Asr e Rohaniat

Asr e Rohaniat

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Asr e Rohaniat, Religious organisation, up more north karachi, Karachi.

This is the official Page Mulana Hakeem Syed Muhammad Muzafar Shah All updates of his speeches, travels and whereabouts will be posted on here, giving the public access to a more authentic and instant source.

28/09/2026

حضرت سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الہیٰ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ
جب تک انسان اپنی باطنی صفائی نہیں کرتا اس کی روحانی ترقی ممکن نہیں ، جس دل میں کینہ ، بغض ، حسد ، اور انتقام کا جذبہ ہو وہ انوار ربانی کا محل نہیں بن سکتا ۔

بحوالہ کتاب سیرالاولیاء ، کتاب سیرت پاک حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ ص81

طالب دعا
اثر روحانیت 1

28/09/2026

ایک شخص فجر کی نماز کے بعد مسجد سے نکل رہا تھا۔ اس نے اپنے پڑوسی کو سلام کیا، مگر پڑوسی نے جواب نہ دیا۔ اسے تعجب ہوا، کیونکہ دونوں کے درمیان بہت اچھے تعلقات تھے۔ پھر اس نے محسوس کیا کہ شاید پڑوسی کسی شدید پریشانی میں مبتلا ہے؛ وہ گم سم، فکرمند اور لوگوں سے بے نیاز سا چلا جا رہا تھا۔

وہ اس کے قریب گیا اور پوچھا:
’’کیا بات ہے؟‘‘

پڑوسی نے کہا:
’’عمارت کے مالک نے مجھے کرایہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے مکان خالی کرنے کو کہا ہے، اور اللہ کی قسم! میرے پاس کرایہ دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔‘‘

اس نے کہا:

’’ان شاء اللہ، میں کوئی انتظام کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔‘‘

وہ شخص بیان کرتا ہے:

’’عصر کی نماز سے تقریباً پانچ منٹ پہلے اچانک میرے دل میں خیال آیا کہ میں مسجدِ عکاشہ بن محصن میں نماز پڑھوں۔ یہ مسجد ہمارے علاقے سے زیادہ دور نہیں تھی، لیکن مجھے خود بھی معلوم نہیں کہ یہ خیال اچانک کیوں آیا۔

نماز ختم ہوئی اور ہم باہر نکلنے لگے تو میری ملاقات ایک ایسے دوست سے ہوگئی جسے میں نے بہت عرصے سے نہیں دیکھا تھا۔

اس نے بتایا کہ وہ بہت دور رہتا ہے، لیکن آج اس علاقے میں رہنے والے ایک رشتہ دار کے ہاں دوپہر کے کھانے پر آیا تھا، اس لیے اس نے اسی مسجد میں نماز پڑھنے کا فیصلہ کیا۔

گفتگو کے دوران اس دوست نے اچانک، بغیر کسی خاص مناسبت کے، مجھ سے پوچھا:

’کیا تم کسی ایسے غریب خاندان کو جانتے ہو جس کے پاس رہنے کے لیے جگہ نہ ہو؟‘

میں نے پوچھا:
’کیوں؟‘

اس نے کہا:

’میں ایک چھوٹے سے وقف کا نگران ہوں جسے اس کے مالک نے اللہ تعالیٰ کے لیے وقف کیا تھا۔ اس میں بیس فلیٹ ہیں۔

کل ان میں سے ایک خاندان اپنے مالی حالات بہتر ہوجانے کی وجہ سے وہاں سے منتقل ہوگیا ہے۔ اس نے سوچا کہ اب یہ جگہ کسی زیادہ ضرورت مند خاندان کو دے دی جائے۔‘

میں بے اختیار پکار اٹھا:

’میرے پاس ایسا خاندان ہے! اپنا فون نمبر دو اور خدا کے لیے یہ فلیٹ کسی اور کو مت دینا۔‘

اس نے کہا:

’فکر نہ کرو، اسے اپنی طرف سے مختص سمجھو۔ اور جس خاندان کو تم لاؤ گے، اسے ایک پیسہ بھی ادا نہیں کرنا ہوگا، کیونکہ یہ اللہ کے لیے وقف ہے—ہمیشہ کے لیے۔‘

وہ شخص کہتا ہے:

’’واپسی پر اپنے محلے کی طرف جاتے ہوئے میں ان حیرت انگیز واقعات کے بارے میں سوچتا رہا۔ فجر کے وقت اچانک اپنے پڑوسی کی پریشانی معلوم ہونا، پھر عصر کی نماز کے لیے ایک ایسی مسجد میں چلے جانا جہاں میں نے زندگی میں کبھی نماز نہیں پڑھی تھی، ایسے علاقے میں جانا جہاں برسوں سے نہیں گیا تھا، اور وہاں اتفاقاً ایک ایسے دوست سے ملاقات ہوجانا جسے دس سال سے نہیں دیکھا تھا، حتیٰ کہ میرے پاس اس کا فون نمبر بھی نہیں تھا—اور پھر اسی شخص کے پاس ایک ضرورت مند خاندان کے لیے مفت رہائش موجود ہونا!

میں سوچنے لگا کہ شاید میرے پڑوسی کا اپنے رب کے ہاں کوئی خاص مقام ہے، کوئی پوشیدہ نیکی ہے، یا اس نے کوئی ایسا عظیم عمل کیا ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی پریشانی دور کردی۔‘‘

جب وہ اپنے محلے میں پہنچا تو فوراً اپنے غریب پڑوسی کے گھر گیا اور اسے خوش خبری سنائی۔

خبر سنتے ہی وہ شدتِ خوشی سے رونے لگا۔ یہاں تک کہ زمین پر بیٹھ گیا اور کھڑا نہ رہ سکا۔

اس شخص نے اس سے پوچھا:

’’فجر کی نماز کے بعد سے اب تک تم نے ایسا کیا عمل کیا ہے؟‘‘

غریب پڑوسی نے جواب دیا:

’’اللہ کی قسم! میں نے کچھ خاص نہیں کیا۔

البتہ فجر کی نماز سے واپس آیا تو میری بیوی نے مجھے بہت پریشان دیکھا۔ اس نے مشورہ دیا کہ ہم دونوں مل کر غروبِ آفتاب تک مسلسل نبی کریم ﷺ پر درود بھیجتے رہیں۔ ہم نے یہی کیا، اور اب تم یہ خوش خبری لے کر میرے پاس آگئے ہو۔ یقین کرو، ہم نے اس دوران درود شریف پڑھنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔‘‘

اللّٰهم صلِّ وسلم وبارك على نبينا محمد ﷺ۔

نبی کریم ﷺ پر کثرت سے درود و سلام بھیجیے۔

12/02/2026
12/02/2026
08/12/2022

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
انسان کی تمام پریشانیاں دو باتوں کی وجہ سے ہیں: 1) تقدیر سے زیادہ چاہتا ہے اور 2) وقت سے پہلے چاہتا ہے، پرسکون وہ ہے جس کو کم یا زیادہ کی فکر نہیں۔

اگر زندگی کا کیا ہوا حاصل، آخرت میں کام نہیں آتا تو اس حاصل کو محرومی کہو۔

کریم رب! ہمارے ماضی، حال اور مستقبل پر رحم فرما اور ہم کو بے یار ومددگار نہ چھوڑنا، تیرے علاوہ کوئی سننے والا نہیں ہے، ہم کو اپنے پسندیدہ بندوں میں شامل کر لے۔

اَللّٰهُمَّ يَا وَاسِعَ الْعَطَاءِ اَللّٰهُمََ يَا مُنْزِلَ الشِّفَاءِ اَللّٰهُمََ يَا رَافِعَ الْبَلَاءِ اَللّٰهُمََ يَا مُجِيْبَ الدُّعَاءِ اَنْزِلْ رَحْمَتَكَ وَ شِفَائَكَ وَ عَافِيَتَكَ عَلَيْنَا وَ عَلٰى كُلِّ مَرِيْضٍ يَا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ
اَللّٰهُمََ ارْفَعْ عَنَّا الْبَلَاءَ وَادْفَعِ الْوَبَآءَ عَنْ اُمَّةِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ اَنْزِلْ رَحْمَتَكَ وَ لُطْفَكَ عَلَى الْعِبَادِ وَ احْفَظْ بِلَادَنَا وَ بِلَادَ الْمُسْلِمِيْنَ مِنْ كُلِّ شَرٍّ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِيْرٌ
آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ بِجَاہِ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ عَلَیْہِ أَفْضَلُ الصَّلَاۃِ وَ السَّلَامِ وَ التَّحِیَّۃِ وَ الثَّنَاءِ وَ التَّسْلِیْمِ وَ عَلٰی آلِہٖ وَ صَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ وَ بَارِکْ وَ سَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا

تمام احباب محبت سے درود پاک پڑھنے کو معمول بنا لیں کہ سعادت دارین کا باعث ہے

11/11/2022

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اگر لوگ آپ کی عزت کرتے ہیں تو یقین کریں کہ یہ صرف اللہ کریم کا کرم ہے، پروردگار ہم سب کا پردہ رکھے
اللہ کریم جانتا ہے کہ آپ کب، کن حالات سے گزرے ہیں، یقین کریں وقت بدل جائے گا کہ یہی کائنات کا اصول ہے، اللہ رب العزت ہم پر اپنی عنایات کا در کھلا رکھے
یا ذوالجلال والاکرام اپنی شان کے مطابق اتنا معاف فرما دے جتنا تو معاف کرنے والا ہے، ہم سب پر اپنا خاص فضل وکرم فرما
اَللّٰهُمَّ يَا وَاسِعَ الْعَطَاءِ اَللّٰهُمََ يَا مُنْزِلَ الشِّفَاءِ اَللّٰهُمََ يَا رَافِعَ الْبَلَاءِ اَللّٰهُمََ يَا مُجِيْبَ الدُّعَاءِ اَنْزِلْ رَحْمَتَكَ وَ شِفَائَكَ وَ عَافِيَتَكَ عَلَيْنَا وَ عَلٰى كُلِّ مَرِيْضٍ يَا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ
اَللّٰهُمََ ارْفَعْ عَنَّا الْبَلَاءَ وَادْفَعِ الْوَبَآءَ عَنْ اُمَّةِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ اَنْزِلْ رَحْمَتَكَ وَ لُطْفَكَ عَلَى الْعِبَادِ وَ احْفَظْ بِلَادَنَا وَ بِلَادَ الْمُسْلِمِيْنَ مِنْ كُلِّ شَرٍّ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِيْرٌ
آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ بِجَاہِ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ عَلَیْہِ أَفْضَلُ الصَّلَاۃِ وَ السَّلَامِ وَ التَّحِیَّۃِ وَ الثَّنَاءِ وَ التَّسْلِیْمِ وَ عَلٰی آلِہٖ وَ صَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ وَ بَارِکْ وَ سَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا

درود پاک کا دن جمعہ مبارک، تمام احباب محبت سے درود پاک پڑھنے کو معمول بنا لیں کہ سعادت دارین کا باعث ہے

15-ربیع الاٰخر 1444 ہجری
11-نومبر 2022 عیسوی
28-کاتک 2079 بِکرمی
بروز جمعہ

01/11/2022

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

جب تک آپ کے ہاتھ سے خیر نکلتا رہے گا آپ کے اوپر زوال نہیں آ سکتا، خیر سے مراد کوئی اچھی بات، اچھا مشورہ، خشک ہوتے پودے کو پانی دینا، شجر کاری، ایک پلیٹ کھانا، کچھ پیسے، دکھ میں دلاسہ، خوشی میں بلاحسد مبارک باد، پرندوں کو کھانا کھلانا، حشرات کی خوارک اور ان جیسی چھوٹی چھوٹی باتیں جن سے لوگوں میں خوشیاں بانٹی جا سکتی ہیں
اللہ کریم ہمیں توفیق مزید عطا فرمائے
اَللّٰهُمَّ يَا وَاسِعَ الْعَطَاءِ اَللّٰهُمََ يَا مُنْزِلَ الشِّفَاءِ اَللّٰهُمََ يَا رَافِعَ الْبَلَاءِ اَللّٰهُمََ يَا مُجِيْبَ الدُّعَاءِ اَنْزِلْ رَحْمَتَكَ وَ شِفَائَكَ وَ عَافِيَتَكَ عَلَيْنَا وَ عَلٰى كُلِّ مَرِيْضٍ يَا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ
اَللّٰهُمََ ارْفَعْ عَنَّا الْبَلَاءَ وَادْفَعِ الْوَبَآءَ عَنْ اُمَّةِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ اَنْزِلْ رَحْمَتَكَ وَ لُطْفَكَ عَلَى الْعِبَادِ وَ احْفَظْ بِلَادَنَا وَ بِلَادَ الْمُسْلِمِيْنَ مِنْ كُلِّ شَرٍّ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِيْرٌ
آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ بِجَاہِ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ عَلَیْہِ أَفْضَلُ الصَّلَاۃِ وَ السَّلَامِ وَ التَّحِیَّۃِ وَ الثَّنَاءِ وَ التَّسْلِیْمِ وَ عَلٰی آلِہٖ وَ صَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ وَ بَارِکْ وَ سَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا

تمام احباب محبت سے درود پاک پڑھنے کو معمول بنا لیں کہ سعادت دارین کا باعث ہے

29/10/2022

تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مراقبے سے ہماری عام زندگی پر بھی کئی طرح کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مراقبے کے ذریعے کئی جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں سے نجات مل سکتی ہے۔ کارکردگی اور یادداشت میں اضافہ ہوتا ہے اور ذہنی صلاحیتوں کو جلا ملتی ہے۔

جس طرح جسم کے حواس ہیں اسی طرح روح بھی حواس رکھتی ہے اور روحانی حواس کو متحرک کرنے کا نام مراقبہ ہے۔ مراقبہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں فرد موجود ہوتے ہوئے بھی اس مقام پر نہیں ہوتا اور کسی دوسرے مقام پر نہ ہوتے ہوئے بھی وہاں موجود ہوتا ہے۔ اصل میں ہمارے اندر جتنی بھی قوت ہے جتنی بھی طاقت ہے‘ انرجی ہے‘ پاور ہے‘ روح ہے یہ سب خالق کی صفحات کا عکس ہے اور کائناتی علوم صرف روح کو حاصل ہیں‘ لہٰذا روح سے واقفیت انتہائی ضروری ہے‘ زندگی کا سراغ پانے کیلئے اپنے من میں ڈوبنا پڑتا ہے۔ پانچ حواص جومادیت میں محدود ہیں لیکن روح کے مرکز میں داخل ہوتے ہی یہ محدود حواس چونکہ مادے کی گرفت سے باہر نکلتے ہیں لہٰذا لامحدود ہوجاتے ہیں مثلاً نگاہ خواب میں کیا کچھ دیکھ لیتی ہے۔ سو وہ شے جوغیب ہے لیکن دسترس میں ہے کہ اسے مسخر کردیا جائے اسے اپنے وجود کے مقناطیسی نظام سے دیکھا جاسکتا ہے اور وجود کی طاقت سامنے لانے کیلئے شمع بنتی‘ چاند اور آخر میں سورج کو مسلسل دیکھ کر قوت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
انسانی وجود میں دماغ اس کائنات کا سب سے بڑا بھید ہے کہ دنیائے انسانیت کے تمام کارنامے‘ تفکر‘ تصور اور خیال کی غیرمرئی طاقت کا طواف کرتے ہیں اور نئے مفاہیم کے ساتھ نئے صبح و شام پیدا کرتے ہیں۔ لہٰذا دماغ میں موجود ذہن کی رفتار پر ہی عمل کی رفتار کا دارو مدار ہوتا ہے اور اس رفتار کو بڑھانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے علم! مراقبے میں جب یکسوئی حاصل ہوجائے اور روشنیوں کا نظام واضح ہونے لگے اور ہر روشنی اپنے مقام کے‘ مفہوم کے ساتھ ذہن کو روشن کرنے لگے توایک کیفیت یہ آتی ہے کہ تمام مناظر بند آنکھوں کے سامنے گھومنےلگتے ہیں یہ کیفیت ورود کہلاتی ہے اور اس کے بعد ایک درجہ وہ آتا ہے جب تمام مناظر کھلی آنکھ سے دیکھے جاتے ہیں یہ مقام شہود کہلاتا ہے۔
روشنیوں اور رنگوں کا ایک نظام ہے جو نہ صرف باہر کی دنیا میں پھیلا ہوا ہے بلکہ بھید کی دنیا پر بھی اس کی حکومت چلتی ہے اور جس رنگ کی قوت غالب آرہی ہو انسان کا مزاج بھی اسی رنگ میں ڈھلنا شروع ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رنگ اپنی جگہ اہم ہوتے ہیں رنگوں کی مدد سے علاج بھی کیا جاتا ہے۔ لمس کی مدد سے بھی علاج ممکن ہے‘ رنگ اپنا روپ مختلف طریقوں سے ظاہر کرتے ہیں آواز کا جو کمبی نیشن ہوتا ہےاس میں بھی کئی رنگ پائےجاتے ہیں۔ یعنی آوازوں کی مرکزیت اور ان کے ملاپ کے اندر بے شمار رنگ ہوتے ہیں اس لیے مختلف جذبوں کے تحت نکلی ہوئی آوازوں کے اس کمبی نیشن سے اندر موجود رنگوں پر فرق پڑتا ہے اور تبدیلی وجود سے باہر ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ اس کا نام مراقبہ ہےاور مختلف قسم کے مناظر آنکھوں کے سامنے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے رابطہ اور تعلق کی قوت جتنی زیادہ مضبوط ہوگی۔ اتنی ہی طاقت کے ساتھ ہمارے دلوں میں اللہ کی محبت جھلکے گی اور پھوٹے گی۔
مراقبے کے فوائد سائنس کی رو سے: ترقی یافتہ ممالک میں مراقبے کے موضوع پر سائنسی و تحقیقی کام شب و روز جاری ہے‘ جدید سائنسی آلات سے اخذ کیے جانےوالے نتائج سے نہ ثابت ہوا ہے کہ مراقبے سے انسان کو ہمہ جہت فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔ ان نتائج کے پیش نظر مراقبہ کو ایک ٹیکنالوجی کی حیثیت دے دی گئی ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مراقبے سے ہماری عام زندگی پر بھی کئی طرح کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مراقبے کے ذریعے کئی جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں سے نجات مل سکتی ہے۔ کارکردگی اور یادداشت میں اضافہ ہوتا ہے اور ذہنی صلاحیتوں کو جلا ملتی ہے۔ تسبیح کے دوران مسلسل توجہ ارتکاز ضروری ہے۔ زبانی طور پر یا دل ہی دل میں تسبیح کے الفاظ دہرانے کے دوران بھی اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہا جاتا ہے کہ اصل تسبیح وہ ہے‘ جو دل یا سانس سے ادا ہو۔ اللہ نے ہمیں سانس اور دل اسی لیےعطا کیے ہیں کہ ہم ان کی مدد سے اسے یاد کریں۔ صرف زبان سے اسےیاد نہ کریں۔ سانس کو دماغ کی سواری بھی کہا جاتا ہے۔ اس لیے سانس کے بارےمیں معلومات مراقبے کا ایک اہم جزو ہے۔ اس حوالے سے پہلا نکتہ یہ ہے کہ تسبیح یا جاپ کے ذریعے آپ کو اپنی قدرتی
سانس کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی ہے۔ آپ ایک منٹ میں پندرہ بار ایک گھنٹے میں نو سو مرتبہ اور چوبیس گھنٹے میں 21600 سانس لیتے ہیں لیکن کبھی اس کا احساس نہیں ہوتا۔ آپ کو صرف یہ معلوم ہے کہ سانس کی آمدورفت ایک لازمی عمل ہے‘ سانس زندگی کی کلید ہے اور یہی سانس ارتکا اور مراقبے کی بنیاد ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہمیں عمل تنفس کی مختلف مہینوں کا علم ہونا چاہیےجو یہ ہیں:۔ 1۔ قدرتی تنفس۔ 2۔ قدرتی تنفس سے گہری سانس۔ 3۔ پرسکون عمل تنفس۔ 4۔ تنفس میں رکاوٹ۔ آپ تنفس کی ان چار کیفیتوں کا بستراستراحت پر خود بھی جائزہ لے سکتے ہیں‘ آپ جب بستر پر دراز ہوتے ہیں تو آپ کا تنفس معمول کے مطابق ہوتا ہے۔ نیم خوابی کی حالت میں آپ گہرے تنفس میں ہوتے ہیں‘ گہری نیند میں آپ کاتنفس پرسکون حالت میں ہوتاہے اور آپ ہلکے خراٹوں کی آواز محسوس بھی کرسکتے ہیں۔ بعض اوقات گہری نیند کی حالت میں تنفس کا سلسلہ منقطع بھی ہوجاتا ہے۔ آپ اچانک جاگ جاتے ہیں۔ تنفس کی ان چار کیفیتوں کا مشاہدہ مراقبے کے دوران بھی کہا جاسکتا ہے۔ اگر آپ اپنے قدرتی تنفس پر نصف گھنٹےیا اس سے زیادہ عرصے تک توجہ مرکوز رکھتے ہیں تو آپ ایک گہری کیفیت میں چلےجاتے ہیں اور آخر کار انتہائی پرسکون ہوجاتے ہیں ۔ اس سلسلے میں تیسرا نکتہ سانس کی آمدورفت سے آگاہی اور جسم میں اس کی حرکات و سکنات کی محسوسات ہیں۔ چوتھا نکتہ منہ کی آواز ہے جس کا سلسلہ تنفس کے ساتھ جڑا ہوا ہوتا ہے۔ آپ مسلسل جب سانس لیتے ہیں تو سبحان اللہ والحمدللہ کی آواز نکلتی ہے اور ارتکا کی لہریں اپنے جسم میں محسوس کرتے ہیں تو اس سے آپ کو جسمانی قوت کی بحالی میں بھی مدد ملتی ہے۔

05/09/2022

*طريقت و معرفت میں شیخ(مُرشدِکامل) کی ضرورت کیوں ھے؟*

*شیخ اکبر محیی الدین ابن العربیؒ ابنی کتاب مواقع النجوم میں لکھتےھیں*

*تُجھےاپنےنفس کو ایک ایسےاَمر کی قید میں دینا چاھیۓجو تُجھےحکم بھی دے اور منع بھی کرے، تو اُس کی شاگردی اختیار کر،*
*اور*
*اُسے اپنا شَیخ اور مُرشد بنا*
*کیونکہ اگر تُو اپنےافعال کو غیر کی مُراد پر نہیں چلائےگا*
*تو کبھی اپنی خواھش سےباھر نہیں نکل پائے گا*
*چاھےساری عُمر اپنےنفس سےجہاد کرتا رہ اور سختیاں جھیل*
*لیکن جب تک اُس کا انتظام اُسی کےھاتھ ھےتو وہ ھمیشہ اپنی خواھش پر ھی رھےگا*
*کیونکہ وه اپنے معاملات خُود چلارھاھے*
*اگر اُس پر مکاشفےکے لطائف اور مُشاھدے کی چند اقسام کھول بھی دی جائیں تو وہ ھمیشہ اپنی رَعونت اور سرداری پر ھی رھےگا*

*جس سےنکلنا اُس کے بس کی بات نہیں*
*ھاں اگر وہ اپنےجیسے کسی دوسرےنفس کی فرمانبرداری اختیار کرے*

*خُود کو اُس کے امرونہی کے تابع کرےاِس کی وجہ (نفس) کے حجاب کی کثافت اور اُس کی رَسّی کا گنجلک پن ھے*
*یہاں تک کہ وہ مُطلق حکم والے اَمر تک پہنچ جائے، اور (مُرشد) اِس (نفس)کیلیۓ اُس (حق) تک جانےکی سیڑھی ھو*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*شیخ اکبرؒ نے یہ لکھاھےکہ اگر کوئی مُجاھدے اور ریاضت کے طریق پر خُود کو چلاتاھے*
*تو اِس پر مکاشفےکے لطائف اور مُشاھدے کی چند اقسام کھول دی جاتی ھیں*
*یعنی کسی درجے کا صاحبِ کشف وہ بھی بن جاتاھے*
*اور ایسےبہت سےلوگ ھم نے دیکھےھیں جو کسی درجےمیں کشف کا مقام بھی رکھتےھیں اور خودساختہ پیر اور شیخ بھی بن جاتےھیں*
*لیکن اصل میں اُن کا نفس فریب کا شکار ھورھے ھوتےھیں*
*اور نفس کے فریب سے انہیں بچانےوالا کوئی نہیں یعنی ان کا کوئی مُرشد نہیں*

*لیکن یہ کامل طریقت نہیں ھے*
*کامل طریقت نفس سے اِس کی میں تکبر اَنّا کا خاتمہ ھے*
*جو کاملِ مُرشد کے بغیر نہیں ھوسکتا*
*اور مُرشدِکامل ھی حق تک پہنچانےوالی سیڑھی ھے*

*صل اللّٰہ علی حبیبہ محمدوآلہ وسلم*

25/08/2022

بلڈ پریشر کا قرآن سے علاج

Address


Up More North Karachi
Karachi
73505

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Asr e Rohaniat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Subscribe

We will notify you when anything happens in Karachi.