Right Way
This page is managed only for motivational thoughts and Videos for Educational Purposes
25/06/2026
#کربلا
18/01/2026
#قرآن کو #عام کریں
دنیا کی عارضی چوہدراہٹ اور قرآنی حقیقت
تحریر: ارشد محمود خان
اکثر انسان اس خوش فہمی کا شکار ہو جاتا ہے کہ اسے ملنے والا منصب، اقتدار یا معاشرے میں اعلیٰ مقام ہمیشہ اس کے پاس رہے گا۔ وہ اپنی 'نمبرداری' اور 'چوہدراہٹ' کے نشے میں یہ بھول جاتا ہے کہ وقت کا پہیہ ہر لمحہ گردش میں ہے۔ قرآنِ کریم نے مختلف مقامات پر انسان کو اس حقیقت سے آگاہ کیا ہے کہ دنیا کی یہ ظاہری چمک دمک محض ایک سراب ہے۔
اس بلاگ میں ہم ان اہم نکات کا جائزہ لیں گے جو ہمیں دنیا کی عارضی حیثیت اور حقیقی کامیابی کی طرف راغب کرتے ہیں:
1. منصب اور مرتبہ: ایک امانت، نہ کہ ملکیت
قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ دنیا میں ملنے والا کوئی بھی عہدہ یا منصب اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہے۔ یہ مرتبہ ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں بلکہ ایک خاص مدت کے لیے دی گئی امانت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے تخت و تاج خاک میں مل گئے، مگر ذکر صرف ان کا باقی رہا جنہوں نے اس منصب کو خلقِ خدا کی خدمت کے لیے استعمال کیا۔
2. چوہدراہٹ اور نمبرداری کی بے ثباتی
معاشرتی رعب و داب اور چوہدراہٹ، جس کے لیے انسان اکثر اپنی اقدار کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے، درحقیقت ریت کی دیوار سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ جب وقت بدلتا ہے تو وہی 'نمبردار' تنہا رہ جاتا ہے۔ قرآن نے واضح کیا ہے کہ عزت اور ذلت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور ظاہری غلبہ عارضی ہے۔
3. سمندر کی جھاگ کی مانند دنیا
جس طرح سمندر کی لہریں اپنے ساتھ ڈھیروں جھاگ لے کر آتی ہیں جو دیکھنے میں تو بہت زیادہ معلوم ہوتی ہے لیکن چند لمحوں میں غائب ہو جاتی ہے، بالکل اسی طرح دنیاوی جاہ و جلال بھی عارضی ہے۔
قرآنی تمثیل: "پھر وہ جھاگ تو اڑ کر ختم ہو جاتا ہے اور جو لوگوں کو فائدہ پہنچانے والی چیز ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔" (سورہ الرعد)
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ صرف وہی عمل باقی رہتا ہے جو نفع بخش ہو۔
4. دائمی حقیقت کی تلاش
اگر یہ دنیا اور اس کے منصب عارضی ہیں، تو پھر مستقل کیا ہے؟ قرآن ہمیں 'آخرت' اور 'رضائے الٰہی' کی طرف بلاتا ہے۔ اصل کامیابی یہ نہیں کہ آپ کے پاس کتنی بڑی چوہدراہٹ ہے، بلکہ یہ ہے کہ آپ نے اس مختصر زندگی میں کتنے نیک اعمال کمائے۔
5. عبرت کا پہلو
ہمیں اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی نشانیوں سے سبق سیکھنا چاہیے۔ قبرستان ان لوگوں سے بھرے پڑے ہیں جو کبھی سمجھتے تھے کہ ان کے بغیر دنیا کا نظام نہیں چلے گا۔ وہ منصب، وہ رعب اور وہ طاقت سب وہیں رہ گئی، ساتھ گیا تو صرف ایمان اور عملِ صالح۔
حاصلِ کلام: یہ پیغام ہمیں اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔ دنیا کی عارضی جھاگ کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اس حقیقت کو اپنائیں جو دائمی ہے۔ یاد رکھیں، منصب آتا جاتا رہتا ہے، لیکن انسانیت اور کردار ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
کیا آپ کو بھی لگتا ہے کہ ہم دنیاوی منصب کی دوڑ میں اصل مقصد بھول چکے ہیں؟ اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں۔
11/01/2026
کاش کہ انسان سمجھ جائے
10/01/2026
اصل طاقت
08/01/2026
اللہ پاک تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کو توفیق عطا فرمائے
06/01/2026
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Address
Lahore