Muhammad Zaid

Muhammad Zaid

Share

🎓Mustian

📍 Muzaffarabad

20/06/2026

یہ واقعہ صرف ایک قدیم مقبرے کی دریافت نہیں بلکہ وقت کے ایک ایسے دروازے کے کھلنے کی مانند ہے جس کے پیچھے ڈھائی ہزار برس سے زیادہ پرانی دنیا خاموشی سے محفوظ کھڑی تھی۔ اٹلی کے وسطی علاقے سان جیولیانو میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے حال ہی میں ایک ایسا ایٹروسکن مقبرہ دریافت کیا جو تقریباً 2600 سال تک مکمل طور پر بند اور غیر متاثرہ حالت میں رہا۔ آثارِ قدیمہ کی دنیا میں ایسی دریافتیں بہت کم ہوتی ہیں، کیونکہ بیشتر قدیم مقابر صدیوں کے دوران یا تو لٹ چکے ہوتے ہیں یا قدرتی عوامل سے متاثر ہو جاتے ہیں۔

جب ماہرین نے احتیاط سے مقبرے کا داخلی راستہ کھولا تو ان کے سامنے ایک ایسا منظر آیا جو گویا وقت کے ہاتھوں منجمد ہو چکا تھا۔ پتھر سے بنے تدفینی بستروں پر چار انسانی ڈھانچے موجود تھے، جبکہ ان کے اردگرد مختلف نوادرات ترتیب کے ساتھ رکھی ہوئی تھیں۔ ان میں مٹی کے نفیس برتن، کانسی اور چاندی کے زیورات، ہتھیار اور تدفینی رسومات سے وابستہ اشیاء شامل تھیں۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ یہ سب کچھ تقریباً اسی حالت میں موجود تھا جس حالت میں ساتویں صدی قبل مسیح میں رکھا گیا تھا۔

اس دریافت کی اہمیت صرف اس وجہ سے نہیں کہ یہاں قیمتی اشیاء ملی ہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ مقبرہ اپنی اصل حالت میں محفوظ رہا۔ آثارِ قدیمہ کے ماہرین کے لیے ایسی جگہ ایک مکمل تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں ہر شے اپنی اصل جگہ پر موجود ہو اور ماضی کی زندگی کے بارے میں براہِ راست معلومات فراہم کرے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دریافت کو حالیہ برسوں میں ایٹروسکن تہذیب کے مطالعے کی اہم ترین کامیابیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

ایٹروسکن تہذیب دراصل قدیم اٹلی کی وہ ترقی یافتہ ثقافت تھی جو رومی سلطنت کے عروج سے پہلے وسطی اٹلی میں آباد تھی۔ فنِ تعمیر، دھات سازی، تجارت اور مذہبی روایات میں اس تہذیب نے نمایاں ترقی کی تھی۔ رومی تمدن نے بعد میں ایٹروسکن ثقافت کے بہت سے عناصر کو اپنا لیا، لیکن خود ایٹروسکن معاشرہ وقت کے ساتھ تاریخ کے دھندلکوں میں گم ہو گیا۔ اسی لیے اس تہذیب سے متعلق ہر نئی دریافت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔

اب ماہرین ان چار افراد کے بارے میں جاننے کی کوشش کر رہے ہیں جو اس مقبرے میں دفن تھے۔ جدید سائنسی طریقوں، خصوصاً ڈی این اے اور بشریاتی تجزیوں کی مدد سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ان کی عمر کیا تھی، آپس میں ان کا کیا تعلق تھا اور وہ معاشرے میں کس مقام کے حامل تھے۔ ابتدائی شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ افراد کسی خوش حال یا بااثر خاندان سے تعلق رکھتے تھے، تاہم ان کی اصل شناخت ابھی تحقیق کا موضوع ہے۔

تاریخ کی دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض اوقات ایک خاموش مقبرہ سینکڑوں کتابوں سے زیادہ معلومات اپنے اندر سموئے ہوتا ہے۔ سان جیولیانو کا یہ مقبرہ بھی ایسا ہی ایک تاریخی خزانہ ہے۔ اس نے نہ صرف 2600 سال پرانی انسانی زندگی کی ایک جھلک محفوظ رکھی بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ زمین کے نیچے ابھی بھی ایسے بے شمار راز دفن ہیں جو ماضی کو سمجھنے کے ہمارے تصورات بدل سکتے ہیں۔ بعض اوقات سب سے بڑی دریافت سونا یا چاندی نہیں ہوتی، بلکہ وہ علم ہوتا ہے جو صدیوں کی خاموشی کے بعد انسان کے سامنے آتا ہے۔

16/06/2026

یہ لومڑی کس کِلے سے باندھی ہوئی ہے
تیز نظر والے ہی بتا سکتے ہیں

゚viralシfypシ゚ ゚

Photos from Muhammad Zaid's post 16/06/2026

غلاف کعبہ حرم شریف پہنچنے کے مناظر کچھ اس طرح تھے اللہ اکبر
15 جون 2026م
نیا سال شروع
غلاف کعبہ تبدیل
رات کردیا گیا ماشاءاللہ ماشاءاللہ 💞 🌹

Photos from Muhammad Zaid's post 12/06/2026

سعودی عرب کے مدینہ ریجن کے المہد گورنریٹ میں آثارِ قدیمہ کے سروے کے دوران 1774 اہم تاریخی دریافتیں سامنے آئی ہیں۔ سعودی ہیریٹیج کمیشن کے مطابق سروے میں 156 نئے آثارِ قدیمہ کے مقامات کی نشاندہی کی گئی۔ دریافت ہونے والی اشیا میں 461 اسلامی کتبے، 34 ثمودی کتبے اور 1259 چٹانی نقوش شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پتھر سے بنے 11 ڈھانچے، 3 تاریخی محلات، 2 قدیم قافلہ راستے اور 4 کنویں بھی دریافت ہوئے ہیں۔ نمایاں دریافتوں میں خلیفہ دوم حضرت عمر فاروقؓ کے نام سے منسوب ایک نادر کتبہ بھی شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافتیں خطے کی تاریخی، ثقافتی اور اسلامی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہیں۔ سعودی ہیریٹیج کمیشن کا کہنا ہے کہ وژن 2030 کے تحت مملکت کے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور دستاویز بندی کا عمل جاری رکھا جائے گا۔

01/06/2026

انڈیا کیرلا کے عبدالرحیم آخرکار 20 سال بعد سعودی عرب کی جیل سے اپنے گھر واپس پہنچ گئے۔ 2006 میں وہ روزگار کے لیے سعودی عرب گئے تھے، جہاں وہ ایک عرب خاندان کے ساتھ ڈرائیور کی نوکری کرتے تھے۔ ایک سفر کے دوران ان کے کفیل کے معذور بیٹے کی گردن سے لگی لائف سپورٹ/فیڈنگ ٹیوب حادثاتی طور پر نکل گئی، جس کے باعث بچے کی موت ہوگئی۔ اس واقعے کے بعد عبدالرحیم کو گرفتار کر لیا گیا اور بعد میں انہیں سزائے موت سنائی گئی۔

عبدالرحیم کی جان بچانے کے لیے تقریباً 1 کروڑ 50 لاکھ سعودی ریال “دیت” مقرر کی گئی، جو بھارتی کرنسی میں تقریباً 34 کروڑ روپے اور پاکستانی کرنسی میں 1 ارب 10 کروڑ روپے سے بھی زیادہ بنتے ہیں۔ اتنی بڑی رقم ایک عام انسان کے لیے ناممکن تھی، لیکن یہاں دنیا نے انسانیت اور یونٹی کی طاقت دیکھی۔

کیرلا سمیت دنیا بھر میں موجود لوگوں نے سوشل میڈیا مہمات چلائیں، ہزاروں افراد نے چھوٹے بڑے عطیات دیے، اور آخرکار یہ خطیر رقم جمع ہوگئی۔ مقتول کے خاندان نے معاف کر دیا اور عبدالرحیم کی جان بچ گئی۔

عید الاضحیٰ 2026 کے موقع پر عبدالرحیم 20 سال بعد اپنے گھر واپس پہنچے۔ ان کی واپسی صرف ایک شخص کی رہائی نہیں بلکہ اتحاد، انسانیت اور ایک دوسرے کے لیے کھڑے ہونے کی ایک زندہ مثال بن گئی۔ واقعی، یونٹی میں بہت طاقت ہوتی ہے۔
fans

29/05/2026

آگ لگانے والی پھوپھی 😂🔥✅

12/05/2026

Vlog shooting in a new device

09/05/2026

زندگی میں انسانوں کا کھِلنا
پھولوں کے کھِلنے سے زیادہ اہم ہوتا ہے...
🩵

Category

Address


Bypass Road Near Attock Petrol Pump Gojra Muzaffrabad
Mirpur
13100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Zaid posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Subscribe

We will notify you when anything happens in Mirpur.