Reporter Quetta
Important News, Videos and pictures about Balochistan ,Pakistan and all around the world.
12/06/2026
کوئٹہ: بلوچستان میں ہڑتال کرنے پر 34 اساتذہ کوجبری ریٹائر کردیا گیا۔
محکمہ ہائر ایجوکیشن بلوچستان نے ہڑتال کرنےکے الزام میں 20 گریڈکی پروفیسرسمیت محکمہ کالجزکے 34 اساتذہ کو جبری ریٹائرڈ کردیا۔
حکام کے مطابق ملازمت سے نکالے گئے افراد میں گریڈ 17کے 16لیکچررز،گریڈ 18کے 12اسسٹنٹ پروفیسر اور گریڈ 19کے 5 ایسوسی ایٹ پروفیسر شامل ہیں۔
محکمہ ہائر ایجوکیشن اس سے قبل بھی 3 اسسٹنٹ پروفیسر کو جبری ریٹائرڈ کرچکا ہے۔
11/06/2026
حکومت اور تاجروں میں کامیاب مذاکرات، تمام مطالبات تسلیم
کویٹہ : حکومت اور تاجر برادری کے درمیان جاری مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں۔ چیمبر آف کامرس اور ٹرانسپورٹرز کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے گئے۔
دونوں فریقوں نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تاجر برادری نے فوری طور پر مارکیٹس کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تمام فریقوں کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے جلد از جلد عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ یہ معاہدہ معاشی سرگرمیوں کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
09/06/2026
تیزاب گردی جرم: سزا سخت کرنے کی تجویز، قومی اسمبلی میں بل جمع
اسلام آباد — نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے ملک میں بڑھتے ہوئے تیزاب گردی کے واقعات کے پیشِ نظر Criminal Law (Amendment) Act, 2026 قومی اسمبلی میں جمع کرا دیا۔ مجوزہ بل میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 336 بی میں ترمیم تجویز کی گئی ہے جس کے تحت تیزاب گردی کو ناقابلِ معافی اور سفاک جرم قرار دیا جائے گا اور مجرموں کے لیے سزاؤں میں سزائے موت شامل کرنے کی سفارش بھی پیش کی گئی ہے۔
ترمیمی مسودے کے نکات:
- تیزاب گردی پر عمرِ قید، کم از کم 14 سال قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ برقرار رکھنے کی تجویز۔
- مخصوص شدید صورتوں میں سزائے موت کا اختیار رکھنے کی سفارش۔
- بل میں کوئٹہ میں ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر حملے کا حوالہ دے کر بُری کایا اثرات اور قانون کی سختی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
- مجوزہ ترمیم میں کہا گیا ہے کہ موجودہ سزائیں جرائم کی روک تھام میں مؤثر ثابت نہیں ہو رہیں اور سخت قوانین سے مجرموں میں خوف پیدا کیا جانا چاہیے۔
نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے کہا کہ تیزاب گردی متاثرین کو زندگی بھر جسمانی معذوری، شدید ذہنی اذیت، سماجی تنہائی اور معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی تیزاب گردی کو بعض پہلوؤں میں قتل سے بھی سنگین جرم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ متاثرہ فرد پوری زندگی اس کے اثرات برداشت کرتا ہے۔ اِن حقائق کی روشنی میں بل کا مقصد خواتین اور کمزور طبقات کو محفوظ ماحول فراہم کرنا اور ریاست کی ذمہ داری کو مؤثر بنانا قرار دیا گیا ہے۔
ملک بھر میں تیزاب گردی کے واقعات ابھی تک جاری ہیں اور سخت قوانین کے باوجود یہ جرائم مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، جس کی بنا پر قانون مزید سخت بنانے کی اشد ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ میر جمال خان رئیسانی نے کہا کہ پاکستان میں تیزاب گردی جیسے جرائم کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
09/06/2026
سپیرہ راغہ روڈ پر غازی انٹرپرائزز کے کیمپ پر حملہ
سپیرہ راغہ روڈ پر امیر خان سخوبی کے مقام پر گزشتہ رات نامعلوم افراد نے غازی انٹرپرائزز کے کیمپ پر حملہ کر دیا۔ حملہ آوروں نے کیمپ میں موجود سامان اور مشینری کو آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں ایکسکیویٹر سمیت متعدد قیمتی اشیاء جل کر خاکستر ہو گئیں۔
ذرائع کے مطابق حملے کے دوران وہاں موجود بعض افراد کو بھی اغوا کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور مقامی عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
علاقہ مکینوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں، اغوا شدہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور اس حملے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
تیزاب گردی کا شکار لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو دنیا کے کسی بھی کونے میں علاج کی ضرورت پڑی تو حکومت بلوچستان تمام اخراجات برداشت کرے گی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی
07/06/2026
سول ہسپتال کوئٹہ میں لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کا مقدمہ درج
کوئٹہ: سول ہسپتال میں گذشتہ روز لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب پھینک دیا گیا۔ واقعے کے بعد سول لائنز تھانے میں ملزم ہمایوں شاہ کے خلاف دفعہ 336 بی کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔
مقدمہ ایم ایس سول اسپتال ڈاکٹر عبدالہادی کاکڑ کی مدعیت میں درج ہوا۔ پولیس نے واقعے کی تفتیش سیریس کرائم انوسٹیگیشن ونگ کے حوالے کر دی ہے، جو مزید تحقیقات کر رہی ہے۔
07/06/2026
ملگری ڈاکٹران بلوچستان کا ڈاکٹر ماہنور ناصر واقعے پر شدید احتجاج، وزیر صحت کی برطرفی کا مطالبہ
کوئٹہ: ملگری ڈاکٹران بلوچستان نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کی احتجاجی ریلی میں بھرپور شرکت کرتے ہوئے ڈاکٹر ماہنور ناصر کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
ڈاکٹران نے حکومت بلوچستان کی خاموشی کو مجرمانہ قرار دیتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ تنظیم نے وزیر صحت کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے، سیکرٹری صحت اور ایم ایس سول ہسپتال کی برطرفی کے ساتھ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔
ڈاکٹران نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی اعلیٰ سطحی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے، ڈاکٹر ماہنور ناصر کو "پرائیڈ آف پرفارمنس" ایوارڈ دیا جائے، انہیں دس کروڑ روپے ہرجانہ ادا کیا جائے اور ان کے اہلِ خانہ کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے۔
تنظیم نے صوبے بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں جدید سیکیورٹی نظام نصب کرنے اور سرکاری عہدیداروں کو سرکاری ہسپتالوں میں علاج کرانے کی پابندی لگانے کا بھی مطالبہ کیا۔
ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج مزید شدت اختیار کر لے گا۔
ڈاکٹرز کمیونٹی سراپا احتجاج۔ احتجاجی ریلی و مظاہرہ
اس موقع پر ڈاکٹر شازیہ خپلواک سے گفتگو
06/06/2026
موسیٰ خیل: نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک نوجوان صحافی جاں بحق ہو گئے۔
بلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے اس دل دوز واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ایک اور آواز کو خاموش کر دیا گیا"۔ یونین نے صحافیوں کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
واقعے کی تفصیلات کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے صحافی پر فائرنگ کر کے فرار ہو گئے۔ پولیس نے واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔
یہ قتل صحافی برادری میں تشویش کا باعث بن گیا ہے۔
06/06/2026
نیشنل پارٹی لیڈر میر رحمت صالح بلوچ نے ڈاکٹر پر تیزاب حملے کی شدید مذمت کردی
کوئٹہ – نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور بلوچستان اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر میر رحمت صالح بلوچ نے سول ہسپتال کوئٹہ میں ڈیوٹی کے دوران خاتون ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب پھینکے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی شرمناک، افسوسناک اور انسانیت سوز اقدام قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے اہلِ خانہ اور پوری ڈاکٹر برادری کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ میر رحمت صالح بلوچ نے ڈاکٹروں کو معاشرے کا قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان پر حملے کسی صورت برداشت نہیں کیے جاسکتے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے ڈاکٹر کو فوری ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کرنے کے اقدام کو قابلِ تحسین قرار دیا اور ڈاکٹر ماہ نور ناصر کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
میر رحمت صالح بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث تمام عناصر کو فوری گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور صوبے بھر میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کو مؤثر سیکیورٹی فراہم کی جائے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Website
Address
Quetta