Royal Process
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Royal Process, Public Figure, Kasur.
13/05/2026
Imran Khan represents hope for millions who believe in change and accountability.
That hope cannot be silenced.
13/05/2026
اردو ادب میں مشتاق احمد یوسفی کا مقام وہ ہے جہاں طنز کی کاٹ اور مزاح کی مٹھاس مل کر ایک ایسا جادو جگاتی ہیں جو قاری کو ہنساتے ہنساتے سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ان کے فن پاروں سے کشید کیے گئے چند ایسے ہی لازوال اور شگفتہ اقتباسات جو آج بھی اتنے ہی تازہ ہیں جتنے دہائیاں پہلے تھے۔
مرزا کہتے ہیں کہ کلامِ غالب کی سب سے بڑی مشکل اس کی شرحیں ہیں۔ وہ نہ ہوں تو غالب کا سمجھنا چنداں مشکل نہیں۔
بڑھیا سگرٹ پیتے ہی ہر شخص کو معاف کردینے کو جی چاہتا ہے۔۔۔ خواہ وہ رشتے دار ہی کیوں نہ ہو۔
مجھے روشن خیال بیوی بہت پسند ہے۔۔۔ بشرطیکہ وہ کسی دوسرے کی ہو۔
جاڑے اور بڑھاپے کو جتنا محسوس کروگے اتنا ہی لگتا چلا جائے گا۔
“ مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے
آدمی ایک بار پروفیسر ہوجائے تو عمر بھر پروفیسر ہی رہتا ہے، خواہ بعد میں سمجھ داری کی باتیں ہی کیوں نہ کرنے لگے
لہجہ لفظ کا ڈی این اے ہے، جس سے نظر کا فتور، نیت کا کھوٹ اور دل کا چور پکڑا جاتا ہے۔
لفظوں کی جنگ میں فتح کسی بھی فریق کی ہو، شہید ہمیشہ سچائی ہوتی ہے
جو ملک جتنا غربت زدہ ہوگا، اتنا ہی آلو اور مذہب کا چلن زیادہ ہوگا
دشمنوں کے حسب عداوت تین درجے ہیں: دشمن، جانی دشمن اور رشتے دار
مسلمان کسی ایسے جانور کو محبت سے نہیں پالتے جسے ذبح کرکے کھا نہ سکیں
محبت اندھی ہوتی ہے، چنانچہ عورت کے لیے خوبصورت ہونا ضروری نہیں، بس مرد کا نابینا ہونا کافی ہوتا ہے
بڑھاپے کی شادی اور بینک کی چوکیداری میں ذرا فرق نہیں، سوتے میں بھی ایک آنکھ کھلی رکھنی پڑتی ہے
مصائب تو مرد بھی جیسے تیسے برداشت کرلیتے ہیں مگر عورتیں اس لحاظ سے قابل ستائش ہیں کہ انھیں مصائب کے علاوہ مردوں کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے
حجام کی ضرورت ساری دنیا کو رہے گی تاوقتیکہ ساری دنیا سکھ مذہب اختیار نہ کرلے اور یہ سکھ کبھی ہونے نہیں دیں گے
سردی زیادہ اور لحاف پتلا ہو تو غریب غربا منٹو کے افسانے پڑھ کر سو رہتے ہیں
امریکا کی ترقی کا سبب یہی ہے کہ اس کا کوئی ماضی نہیں
مرض کا نام معلوم ہوجائے تو تکلیف تو دور نہیں ہوتی، الجھن دور ہوجاتی ہے
پاکستان کی افواہوں کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ سچ نکلتی ہیں
فقیر کے لیے آنکھیں نہ ہونا بڑی نعمت ہے
بدصورت انگریز عورت نایاب ہے، بڑی مشکل سے نظر آتی ہے، یعنی ہزار میں ایک۔ پاکستانی اور ہندوستانی اسی سے شادی کرتا ہے
گالی، گنتی، سرگوشی اور گندہ لطیفہ اپنی مادری زبان ہی میں مزہ دیتا ہے
ہارا ہوا مرغا کھانے سے آدمی اتنا بودا ہوجاتا ہے کہ حکومت کی ہر بات درست لگنے لگتی ہے
جس دن بچے کی جیب سے فضول چیزوں کے بجائے پیسے برآمد ہوں تو سمجھ لینا چاہیے کہ اب اسے بے فکری کی نیند کبھی نہیں نصیب ہوگی
انسان واحد حیوان ہے جو اپنا زہر دل میں رکھتا ہے
یہ بات ہم نے شیشم کی لکڑی، کانسی کی لٹیا، بالی عمریا اور چگی داڑھی میں ہی دیکھی کہ جتنا ہاتھ پھیرو، اتنا ہی چمکتی ہے
مرد عشق و عاشقی صرف ایک ہی مرتبہ کرتا ہے، دوسری مرتبہ عیاشی اور اس کے بعد نری بدمعاشی
آسمان کی چیل، چوکھٹ کی کیل اور کورٹ کے وکیل سے خدا بچائے، ننگا کرکے چھوڑتے ہیں
قبر کھودنے والا ہر میت پر آنسو بہانے بیٹھ جائے تو روتے روتے اندھا ہوجائے
خون، مشک، عشق اور ناجائز دولت کی طرح عمر بھی چھپائے نہیں چھپتی
تماشے میں جان تماشائی کی تالی سے پڑتی ہے، مداری کی ڈگڈگی سے نہیں
لذیذ غذا سے مرض کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ اور طاقت پیدا ہوتی ہے
یورپین فرنیچر صرف بیٹھنے کے لیے ہوتا ہے جبکہ ہم کسی ایسی چیز پر بیٹھتے ہی نہیں جس پر لیٹا نہ جاسکے
کچھہ لوگ اتنے مذہبی ہوتے ہیں کہ جوتا پسند کرنے کیلئے بھی مسجد کا رخ کرتے ہیں۔
صرف ننانوے فیصد پولیس والوں کی وجہ سے باقی بھی بدنام ہیں۔
میرا تعلق اس بھولی بھالی نسل سے رہا ہے جو خلوصِ دل سے سمجھتے ہیں کہ بچے بزرگوں کی دعاؤں سے پیدا ہوتے ہیں۔
اندرون لاہور کی بعض گلیاں اتنی تنگ ہیں کہ ایک طرف سے عورت آرہی ہو اور دوسری جانب سے مرد، تو درمیان میں صرف نکاح کی گنجائش بچتی ہے۔
سمجھہ دار آدمی نظر ہمیشہ نیچی اور نیت خراب رکھتا ہے۔
مونگ پھلی اور آوارگی میں یہ خرابی ہے کہ آدمی ایک دفعہ شروع کردے تو سمجھ میں نہیں آتا کہ ختم کیسے کرے۔
وہ زہر دے کے مارتی تو دنیا کی نظر میں آجاتی، اندازِ قتل تو دیکھو، ہم سے شادی کرلی۔
بیسویں صدی میں جیت انہی کی ہےجن کے ایک ہاتھ میں دین ہے اور دوسرے میں دنیا، اور دائیں ہاتھ کو خبر نہیں کہ بائیں میں کیا ہے۔
بیوی سے عشقیہ گفتگو کرنا ایسے ہی ہے جیسے انسان خارش وہاں کرے جہاں نہ ہو رہی ہو۔
یوں میرا دادا بڑا جلالی تھا۔ اس نے چھ خون کئے اور چھ ہی حج کئے۔ پھر قتل سے توبہ کرلی۔ کہتا تھا اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں، اب مجھ سے بار بار حج نہیں ہوتا۔
منقول
اس سال قربانی کے جانور کے لیے بجٹ کتنا ہونا چاہیے 🐄💰
13/05/2026
اب وہ گلیاں وہ مکاں یاد نہیں
کون رہتا تھا کہاں یاد نہیں
جلوۂ حسن ازل تھے وہ دیار
جن کے اب نام و نشاں یاد نہیں
کوئی اجلا سا بھلا سا گھر تھا
کس کو دیکھا تھا وہاں یاد نہیں
یاد ہے زینۂ پیچاں اس کا
در و دیوار مکاں یاد نہیں
یاد ہے زمزمۂ ساز بہار
شور آواز خزاں یاد نہیں
احمد مشتاق
12/05/2026
اے رب ہمیں اس نظارے سے محروم نہ کرنا♥️
12/05/2026
ہمیں عمران خان چاہیے بس
Horrar Place
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Kasur