Realistic Raza
Welcome to Realistic Raza, your gateway to enthralling posts videos and insightful life lessons. My youtube channel is Realistic Raza.
13/06/2026
ثوبیہ شاہد کی عمر صــــرف نو سال تھی وہ اپنے خاندان کے ساتھ آسٹریلیا میں رہتی تھی،،،،، اور آسٹریلوی شہریت رکھتی تھی بہت سے بیرون ملک مقــــــیم پاکستانی بچوں کی طرح وہ ہر چند سال بعد اپنے وطن جاتی تھیں،،،،،،، اور اپنے رشتہ داروں سے ملنے جاتی تھیں جن سے وہ بہت پیار کرتی تھی اس بار برسوں کے انتظار کے بعد بالآخر انہیں عید پر پاکستان آنے کا موقع ملا۔۔۔ وہ چکوال میں اپنے دادا دادی، چچا، خالہ اور کزن کو دیکھ کر بہت پرجـوش تھی۔ ثوبیہ شاہد ساتویں جماعــــت کی ایک روشن اور ہونہار طالبہ تھی جس کا مستقبل ان کے سامنے تھا۔ وہ خاندان کی لاڈلی بچی تھی، وہ پاکستان کو دیکھنے کے لیے بے چین تھی،،،، اور اس کی خواہش تھی جس کی وجہ سے والدین بھی مان گئے۔۔ وہ تحائف، خوشیاں اور خوبصورت خاندانی یادیں بنانے کے خواب لے کر آئے تھے، انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ سفر ناقابل تصـــــور سانحے پر ختم ہوگا۔
آج سی ٹی ڈی کی جانــــب سے اہل خانہ کی گاڑی پر مبینہ طور پر شدید فائرنگ ہونے کے بعد ثوبیہ کی زندگی گولـیوں کی بارش میں ختم ہو گئی۔۔۔ اس کے والد اور بھائی زخمی ہوئے جبکہ ثوبیہ جان کی بازی ہار گئیں۔ سی ٹی ڈی والے سمجھ رہے تھے کہ 2025 ماڈل گاڑی میں دشـت گرد تھے ایک معصوم خاندان کے ساتھ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر شک تھا تو تصدیق کیوں نہیں ہوئی؟ شک تھا تو تحقیقات کیوں نہیں ہوئیں؟ شک کو ثبوت ماننے کا اختیار کس نے دیا؟ قانون نافذ کرنے والے ادارے معصــــوم لوگوں کی حفاظت کے لیے موجود ہیں، معصوم جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے لیے نہیں۔ اس سانحے کو دیکھنے والے ہر والدین ایک ہی دردناک سوال پوچھ رہے ہیں کہ اگر آسٹریلیا سے واپس آنے والے خاندان کو دہشــت گرد سمجھا جا سکتا ہے تو اس بات کی کیا گارنٹی موجود ہے کہ ایسی غلطی دوبارہ نہیں ہو گی۔
کوئی انکوائری،کوئی پریس کانفرنس اور کوئی سرکاری بیان ثوبیہ کو اس کے خاندان کو واپس نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔۔ اس کی سکول کی کتابیں ادھوری رہیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے خواب ادھورے ہی رہیں گے۔ خاندانی اجتـــــماعات میں اس کی نشست ہمیشہ کے لیے خالی رہے گی۔۔۔۔ اس کے والدین اپنی ساری زندگی اس درد کو ہر روز اٹھائیں گے۔۔۔۔ہر سالگرہ، ہر عید اور ہر خاندانی اجتــماع انہیں اپنی کھوئی ہوئی بیٹی کی یاد دلائے گا۔ سرخیاں ختم ہونے پر ان کے آنسو ختم نہیں ہوں گے،، یہ ایک ایسا زخم ہے جو انکی ساری زندگی کھلا رہے گا۔جس کی بیٹیاں ہیں وہ یہ درد محسوس کرسکتے ہیں اللہ تعالیٰ ان جاہل لوگوں کو نشان عبرت بنائیں آمین ثم آمین۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!
تحریر Tehsin Ullah Khan
13/06/2026
سانحہ چکوال
۔
سی سی ڈی چکوال کا کارنامہ
غلط فہمی کی بنیاد پر کیا اتنے فائر ⁉️
شک کی بنیاد پر کیا ٹائر برسٹ نہی کیئے جاسکتے تھے ⁉️
اتنی بیدریغ فائرنگ سوائے دانستہ فعل کے اور کچھ نہی ھوسکتا ھے
30/05/2026
😅
30/05/2026
Haters will say its AI as Shaheen bowls 200 kmph 😅
30/05/2026
اس خاتون کا تعلق نیوگنی سے ہے۔ یہ اکثر سمندر کی سطح پر نماز ادا کرتے دکھائی دیتی تھیں۔
لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ان کی کرامت دیکھتے، مرید بن کر ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی تھی، ان سے اپنی کرامت کا ہدیہ وصول کرتیں۔
کسی کے اطلاع دینے پر 15 نومبر 2014 کو پولیس نے انہیں گرفتار کیا، تفتیش کرنے پر راز کھلا کہ ان کے مرید، پہلے ساحل پر پہنچ کر، مناسب جگہ پر خاتون کے لئے پانی شیشے کی بنی میز رکھ دیتے تھے۔ خاتون اس جگہ آتیں، جاے نماز بچھا دیتیں-
انہوں نے سطح سمندر پر بہت نمازیں پڑھیں، اب باقی جیل میں پڑہتی ہیں۔
کوئٹہ پھر سے لہو لہو چمن پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک پر خودکش دھماکے کے نتیجے میں 3 ایف سی اہلکاروں سمیت 14 سے زائد افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں
اس ملک میں یہ دعا بھی نہی کر سکتے کہ موسم اچھا ہو جائے زرا سی ہوا چلتی ہے اور بجلی گھنٹوں کے لئے چلی جاتی ہے
17/05/2026
'یہ شادی نہیں ہوسکتی کیونکہ حدیقہ 53 سال کی بوڑھی خاتون ہیں' سوال یہ ہے کہ آخر کس عمر کے بعد ایک عورت محبت، تعلق یا پسند کیے جانے کے حق سے محروم ہو جاتی ہے؟ اور یہ قانون صرف عورت پر ہی کیوں لاگو ہوتا ہے؟ ہمارے ہاں 60 سالہ مرد اگر 20 سال چھوٹی لڑکی سے شادی کرے تو اس کا دل جوان ہے، بتایا جاتا ہے لیکن 50 سالہ خاتون کا ذکر آتے ہی بوڑھی خاتون اور جھریوں پر بحث شروع ہوجاتی ہے۔۔
ایک سوشل میڈیائی دانشگرد کی تحریر پڑھی۔ وہ گلوکارہ و سماجی کارکن حدیقہ کیانی پر نہایت منفی تبصرہ کر رہے تھے۔ تبصرہ اتنا واہیات تھا کہ ہر جملہ پڑھنے کے بعد دانشگرد صاحب کی ذہنیت پر ماتم کرنے کا دل کر رہا تھا۔
اصل مسئلہ ہماری سوچ کا ہے۔ ہم اب بھی عورت کو پروجیکٹ سمجھتے ہیں۔ پہلے اس کی عمر ناپتے ہیں، پھر چہرہ، پھر جلد، پھر جسم، پھر 'پیکنگ کھولنے' کے فقرے مار کر اسے ایک چیز میں بدل دیتے ہیں۔ اس تحریر پر غور کیا تو پوری تحریر میں عورت کہیں نہیں ملی۔ یعنی ان جیسوں کے لیے صرف عورت کا جسم ہے، اس کی جھریاں ہیں، اس کی عمر ہے۔۔ اس کی مارکیٹ ویلیو ہے۔
صاحب اپنے تبصرے میں لکھتے ہیں کہ سائنس نے ایسا دارو بنا لیا ہے جس سے عورت جوان لگتی ہے۔ کیا ہی دوہرا معیار ہے ہمارا۔۔ یعنی عورت اگر خود کو سنوارے تو وہ بھی جرم۔۔۔اگر بڑھاپا نظر آئے تو مذاق۔ گویا عورت ہر صورت میں کٹہرے میں ہی کھڑی رہے گی۔
اور اس تحریر کا سب سے گھٹیا جملہ ملاحظہ کیجیے۔ 'پیکنگ کھولئے گا تو جھریوں کے سوا کچھ نہ پائیے گا' کیا عجیب ذہنیت ہے!!! پوری چلتی پھرتی کام کرتی شخصیت کے لیے پیکنگ کا لفظ یوز کیا۔ اس کے تجربات، دکھ، کامیابیاں، ذہانت، فن، محبت، سب غائب۔۔۔صرف جلد باقی رہ گئی۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہی لوگ ماں کے چہرے کی جھریوں کو محبت اور قربانی سمجھتے ہیں لیکن بیک وقت انہیں دوسری عورتوں کی 'پیکنگ کھولنی' ہوتی ہے۔
دانشگرد صاحب فرماتے ہیں کہ 'ایسی عورت رومانس کے نام پر رونا دھونا کرتی ہے'۔۔۔ سوچیں۔۔ ہمیں صرف وہ عورت پسند ہے جو ہر وقت ہنسے، شوخ ہو، دل بہلائے۔۔۔ وہ عورت کسی صورت نہیں پسند جو زندگی کے دکھ، تنہائی، صدمے یا تجربات کے ساتھ آئے۔۔۔تفریح ہی تو چاہیے!!!
دراصل ہم عورت کو انسان ماننے پر تیار ہی نہیں ہیں۔۔۔ ل ہمیں وہ ہر صورت میں خوبصورت چاہیے، جوان چاہیے، ہنس مکھ چاہیے، جسمانی طور پر پرفیکٹ چاہیے اور اگر اس کے چہرے پر زندگی کے آثار نمایاں ہوں تو ہم اسے ناکارہ سمجھ لیتے ہیں۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں عورت کے بارے میں گفتگو چہرے سے شروع ہو کر جسم پر ختم ہوجاتی ہے۔ ہم 'عورت' لفظ سنتے ہی اس کا جسم اپنے ذہن میں بنا لیتے ہیں۔۔۔
اور پھر موصود کی جانب سے تحریر میں مذہب کو درمیان میں لایا گیا کہ قرآن نے اس عمر کی عورت کے لیے حجاب میں نرمی دی ہے، اس لیے اب وہ 'گیسٹ ہاؤس' نہیں بلکہ 'چائے خانے'کے قابل رہ گئی ہے۔ یہ وہی ملائیت زدہ ذہنیت ہے جو مذہب کو اخلاق اور وقار کی بجائے عورت کی جسمانی حیثیت ناپنے کے لیے استعمال کرتی ہے حالانکہ قرآن نے کہیں نہیں کہا کہ عمر کے ایک حصے کے بعد عورت کی سماجی، جذباتی یا انسانی حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔۔
ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ عورت کو ہر وقت مرد کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اگر وہ sexually desirable نہیں رہی تو گویا اس کی اہمیت کم ہوگئی۔ یہی سوچ خطرناک ہے۔۔۔۔ اور ایسی سوچ والے پتھر اٹھائیں ہزار مل جائیں گے۔۔۔
ادیب یوسفزئی
انڈیا میں پٹرول 98 اور پاکستان میں 416 روپے ہے مگر ہم نے رفائیل گرائے تھے
15/05/2026
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Address
Lahore
39350