Mir Aslam Rind
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Mir Aslam Rind, Journalist, بلوچ اسٹریٹ, Quetta Cantonment.
17/06/2026
ریڈ زون کے محافظ مگر بنیادی سہولیات سے محروم
ہزاروں وی آئی پیز کی زندگیاں بچانے والے سینکڑوں پولیس والے خود تمام بنیادی سہولیات سے محروم
ذرا جرآت کے ساتھ
تحریر: میر اسلم رند
کہا جاتا ہے کہ چراغ تلے اندھیرا بدقسمتی سے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے ریڈ زون میں یہ محاورہ حقیقت کا روپ دھار چکا ہے جہاں صوبے کی اعلیٰ ترین شخصیات اہم سرکاری دفاتر اور حساس تنصیبات موجود ہیں وہیں ان سب کی حفاظت پر مامور سینکڑوں پولیس اہلکار بنیادی انسانی سہولیات سے محروم زندگی گزارنے پر مجبور ہیں روزانہ صبح سے شام تک سخت دھوپ گرمی سردی اور دیگر موسمی سختیوں کا مقابلہ کرنے والے یہ جوان ریاست کی پہلی دفاعی لائن ہیں مگر افسوس کہ ان کے لیے نہ مناسب واش روم موجود ہیں نہ پینے کے صاف پانی کا انتظام نہ دھوپ سے بچاؤ کے لیے سایہ دار جگہ اور نہ ہی طویل ڈیوٹی کے دوران چند لمحے آرام کرنے کے لیے کوئی مناسب آرام گاہ گرمیوں میں کوئٹہ کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے ایسے میں مسلسل کئی گھنٹے کھڑے رہنا کسی بھی انسان کے لیے آسان نہیں لیکن ہمارے پولیس اہلکار یہ سب کچھ خاموشی سے برداشت کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنی ذمہ داری کو فرض سمجھتے ہیں سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اور معاشرہ بھی اپنی ذمہ داری کو اسی احساس کے ساتھ نبھا رہے ہیں چند ماہ قبل کوئٹہ میں دہشت گردی کے ایک المناک واقعے کے دوران انہی پولیس جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا انہوں نے اپنی حفاظت کی پروا کیے بغیر عوامی نمائندوں سرکاری شخصیات اور شہریوں کے تحفظ کو ترجیح دی کئی اہلکار شہید ہوئے، کئی زخمی ہوئے مگر ان کے حوصلے پست نہ ہوئے آج انہی بہادر جوانوں کو بنیادی انسانی ضروریات کے لیے ترسنا پڑ رہا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان گورنر بلوچستان اور دیگر اعلیٰ حکام روزانہ انہی چوکوں اور سڑکوں سے گزرتے ہیں جہاں یہ اہلکار گھنٹوں کھڑے رہتے ہیں کیا کبھی کسی نے رک کر ان کے حالات کا جائزہ لیا کیا کسی نے یہ سوچا کہ جو جوان ہماری حفاظت کے لیے دن رات کھڑے ہیں انہیں کم از کم پینے کا پانی واش روم اور سایہ دار جگہ تو میسر ہونی چاہیے یہ مطالبہ کسی اضافی مراعات کا نہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق کا ہے ایک مہذب ریاست کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے محافظوں کا خیال رکھے اگر ہم اپنے سیکیورٹی اہلکاروں کو عزت سہولت اور بہتر ماحول فراہم نہیں کر سکتے تو یہ ہمارے اجتماعی رویے پر ایک سوالیہ نشان ہے اس کالم کے ذریعے وزیر اعلیٰ بلوچستان گورنر بلوچستان چیف سیکریٹری بلوچستان اور پولیس کے اعلیٰ حکام سے اپیل ہے کہ ریڈ زون میں تعینات پولیس اہلکاروں کے لیے فوری طور پر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں عارضی یا مستقل واش رومز صاف پینے کے پانی کے کولرز، سایہ دار شیڈز اور آرام گاہوں کا قیام کوئی ناممکن کام نہیں صرف توجہ اور سنجیدگی درکار ہے اسی طرح صوبے میں کام کرنے والی سماجی تنظیموں فلاحی اداروں این جی اوز بالخصوص این ڈی پی اور بی آر ایس پی سمیت دیگر اداروں سے بھی درخواست ہے کہ وہ اس انسانی مسئلے کی جانب توجہ دیں اگر سرکاری سطح پر فوری اقدامات ممکن نہ ہوں تو کم از کم فلاحی بنیادوں پر ان اہلکاروں کی مشکلات کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں آخر میں صرف اتنا کہنا کافی ہوگا کہ جو لوگ ہماری حفاظت کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں وہ لاوارث نہیں ہونے چاہئیں ان کے بھی گھر ہیں والدین ہیں بچے ہیں اور خواب ہیں ان کی عزت سہولت اور فلاح صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ ہمارا اخلاقی قرض بھی ہے وقت آ گیا ہے کہ ریڈ زون کے محافظوں کو بھی وہ عزت اور سہولت دی جائے جس کے وہ حقیقی معنوں میں مستحق ہیں
01/06/2026
بلوچستان کو تقسیم نہیں اتحاد کی ضرورت ہے غلط تاریخی حوالے غلط فہمی پیدا کرنے کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے
ذرا جرآت کے ساتھ
تحریر ؛ میر اسلم رند
بلوچستان ہمیشہ سے مختلف قومیتوں ثقافتوں اور روایات کا حسین گلدستہ رہا ہے یہاں بلوچ پشتون ہزارہ پنجابی سندھی اور دیگر اقوام صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئیں ہیں اختلافات بھی ضرور رہے دشمنوں نے اس کو پروان چڑھانے کی کوشش بھی کی لیکن ہمیشہ ناکام رہے مگر ان اختلافات نے کبھی اس دھرتی کے لوگوں کے دلوں کو جدا نہیں کیا یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کی اصل پہچان محبت رواداری اور بھائی چارہ ہے گزشتہ دنوں بعض سیاسی بیانات اور تقاریر کے بعد سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں بحث کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا کچھ لوگوں نے ان بیانات کو بنیاد بنا کر ایسے تاثر دینے کی کوشش کی جیسے بلوچستان کے عوام ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہو حقیقت اس کے برعکس ہے سیاسی رہنما اپنے نظریات اور منشور کے مطابق بات کرتے ہیں اور یہ ان کا جمہوری حق ہے بعض جماعتوں کے منشور دہائیوں سے ایک جیسے ہیں اس لیے ان کے نعروں یا مطالبات کو اچانک پیدا ہونے والی حقیقت سمجھنا درست نہیں
اصل سوال یہ ہے کہ عام بلوچ اور پشتون کیا چاہتے ہیں اگر آج بلوچستان کے عوام سے پوچھا جائے تو زیادہ اکثریت نفرت تقسیم اور تنازعے کی سیاست کو مسترد کریں گے لوگوں کی خواہش ہے کہ ان کے بچوں کو تعلیم ملے نوجوانوں کو روزگار حاصل ہو ہسپتالوں میں علاج کی سہولت ہو اور کاروبار کے مواقع پیدا ہوں عوام کی ترجیحات واضح ہیں لیکن بدقسمتی سے اکثر سیاسی بحثیں ان بنیادی مسائل سے توجہ ہٹا دیتی ہیں بلوچستان اس وقت سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے غربت بے روزگاری مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی کمی نے ہر قومیت کے لوگوں کو متاثر کیا ہے غربت یہ نہیں دیکھتی کہ سامنے والا شخص بلوچ ہے یا پشتون ہزارہ ہے یا پنجابی بھوک محرومی اور بے روزگاری سب کے لیے یکساں اذیت کا باعث بنتی ہیں یہی وہ مسائل ہیں جن پر سنجیدہ مکالمے اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بلوچستان کی تاریخ میں بلوچ اور پشتون ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں رشتے کاروبار دوستی اور مشترکہ مفادات دونوں اقوام کو ایک مضبوط بندھن میں جوڑتے ہیں چند سیاسی بیانات یا وقتی اختلافات اس تاریخی تعلق کو کمزور نہیں کر سکتے دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اشتعال انگیزی کے بجائے برداشت مکالمے اور باہمی احترام کو فروغ دیں بلوچستان کی ترقی کا راستہ اتحاد سے ہو کر گزرتا ہے انتشار سے نہیں آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی سماجی اور قبائلی قیادت نوجوانوں کو نفرت کے بجائے مثبت سوچ دے انہیں تعلیم ہنر اور ترقی کی طرف راغب کرے اور صوبے کے حقیقی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد کرےمیں ان تمام بزرگوں نوجوانوں دانشوروں اور سماجی کارکنوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جو مشکل حالات میں بھی یکجہتی امن اور بھائی چارے کا پیغام دیتے ہیں یہی لوگ بلوچستان کے اصل سفیر ہیں اور یہی وہ آوازیں ہیں جو ہمارے مشترکہ مستقبل کو محفوظ بنا سکتی ہیں۔
بلوچستان ہم سب کا گھر ہے اس گھر کی مضبوطی اسی میں ہے کہ ہم اختلافِ رائے کو دشمنی نہ بنائیں سیاست کو نفرت کا ذریعہ نہ بنائیں اور اپنے مشترکہ مفادات کو ہر قسم کی تقسیم سے بالاتر رکھیں اتحاد محبت اور بھائی چارہ ہی وہ راستہ ہے جو بلوچستان کو ایک روشن پرامن اور خوشحال مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے ,,
Old is gold
ظاہر ھویدہ
Afghani old songs
احمد طاہر
بلوچستان میں کب تک لاشیں اٹھی رہے گی کب تک ہم انہی حالات سے گزرتے رہے گے وزیر داخلہ صاحب وہ ایس ایچ او کب آئے گا جو بلوچستان کے حالات کو ٹھیک کرے
ذرا جرآت کے ساتھ
تحریر ؛ میر اسلم رند
یہ ایک اصلاحی سخت مگر ذمہ دارانہ لہجے میں لکھا گیا کالم ہے جو عوامی احساسات بلوچستان کے حالات حکومتی ناکامیوں اور ریاستی پالیسیوں پر بھرپور انداز میں روشنی ڈالتا ہے
بلوچستان ایک بار پھر لہو لہان ہے ایک اور سانحہ ایک اور جنازہ ایک اور صفِ ماتم اور حسبِ روایت ایک بار پھر تعزیتی بیانات رسمی اجلاس بلند بانگ دعوے اور وہی پرانے جملے کہ دہشت گردوں کو معاف نہیں کیا جائے گا سب سے پہلے آج کے تمام شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں اللہ تعالیٰ تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے زخمیوں کو صحتِ کاملہ عطا کرے اور لواحقین کو صبرِ جمیل دے مگر سوال یہ ہے کہ آخر کب تک صرف دعاؤں اور تعزیتی پیغامات پر قوم کو بہلایا جاتا رہے گا بلوچستان کے عوام گزشتہ ستر برس سے امید کے سہارے زندہ ہیں ہر نئے حکمران ہر نئے وزیر ہر نئے جرنیل اور ہر نئے منصوبے سے یہی توقع باندھی جاتی ہے کہ شاید اب حالات بدل جائیں گے مگر حقیقت یہ ہے کہ حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑتے جا رہے ہیں عوام آج بھی خوف محرومی بے یقینی اور لاوارثی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں
یہ کیسا المیہ ہے کہ ایک صوبے میں امن قائم کرنے کے لیے کھربوں روپے خرچ کیے جائیں وفاقی سیکورٹی ادارے کو دہائیاں گزر جائیں پولیس کے اختیارات بڑھا دیے جائیں چیک پوسٹوں کا جال بچھا دیا جائے مگر پھر بھی عوام محفوظ نہ ہوں اگر تین سو ارب روپے خرچ ہونے کے باوجود امن قائم نہیں ہو سکتا تو پھر سوال صرف دہشت گردی کا نہیں ریاستی پالیسیوں کی ناکامی کا بھی ہے حکمرانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بلوچستان صرف بندوق سے نہیں سنبھلے گا ستر سال کی طاقت آپریشن اور خونریزی نے اگر مسئلہ حل نہیں کیا تو اب بھی وہی راستہ اختیار کرنا دانشمندی نہیں بلکہ ضد ہے جب بھی کوئی سانحہ ہوتا ہے وزیراعظم اور وزیر داخلہ کوئٹہ آتے ہیں اجلاس ہوتے ہیں تصاویر بنتی ہیں بیانات دیے جاتے ہیں اور پھر سب واپس اسلام آباد چلے جاتے ہیں بلوچستان وہیں کا وہیں رہ جاتا ہے عوام اگلے سانحے کا انتظار کرنے لگتے ہیں یہ طرزِ حکمرانی نہیں قوم کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے
کوئٹہ شہر مغرب کے بعد پولیس اسٹیٹ کا منظر پیش کرتا ہے شریف شہری اپنی فیملیز کے ساتھ نکلنے سے ڈرتے ہیں خواتین کی گاڑیوں پر ٹارچیں ماری جاتی ہیں نوجوانوں کو سڑکوں پر ذلیل کیا جاتا ہے مگر اصل دہشت گرد دندناتے پھرتے ہیں سوال یہ ہے کہ کیا پولیس کا کام صرف کمزور کو روکنا رہ گیا ہے
حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارے پولیس نظام کو کبھی درست بنیادوں پر استوار ہی نہیں کیا گیا ایک ایس ایچ او کو ماہانہ صرف ڈیڑھ سو لیٹر پٹرول دے کر پورے علاقے کی نگرانی کا حکم دیا جاتا ہے آخر یہ کیسے ممکن ہے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نیچے کا عملہ عوام کی جیبوں سے اپنے اخراجات پورے کرتا ہے پھر رشوت زیادتی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا دروازہ کھلتا ہے یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بلوچستان کے فیصلے اکثر وہ لوگ کرتے ہیں جنہیں عوام قبول ہی نہیں کرتے جب بھی کوئی اہم اجلاس ہوتا ہے انہی درباری چہروں کو بلایا جاتا ہے جو اپنے علاقوں میں عوامی حمایت سے محروم ہیں جو شخص اپنے دروازے سے باہر نہ نکل سکے وہ عوام کے مسائل کیا سمجھے گا ریاست کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ بلوچستان کو صرف سیکورٹی کا مسئلہ سمجھنا ہے یا ایک سیاسی معاشی اور انسانی مسئلہ بھی ماننا ہے
جو لوگ پاکستان کے آئین کے اندر رہتے ہوئے حقوق کی بات کرتے ہیں ان کو دیوار سے لگانا بند کیا جائے جو لوگ آئین اور قانون کو نہیں مانتے ان کے لئے علیحدہ پالیسی بنائی جائے اصل نمائندوں قبائلی عمائدین نوجوانوں سیاسی کارکنوں اور متاثرہ عوام کو ساتھ بٹھایا جائے بند کمروں میں بننے والی پالیسیاں زمین پر کبھی کامیاب نہیں ہوتیں ہر سانحے کے بعد صرف وزیروں اور بااثر شخصیات کی دیواریں اونچی کر دی جاتی ہیں مگر عوام ہمیشہ غیر محفوظ رہتے ہیں یاد رکھئے اونچی دیواریں حکمرانوں کو تو بچا سکتی ہیں ریاست کو نہیں جناب وزیر اعظم جناب وزیر داخلہ اور ریاستی اداروں کے ذمہ داران بلوچستان اب فائلوں پریس کانفرنسوں اور نمائشی دوروں سے نہیں سنبھلے گا آپ کو یہاں کے دکھ کو محسوس کرنا ہوگا کچھ دن بلوچستان میں رہ کر سے اس مسلہ حل مستقل بنیادوں پر حل کرنا ہو گا کچھ دن اس صوبے میں گزارنے ہونگے سیاسی اکابرین کو یکجا کرنا ہو گا ان ماؤں کی سسکیاں سننی ہوں گی جنہوں نے اپنے بیٹے کھو دیے ان بچوں کی آنکھوں میں جھانکنا ہوگا جو ہر دھماکے کے بعد یتیم ہو جاتے ہیں بلوچستان صرف زمین کا ٹکڑا نہیں یہ پاکستان کی شہ رگ ہے
اگر یہاں آگ جلتی رہی تو اس کا دھواں پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اب بھی وقت ہے کہ ضد انا اور رسمی بیانات سے نکل کر ایک سنجیدہ قومی پالیسی بنائی جائے ورنہ تاریخ یہ لکھے گی کہ حکمران سلطان راہی والی تقریریں کرتے رہے اور بلوچستان جلتا رہا
اللہ تعالیٰ تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے زخمیوں کو صحت دے اور اس ملک کے حکمرانوں کو امن انصاف اور عقلِ سلیم عطا فرمائے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
بلوچ اسٹریٹ
Quetta Cantonment
87300