Mahmood ur Rasheed Hadoti

Mahmood ur Rasheed Hadoti

Share

speaker

20/09/2026
20/08/2026

کتاب:اےایمان والو۔۔
مصنف مولانامفتی عتیق الرحمان مدظلہ،
تبصرہ نگار۔۔
مولانامحمودالرشیدحدوٹی سابق استاذجامعہ اشرفیہ لاہور،مہتمم جامعہ رشیدیہ مناواں لاہور،مدیراعلیٰ ماہنامہ آب حیات لاہور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔اے ایمان والو! اللہ آپ کو پکار رہے ہیں
ایک کتاب، ایک پکار، ایک ملاقات
کتابوں سے ملاقات بھی عجیب شے ہے۔ بعض کتابیں محض ہاتھ میں آتی ہیں، چند کتابیں آنکھوں کے سامنے سے گزرتی ہیں، کچھ کتابیں ذہن میں اترتی ہیں، اور بہت کم کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو دل کے دروازے پر دستک دے کر پوچھتی ہیں: ’’کیا تم نے مجھے سنا؟‘‘
ایسی ہی ایک کتاب سے میری ملاقات مسجدِ عارفی کے اس پاکیزہ ماحول میں ہوئی جہاں ذکر و عبادت کی فضا خود کتاب کے موضوع سے ہم آہنگ محسوس ہوتی تھی۔ کتاب کے مصنف، فاضلِ جامعہ اشرفیہ لاہور، استاد الحدیث، امام و خطیب اور صاحبِ قلم پروفیسر مولانا مفتی عتیق الرحمن صاحب بنفسِ نفیس تشریف لائے اور اپنی تصنیف ’’اے ایمان والو! اللہ آپ کو پکار رہے ہیں‘‘ عنایت فرمائی۔
کتاب ہاتھ میں آئی اور دل نے کہا: ذرا دیکھیں تو سہی، اس ’’پکار‘‘ کے اندر کیا کچھ چھپا ہے!
چنانچہ مصنفِ کتاب کی موجودگی ہی میں اسے ابتدا سے انتہا تک دیکھنے کا موقع ملا۔ صفحات پلٹتے گئے، عناوین سامنے آتے گئے، موضوعات نگاہوں کے سامنے کھلتے گئے، کہیں علمی حسن نے متوجہ کیا، کہیں ترتیب و تنظیم نے داد طلب نگاہوں کو اپنی طرف کھینچا، کہیں کسی نکتے نے توقف پر مجبور کیا اور کہیں کسی مقام پر اصلاح و تنبیہ کی گنجائش محسوس ہوئی۔ یوں کتاب کے مطالعۂ اجمالی میں کوئی دس منٹ گزر گئے، مگر ان دس منٹوں نے کتاب کے مزاج، منہج اور علمی افادیت سے ایک قابلِ ذکر تعارف کرا دیا۔
میں نے اسی وقت مصنفِ محترم کو دل کھول کر شاباش دی، مبارک باد پیش کی اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کے قلم کو مزید توانائی عطا فرمائے، ان کے علمی سفر کو وسعت دے، ان کی کاوشوں کو شرفِ قبول بخشے اور ان کے لیے ایک ایسا شاندار مستقبل مقدر فرمائے جس میں علم، عمل، تحقیق اور تصنیف کی خوشبو دور دور تک پھیلے۔
’اے ایمان والو!‘‘ — قرآن کی سب سے پیاری پکار
کتاب کا عنوان ہی ایسا ہے کہ آدمی ٹھہر کر سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے:
’’اے ایمان والو! اللہ آپ کو پکار رہے ہیں‘‘
قرآنِ کریم میں يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا کی پکار محض الفاظ کا مجموعہ نہیں؛ یہ ربِّ کائنات کی طرف سے اہلِ ایمان کے لیے ایک اعزاز بھی ہے اور ایک ذمہ داری بھی۔ جب خالق اپنے بندوں کو ایمان کے رشتے سے پکارے تو بندے کے لیے اس سے بڑھ کر سعادت کیا ہوسکتی ہے!
اسی قرآنی پکار کو موضوع بناکر مفتی عتیق الرحمن صاحب نے ایک ایسی کتاب ترتیب دی ہے جو محض معلومات کا مجموعہ نہیں، بلکہ قرآن کے ان خطابات کو زندگی کے مختلف شعبوں سے جوڑنے کی ایک سنجیدہ اور قابلِ قدر کوشش ہے۔
87 قرآنی خطابات — ایک خوب صورت انتخاب
اس کتاب کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ مصنف نے قرآنِ کریم کی ان تمام 87 آیات کو یکجا کیا ہے جن کا آغاز يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا سے ہوتا ہے۔
یہ کام بظاہر سادہ معلوم ہوتا ہے، لیکن جب اس کے ساتھ تفسیر، احادیث، عملی نکات، تربیتی اسباق اور مستند حوالہ جات کو جوڑ دیا جائے تو یہ محض جمع و ترتیب کا کام نہیں رہتا بلکہ ایک باقاعدہ علمی و تربیتی منصوبہ بن جاتا ہے۔
مصنف نے ہر آیت کو عربی متن کے ساتھ پیش کیا، اس کا سلیس اور بامحاورہ ترجمہ دیا، پھر آیت کے مفہوم کو سمجھانے کے لیے تفسیری مباحث سے استفادہ کیا۔ متعلقہ احادیث کو سامنے رکھا، آیات سے حاصل ہونے والے تربیتی، اخلاقی اور عملی اسباق کو نکات کی صورت میں نمایاں کیا اور حتی الامکان حوالہ جات کی تخریج کا اہتمام کیا۔
یہاں مصنف کی ایک خوبی خاص طور پر قابلِ تحسین ہے کہ انہوں نے اپنی بات کو محض ذاتی تاثر یا خطیبانہ اسلوب پر نہیں چھوڑا بلکہ صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ترمذی، روح المعانی، تفسیر ابن کثیر، بیان القرآن، معارف القرآن، احسن البیان، تفسیر عثمانی، تیسیر القرآن، مسائل رفعت قاسمیؒ اور دیگر مصادر سے استفادہ کرکے کتاب کو علمی بنیاد فراہم کی ہے۔
عبادات سے معاملات تک — زندگی کا کوئی گوشہ تشنہ نہیں
کتاب کے عناوین اور موضوعات پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف نے قرآن کے خطابات کو صرف نماز، روزہ اور چند عبادات تک محدود نہیں رکھا بلکہ ایمان سے لے کر معاشرت، معاملات اور اجتماعی زندگی تک ایک وسیع دائرہ سامنے رکھا ہے۔
ایمان باللہ، تقویٰ، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، ذکر و توبہ جیسے موضوعات اپنی جگہ موجود ہیں، مگر ساتھ ہی حقوق العباد، رزقِ حلال، قرض، امانت داری، خرید و فروخت، نکاح، طلاق، حسنِ اخلاق، باہمی آداب، عفو و درگزر بھی زیرِ بحث آتے ہیں۔
پھر کتاب کا دائرہ مزید وسیع ہوتا ہے اور اسلامی نظامِ سیاست، خلافت، شوریٰ، عدل، احتساب، انسانی حقوق، اقلیتوں کے تحفظ اور مقاصدِ شریعت جیسے اہم موضوعات بھی اس قرآنی پکار کے دائرے میں شامل ہوجاتے ہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے ’’اے ایمان والو!‘‘ کو صرف مسجد کی چار دیواری میں نہیں رکھا بلکہ اسے انسان کی پوری زندگی کا عنوان بنا دیا ہے۔
اور یہی قرآن کا مزاج بھی ہے۔
ایمان محض دل کا ایک احساس نہیں؛ ایمان زندگی کے ہر گوشے میں اپنے اثرات چاہتا ہے۔ عبادت میں بھی، تجارت میں بھی، خاندان میں بھی، معاشرت میں بھی، اخلاق میں بھی اور اجتماعی ذمہ داریوں میں بھی۔
192 صفحات — واقعی دریا کو کوزے میں بند کرنا
کتاب صرف 192 صفحات پر مشتمل ہے، لیکن موضوعات کا دائرہ دیکھیں تو واقعی یہی کہنا پڑتا ہے کہ مصنف نے دریا کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کی ہے۔
ایسی کتاب کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ ہوتا ہے کہ اختصار کے باوجود موضوع کی روح باقی رہے اور تفصیل کے باوجود کتاب بوجھل نہ ہوجائے۔
مفتی عتیق الرحمن صاحب نے اس توازن کو بڑی حد تک قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔
اسلوب — علم بھی، دل نشینی بھی
مصنف کا تعلق درس و تدریس سے ہے، وہ استاد الحدیث ہیں، خطابت سے بھی وابستہ ہیں اور قلم سے بھی رشتہ رکھتے ہیں۔ اس لیے ان کے اسلوب میں علم کی سنجیدگی، تدریس کی وضاحت اور خطابت کی روانی تینوں کا امتزاج محسوس ہوتا ہے۔
عبارت سلیس ہے، زبان عام فہم ہے، انداز دل نشین ہے۔ وہ مشکل علمی مباحث کو اس طرح بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ عام قاری بھی ان سے فائدہ اٹھا سکے اور علمی ذوق رکھنے والا قاری بھی خود کو محروم محسوس نہ کرے۔
یہ خوبی کسی بھی دینی کتاب کے لیے کم اہم نہیں؛ کیونکہ علم اگر صرف اہلِ تخصص کی الماریوں میں بند رہے تو اس کا دائرۂ اثر محدود ہوجاتا ہے، لیکن جب علم سادہ، واضح اور دل نشیں زبان میں عوام تک پہنچتا ہے تو وہ زندگیوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔
کتاب کی ظاہری آرائش بھی باطنی حسن کی ہم آہنگ
کتاب کا گیٹ اَپ، طباعت اور اندرونی صفحہ بندی بھی توجہ طلب ہے۔ صفحات کی ترتیب، عنوانات کی تنظیم اور مجموعی پیش کش قاری کو کتاب کے ساتھ چلنے میں مدد دیتی ہے۔
خوب صورت کتاب صرف آنکھ کو خوش نہیں کرتی؛ اگر اس کے اندر علم بھی ہو تو وہ آنکھ سے دل اور دل سے عمل تک کا سفر آسان کردیتی ہے۔
مصنف کے لیے چند کلمات
مفتی عتیق الرحمن صاحب!
آپ نے ایک ایسی کتاب کے ذریعے قرآن کے ان خطابات کو یکجا کیا ہے جو براہِ راست اہلِ ایمان کو متوجہ کرتے ہیں۔ یہ کام اپنی جگہ ایک علمی خدمت ہے، لیکن اس کی اصل قدر اس وقت سامنے آئے گی جب ’’اے ایمان والو!‘‘ کی ہر پکار ہمارے گھروں، مسجدوں، مدرسوں، بازاروں اور معاشرتی زندگی میں اپنے اثرات پیدا کرے گی۔
کتاب کے مطالعے سے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ قرآن ہم سے دور نہیں؛ وہ ہمیں پکارتا ہے، متوجہ کرتا ہے، روکتا ہے، حکم دیتا ہے، سمجھاتا ہے، ڈراتا ہے، امید دلاتا ہے اور آخرکار اپنے رب سے جوڑ دیتا ہے۔
آپ کی یہ کاوش اسی قرآنی پکار کو عام قاری تک پہنچانے کی ایک قابلِ تحسین کوشش ہے۔
میں نے یہ کتاب مصنفِ محترم کی موجودگی میں مسجدِ عارفی کے پاکیزہ ماحول میں دیکھی تھی۔ وہ دس منٹ شاید کتاب کے پورے علمی احاطے کے لیے کافی نہ تھے، لیکن کتاب کے مزاج کو پہچاننے، اس کے حسن کو محسوس کرنے اور اس کی قدر و قیمت کا ابتدائی اندازہ لگانے کے لیے ضرور کافی تھے۔
میں نے اسی وقت مصنف کو مبارک باد دی تھی؛ آج ان سطور کے ذریعے ایک بار پھر عرض ہے:
شاباش!
آپ نے اچھا کام کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس کاوش کو قبول فرمائے، اسے نافع بنائے، اس کے ذریعے لوگوں کے دلوں کو قرآن کی پکار سننے کی توفیق دے، مصنف کے علم و قلم میں برکت عطا فرمائے، ان کے سابقہ علمی و تصنیفی سفر کو مزید وسعت دے اور ان کے قلم سے مستقبل میں بھی ایسی کتابیں منظرِ عام پر لائے جو علم کے ساتھ عمل، اور معلومات کے ساتھ ایمان کی حرارت بھی پیدا کریں۔
کتاب ہر گھر کی ضرورت ہے، ہر مسجد کے حلقۂ درس کے لیے مفید ہے، ہر دینی لائبریری کی زینت بن سکتی ہے، اور ہر اس شخص کے لیے ایک آئینہ ہے جو یہ جاننا چاہتا ہے کہ قرآن جب اسے ’’اے ایمان والو!‘‘ کہہ کر پکارتا ہے تو دراصل اس سے کیا چاہتا ہے۔
اور شاید اس کتاب کا سب سے بڑا حسن بھی یہی ہے کہ اسے پڑھتے ہوئے آدمی صرف آیات نہیں پڑھتا، بلکہ پکار سنتا ہے۔
اے ایمان والو! اللہ آپ کو پکار رہے ہیں۔
پھر سوال صرف یہ رہ جاتا ہے:
ہم اس پکار کا جواب کب دیتے ہیں؟

17/05/2026

Appeal for Mosque Construction Support

In the Name of Allah, the Most Merciful, the Most Compassionate

Dear Brothers and Sisters in Islam,

Assalamu Alaikum wa Rahmatullahi wa Barakatuh.

A mosque is not only a place of worship, but also a center of faith, unity, education, and guidance for the Muslim community. By the grace of Allah, the construction work of our mosque is underway, but we still need generous support from the believers to complete this noble project.

The Messenger of Allah ﷺ said:

"Whoever builds a mosque for the sake of Allah, Allah will build for him a house in Paradise."

We humbly request you to participate in this blessed cause with your donations, charity, and sincere prayers. Every contribution, large or small, will become a source of ongoing reward (Sadaqah Jariyah) for you in this world and the Hereafter.

May Allah reward all donors abundantly and make this mosque a means of guidance and blessings for generations to come.

For donations and further details, please contact:

Maulana Mahmood Ur Rasheed Hadoti
Contact Number: 0300-9458876

Title:Aab-e-Hayat
Account:11590114760879
IBAN:PK86MEZN 0011590114760879
SWIFT code:MEZNPKKA

17/05/2026

نداء للمساهمة في بناء المسجد

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيدنا محمدٍ وعلى آله وصحبه أجمعين.

إخواننا الكرام، السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

إنَّ المساجد بيوتُ الله في الأرض، وهي مناراتُ الإيمان والعلم والهداية، ومراكزُ اجتماع المسلمين ووحدتهم. وبفضل الله تعالى قد بدأ العمل في بناء هذا المسجد المبارك، ولا يزال المشروع بحاجة إلى دعم أهل الخير والإحسان لإتمامه.

قال رسول الله ﷺ:

«مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ»

لذلك نهيب بإخواننا المسلمين أن يساهموا في هذا العمل المبارك بما يستطيعون من التبرعات والصدقات، فإنَّها صدقةٌ جاريةٌ وأجرٌ عظيمٌ يبقى للعبد بعد وفاته.

نسأل الله تعالى أن يجزيَ المحسنين خير الجزاء، وأن يجعل هذا المسجد منبعًا للخير والهداية إلى يوم القيامة.

للتواصل والمساهمة:

مولانا محمود الرشيد الحدوطي(ببلدۃ ملکۃ الجبال مری،قریب من اسلام آباد الباکستان
رقم الاتصال: 0092.3009458876

Title Account:Aab e Hayat
swift code:MEZNPKKA
Account No:1159-0114760879
Bank: Name:Meezan Bank

Category

Website

Address


Manawan G. T Road Lahore
Lahore