جس طرح 72 نے لاکھوں کے سامنے سر نہیں جھکایا،
اسی طرح آج بھی ہم ظلم کے آگے نہیں جھکیں گے۔
*آخری بات:*
*_"تمہیں 1400 سال بعد بھی حسین سے تکلیف ہے، اور ہمیں 1400 سال بعد بھی یزید سے نفرت ہے۔
تم قاتل کو بھی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہو،
ہم قاتل پر لعنت بھی کرتے ہیں اور مظلوم پر سلام بھی۔
بس یہی فرق ہے حسینی اور یزیدی میں"_*
*لبیک یا حسین ؑ*
*ہر دور کا یزید مردہ باد*
#محرم #کربلا #عزاداری
---
ظہور کے بعد کا مرحلہ :
امام زمانہ ع کے ظہور کے بعد کیا ہوگا ؟
امام روز عاشور ظہور کریں گے اور مکہ سے ظہور ہوگا عصر کا وقت ہوگا 313 امام کے خاص افراد ہونگے جو فورآ بیعت کیلئے پہنچ جائیں گے وہ صرف مکہ سے نہیں ہونگے دنیا بھر سے 313 خاص ہونگے .
لیکن روایات کے الفاظ ہیں کہ یہاں چلیں گے چند لہظوں میں امام کی بارگاہ میں ہونگے .
ارے امام کے چاہنے والے ایسے ہوں سوچو امام عج کیسے ہونگے ؟
یہ روایات کے الفاظ ہیں کہ زمین انکے لیے سکڑ جائگی وہ اتنی تیز سفر طے کریں گے چند لہظوں میں امام کے پاس ہونگے ان میں سے ہر ایک کے پاس تلوار ہوگی اور نیام میں ایک ہزار کلمات ہونگے یعنی ایک ہزار نام ہونگے اللّٰہ کے ، کہا ان میں سے کوئی ایسا نہیں ہوگا جو عام ہو ، وہ اتنے پہنچے ہوئے ہونگے کہ بتا سکیں گے کہ قبروں کے اندر کیا ہورہا ھے کہ اسم رحمت نازل ہورہی ھے قبر میں یا عذاب ، لوگ امام کے متعلق شک کرتے ہیں ارے امام کہ اصحاب ایسے ہیں امام کچھ اور ہیں.
سب سے زیادہ قم مقدس سے ہونگے 38 ہونگے قم سے، اسکے علاؤہ پوری دنیا سے ہونگے ، اور نام بھی ،اور یہ بھی بتایا کہاں کہاں سے ہونگے ، نام ،اس شہر سے اتنے اس شہر سے اتنے، نجف سے کتنے ،کربلا سے کتنے
،بغداد سے کتنے ہونگے ہر شہر کا نام بتایا امام نے یہ 313 خاص ہونگے ۔
کیا مولا وہ 313 کیسے ہونگے فرمایا صحابہ رسول ص میں سے دیکھو تو اتنا معیار ان 313 کا بلند ہوگا کہ صحابہ رسول ص میں سے صرف سلمان کا اتنا معیار ھے، اصحاب امیرالمومنین میں صرف مالک اشتر کا اتنا معیار ھے۔
کہا مولا کیسے ہونگے 313 ؟
فرمایا حبیب جیسے ہونگے 313، ان میں 50 خواتین ہونگی ، یہ روایت علامہ باقر مجلسی نے لکھی ھے ۔
ظہور سے پہلے ایک تہائی جنگوں میں مارے جائیں ،ایک تہائی بیماریوں میں، ایک تہائی باقی رہ جائیں گے،
تو چھٹے امام فرمایا!
اور یہ اہلسنت کی کتابوں میں بھی ھے کہ سات عدد آبادی ہوگی ، ہر سات میں سے پانچ مرجائیں گے ، پیغمبر ص نے فرمایا میرے بیٹے مہدی ع کے ظہور سے پہلے .
جب پوچھا چھٹے امام سے کہ مولا جب دو تہائی مرجائیں گے تو بچے گا کون ؟
تو آپ ع نے فرمایا ؛ ہمارا صاحب (یعنی امام زمانہ ع) اور ہمارے شیعہ ۔
فرمایا تم ہمیشہ قلت میں رہو گے اللّٰه ایسا انتظام فرمائے گا کہ تم کثرت میں آجاؤ .
کہا جو بھی ہمارا ماننے والا ھے وہ محفوظ رہے گا تو اب یہاں پہ بڑی بحث کی گئی ھے کہ
مولا کے حساب سے ماننے والا یا ہمارے حساب سے ماننے والا ؟
مولا کے حساب سے دیکھا جائے تو معیار بہت بلند ھے تو اس میں تو ماننے والا کوئی بھی نہ آئے اکا دکا ہی پہنچیں گے
کہا مولا کیسا ماننے والا ؟
مولا نے فرمایا 🫂 جو بھی ہماری ولایت کو مانتا ھے وہ ہمارا ۔
کہا مولا کیا معیار ہو ؟
مولا نے فرمایا ہمارا بے عمل بھی انکے باعمل سے افضل ھے ۔
میں یہ لائسنس نہیں دے رہا گناہوں کا لیکن اسکو کبھی بھی اپنے گنہگار بھائیوں کو یہ توہین نہ کریں میں اس لیے یہ بات پیش کررہا ہوں۔
کہ ہمارا بے عمل بھی انکے باعمل سے افضل ھے ۔
کہا مولا کیوں ؟
کہا وہ ہمارا ، جو ہماری ولایت رکھتا ہے وہ ہمارا ، جو مانتا ہی نہیں جتنا مرضی عمل کرے جو مانتا نہیں کچھ قبول نہیں ۔
تو امام ظہور کریں گے مکہ سے ، پھر مدینہ جائیں گے اور روضہ رسول ص اور جناب سیدہ زھراء س کے مزار کی تعمیر کرائیں گے ، اس زمانہ میں جب امام نے فرمایا تو تصور بھی نہیں تھا کہ جناب سیدہ زھراء س کا روضہ گرا دیا جائیگا ۔
پھر پوچھا مولا مدینے سے کہاں جائیں گے ؟
فرمایا! مدینہ سے سیدھا کربلا جائنگے ،عاشورہ پہ ظہور کریں گے تو شاید اربعین کے دن ہوں چہلم کے ایام ہوں جب مولا کربلا آئیں گے ۔
کہا جب کربلا تشریف لائیں گے تو کیا حال ہوگا؟
فرمایا! وہاں بے انتہا زائرین ہونگے اعلان ہوچکا ہوگا ، سب جانتے ہوں گے بارہویں امام آچکے ہیں ، فرمایا! زائرین کی بڑی کثرت ہوگی جب امام ظہور کریں گے ، فرمایا! ظہور کرنے کے بعد جب حرم جائیں گے تو ایسی کشش ہوگی حرم میں اور امام زمانہ ع میں کہ امام کیلئے خودبخود راستہ بنتا جائگا یعنی لوگ راستہ دیتے چلے جائیں گے ۔
فرمایا ایک مرتبہ جب صاحب الزمان ع حرم میں جائنگے تو حرم کے دروازے کھلے ہوئے ہونگے ، یہاں تک ھے کہ جب ضریح مقدس پہ آئیں گے تو امام کیلئے ضریح مقدس کا دروازہ کھل جائگا، آپ ضریح مبارک کے اندر جائیں گے ، یہ بہت بڑے عالم کے جملے ہیں وہ کہتے کہ امام زمانہ ع جب امام زمانہ ع ضریح مبارک کے اندر جائیں تو سب لوگ انکو دیکھ کر اونچے اونچے رو رہیں ہونگے ، امام ایک مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ اعجاز (معجزہ) سے قبر مطہر کے اندر ڈال دیں گے تو چھوٹا سا لاشہ اٹھا کے باہر لائیں گے ، لاشہ اٹھا کے سینے سے لگائیں گے اور پیار کرنے کے بعد ایک مرتبہ روتے ہوئے مجمعے سے پوچھیں گے بتاؤ اس بچے کا کیا جرم تھا ؟اس بچے کو کیوں تیر مارا گیا ؟ یہ جناب علی اصغر ع کا لاشہ ہوگا۔
(علامہ سید علی رضا رضوی کی مجلس سے اقتباس)
جو جو بھی تشہد نماز میں ولایت امیرالمومنین کا منکر ہے وہ غدیر کا مطلب بتائے کہ نماز روزہ حج زکاتہ پورا اسلام غدیر سے پہلے مکمل تھا تو پھر غدیر کے میدان میں دین اسلام کے مکمل ہونے کی آیت کیوں نازل ہوئی ۔۔۔
16/07/2026
مصرع (بقائے معرفت تھا کربلا کا آخری سجدہ): اس کا مطلب ہے کہ کربلا کے میدان میں امام حسینؑ کا آخری سجدہ دراصل اللّٰہ کی پہچان (معرفت) اور سچے دین کو ہمیشہ کے لیے زندہ رکھنے کا ذریعہ بنا۔دوسرا مصرع (اگر تاخیر ہو جاتی خدا تبدیل ہو جاتا): شاعرانہ مبالغہ آرائی کا استعمال کرتے ہوئے یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر اس سجدے اور قربانی میں ذرا سی بھی دیر ہو جاتی، تو باطل طاقتیں (یزیدیت) دین کی شکل اس حد تک مسخ کر دیتیں کہ لوگوں کے ذہنوں میں خدا کا حقیقی تصور ہی بدل جاتا۔ یعنی اس سجدے نے توحید کے اصل پیغام کو بچا لیا۔
نا جانے دن میں کتنی بار
الجھے دماغ اور ٹوٹے دل کو سکون دینے کے لیے یہ الفاظ دہرانے پڑتے ہیں
“کوئی بات نہیں، اس میں بھی کوئی بہتری ہوگی” ❤️🩹
12/07/2026
🔹" جو بہن ، بیٹی اور ماں نہیں تھی مگر کہلاتی رہیں " 🔹
📜" جب کربلا میں سورج غروب ہوا تو صرف اہلِ بیتؑ ہی غریب نہ ہوئے ، ان کی وفادار ، جسے رسول اللہ ﷺ بیٹی ، مولا علی و سیدہ زہراؐء، بہن اور حؐسنین کریمین ، بیبی پاک زینب و کلثوم صلواۃ اللہ علیہم اجمعین ، بیبی پاک مخدومہ فضہ کو ماں کہتے تھے ۔ حضرت فضہ بھی سب سے زیادہ قربانیاں اور ظلم و ستم سہنے والوں میں سے ہے ۔ ہائے ۔
یہ وہی فضہؐ تھیں جنہوں نے برسوں حضرت فاطؐمہ زہراء کی خدمت کی ، اولادِ رسولؐ کی پرورش کی ، اور پھر اپنی آنکھوں سے کربلا کا وہ قیامت خیز منظر دیکھا جہاں رسولِ خداؐ کے نواسے اور اپنی گود کے پالے ہوئے حؐسین کو اپنی انکھوں کے سامنے، بے یار و مددگار تنہا درندگی کے ساتھ شہید ہوتے دیکھا ۔
" جب خیموں کو آگ لگائی گئی تو چاروں طرف چیخ و پکار تھی ۔ معصوم بچے جلتی ہوئی رسیوں اور شعلوں کے درمیان ادھر اُدھر بھاگ رہے تھے ۔ حضرت حضرت زؐینب صلواۃ اللّہ علیہا کے ساتھ ان بچوں کو سمیٹتی رہیں ۔ کبھی کسی بچی کو سینے سے لگاتیں ، کبھی کسی یتیم کو آگ سے بچاتیں، اور کبھی حضرت زینبؑ کے حکم پر ایک خیمے سے دوسرے خیمے کی طرف دوڑ پڑتیں ۔
" پھر وہ وقت آیا جب شہداؐء کے لاشوں کو میدان میں چھوڑ کر اہلِؐ حرم کو اسیر بنایا گیا۔ حضرت فضہؑ نے اپنے مولا امام حؐسین علیہ السلام کے بے گور و کفن جسم کو الوداع کہا اور آنکھوں میں آنسو لیے اسیری کا سفر شروع کیا۔
" شام غریباں کے بعد کوفہ وَ شام تک ۔ متأخر شیعہ مآخذ اور مجالس میں نقل ہوا ہے کہ راستہ کٹھن طویل راستہ ، مسلسل اذیت ، کم خوراک اور سخت حالات میں حضرت فضہؐ اپنی ہر سہولت حضرت زینبؑ پر قربان کر دیتی تھیں اور روایات سنتے ہیں کہ یزیدی ملعون اتنی کم خوراک اور پانی بھیجتے تھے جو سارے اسیران کے لیے بہت کم تھے ۔ بی بی زؐینب اور بی بی فضہؐ اپنے حصے کی غذا اور پانی اسیراؐن کو دے دیا کرتے تھے "
" بازارِ کوفہ و شام میں جب تماشائی پتھروں ، لکڑیوں اور سلگتے پانی سے ظلم کرتے تو حضرت فضہؑ ڈھال بن کر خانوادہ اہلؐ بیت کو بچانے کی خاطر خود اذیت سہتیں ۔ وہ دیکھ رہی تھیں کہ جن ہستیوؐں کے دروازے پر کبھی جبرائیلؑ امین حاضر ہوتے تھے ، آج اؐنہیں قیدی بنا کر پھرایا جا رہا ہے "
" ابن زیاد اور یزید ملعون کے دربار میں بھی نجس و شرابی درباریوں کی نظروں سے بچنے کے لیے عصمت اللہ بی بی زؐینب کا پردہ بن جاتیں ۔ جب یزید ملعون نے امام سجاؐد کے قتل کا حکم دیا تو بی بی فضہؐ اگے بڑھی اور یزید کے حبشی غلاموں سے مخاطب ہو کر اپنا تعلق اور اہل بیت کا مقام بتایا تو سارے حبشی غلاموں نے تلواریں نکال کر امام سجاؐد کے گرد گھیرا ڈال دیا اور یزید سے کہا : ' واللہ لا نصل الیہ ابدا !
خدا کی قسم ! ہم تمہیں اؐن کے قتل کا راستہ ہرگز نہیں دیں گے ۔ جس کی وجہ سے یزید ڈر گیا اور اس نے قتل کا ارادہ ترک دیا "
" اللہ تعالی کے دین کو بچانے والے اماؐم اور اؐمام کو بچانے والی بیبی پاک مطہرہ جناب مخدومہ حضرت فضہ صلواۃ اللہ علیہا پر سلام "
۔۔۔۔۔۔
📚 ( اللہوف علی قتلی الطفوف — سید ابن طاؤس- نفس المهموم — شیخ عباس قمی- بحار الانوار، جلد 45 — علامہ مجلسی
- ریاحین الشریعہ- معالی السبطین- اسرار الشہادۃ- حضرت فضہؑ کے حالات پر متأخر شیعہ سوانحی کتب اور مجالسِ مصائب )
۔۔۔۔۔
🚩" 25 محرم ، شہادت جناب مخدومہ بی بی پاک فضہ ص امام زمانہ (عج) ، اهل البیت اور مومنین و مومنات کو پرسہ پیش کرتے ہیں "💧
۔۔۔۔۔
مزید ایسی تاریخی پوسٹ کے لیے پیج وزٹ کریں اور فالو کریں۔"
👉" Like , Share , Comments ، Follow👇
۔۔۔۔۔
#حبش #اہلبیت #ملکہ #وفا
۔۔۔۔۔
Shia or Mohibban e Ahlal Bait sa
This page is for lovers of the Ahlebait regardless of their religion, caste, color, nation, or country.
" یہ صفحہ اہلؐبیت کے چاہنے والوں کے لیے ہے ، چاہے وہ کسی بھی مذہب ، ذات ، رنگ ، قوم یا ملک سے تعلق رکھتے ہوں "
" MohibaneAhؐlebait " محبان اہلؐبیت "
11/07/2026
دربارِ شام میں امام سجاد علیہ السلام کا یزید کو شرمندہ کر دینے والا عظیم خُطبہ!
جب علی بن الحسین زین العابدین اور اسیرانِ کربلا کو دمشق میں یزید کے دربار میں پیش کیا گیا تو ابتدا میں یزید نے ایک خطیب سے اپنی اور اپنے خاندان کی شان او شوکت کے حق میں اور اہلِ بیتؑ کے خلاف تقریر کروائی۔ جس کے بعد امام زین العابدینؑ نے کہا اے یزید میں بھی کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں، جس ہر یزید نے انکار کیا تو دربار میں بیٹھے لوگوں نے اسرار کیا کہ یزید یہ قیدی ہے لاچار ہے اسے کہنے دے جو یہ کہنا چاہتا ہے،
اور پہر امام علیہ السلام منبر پر تشریف لے گئے اور ایسا مؤثر خطبہ ارشاد فرمایا کہ حاضرین پر سکتہ تاری ھوگیا-
امامؑ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور رسولِ اکرم ﷺ پر درود کے بعد اپنا تعارف ان الفاظ کے مفہوم سے شروع کیا کہ:
میں مکہ اور منیٰ کا فرزند ہوں۔
میں زمزم اور صفا کا فرزند ہوں۔
میں اس ہستی کا فرزند ہوں جس نے حجرِ اسود کو اپنی چادر میں رکھ کر قبائل کے درمیان فیصلہ فرمایا۔
میں اس نبیؐ کا فرزند ہوں جسے مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے جایا گیا، پھر آسمانوں کی سیر کرائی گئی اور وہ قربِ الٰہی کے بلند ترین مقام تک پہنچے۔
میں محمد کا فرزند ہوں۔
میں علی بن ابی طالب کا فرزند ہوں، جنہوں نے اسلام کی سربلندی کے لیے ہر میدان میں جہاد کیا۔
میں فاطمہ زہرا کا فرزند ہوں، جو تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں۔
میں حسن بن علی کا فرزند ہوں۔
میں حسین بن علی کا فرزند ہوں، جنہیں فرات کے کنارے پیاسا شہید کیا گیا، جن کا سر نیزے پر بلند کیا گیا، جن کے اہلِ خانہ کو قیدی بنایا گیا اور جن پر آسمان و زمین نے گریہ کیا۔
امامؑ نے بار بار اپنے نسب کا ذکر کرکے اہلِ شام کو بتایا کہ جنہیں قیدی بنا کر لایا گیا ہے، یہ کوئی باغی یا خارجی نہیں بلکہ رسولِ خدا ﷺ کے اہلِ بیتؑ ہیں۔
جب حاضرین پر حقیقت واضح ہونے لگی تو دربار میں آہ و بکا بلند ہوگئی۔ یزید نے دیکھا کہ لوگوں کے دل اہلِ بیتؑ کی طرف مائل ہو رہے ہیں، تو اس نے مؤذن کو اذان دینے کا حکم دیا تاکہ خطبہ رک جائے۔
جب مؤذن نے کہا: "أشهد أن محمداً رسول الله" تو امام زین العابدینؑ نے یزید کی طرف رخ کرکے فرمایا کہ بتاؤ، یہ رسول اللہ ﷺ تمہارے نانا ہیں یا میرے؟ اگر تم کہو کہ تمہارے ہیں تو جھوٹ کہتے ہو، اور اگر مانتے ہو کہ میرے نانا ہیں، تو پھر ان کی اولاد کو قتل کیوں کیا؟ ان کے اہلِ بیتؑ کو قیدی کیوں بنایا؟
یہ سوال ایسا تھا جس کا یزید کے پاس کوئی جواب نہ تھا، اور اس کے دربار میں موجود بہت سے لوگوں پر حقیقت آشکار ہوگئی۔
11/07/2026
ایک غم انگیز روایت ہے کہ ایک دن حضرت امام سجادؑ بازارِ شام سے گزر رہے تھے، اس وقت آپؑ کی حالت یہ تھی کہ عصا پر ٹیک لگا کر چل رہے تھے، پنڈلیوں سے خون جاری تھا۔ رنگت میں صفرت ( زردی) کا غلبہ تھا۔
منہال بن عمرو ان کے سامنے آئے اور عرض کی: اے فرزندِ رسولؐ! دن کیسے کٹ رہے ہیں؟
امام سجادؑ نے فرمایا: ہمارے شب و روز بنی اسرائیل کی طرح کٹ رہے ہیں کہ ان کے لڑکوں کو قتل کیا جاتا تھا اور عورتوں کو زندہ چھوڑ دیا جاتا تھا، اے منہال! عرب عجمیوں پر یہ فخر جتایا کرتے ہیں کہ محمدﷺ عربی ہیں اور قریش تمام قبیلوں پر فخر جتاتے ہیں کہ محمدﷺ ان کے خاندان سے ہیں۔
وأمسينا معشر أهل بيته ونحن مغصوبون مقتولون مشردودن، فإنا لله وإنا إليه راجعون مما أمسينا فيه.
لیکن ہم اہلبیتِ محمد ﷺ کے افراد کے دن اس طرح کٹ رہے ہیں کہ ہمارے حقوق غصب کر لیے گئے ، ہمارے مرد قتل کئے گئے اور ہمیں در بدر صحراؤں میں پھرایا گیا جو کچھ ہم پر مصیبت پڑی اس پر خدا ہی کی پناہ ہے ہم اسی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف ہماری بازگشت ہے۔
● العوالم، الإمام الحسينؑ، ج ١، ص ٤٤٤
● بحار الأنوار، ج ٤٥، ص١٤٣
● مصائبِ آلِؑ محمدؐ، ص ٣٧٣
10/07/2026
امام سجاد (ع) کا ایک اونٹ تھا جو 22 مرتبہ آپ کے ہمراہ سفر حج پر گیا تھا اور حتی کہ امام نے ایک بار بھی اس کو تازیانہ نہیں مارا تھا۔ امام نے اپنی شہادت کی شب سفارش کی کہ اونٹ کا خیال رکھا جائے۔ جب امام سجاد (ع) نے شہادت پائی تو اونٹ اٹھ کر سیدھا امام کی قبر مطہر پر پہنچا اور قبر پر گر گیا جبکہ اپنی گردن زمین پر مار رہا تھا اور اس کی آنکھوں سے اشک رواں تھے۔ امام محمد باقر (ع) اطلاع پا کر اپنے والد کی قبر پر پہنچے اور اونٹ سے کہا: آرام ہو جاؤ یا پر سکوں ہو جاؤ، اٹھو خدا تجھ کو مبارک قرار دے۔
اونٹ پر سکوں ہو گیا اور اٹھ کر چلا گیا لیکن تھوڑی دیر بعد واپس لوٹا اور اپنی پہلے والی حرکتیں دہرایں اور امام باقر (ع) نے آ کر اس کو لوٹا دیا لیکن تیسری مرتبہ وہ پھر بھی قبر پر پہنچا تو امام باقر (ع) نے فرمایا:
اونٹ کو اپنے حال پر چھوڑ دو کیونکہ وہ جانتا ہے کہ عنقریب مر جائے گا۔
روایت میں ہے کہ امام سجاد (ع) کی شہادت کے تین دن مکمل نہیں ہوئے تھے کہ اونٹ بھی دنیا سے رخصت ہو گیا۔
بصائر الدرجات ص353 ح15
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Jhang