Mir Aslam Rind
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Mir Aslam Rind, Journalist, بلوچ اسٹریٹ, Quetta Cantonment.
22/09/2026
شکایت ملازمین کی اور بدنامی کنٹونمنٹ بورڈ آفس کی جناب اسٹیشن کمانڈر صاحب و سی او کنٹونمنٹ بورڈ عوام آپ کی توجہ چاہئے ہیں
ذرا جرأت کے ساتھ
تحریر: میر اسلم رند
کافی دنوں سے کوئٹہ کنٹونمنٹ بورڈ کے بعض ملازمین کے حوالے سے عوامی شکایات مسلسل موصول ہو رہی ہیں ابتدا میں جب چند لوگوں نے شکایات بھیجیں تو میں نے یہی سمجھا کہ شاید کسی کا ذاتی مسئلہ ہوگا کیونکہ ہمارے معاشرے میں بعض اوقات لوگ ذاتی معاملے کو انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں لیکن جب ایک ہی نوعیت کی شکایات بار بار اور مختلف لوگوں کی طرف سے آنے لگیں تو معاملہ توجہ طلب ضرور بن جاتا ہے عوام کی جانب سے خاص طور پر دو ملازمین کے بارے میں شکایات سامنے آ رہی ہیں لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے زیادہ سے زیادہ ٹیکس کا پرچہ بھیجا جاتا ہے پھر مبینہ طور پر بارگیننگ کے ذریعے سہولت فراہم کرنے کی بات کی جاتی ہے اسی طرح دوکانوں کی نیلامی کے حوالے سے بھی شکایت ہے کہ لیٹر میں واضح طور پر درج تھا کہ پانچ سال تک کرائے یا ٹیکس میں اضافہ نہیں کیا جائے گا لیکن شکایت کنندگان کے مطابق قلیل مدت کے بعد ہی بعض دوکانداروں کو مختلف طریقوں سے تنگ کرنا شروع کر دیا گیا
مجھے ان ملازمین کے نام بھی بتائے گئے ہیں لیکن صحافتی آداب کا تقاضا ہے کہ محض عوامی شکایت کی بنیاد پر کسی کا نام شائع نہ کیا جائے اصل مقصد کسی فرد کو بدنام کرنا نہیں بلکہ ایک ادارے کی ساکھ کو نقصان سے بچانا ہے
جناب اسٹیشن کمانڈر صاحب اور سی او کنٹونمنٹ بورڈ صاحب یہ شکایات صرف دو ملازمین کی نہیں بالآخر آپ کے دفتر کی ساکھ سے جڑی ہوئی ہیں اگر کسی ملازم کے ذاتی فعل کی وجہ سے پورے ادارے کے بارے میں عوام میں غلط تاثر پیدا ہو رہا ہے تو اسے نظرانداز کرنا مناسب نہیں
پہلے میں سمجھتا تھا کہ شاید صرف میٹروپولیٹن کارپوریشن کی ٹیکس برانچ ہی عوامی شکایات کی زد میں ہے لیکن اگر کنٹونمنٹ بورڈ کے بارے میں بھی ایسی شکایات بڑھ رہی ہیں تو اس پر سنجیدگی سے توجہ دینا ضروری ہے عوام کا مطالبہ بہت سادہ ہے کنٹونمنٹ کے بائی لاز کے مطابق جو ٹیکس بنتا ہے وہی وصول کیا جائے اور معاہدے میں جو شرائط طے کی گئی ہی دفتر ان پر مکمل عمل کرے جناب اسٹیشن کمانڈر صاحب عوامی شکایات کو خوف کی وجہ سے اگر زبان نہ مل سکے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ شکایات موجود نہیں امید ہے آپ ان معاملات کا سنجیدگی سے نوٹس لیں گے متعلقہ ملازمین کو قانون اور ضابطے کے مطابق کام کرنے کی ہدایت کریں گے اور عوام کو بلاوجہ تنگ کرنے کا سلسلہ روکنے کے لیے مؤثر اقدام کریں گے ادارہ مضبوط تب ہوتا ہے جب قانون سب کے لیے ایک ہو
آ رے زمانے کیا رنگ دکھائے
22/09/2026
بلوچستان کو مزید سیاسی تجربات نہیں بلکہ بہترین انتظامی یونٹس کی ضرورت ہے اس اچھے کام کے لئے تمام سیاسی پارٹیوں کو آگے آنا چاہئے انتظامی یونٹس کوئی لسانی تقسیم نہیں بلکہ ترقی میرٹ اور جواب دہی کا بہترین راستہ ہے
ذرا جرأت کے ساتھ
تحریر: میر اسلم رند
میں اس موضوع پر پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ اگر بلوچستان میں مؤثر انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں تو شاید پہلی مرتبہ ہم بلوچستان کے مسئلے کو صرف سیاست قومیت یا وسائل کی تقسیم کے زاویے سے نہیں بلکہ انتظام ترقی اور عوامی سہولت کے زاویے سے دیکھ سکیں گے میری یہ تجویز کسی لسانی یا قومی بنیاد پر صوبے کو تقسیم کرنے کی نہیں میں خود لسانی بنیادوں پر صوبوں کی تقسیم کا حامی نہیں رہا لیکن انتظامی تقسیم کو بلوچستان کی ضرورت سمجھتا ہوں فرق بہت واضح ہے لسانی تقسیم لوگوں کو ایک دوسرے سے دور کر سکتی ہے جبکہ انتظامی تقسیم حکومت کو عوام کے قریب لا سکتی ہے دنیا میں جدید ریاستیں اسی اصول پر آگے بڑھی ہیں کہ اختیارات وسائل اور فیصلے جہاں تک ممکن ہو عوام کے قریب ہوں OECD کے مطابق مؤثر اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سیاسی انتظامی اور مالی تینوں پہلوؤں پر مشتمل ہوتی ہے اور دنیا کے متعدد ترقی یافتہ و ترقی پذیر ممالک میں اس کے مختلف ماڈل رائج ہیں عالمی بینک بھی اس بات پر زور دیتا ہے کہ تعلیم صحت پانی انفراسٹرکچر اور مقامی ترقی جیسے معاملات میں مضبوط مقامی ادارے اہم کردار ادا کرتے ہیں سوال یہ ہے کہ بلوچستان اتنا وسیع رقبہ منتشر آبادی اور دشوار جغرافیہ رکھنے کے باوجود ہم آج بھی ایک ہی انتظامی مرکز سے پورے صوبے کو چلانے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں ایک وزیر پورا بلوچستان
میں ایک مثال دیتا ہوں گر ژوب کا کوئی ایم پی اے صوبائی وزیر تعلیم بن جاتا ہے تو کیا یہ توقع کر سکتے ہیں کہ وہ گوادر خضدار تربت پنجگور یا نصیرآباد کے دور دراز اسکولوں اور کالجوں کے مسائل کو اسی گہرائی سے سمجھ سکے گا جس طرح اپنے علاقے کے تعلیمی مسائل کو سمجھتا ہے
یہ کسی فرد کی اہلیت کا سوال نہیں انتظامی فاصلے کا سوال ہے اسی طرح اگر صحت کا پورے صوبے کے لیے ایک مرکزی انتظامی ڈھانچہ ہو اور فیصلہ سازی زیادہ تر کوئٹہ میں بیٹھے ہو تو دور دراز اضلاع کے بنیادی مراکز صحت ضلعی اسپتالوں ڈاکٹروں کی حاضری ادویات اور طبی سہولتوں کی حقیقی صورت حال مرکزی دفتر تک کس رفتار اور کس صداقت کے ساتھ پہنچے گی جو آج تک نہیں پہنچی یہی مسئلہ تقریباً ہر بڑے محکمے میں نظر آتا ہے دفتر کوئٹہ میں ذمہ داری پورے بلوچستان کی ہم نے ماضی میں یہ پالیسی بھی دیکھی کہ محکمہ بی اینڈ آر میں چیف انجینئرز کے زون قائم کیے گئے تاکہ کام کی نگرانی متعلقہ زونز میں ہو اگر افسر اپنے زون میں موجود ہی نہ ہو اور زیادہ وقت کوئٹہ کے مرکزی دفتر میں گزرے تو زون بنانے کا مقصد ہی فیل ہو جاتا ہے اسی طرح صحت تعلیم آب پاشی مواصلات اور دوسرے محکموں کے اعلیٰ افسران اگر فائلوں اور اجلاسوں تک محدود رہیں اور سال میں مناسب تعداد میں اپنے متعلقہ اضلاع کا دورہ بھی نہ کریں تو انہیں زمینی حقیقت کیسے معلوم ہوگی اور مسائل کیسے حل ہو سکتے ہیں میرے پاس عوام اور سرکاری نظام کے حوالے سے جو مشاہدات اور شکایات آتی رہی ہیں ان میں ایک بڑا مسئلہ یہی ہے کہ نگرانی کوئٹہ کے دفتر اور فائلوں میں کام میدان میں کچھ بھی نہیں اور جواب دہی درمیان میں گم ہو جاتی ہے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سڑک کاغذ پر مکمل اسکول فائلوں میں فعال اسپتال رپورٹ میں آفتاب اور بحال اور منصوبہ بجٹ اور بریفنگ میں کامیاب دکھائی دیتے ہیںن مگر جب عوام خود اس سہولت کو تلاش کرتے ہیں تو تصویر مختلف نظر آتی ہے انتظامی یونٹ کا اصل فائدہ کیا ہوگا اگر بلوچستان کو مناسب انتظامی یونٹس میں تقسیم کیا جائے اور ہر یونٹ کو واضح اختیارات بجٹ اور جواب دہی دی جائے تو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ حکومت کا چہرہ عوام کے سامنے ہوگا ایک انتظامی یونٹ کا سربراہ یہ نہیں کہہ سکے گا کہ مسئلہ سیکریٹریٹ میں بیٹھے کسی دوسرے افسر کے پاس ہے اس کے سامنے اپنا علاقہ ہوگا اپنے اسکول ہوں گے اپنے اسپتال ہوں گے اپنی سڑکیں ہوں گی اپنی پولیس ہوگی اور اپنے عوام ہوں گے پھر کامیابی اور ناکامی دونوں کا حساب بھی اسی سے لیا جاسکے گا یہی جواب دہی کسی بھی انتظامی اصلاح کی بنیاد ہے OECD کے مطابق decentralisation کا ایک اہم پہلو یہی ہے کہ فیصلہ سازی اور جواب دہی کو مقامی سطح کے قریب لایا جائے تاہم اس کے لیے اختیارات کے ساتھ مناسب مالی وسائل اور واضح ذمہ داریاں بھی ضروری ہیں وسائل بھی نیچے جائیں صرف اختیارات نہیں بلوچستان کا ایک بنیادی مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم وفاق سے اپنا حصہ مانگتے ہیں لیکن صوبے کے اندر یہ سوال کم پوچھتے ہیں کہ یہ حصہ اضلاع اور مقامی آبادی تک کس فارمولے کے تحت پہنچ رہا ہے ڈاکٹر مالک صاحب جب وزیر اعلی تھے تو پتہ چلا ضلعوں حکومت کے لئے ایک روپے بھی نہیں رکھا جب تمام بلوچستان کے میئر صاحبان نے احتجاج کیا تو 10 / 10 کروڑ کے فنڈ دیئے گئے 2010 کے بعد 18ویں آئینی ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ نے صوبوں کے مالی وسائل اور ذمہ داریوں میں اہم تبدیلیاں کیں لیکن 2026 کی عالمی بینک کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں وسائل کی صوبوں سے مقامی سطح تک منتقلی اور سروس ڈلیوری کے درمیان اب بھی نمایاں خلا موجود ہے رپورٹ کے مطابق 2024 تک کل سرکاری اخراجات میں مقامی حکومتوں کا حصہ 5 فیصد سے بھی کم رہ گیا تھا اگر وفاق سے بلوچستان کو وسائل ملتے ہیں تو بلوچستان کے ہر ضلع کو اس کا منصفانہ اور شفاف حصہ کیوں نہیں ملتا یہ بھی ایک سوال بنتا ہے میری رائے میں اس کے لیے ایک مؤثر صوبائی مالیاتی کمیشن یا اسی نوعیت کا شفاف قانون کے تحت قائم مالیاتی نظام ضروری ہے جس میں آبادی کے ساتھ پسماندگی رقبہ غربت ضروریات اور کارکردگی جیسے عوامل بھی شامل ہوں بلوچستان میں ماضی میں صوبائی مالیاتی کمیشن کے ایوارڈز کا سلسلہ رہا ہے مگر بعد کے برسوں میں یہ عمل باقاعدگی سے جاری نہیں رہ سکا PIDE کی ایک حالیہ رپورٹ بھی بلوچستان کے صوبوں میں PFC Awards کے تسلسل کے مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے اگر وسائل کی تقسیم واضح فارمولے کے تحت ہو تو کوئی وزیر اعلیٰ سینئر وزیر یا بااثر سیاسی شخصیت اپنے آبائی علاقے کو غیر معمولی وسائل منتقل کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے گی بلوچستان میں ہمیشہ سے سیاست پارٹیوں کی شکایت رہی ہے کہ وزیر یا سینئر صوبائی وزیر یا بااثر اثر شخصیات زیادہ فنڈ اپنے حلقہ انتخاب میں ٹرانسفر کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ کمیشن ملے یہ الزام تراشی نہیں بلکے زمینی حقائق ہیں
فنڈ وہاں منتقل ہونا چاہئے جہاں فارمولا اجازت دے گا ضرورت ثابت ہوگی اور کارکردگی کا معیار پورا ہو تب ایک ضلع کے عوام کو دوسرے ضلع کے مقابلے میں محرومی کا احساس کم ہوگا آج اگر ایک جگہ سڑکیں بنتی ہیں کالجز بنتے ہیں اسپتال بنتے ہیں اور دوسری جگہ بنیادی سہولتیں بھی موجود نہیں ہوتیں تو محرومی صرف معاشی نہیں رہتی وہ آہستہ آہستہ سیاسی اور سماجی شکایت بن جاتی ہے بلوچستان میں ہمارے پشتون بھائیوں کی طرف سے ایک شکایت بارہا سامنے آتی رہی ہے کہ انہیں ان کا مناسب حق نہیں ملتا دوسری طرف بلوچ علاقوں میں بھی یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ بعض مواقع پر ملازمتوں اور وسائل کی تقسیم میں ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا ہم کب تک ان شکایات کو سیاسی تقریروں میں دہراتے رہیں گے اگر انتظامی یونٹس مضبوط ہوں مقامی حکومتیں بااختیار ہوں ملازمتوں کا مقابلہ شفاف طریقے سے متعلقہ انتظامی یونٹ کی ضروریات کے مطابق ہو فنڈز کا فارمولہ واضح ہو اور ہر علاقے کے لیے ترقیاتی اہداف مقرر ہوں تو گلے شکووں کی بڑی وجہ خود بخود کم ہوسکتی ہے میری نظر میں یہ لسانی مسئلے کا حل نہیں بلکہ انتظامی انصاف کا راستہ ہے ایک مؤثر انتظامی ماڈل میں ہر یونٹ کے لیے اپنی سطح کی مضبوط انتظامیہ پولیس کمانڈ مالیاتی دفتر آڈٹ کا نظام تعلیمی امتحانات کا انتظام صحت کی نگرانی اور ترقیاتی منصوبہ بندی کا ڈھانچہ ہونا چاہیے یہ ضروری نہیں کہ ہر یونٹ میں وفاقی یا صوبائی سطح کے تمام اداروں کی لفظ بہ لفظ نقل کر دی جائے اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ فیصلہ فنڈ عمل درآمد اور نگرانی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوں مثلاً ایک استاد اگر اپنے ضلع میں تعینات ہے تو اس کی حاضری اور کارکردگی کی نگرانی بھی اسی علاقے میں ہو ایک انجینئر کے ذمے علاقے کی سڑکیں ہیں تو اس کی کارکردگی کا جائزہ بھی اسی علاقے کے منصوبوں سے لیا جائے اگر محکمہ صحت کا ایک مخصوص انتظامی یونٹ ہے تو اسے اس آفسیر کو معلوم ہو کہ اس یونٹ کے کتنے مراکز صحت فعال ہیں اور کتنے ڈاکٹر حاضر ہیں
پھر کوئی افسر یہ نہیں کہہ سکے گا کہ مجھے معلوم نہیں یہ میرے دائرہ اختیار میں نہیں ہماری یونیورسٹیوں کا مسئلہ بھی صرف عمارت یا بجٹ کا مسئلہ نہیں معیار تحقیق استاد کی کارکردگی اور طلبہ کے مواقع بھی اتنے ہی اہم ہیں اگر اعلیٰ تعلیم چند مراکز تک محدود رہے گی تو پورے بلوچستان کے نوجوان ایک ہی دروازے کی طرف دیکھتے رہتے ہیں
لیکن اگر مختلف انتظامی یونٹس میں ضرورت معیار اور آبادی کے مطابق اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم ہوں ان کے درمیان علمی مقابلہ ہو اساتذہ کی کارکردگی جانچی جائے اور تحقیق کو وسائل ملیں تو مقابلے کا ماحول پیدا ہوگا دنیا کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ علاقائی اور مقامی حکومتیں تعلیم صحت ٹرانسپورٹ پانی انفراسٹرکچر اور مقامی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں لیکن اس کے لیے واضح اختیارات اور مالی وسائل دینا بھی ضروری میں یہ نہیں کہتا کہ انتظامی یونٹس بنانا ہر مسئلے کا جادوئی حل ہے
اس کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں نئے دفاتر بن سکتے ہیں افسران اور عملے کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے اداروں کے درمیان اختیارات کا ٹکراؤ پیدا ہوسکتا ہے اور اگر یونٹس بہت چھوٹے بنا دیے جائیں تو انتظامی صلاحیت کم بھی ہوسکتی ہے دنیا میں decentralisation کے تجربات یہ بھی بتاتے ہیں کہ اختیارات کی منتقلی اگر بغیر مالی وسائل واضح ذمہ داریوں اور مضبوط نگرانی کے کی جائے تو فائدے کے بجائے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں OECD بھی اسی لیے decentralisation میں اختیارات وسائل اور ذمہ داریوں کے درمیان توازن کو بنیادی شرط قرار دیتا ہے
یہ پورا نظام قانون کے تحت شفاف طریقے سے اور مرحلہ وار بننا چاہیے ایسا نا ہو جیسے ڈسٹرکٹ اور ڈویژنز بغیر تیاری کے بنائیں گئے کئی ضلعوں میں آج بھی ضلعی انتظامیاں کے دفاتر موجود نہیں ہیں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اختیار کے ساتھ احتساب بھی ہونا چاہیے ہمارا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم ہر نئی تجویز کو پہلے شک کی نظر سے دیکھتے ہیں
اس کی ایک وجہ بھی ہے ہمارے حکمرانوں نے عوام سے اتنے جھوٹے وعدے کیے ہیں اتنے دعوے کیے اور اتنی بار مایوس کیا کہ اب کوئی اچھی بات بھی سامنے آئے تو عوام فوراً سوچتے ہیں کہ اس کے پیچھے کیا مقصد کارفرما ہے یہ اعتماد کا بحران ہے اور اس کا علاج مزید تقریریں نہیں بلکہ نتائج ہونے چاہئے ہمیں منفی سوچ چھوڑ کر مثبت سوچ ضرور اپنانی چاہیے میں آج یہ سوال صرف سیاست دانوں سے نہیں بلکہ بلوچستان کے تمام فیصلہ سازوں مقتدر حلقوں بیوروکریسی دانشوروں اساتذہ کاروباری طبقے اور عام شہریوں کے سامنے رکھتا ہوں کیا بلوچستان کو ایک ایسے انتظامی ماڈل کی ضرورت نہیں جس میں حکومت عوام کے قریب ہو فنڈز کا طریقے کار واضح ہو افسر اپنے علاقے میں موجود ہو ترقیاتی منصوبے کی نگرانی مقامی سطح پر ہو اور ہر علاقے کے عوام کو اپنی حکومت تک رسائی حاصل ہو
ہم وفاق سے اپنے حقوق کا مطالبہ ضرور کریں یہ ہمارا آئینی حق ہے مگر ہمیں اپنے صوبے کے اندر بھی انصاف کرنا ہوگا
اگر ہم چاہتے ہیں کہ وفاق بلوچستان کو اس کا حق دے تو ہمیں بھی بلوچستان کے ہر ضلع ہر علاقے اور ہر شہری کو اس کا حق دینا ہوگا بلوچستان کی ترقی صرف زیادہ پیسوں سے نہیں ہوگی زیادہ مؤثر طریقے سے پیسہ خرچ کرنے سے ہوگی
امن صرف زیادہ فورسز سے نہیں آئے گا مضبوط انتظام فوری انصاف اور عوامی اعتماد سے بھی آئے گا
اور سب سے بڑھ کر بلوچستان کا مستقبل کوئٹہ کی چند عمارتوں میں بند نہیں ہوسکتا آج اگر تحقیقات کریں تو امن امان بنیادی سہولیات کی کمی اور اچھے تعلیمی اور صحت کے مراکز نہ ہونے کی وجہ سے 90 فیصد دوسرے ضلعوں کے عوام کوئٹہ منتقل ہو چکے ہیں بلوچستان کا مستقبل بلوچستان کے ہر علاقے تک اختیار وسائل اور ترقی پہنچانے
میرا مقصد کسی قوم کو دوسرے سے جدا کرنا نہیں ہر علاقے کو اس کا حق دینا ہے دنیا آگے بڑھ گئی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم صرف یہ نہ پوچھیں کہ دنیا ہم سے آگے کیوں نکل گئی؛ بلکہ یہ بھی سوچیں کہ وہاں ایسا کیا ہوا جو ہم نے نہیں کیا
شاید جواب ہمارے سامنے ہی ہے انہوں نے اختیار کو مرکزیت میں قید نہیں رکھا اسے عوام تک پہنچایا اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم مزید کتنی دیر ایک ہی لکیر پیٹتے رہیں گے
اس موقف پے اپنی رائے ضرور دیں اور مثبت ذہن سے سوچ کر دیں سیاستدانوں کے موقف کے فاکوزن نہ کریں بلکہ بلوچستان کے آنے والے نسلوں کے بارے میں سوچیں
20/09/2026
دیانت دار افسر او ایس ڈی کرپٹ افسر بااختیار
یہ ہے بلوچستان کا رول ماڈل گورننس اگر کسی دوسرے صوبے میں ایسا انقلاب لانا ہے تو بلوچستان کے اعلی سیکٹری صاحب سے رابطہ کریں بازار میں یہ بات بھی گرم ہے کہ بلوچستان کے اعلی عہدوں کی پوسٹنگ اسلام آباد میں بیٹھا ایک شخص کرتا ہے
Say NO to corruption.
ذرا جرأت کے ساتھ
تحریر: میر اسلم رند
تاریخ کا ایک تلخ سبق ہے کہ جب کسی ریاست میں کردار سے زیادہ تعلق قابلیت سے زیادہ سفارش اور دیانت سے زیادہ مفاد کی قدر ہونے لگے تو ادارے کمزور اور عوام مایوس ہو جاتے ہیں ریاست کا اصل سرمایہ اس کی عمارتیں یا خزانہ نہیں بلکہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اختیار ملنے کے باوجود اپنے ضمیر اور قانون کو نہیں بیچتے آج بلوچستان میں ایک سوال سنجیدگی سے پوچھنے کی ضرورت ہے کیا ہمارے ہاں ایماندار اور اصول پسند افسر کے لیے دیانت داری مشکل اور سمجھوتہ کرنے والے افسر کے لیے پوسٹنگ اور ترقی آسان ہو گئی ہے
حافظ طاہر صاحب کو او ایس ڈی بنائے جانے کے حوالے سے یہ بات زیرِ بحث ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر کسی ایسے معاملے میں جھوٹی قسم یا غلط بیان دینے سے گریز کیا جو حاکم کی مرضی کے خلاف تھا میں اس بات کو حتمی حقیقت قرار نہیں دے رہا لیکن اگر کسی افسر کو صرف اس لیے عہدے سے ہٹایا گیا کہ اس نے غلط بات ماننے سے انکار کیا تو یہ صرف حافظ طاہر صاحب کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے نظام کے لیے لمحۂ فکریہ ہے افسر کی اصل آزمائش اسی وقت ہوتی ہے جب اس کے سامنے دو راستے ہوں ایک طرف طاقتور شخصیت کی خواہش اور دوسری طرف قانون اصول پسند افسر کو قانون کا راستہ اختیار کرنے پر سزا ملنی چاہیے یا عزت میرے سامنے ایسے کئی واقعات گزرے ہیں جہاں وزراء اور بااثر شخصیات کی طرف سے سیکریٹری صاحبان پر دباؤ کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں بعض افسران کو مبینہ طور پر یہ تک کہا جاتا ہے میں دیکھتا ہوں آپ اس سیٹ پر کیسے رہتے ہیں اور حقیقت میں 3 روز بعد سیکرٹری صاحب اپنے سیٹ پر نہ رہا کیا یہ ہے بلوچستان کی تباہی کی اصل وجہ
اگر یہ رویہ حقیقت ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ ایک سیکریٹری قانون کے مطابق فیصلہ کرے یا اپنی کرسی بچانے کے لیے سیاسی دباؤ قبول کرے عمران گچکی صاحب کے بارے میں بھی ایک موقع پر یہ بات سامنے آئی کہ وہ دفتر آنے سے گریز کر رہے تھے اس معاملے کی اصل حقیقت متعلقہ لوگ بہتر جانتے ہیں مگر ایسے واقعات ہمیں یہ سوچنے پر ضرور مجبور کرتے ہیں کہ اگر ایک افسر اپنے منصب پر رہ کر آزادانہ طور پر کام نہیں کر سکتا تو پھر گورنمنٹ کس طرح عوام کی خدمت کرے گی آج بلوچستان میں کئی قابل اور تجربہ کار افسران او ایس ڈی ہیں کئی افسران سی ایم آئی ٹی میں بیٹھے ہیں جبکہ دوسری طرف بعض افسران کے پاس ایک نہیں بلکہ کئی کئی چارج موجود ہیں کئی محکموں میں نان کیڈر پردیسی بابووں کو براجمان کیا گیا ہے یہاں میں کسی فرد کو نشانہ نہیں بنا رہا بلکہ اس نظام پر سوال اٹھا رہا ہوں جس میں پوسٹنگ اور اختیار کبھی کبھی کارکردگی سے زیادہ تعلقات سے جڑے دکھائی دیتے ہیں میرے بعض دوست شکایت کرتے ہیں کہ بلوچ افسران کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے میں ان سے کہتا ہوں کہ مسئلہ صرف بلوچ یا غیر بلوچ کا نہیں
ہر اصول پسند افسر کے ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہیے چاہے وہ کسی بھی قوم زبان یا علاقے سے تعلق رکھتا ہو اصل مسئلہ اس سوچ کا ہے جس میں افسر کی کامیابی کا پیمانہ اس کی دیانت قابلیت اور عوامی خدمت کے بجائے یہ بن جائے کہ وہ کس کے قریب ہے اور کس کے کام آ سکتا ہے
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک خطرناک جملہ سننے کو ملتا ہے کامیاب افسر وہ ہے جو خود بھی کھائے اور اوپر بھی کھلائے اگر واقعی یہ سوچ ہماری بیوروکریسی میں جگہ بنا چکی ہے تو یہ کسی ایک محکمے کی خرابی نہیں ریاستی نظام کے منہ پر طمانچہ ہے جس معاشرے میں کرپشن کرنے والا افسر کامیاب اور ایماندار افسر ناکام سمجھا جانے لگے تو نوجوان نسل کو ہم کیا سبق دے رہے ہیں یہ بھی شکایت سامنے آتی رہی ہے کہ گریڈ 19 اور 20 کے بعض افسران کے پاس ان کی آمدن کے مقابلے میں غیرمعمولی اثاثے ہیں اگر کسی افسر کے پاس کروڑوں روپے کی جائیداد ہے تو سوال اٹھنا چاہیے مگر اس سوال کا جواب بھی قانونی اور شفاف تحقیقات سے آنا چاہیے افواہوں سے نہیں FBR کے پاس سرکاری ملازمین کے اثاثہ جات کے اعلان کا نظام موجود ہے بلوچستان حکومت کے اپنے قوانین اور قواعد بھی احتساب اور اینٹی کرپشن کا قانونی ڈھانچہ فراہم کرتے ہیں
لیکن اصل سوال یہ ہے گوشوارے جمع ہونے کے بعد ان کی مؤثر جانچ کون کرے گا کیا صرف یہ کافی ہے کہ ایک افسر نے فارم پر چند اثاثے لکھ دیے نہیں اگر کسی افسر کے اثاثوں میں اس کی معلوم آمدن کے مقابلے میں غیرمعمولی اضافہ ہو تو قانون کے مطابق اس کی جانچ ہونی چاہیے اگر وضاحت تسلی بخش ہو تو معاملہ ختم ہو چاہئے اور اگر بدعنوانی کے ٹھوس شواہد سامنے آئیں تو پھر عہدہ سفارش یا لیں دین کسی کے لیے ڈھال نہیں ہونا چاہیے یہی حقیقی احتساب ہے بلوچستان کے اینٹی کرپشن قواعد میں BPS-17 سے BPS-20 تک افسران کے معاملات کے لیے صوبائی اینٹی کرپشن کمیٹی کا باقاعدہ طریقۂ کار موجود ہے جس میں چیف سیکریٹری بطور چیئرمین شامل ہیں نیب کے بارے میں بھی ملک میں طویل عرصے سے سیاسی استعمال اور احتساب کے دوہرے معیار کے الزامات لگتے رہے ہیں سردار اختر مینگل نے ماضی میں نیب کو انتہائی سخت الفاظ میں اغوا برائے تاوان کا آفس تک قرار دیا تھا یہ ان کا سیاسی مؤقف تھا لیکن اس طرح کے بیانات یہ ضرور ظاہر کرتے ہیں کہ احتساب کے اداروں پر اعتماد کا بحران کتنا گہرا رہا ہے احتساب اگر سیاسی انتقام بن جائے تو غلط ہے اور اگر طاقتور لوگوں کے سامنے خاموش ہو جائے تو بھی غلط ہے احتساب صرف احتساب ہونا چاہیے نہ کسی کے خلاف سیاسی انتقام نہ کسی کے لیے سیاسی تحفظ میری نظر میں اب حکومت کو ایک بنیادی فیصلہ کرنا ہوگا اچھے افسر کو تلاش کریں اسے اختیار دیں اس کی حفاظت کریں اور اس سے نتیجہ مانگے جو افسر عوام کے مسائل حل کرتا ہے قانون کے مطابق فیصلے کرتا ہے سرکاری خزانے کی حفاظت کرتا ہے اور سیاسی دباؤ کے باوجود غلط کام سے انکار کرتا ہے اسے او ایس ڈی بنا کر اس کی صلاحیت ضائع کرنا ریاست کے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے اور اگر کسی افسر کے خلاف کرپشن کے ٹھوس شواہد موجود ہیں تو اسے صرف اس لیے اہم عہدہ نہیں ملنا چاہیے کہ وہ کسی طاقتور شخص کا منظورِ نظر ہے کسی افسر کے پاس جتنے زیادہ اختیارات ہوں اس کی جواب دہی بھی اتنی ہی زیادہ ہونی چاہیے
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ صوبے میں چیف سیکریٹری سے لے کر سیکریٹری تک تقرری کا بنیادی معیار اچھی شہرت قابلیت تجربہ اور دیانت داری ہونا چاہئے وزیر تبدیل ہوتے رہتے ہیں حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں مگر ریاستی ادارے مستقل ہوتے ہیں اس لیے سیکریٹری کو وزیر کا ذاتی ملازم نہیں بلکہ ریاست کا ذمہ دار افسر سمجھنا ہوگا وزیر پالیسی دے افسر قانون کے مطابق اس پر عمل کرے اور اگر کوئی حکم قانون کے خلاف ہو تو افسر کو یہ حق اور تحفظ حاصل ہو کہ وہ اپنی قانونی رائے دے سکے یہی مضبوط نظام ہے
اور آخر میں میری گزارش صرف بلوچستان سے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے مقتدرہ سے ہے ہمیں ایسی حکومت کی ضرورت ہے جس میں کردار کو قابلیت کا حصہ دیانت کو تقرری کا معیار اور احتساب کو نظام کا لازمی ستون سمجھا جائے اگر ملک میں باکردار لوگوں پر مشتمل قومی حکومت یا وسیع تر قومی انتظامی بندوبست قائم کیا جاتا ہے تو اس کا پہلا کام سیاسی بندربانٹ نہیں بلکہ ریاستی اداروں کی صفائی اصلاح اور مضبوطی ہونا چاہیے ہر صوبے میں اچھی شہرت رکھنے والے چیف سیکریٹری اور سیکریٹری تعینات کیے جائیں ایماندار افسر کو سیاسی دباؤ سے تحفظ دیا جائے
اور جس افسر کے خلاف کرپشن ثابت ہو اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے ہمیں کسی خاص قوم کے نہیں اچھے کردار کے افسر چاہئیں کیونکہ ملک تباہ اس وقت نہیں ہوتا جب ایک کرپٹ آدمی کرپشن کرتا ہے ملک اس وقت تباہ ہوتا ہے جب پورا نظام ایماندار آدمی کو تنہا اور کرپٹ آدمی کو طاقتور بنا دے آج فیصلہ اداروں نے کرنا ہے حافظ طاہر جیسے اصول پسند افسر اگر غلط کے سامنے کھڑے ہوں تو انہیں دیوار سے لگایا جائے گا یا تحفظ دیا جائے گا
عمران گچکی جیسے افسران کو آزاد ماحول دیا جائے گا یا دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا اور سب سے بڑھ کر اگلی نسل کو ہم یہ بتائیں گے کہ سرکاری ملازمت میں کامیابی دیانت سے ملتی ہے یا سمجھوتے سے اس سوال کا جواب صرف تقریروں سے نہیں اگلی پوسٹنگ اور اگلے فیصلے سے دینا ہوگا
18/09/2026
پاکستان کو ٹینک کے ساتھ ساتھ تنک بھی چاہیے اور ہم نے ملکی دفاع کے لئے ٹینک تو بنا لئے لیکن اچھی تنک پیدا نہ کر سکے
قومیں ہتھیاروں سے سرحدیں محفوظ کرتی ہیں مگر عقل تعلیم اور میرٹ سے مستقبل بناتی ہیں
ذرا جرأت کے ساتھ
تحریر ؛ میر اسلم رند
میں اکثر یہ کوشش کرتا ہوں کالم تھوڑا چھوٹا ہو مگر اچھے الفاظ کا شامل کرنا ضروری ہے ورنہ تشنگی رہ جاتی ہے اب آتے ہیں واپس کالم کی طرف
ایک پرانا مقولہ ہے کہ ریاستوں کی طاقت صرف تلوار کی دھار میں نہیں فیصلوں کی بصیرت میں بھی ہوتی ہے
کاش ہمارے حکمرانوں کے پاس ٹینک کے ساتھ تنک بھی ہوتا تو شاید آج پاکستان کے مسائل کی فہرست اتنی طویل نہ ہوتی یہ بات کسی ایک حکومت جماعت یا ادارے کے خلاف نہیں بلکہ اس پورے سیاسی کلچر کے بارے میں ہے جس نے کئی دہائیوں سے عوام کو یہ احساس دلایا کہ اگر ہم نہیں ہوں گے تو ملک نہیں چلے گا سوال یہ ہے کہ اگر واقعی ملک چند خاندانوں چند چہروں اور چند جماعتوں کے بغیر نہیں چل سکتا تو پھر کروڑوں نوجوانوں کی صلاحیت کس دن کام آئے گی تقریباً چار دہائیوں سے ہم ایک ہی دائرے میں گھوم رہے ہیں کبھی ایک جماعت کبھی دوسری جماعت کبھی نیا تجربہ کبھی پرانا چہرہ نئے نعرے کے ساتھ اداروں نے بھی مختلف ادوار میں سیاسی تجربات کیے مگر مسئلہ حل نہ ہوا وجہ شاید یہ ہے کہ چہرے بدلنے سے نظام نہیں بدلتا صلاحیت میرٹ اور ادارہ جاتی اصلاحات سے نظام بدلتا ہے دنیا نے اس راز کو بہت پہلے سمجھ لیا تھا
جنوبی کوریا کی مثال ہمارے سامنے ہے جنگ سے تباہ حال ملک نے تعلیم انفراسٹرکچر ٹیکنالوجی اور برآمدات کو اپنی ترقی کا مرکز بنایا مجھے یاد ہے جب جاپان کے مقابلے میں جنوبی کوریا کا سامان مارکیٹ میں آتا تو ہم کہتے تھے اس کا معیار اچھا نہیں آج وہی جنوبی کوریا ہے عالمی بینک کے مطابق جنوبی کوریا 1950 کی دہائی کے امداد لینے والے ملک سے ایک بلند آمدنی جدت پر مبنی معیشت بن گیا 1980 سے 2024 تک اس کی حقیقی معیشت کی اوسط سالانہ شرحِ نمو 5.6 فیصد رہی یہ تبدیلی کسی جادو سے نہیں آئی وہاں انسانی سرمایہ تیار کیا گیا صنعت کو برآمدات سے جوڑا گیا ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری ہوئی اور تعلیم کو قومی ترقی کا ذریعہ سمجھا گیا عالمی بینک کی ایک تاریخی تحقیق بھی بتاتی ہے کہ کوریا نے صنعتی ترقی کے ساتھ ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم کو مسلسل اپنی معاشی ضروریات کے مطابق ڈھالا
سنگاپور بھی ہمارے سامنے ایک زندہ مثال ہے 1965 میں آزادی کے وقت محدود وسائل رکھنے والا یہ چھوٹا سا ملک آج اعلیٰ آمدنی والی معیشت بن چکا ہے عالمی بینک کے مطابق اس کی ترقی میں صنعتی پالیسی کے ساتھ انسانی سرمائے تعلیم ہنر اور اعلیٰ قدر والی مینوفیکچرنگ و سروسز نے بنیادی کردار ادا کیا ہمارے ہاں ابھی تک یہ بحث چل رہی ہے کہ اقتدار میں کون آئے گا کس کا خاندان اگلی نسل میں سیاست کرے گا یہ مردہ قوم کس حاکم کے اگلی نسل کے غلام ہو نگے کس کو وزارت ملے گی اور کون سا دھڑا کس کے ساتھ جائے گا دنیا مصنوعی ذہانت روبوٹکس جدید صنعت خلائی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے جبکہ ہم اپنے بچوں کے اسکول بند کرنے کاروبار روکنے اور روزگار کے مواقع محدود کرنے جیسے فیصلوں پر بحث کر رہے ہیں امن و سلامتی یقیناً ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے لیکن اگر ہر بحران کا جواب کاروبار تعلیم اور روزگار کو روک دینا بن جائے تو عام آدمی جائے کہاں پاکستان کے اصل مسئلے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ عالمی بینک کے مطابق 2026 میں تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ بچے یعنی 5 سے 16 سال کی عمر کے بچے، اسکول سے باہر ہیں یہ اعداد صرف اعداد نہیں پاکستان کا مستقبل ہیں ایک طرف دنیا اپنے بچوں کو مصنوعی ذہانت اور جدید علوم سکھا رہی ہے دوسری طرف ہمارا بچہ اگر اسکول کے دروازے تک پہنچ ہی نہ سکے تو وہ عالمی مقابلے میں کیسے کھڑا ہوگا
متحدہ عرب امارات نے بھی مصنوعی ذہانت کو مستقبل کی ریاستی حکمت عملی کا حصہ بنایا ہے اس کی سرکاری AI حکمت عملی میں صحت تعلیم ٹرانسپورٹ پانی توانائی اور حکومتی خدمات سمیت متعدد شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو شامل کیا گیا ہے یہی فرق ہے آج کے فیصلے اور آنے والی نسل کے فیصلے میں پاکستان کا مسئلہ صرف قرض نہیں قرض سے زیادہ خطرناک وہ ذہنیت ہے جو قرض کو مستقل سہارا سمجھ لے عالمی بینک کے مطابق پاکستان کی برآمدات 1990 کی دہائی میں تقریباً 16 فیصد GDP سے کم ہو کر 2024 میں تقریباً 10 فیصد رہ گئیں جبکہ معیشت کا انحصار قرض اور ترسیلاتِ زر سے چلنے والی کھپت پر بڑھا
ہمیں سوچنا ہوگا کہ اگر ہماری صنعت پیداوار اور برآمدات میں مطلوبہ اضافہ نہیں کر رہی اگر کاروباری طبقہ غیر یقینی صورتحال سے پریشان ہے اگر نوجوان ڈگری لے کر روزگار ڈھونڈ رہا ہے اور اگر ریاست کا بڑا وقت بحران سنبھالنے میں گزر رہا ہے تو پھر ہم اگلی نسل کے لیے کیا چھوڑ رہے ہیں
صرف قرض صرف مہنگائی صرف بے روزگاری یا پھر ایسی سیاست جس میں دادا کے بعد بیٹا بیٹی اور پھر پوتا پوتی اقتدار کے دروازے پر کھڑے نظر آئیں سیاست کسی خاندان کی جاگیر نہیں ہونی چاہیے جس نوجوان میں صلاحیت ہے جس طالب علم نے محنت کی ہے جس نے اپنے معاشرے کے لیے کام کیا ہے جس میں دیانت قابلیت اور قیادت کی صلاحیت ہے اسے بھی موقع ملنا چاہیے ہمیں سیاست میں خون کا رشتہ نہیں کارکردگی کا رشتہ دیکھنا ہوگا یہ بھی درست ہے کہ پاکستان قوم نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں ہمارے جوانوں نے جانیں دیں خاندانوں نے اپنے پیارے کھوئے اور ریاست نے بھاری قیمت ادا کی مگر سوال یہ ہے کہ اتنی قربانیوں کے باوجود اگر دہشت گردی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور دوسری طرف معیشت بھی مسلسل دباؤ میں ہے تو ہمیں اپنی حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں ہونی چاہیے
دنیا بدل چکی ہے آج جنگ صرف سرحد پر بندوق سے نہیں لڑی جاتی معیشت ٹیکنالوجی تعلیم سائبر سکیورٹی مصنوعی ذہانت اور معلومات بھی قومی طاقت کا حصہ ہیں ہم کب تک صرف یہ سوچتے رہیں گے کہ ہمارے پاس کتنے ٹینک ہیں
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہمارے پاس کتنے سائنس دان ہیں کتنے انجینئر ہیں کتنے پروگرامر ہیں کتنے ہنرمند نوجوان ہیں کتنی عالمی معیار کی یونیورسٹیاں ہیں اور ہماری برآمدات کتنی ہیں کیونکہ ٹینک سرحد کی حفاظت کر سکتا ہے، مگر تنک قوم کا مستقبل بناتا ہے آج ضرورت کسی ایک جماعت کو ہٹانے یا کسی دوسرے چہرے کو لانے کی نہیں ضرورت اس سیاسی اور انتظامی سوچ کو تبدیل کرنے کی ہے جس میں میرٹ سے زیادہ تعلق قابلیت سے زیادہ وفاداری اور قومی مفاد سے زیادہ ذاتی و سیاسی مفاد اہم ہو جاتا ہے ہمیں ایسے نوجوان تیار کرنے ہوں گے جو دنیا سے مقابلہ کرسکیں ایسے استاد چاہئیں جو صرف نصاب مکمل نہ کریں بلکہ ذہن بنائیں ایسی جامعات چاہئیں جو ڈگریاں نہیں تحقیق پیدا کریں ایسی صنعت چاہیے جو صرف مقامی منڈی نہ دیکھے بلکہ دنیا کو اپنا بازار سمجھے اور ایسی حکومت چاہیے جو پانچ سال بعد کے الیکشن سے زیادہ پچاس سال بعد کے پاکستان کے بارے میں سوچے پاکستان کے پاس وسائل کی کمی نہیں وسائل کو انسانی صلاحیت میں تبدیل کرنے والی مستقل پالیسی کی کمی ہے مایوسی میرا مقصد نہیں پاکستان کے حالات مشکل ضرور ہیں مگر قومیں مشکل حالات میں ہی اپنی سمت درست کرتی ہیں آج بھی اگر ہم تعلیم میرٹ انصاف امن برآمدات صنعت ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کو قومی ترجیحات بنا دیں تو راستہ نکل سکتا ہے بس شرط ایک ہے حکمران خود کو ملک کا مالک نہیں ملک کا خادم سمجھیں
ورنہ آنے والی یہ بھی ضرور پوچھے گی کہ جب دنیا آگے بڑھ رہی تھی تو آپ نے آپ نے اس ملک کو کیا دیا اب بھی وقت ہے کہ ٹینکوں کے ساتھ تنک پیدا کیے جائیں طاقت کے ساتھ دانش کو جگہ دی جائے اقتدار کے ساتھ ذمہ داری کو جوڑا جائے اور خاندانوں کے بجائے قوم کے مستقبل کو سیاست کا مرکز بنایا جائے ورنہ واقعی ایک دن ہمارے پاس دعاؤں کے سوا کچھ نہیں بچے گا اللہ پاک پاکستان پر رحم فرمائے ہمارے حکمرانوں کو بصیرت دے اور اس ملک کے لیے ایسا فیصلہ کن موڑ پیدا کرے جہاں طاقت کے ساتھ عقل اقتدار کے ساتھ دیانت اور سیاست کے ساتھ خدمت بھی کھڑی ہو آمین
استاد خیال
Qamar gul w gulzaman
18/09/2026
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس میراں محمد شاہ نے ساڑھے آٹھ ارب روپے کی مبینہ کرپشن میں ملوث سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر یلو لائن ملزم ضمیر عباسی کی ایک کروڑ روپے کی ضمانت منظور کرلی۔ عدالت عالیہ نے ملزم کو زرضمانت ایک کروڑ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے جبکہ حکام اعلیٰ کو ملزم کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
17/09/2026
فورڈ اتھارٹی کا محکمہ اور بورڈ آف گورنر کارکردگی کے لیے بنایا گیا ہے یا تعداد پوری کرنے کے لیے اس محکمہ سے عوام کو فائدے کی جگہ اذیت مل رہی ہے
ذرا جرآت کے ساتھ
تحریر ؛ میر اسلم رند
حضرت عمرؓ سے منسوب ایک معروف قول ہے کہ حکومت کا اصل مقصد رعایا کی خدمت اور ان کے حقوق کی حفاظت ہے یا محض منصب سنبھالنا نہیں اگر کسی ادارے کے قیام کے بعد عوام کو اس کی کارکردگی کا فائدہ ہی نہ پہنچے تو پھر سوال اٹھنا فطری ہے کہ وہ ادارہ آخر کس مقصد کے لیے قائم کیا گیا ہے جب بلوچستان فوڈ اتھارٹی قائم ہوئی تو ڈائریکٹر جنرل نعیم خان بازئی اور ڈائریکٹر اسحاق صاحب کو ذمہ داریاں سونپی گئیں بعدازاں ایک بورڈ آف گورنرز تشکیل دیا گیا اور بعض معزز شہریوں کو اس کا رکن بنایا گیا جن میں اس ناچیز کا نام بھی شامل تھا ابتدائی عرصے میں جب نعیم خان بازئی صاحب اور اسحاق صاحب اپنے عہدوں پر موجود تھے تو کچھ عملی نتائج بھی نظر آتے تھے شہریوں کی طرف سے کوئی شکایت موصول ہوتی تو میں اسے ڈی جی یا ڈائریکٹر کے نوٹس میں لاتا اور عموماً اس پر کارروائی بھی کی جاتی لیکن دونوں افسران کے تبادلے کے بعد صورتحال بدل گئی ایک روز میں خود فوڈ اتھارٹی کے دفتر گیا اور ایک ڈائریکٹر صاحب سے ملاقات کرکے پوچھا کہ جو بورڈ آپ لوگوں نے بنایا ہے اس کا کیا مقصد ہے اس کے بائی لاز کیا ہیں کیا یہ ضروری نہیں کہ ہر تین ماہ بعد بورڈ کا اجلاس بلا کر ممبران کو ادارے کی کارکردگی سے آگاہ کیا جائے جواب ملا کہ ڈی جی صاحب موجود نہیں ہیں آپ پھر کسی دن تشریف لائیں کچھ دن بعد اچانک فون آیا کہ کل ورلڈ فوڈ ڈے ہے آپ نے شرکت کرنی ہے میں نے عرض کیا کہ اگر یہ بورڈ ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے عوامی شکایات سننے اور نگرانی کے لیے تشکیل دیا گیا ہے تو اس کا اجلاس کارکردگی کے جائزے کے لیے ہونا چاہیے محض ورلڈ فوڈ ڈے کی تقریب میں کرسیاں پوری کرنے کے لیے نہیں یہ ہمارے سرکاری نظام کا ایک بڑا المیہ ہے کہ بعض اوقات ادارے عوامی فلاح کے لیے کم اور روزگار عہدوں اور مراعات کے لیے زیادہ بنتے دکھائی دیتے ہیں ادارہ بن جاتا ہے عہدے تجویز کئے جاتے ہیں کمیٹیاں تشکیل پاتی ہیں تقریبات منعقد ہوتی ہیں تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر آتی رہتی ہیں مگر عام آدمی پوچھتا رہ جاتا ہے کہ اس سب سے مجھے کیا ملا آج میں فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ حکام سے چند سادہ سوالات پوچھنا چاہتا ہوں گزشتہ چار برسوں میں بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے عوام کو کیا عملی ریلیف دیا دودھ میں ملاوٹ کے خلاف کارروائیوں کے باوجود کیا دودھ کا معیار واقعی بہتر ہوا کیا گوشت فروخت کرنے والی دکانوں میں حفظانِ صحت کے مطلوبہ انتظامات شیشے کے کور اور دیگر ضروری اقدامات یقینی بنائے گئے کیا ملاوٹ میں کمی آئی یا صرف جرمانوں کی تعداد اور ادارے کے فنڈز میں اضافہ ہوا سوشل میڈیا پر چھاپوں اور کارروائیوں کی ویڈیوز ضرور نظر آتی ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان کارروائیوں کے نتیجے میں عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک بھی مل رہا ہے ایک اور مسئلہ ادارے تک عوام کی رسائی کا ہے کسی شکایت کے سلسلے میں دفتر جائیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی عوامی ادارے کے بجائے کسی انتہائی حساس مقام میں داخل ہو رہے ہوں پہلے پوچھ گچھ پھر معلومات بعض اوقات فون پر تصدیق اور اس کے بعد داخلے کی اجازت سوال یہ ہے کہ جو دفتر عوام کی سہولت اور شکایات کے ازالے کے لیے بنایا گیا ہو وہاں عام شہری کو اس قدر مشکل راستہ کیوں اختیار کرنا پڑے میں بلاوجہ تنقید کا قائل نہیں لیکن جب شکایات بڑھ جائیں اور متعلقہ ادارے کی خاموشی طویل ہو جائے تو قلم اٹھانا بھی ایک قلم کار کی ذمہ داری بن جاتا ہے موجودہ ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی سے میری مؤدبانہ گزارش ہے کہ اگر بورڈ آف گورنرز کو فعال بنا کر اس سے ادارے کی کارکردگی عوامی شکایات اور اصلاحات کے بارے میں باقاعدہ رائے نہیں لی جا سکتی اگر اس کے اجلاس صرف سالانہ تقریبات میں تعداد پوری کرنے تک محدود ہیں تو پھر اس بورڈ کو برقرار رکھنے کا مقصد کیا ہے یا تو بورڈ کو اس کے اصل مقصد کے مطابق فعال کیا جائے باقاعدگی سے اجلاس بلائے جائیں اور عوامی مفاد میں اس کی سفارشات پر عمل ہو یا پھر اس بورڈ کو ختم کر دیا جائے عوام کو صاف خوراک چاہیے سوشل میڈیا کی تشہیر نہیں عملی نتائج درکار ہیں اداروں کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ ان کے پاس کتنے عہدے کتنے اجلاس اور کتنی ویڈیوز ہیں بلکہ یہ ہے کہ ان کے وجود سے عام آدمی کی زندگی کتنی محفوظ اور آسان ہوئی
Category
Website
Address
بلوچ اسٹریٹ
Quetta Cantonment
87300
Alerts
Be the first to know and let us send you an email when Mir Aslam Rind posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.