BNN
BNN (Balochistan News Network) is a digital news platform based in Balochistan Pakistan. Our mission is to inform the public highligh www.bnnbalochistan.com
We deliver breaking news reports and stories from across Balochistan with accuracy credibility, and professionalism.
24/09/2026
کوئٹہ: دفعہ 144 نافذ، چہرہ ڈھانپنے، اسلحہ کی نمائش اور اجتماعات پر پابندی
کوئٹہ: بلوچستان حکومت کے محکمہ داخلہ کی جانب سے کوئٹہ میں 23 ستمبر 2026 سے 30 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔
کوئٹہ پولیس کے مطابق عوامی مقامات پر اسلحہ کی نمائش، ساتھ رکھنے اور استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے، جبکہ 5 یا اس سے زائد افراد کے اجتماعات، دھرنوں، جلوسوں، ریلیوں اور احتجاج پر بھی پابندی ہوگی۔
پولیس کے مطابق چہرہ ڈھانپ کر شناخت چھپانے پر بھی پابندی عائد ہے۔ شہریوں کو دورانِ سفر شناختی دستاویزات، ڈرائیونگ لائسنس اور گاڑی یا موٹر سائیکل کے ضروری کاغذات ہمراہ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
کوئٹہ پولیس نے شہریوں سے غیر قانونی بلیک پیپر یا ٹنٹڈ شیشوں کے استعمال سے گریز کرنے اور گاڑی یا موٹر سائیکل پر ایسی کوئی چیز استعمال نہ کرنے کی ہدایت کی ہے جس سے شناخت چھپ سکے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ شہری پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
24/09/2026
بلوچستان میں انسرجنسی نہیں، چند عناصر علیحدگی کی سوچ کو فروغ دے رہے ہیں، میر سرفراز بگٹی
کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے 21ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چند عناصر شناخت کی بنیاد پر علیحدگی کی سوچ کو فروغ دے رہے ہیں، تاہم پاکستان کو توڑنے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوگی۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچ نوجوانوں کو لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، نوجوان تعلیم، ترقی اور روشن مستقبل پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں میرٹ، شفافیت اور اچھی طرز حکمرانی کے لیے اقدامات جاری ہیں جبکہ ملازمتیں صرف میرٹ پر دی جائیں گی۔
وزیر اعلیٰ نے شرکاء کے سوالات کے جواب بھی دیے اور بہترین کارکردگی دکھانے والی طالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کیے۔
23/09/2026
اسلام آباد میں پی ٹی آئی لانگ مارچ کے پیش نظر کنٹینرز کی بھرمار، اہم راستوں پر ریت سے بھری بوریاں پہنچا دی گئیں،* *سیکیورٹی انتظامات مزید سخت*
*اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کردیے گئے ہیں*
*جبکہ شہر اور اہم داخلی و خارجی راستوں پر کنٹینرز کی بڑی تعداد پہنچا دی گئی ہے۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا کو ملانے والے اہم راستوں پر بھی رکاوٹیں کھڑی کرنے کی تیاری کی جارہی ہے، جبکہ ممکنہ راستوں پر ریت سے بھری بوریاں بھی پہنچا دی گئی ہیں۔*
*ذرائع کے مطابق ممکنہ طور پر لانگ مارچ کے شرکا کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے مختلف مقامات پر کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں نصب کی جارہی ہیں، جبکہ حساس مقامات پر سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی بھی بڑھا دی گئی ہے*
23/09/2026
کوئٹہ کی سڑکیں اندھیرے میں، سٹریٹ لائٹس خاموش، ترقی کے دعوے روشن
رپورٹ: عبدالوکیل
کوئٹہ: صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ترقی کے دعوے اپنی جگہ، مگر رات ہوتے ہی شہر کی اہم شاہراہیں تاریکی میں ڈوب جاتی ہیں۔ سڑکوں کے کنارے سٹریٹ لائٹس کے کھمبے تو کھڑے ہیں، مگر بیشتر لائٹس عرصہ دراز سے روشن ہونے کو تیار نہیں۔
ایئرپورٹ روڈ، نواں کلی، سریاب روڈ، قمبرانی روڈ، لیاقت بازار، پرنس روڈ، پشتون آباد، کوئلہ پھاٹک، سمنگلی روڈ اور سپینی روڈ سمیت متعدد علاقوں میں رات کے وقت تاریکی شہریوں کے لیے مستقل مسئلہ بن چکی ہے۔
دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ لائٹس کے کھمبے دن کے وقت حکومت کی موجودگی کا ثبوت دیتے ہیں، جبکہ رات کو انہی کھمبوں سے صرف اندھیرا نظر آتا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ سٹریٹ لائٹس نصب کرنے کے بعد ان کی دیکھ بھال اور مرمت کا نظام کہاں ہے، یہ سوال عرصہ دراز سے جواب طلب ہے۔ موٹر سائیکل سوار، پیدل چلنے والے اور دیگر شہری تاریک سڑکوں پر مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ حادثات کے خدشات بھی موجود رہتے ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی صاحب! کوئٹہ کو روشن کرنے کے دعوے تو بہت ہیں، مگر شہر کی سڑکوں پر لگی سٹریٹ لائٹس شاید ابھی تک ان دعوؤں کی روشنی تلاش کر رہی ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر صوبائی دارالحکومت کی بنیادی شہری سہولت ہی بحال نہیں کی جا سکتی تو بڑے ترقیاتی دعووں کے ثمرات عام شہری تک کیسے پہنچیں گے؟
شہریوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، محکمہ بلدیات اور کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن سے مطالبہ کیا ہے کہ کوئٹہ بھر کی سٹریٹ لائٹس کا فوری سروے کرایا جائے، خراب لائٹس بحال کی جائیں اور ان کی مستقل دیکھ بھال کے لیے مؤثر نظام بنایا جائے۔
کیونکہ کوئٹہ کے شہری اب یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ جب سٹریٹ لائٹس ہی روشن نہیں تو آخر کوئٹہ کی ترقی کا چراغ کہاں روشن ہے؟
رپورٹ: عبدالوکیل، کوئٹہ
23/09/2026
بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 19 عسکریت پسند مارے گئے: آئی ایس پی آر
سکیورٹی فورسز کا شعبان، کیچ اور کوئٹہ ویسٹ میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشن، صوبیدار محمد جمیل بھی جان سے گئے۔
پاکستان فوج نے بدھ کو کہا ہے کہ بلوچستان کے ضلع کوئٹہ، کیچ اور کوئٹہ ویسٹ میں سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں کے دوران 19 عسکریت پسند مارے گئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے ایک صوبیدار بھی جان سے گئے۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق انٹیلی جنس اداروں نے ضلع کوئٹہ کے علاقے شعبان میں ’انڈیا کے حمایت یافتہ‘ عسکریت پسندوں کے متعدد ٹھکانوں کی موجودگی کی اطلاع دی تھی، جو مقامی آبادی کے لیے خطرہ تھے۔
پاکستانی حکام ملک کے شمال مغرب اور جنوب میں سرگرم عسکریت پسندوں کے لیے ’فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں اور انڈیا پر ان کی حمایت کا الزام لگاتے ہیں جس کی نئی دہلی تردید کرتا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ’مقامی آبادی کے تحفظ اور علاقے کو عسکریت پسندوں سے پاک کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے 21 ستمبر سے شعبان میں کلیئرنس آپریشن شروع کیا۔‘
بیان میں کہا گیا کہ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز عسکریت پسندوں کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر کارروائی کرتے ہوئے کلیئر کیا۔
شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد اب تک 13 عسکریت پسند جان سے گئے، جبکہ کلیئر کیے گئے ٹھکانوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں خطرے کے مکمل خاتمے تک کلیئرنس آپریشن جاری رہے گا۔
23/09/2026
کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین باٹھ کا بلوچستان ہائی کورٹ بار سے خطاب، 25 ستمبر کے لانگ مارچ کی حمایت پر وکلا کا شکریہ
کوئٹہ: کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین باٹھ نے بلوچستان ہائی کورٹ بار کے وکلا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے حکومت کے سامنے بارہا آواز اٹھائی گئی، تاہم تاحال خاطر خواہ ریلیف نہیں مل سکا۔
خالد حسین باٹھ نے کہا کہ اس وقت بلوچستان کے کسانوں کو کھاد، سولر اور زرعی موٹروں سمیت متعدد بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔ کسان جب اپنی موٹر یا سولر سسٹم لے کر جاتے ہیں تو انہیں مختلف مقامات پر روکا جاتا ہے، جس سے زرعی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پیاز اور ٹماٹر کی فصل تیار ہے، تاہم افغانستان سے آنے والی غیر قانونی اور اسمگل شدہ زرعی اجناس کے باعث مقامی کسانوں کو اپنی پیداوار کی مناسب قیمت حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
کسان اتحاد کے چیئرمین نے گندم پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں گندم کی سرکاری خریداری اور ڈی ریگولیشن سے متعلق فیصلوں نے کسانوں کو شدید مشکلات سے دوچار کیا۔ ان کے مطابق جب حکومت نے گندم کی خریداری سے دستبردار ہوکر مارکیٹ کو ڈی ریگولیٹ کیا تو کسانوں کو ملک کے کسی بھی صوبے اور ضلع میں اپنی گندم فروخت کرنے کی آزادی ہونی چاہیے تھی۔
انہوں نے کہا کہ گندم کی نقل و حمل پر مختلف مقامات پر پابندیوں اور رکاوٹوں کے باعث کسانوں کو مالی نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ بعض علاقوں میں کارروائیوں اور گندم ضبط کیے جانے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔
خالد حسین باٹھ نے شوگر ملز اور گنے کی قیمتوں کے حوالے سے بھی کسانوں کے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یکم نومبر سے کرشنگ سیزن شروع ہونے جا رہا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ کسانوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی بنائی جائے۔
انہوں نے بلوچستان میں ٹیوب ویلوں کے سولرائزیشن پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بعض علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی سطح 900 فٹ تک ہے، جہاں مہنگے سولر سسٹم کی تنصیب عام کسان کے لیے آسان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے علاقوں کے لیے بھی قابلِ عمل حل تلاش کرنا ضروری ہے۔
خالد حسین باٹھ کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں پائیدار معاشی ترقی حاصل کرنی ہے تو زراعت کو بنیادی اہمیت دینا ہوگی، کیونکہ زرعی شعبے کے بغیر ملک کے لیے معاشی استحکام کا حصول مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگی بجلی اور پیداواری لاگت کے باعث پاکستانی کسان عالمی منڈی میں دیگر ممالک کے کسانوں سے مقابلہ کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کسان اتحاد کی جانب سے 25 ستمبر کو ملک گیر لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں کراچی، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب سمیت مختلف علاقوں سے کسان شرکت کریں گے۔
خالد حسین باٹھ نے بلوچستان ہائی کورٹ بار کے وکلا کی جانب سے 25 ستمبر کے کسان اتحاد کے پروگرام کی حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ کسان اور وکلا معاشرے کے اہم طبقات ہیں اور دونوں کے درمیان مضبوط رابطہ عوامی مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
انہوں نے وکلا سے اپیل کی کہ اگر اسلام آباد کے لانگ مارچ میں شرکت ممکن نہ ہو تو 25 ستمبر کو کم از کم پریس کلب تک پہنچ کر کسانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا جائے۔
خالد حسین باٹھ نے کہا کہ کسان اتحاد چاروں صوبوں کے کسانوں کے حقوق کے لیے کام کر رہا ہے، جبکہ بلوچستان کے کسانوں کے لیے سولرائزیشن سمیت دیگر مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت سے بھی مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سولرائزیشن کے حوالے سے صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کسانوں کو مزید سولر سسٹمز کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ زرعی شعبے کو درپیش توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکے۔
کسان اتحاد کے چیئرمین نے کہا کہ کسانوں کے مسائل صرف کسانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ملکی معیشت اور غذائی تحفظ سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں، اس لیے ان کے حل کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
23/09/2026
عالمی پشتون ثقافتی دن پر دنیا بھر کے پشتونوں کو مبارکباد؛ پشتون قوم کی تاریخ وفا، شجاعت اور اعلیٰ انسانی اقدار سے عبارت ہے: حیات خان اچکزئی
کوئٹہ: پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر رہنما حیات خان اچکزئی نے عالمی پشتون ثقافتی دن پر پاکستان سمیت دنیا بھر کے پشتونوں کو مبارکباد دی ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پشتون ثقافت وفا، شجاعت، مہمان نوازی اور اعلیٰ انسانی اقدار کی عکاس ہے۔ پشتونوں کا روایتی جرگہ نظام انصاف، برابری اور باہمی احترام کی بہترین مثال ہے۔
حیات خان اچکزئی نے کہا کہ پشتونیت اور پاکستان سے محبت ایک دوسرے سے جدا نہیں، بلوچستان کے پشتون ملک کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے ہمیشہ اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
23/09/2026
پشتون کلچر ڈے کے موقع پر ملک جعفر خان بآزئی صاحب، ڈائریکٹر ایگریکلچر ریسرچ، ہیڈکوارٹر کوآرڈینیشن اینڈ پلاننگ بلوچستان، کوئٹہ کو دلی مبارکباد۔
پشتون ثقافت اپنی روایات، مہمان نوازی، بہادری، امن اور بھائی چارے کے حوالے سے ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ یہ دن اپنی شاندار ثقافت، اقدار اور روایات کو اجاگر کرنے اور نئی نسل تک منتقل کرنے کا خوبصورت موقع ہے۔
اللہ تعالیٰ ہماری ثقافت، روایات اور باہمی محبت کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔
پشتون کلچر ڈے مبارک ہو!
22/09/2026
نوشکی: پولیو ٹیم پر فائرنگ، دو پولیس اہلکار جاں بحق
نوشکی: کلی جمال آباد کے مقام پر نامعلوم افراد نے پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار محمد یاسر اور عبدالراوف جاں بحق ہوگئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق فائرنگ کے بعد نامعلوم نے افراد جاں بحق اہلکاروں کا سرکاری اسلحہ بھی اپنے ساتھ لے گئے اور فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔
زیارت میں فائرنگ کی خبر بے بنیاد، شہر میں مکمل امن
ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Quetta
Quetta
87300