Humkalamdil
I am a thinker, writer and poetess
17/07/2026
اسلامی ٹچ والے ڈرامے کیوں مشہور ہونے لگے
سازش کرنے والے ہر طرف سے با خبر ہوتے ہیں۔ کوئی 25 سال پہلے پاکستان لڑکیوں اور عورتوں میں ڈائجسٹ بہت مقبول تھا۔ اس لئے کی زیادہ تر فکشن اور معاشرے کی کہانیاں اور ناول ہوتے تھے۔۔۔۔پھر یہ کہانیاں کو ایجوکیشن کو پروموٹ کرنے لگے اور یونیورسٹی لائف دکھائی جانے لگی۔۔۔پھر آہستہ آہستہ ایک ورکنگ لیڈی کو کانسیپٹ دیا گیا جو میرے جیسی مڈل کلاس کے لئے بڑا فیسینیٹڈ تھا۔۔۔۔۔۔اب ذہن تیار تھے اور وہ گھریلو پاکستانی لڑکیاں دین سے پیدل تھیں۔۔۔۔دین صرف نماز پڑھنا۔ تین کلمے۔ رمضان میں روزے اور دو قرآن رٹے میں ختم۔۔۔۔۔۔۔۔قرآنِ مجید جو فرقان ہے یعنی اچھائی برائی میں فرق بتانے والا۔ اسے کبھی سمجھنے یا حدیث کا علم لینے کی نوبت گھریلو لڑکیوں پر کبھی نا آئی۔ شادی ہو جانے کے بعد ادھر اُدھر سے ازدواجی نقطے لینے والی لڑکیاں ایک لبرل اسلامائزیشن کے لئے تیار تھیں۔۔۔۔۔23سال پہلے پہلا دھماکہ عمیرہ احمد صاحبہ کا نام نہاد اسلامی ناول۔۔۔۔پیرِ کامل قسط وار شائع ہونا شروع ہونا ۔ مجھ سمیت یہ کئی ہزار لڑکیوں کے لئے لبرل اسلام کا پہلا تعارف تھا۔۔۔۔۔اس وقت اتنی بولڈ لڑکی کا تصور بھی نہیں تھا جو میڈیکل کالج کے ہاسٹل سے بھاگ جاتی اور اتنی چھوٹی عمر میں اسلام کو ایک ساٹھ سالہ عورت کی طرح بغیر کسی استاد کے سمجھ لیتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں سے اصل کہانی شروع ہوئی اور ہیرو کو بھی خود ساختہ نیکوکار بنا دیا گیا۔۔۔۔۔۔اتنا بوگس تصور تو آج سوشل میڈیائی دور میں بھی نہیں سوچا جا سکتا۔۔۔۔۔۔جب ہر طرف انڈیپنڈنٹ لڑکیاں ویلاگ بناتی پھر رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر نمرا احمد وارد ہوئیں جنہوں نے دین کو ایک ہیرو کے ذریعے سے سکھانا شروع کر دیا۔۔۔۔۔تھیم یہ تھا کہ جو مرضی اُٹھے اور اپنی مرضی سے قرآنِ مجید کی تفسیر و معنیٰ کرے۔۔۔۔احادیثِ مبارکہ کو اپنے معاملات میں خود ہی سے جوڑ کر خود ہی نتیجہ اخذ کرے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان میں قرآنی تراجم اور سورۃ کو رائیٹر کے اپنے پوائنٹ آف ویو سے بیان کیا جانے لگا
اگر یہ کہانیاں ہی رہتی اور ان میں اسلامک ٹچ نا لگایا جاتا تو بھی یہ مکمل ہی تھیں لیکن پھر ذہن سازی نا ہو پاتی۔
اب یہ کہانیاں سکرین پر ڈراموں کی شکل میں اگلی نسل کی ذہن سازی کرنے لگیں جن میں عورت کو خوب گلیمرائز کیا گیا۔ اسلامی شعار جیسے نکاح۔ طلاق۔ حق مہر۔ پردہ ۔ خاندانی نظام۔ برتھ کنٹرول۔ جہیز۔ عورت کی ملازمت اور بے شمار ایسے حساس موضوع لکھنے والی کے الفاظ اور ذہن کے مطابق ڈالے جانے لگے۔۔۔۔۔۔پاکستانی لڑکیاں اور عورتیں آج بھی ویسی ہی تھیں۔ نماز۔ روزہ اور تلاوت کے علاوہ کسی بھی دینی شعار سے مکمل کاعلم۔۔۔
باقائدہ پلان کی گئیں تھیں یہ لکھاری۔ لڑکیاں دین کو سمجھیں یا نا سمجھیں لیکن ان لکھایوں کے ایک ایک لکھے جھوٹے ڈائلاگ کو سچ سمجھ لیتی تھیں۔ 23 سال پہلے بھی مجھے عمیرہ احمد صاحبہ ایک پلانٹڈ رائیٹر لگیں اور آج ڈرامہ انڈسٹری میں گھس کر اس کا ثبوت بھی دے بیٹھیں۔ یہ سب لبرل اسلامائزیشن کے حامی اندر سے سیکولر اسلام کے نمائندے ہیں۔ ایک دم دین کو مولڈ کرنا ممکن نہیں تھا تو انہوں نے اُس زمانے کے مشہور میڈیا کا سہارا لیا جو میرے جیسی لاکھوں پاکستانی لڑکیاں پڑھتی تھیں۔
اب قرآن حمید کی بات کو علماء سے نہیں بلکہ ان لکھاریوں کے ذہن سے پڑھا جانے لگا ہے۔ سازش کامیاب رہی اور بھیڑ چال میں سب کی سب دین کو اسعمال کر کے ناول اور ڈرامے لکھنے لگیں۔ ورنہ پہلے کسی بھی دینی بات کو یوں کہانیوں میں اُچھالا نہیں جاتا تھا۔
معاشرے پر یہ اثر ہوا کہ گزشتہ دس سال میں طلاق کی شرع ١٠٠ فیصد بڑھ گئی۔
مئی 2026 میں صرف اسلام آباد ہائی کورٹ میں طلاق و خُلع کے اُنیس ہزار کیس فائل ہوئے۔۔۔۔۔لاھور کراچی اور دوسرے بڑے شہروں میں حال اس سے بھی بُرا۔۔۔۔۔
ان لکھاریوں نے دین سکھایا یا نا سکھایا لیکن ہماری کم دینی علم والی لڑکیوں اور عورتوں کے عقائد کا بیڑا غرق ضرور کیا۔
خدارا اپنی بیٹیوں کو ان ناولوں سے دین پڑھانے کی بجائے علماء سے اور بہترین تفاسیر سے دین پڑھائیں۔
اگر ناول اور فکشن پڑھانا ہے تو انگریزی ادب اسی کے لئے ہے۔ ااس میں کم از کم دین کا نعوذ باللہ مذاق نہیں اڑایا گیا۔
مونا پری
ہمکلام دِل
پانچ انسان
جس عورت کا لاہور میں کئی کنال کا بنگلہ تھا، فیکٹری تھی، گاڑیاں تھیں، نوکر چاکر تھے — اس کی قبر پر پانچ انسان تھے۔ اور ان پانچ میں سے بھی دو ہم میاں بیوی تھے جن کا اس سے خون کا کوئی رشتہ نہیں تھا۔
تیس سال پہلے یہ خاندان “امریکہ” کا خواب لے کر نکلا تھا۔
بہت پیسہ تھا ساتھ۔ پانچ بیڈروم کا گھر لیا۔ زندگی ٹھیک چل سکتی تھی۔
لیکن امریکہ ایک عجیب چیز کرتا ہے۔
یہ آپ کو بدل دیتا ہے — مگر سب کو ایک جیسا نہیں بدلتا۔
شوہر بدلا، بچے بدلے، مگر قدسیہ نہیں بدلی۔ وہ وہی رہی جو پاکستان سے آئی تھی۔ نماز، قرآن، اپنی تہذیب۔ اور یہی اس کا “جرم” بن گیا۔
گھر میں جھگڑے شروع ہوئے۔ شوہر ملحد ہوچکا تھا۔ اسے بیوی کا نماز پڑھنا گوارا نہ تھا۔ ایک بیٹے نے امریکن سے شادی کی، بیٹی نے افریقی سے، تیسرے نے عرب سے۔ بچے نکلے تو گھر بکا۔ گھر بکا تو آمدن گئی۔ آمدن گئی تو وہ عورت جس کے گھر میں نوکر تھے — لیبر جاب کرنے لگی۔
یہ امریکہ کا خواب تھا۔
جب مجھے اطلاع ملی تو معلوم ہوا کہ شوہر لاش جلانے کا سوچ رہا ہے۔
ہاں۔ کریمیشن۔
کہہ رہا تھا اسلامی تدفین مہنگی ہے، بتیس سو ڈالر میں کریا کرم ہوجائے گا۔ اور ایک آپشن یہ بھی تھا — گھر کے پچھواڑے میں دفن کردو، بالکل فری۔
میری بیوی نے ایک فون کال کی۔ ٹمسجد کی انتظامیہ کو بتایا۔ چند گھنٹوں میں مسلم کمیونٹی نے چندہ کیا، کفن دفن کا بندوبست ہوا، جمعہ کی نماز کے بعد تین سو لوگوں نے جنازہ پڑھا۔
تین سو لوگ۔
مگر قبرستان تک؟ صرف پانچ۔
اور وہ دو جوان بچے جو اسی شہر میں رہتے تھے؟
وہ جنازے کے بیچ سے اٹھ کر چلے گئے۔
انہیں اپنے بچوں کو اسکول سے پک کرنا تھا۔
ماں مٹی میں اتر رہی تھی اور اسگی اولاد اسکول کی ٹائمنگ دیکھ رہی تھی۔
قبر پر آنسو بہانے والی میری بیوی تھی — جو ڈیڑھ سال پہلے بازار میں اتفاقاً ملی تھی۔ واٹس ایپ چلانا سکھایا تھا، پاکستان کا ویزہ اپلائی کروایا تھا، بس یہی رشتہ تھا۔
مگر وہ رو رہی تھی۔ سگے بچے نہیں روئے۔ اب میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔
آپ میں سے جو امریکہ جانا چاہتے ہیں — کیا آپ نے سوچا ہے کہ آپ وہاں کیا لے جائیں گے اور کیا چھوڑ آئیں گے؟
اور جو وہاں پہنچ چکے ہیں — کیا آپ کے بچے آپ کی قبر پر آئیں گے؟
اور جو نہیں جاسکے — کیا اب بھی جانا چاہتے ہیں؟
کمنٹ میں بتائیں — امریکہ نے آپ کو کیا دیا اور کیا لیا؟
علی سلمان جعفری
#امریکہ #ہجرت #پاکستان #پردیس
#قبر #ماں #خاندان
یہ
19/04/2026
مدحتِ شافعِؐ محشر پہ مقرر رکھا
میرے مالک نے مرے بخت کو یاور رکھا
میں نے خاکِ درِ حسان ؓ کو سُرمہ جانا
اور ایک ایک سبق نعت کا ازبر رکھا
میں نے قرآن کی تفسیر میں سیرت کو پڑھا
نور کو دائرہ نور کے اندر رکھا
نورِ مطلق نے اسے خلق کیا خلق سے قبل
منصبِ کارِ رسالت میں مؤخر رکھا
معنیِ اجرِ رسالت کو سمجھنے کے لیے
زیرِ نگرانی سلمانؓ و ابوذرؓ رکھا
خاتمیت کا شرف آپؐ کو بخشا اور پھر
آپ ؐ کی دسترسِ خاص میں کوثر رکھا
جس کسی نے بھی کبھی شان میں گستاخی کی
ابد آباد تک اس شخص کو ابتر رکھا
تختی لکھی تو اسی نام سے آغاز کیا
جس کو معبود نے ہر نام سے اُوپر رکھا
منزلِ شُکر کہ ہر گام ، خوشی ہو کہ الم
ورد اک اسمِ گرامی کا برابر رکھا
عمر بھر ٹھوکریں کھاتا نہ پھروں شہر بہ شہر
ایک ہی شہر میں اور ایک ہی در پر رکھا
افتخار عارف
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Allama Iqbal Town Lahore
Lahore
Alerts
Be the first to know and let us send you an email when Humkalamdil posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.