Phander Times

Phander Times

Compartilhar

Phander Times is a project of Phander Production & Communication Services Private Limited Phander Times is an emerging Digital Media House in Gilgit Baltistan.

It focuses on the interest of mountain communities, live in Gilgit Baltistan and Chitral. As the real Voice of Region, Phander Times believes in true professional media landscape which can mobilize and sensitise the communities towards behavioural change, peace and love for diversity. We also believe that a free but professional and responsible press can play a vital role to maintain accountability in a society.

30/09/2026

انجمن محافظان کھوار غذر اور چند محبان کھوار زبان و ثقافت کے اشتراک سے ایک کھوار مشاعرہ بیاد شاعر میاں گل خان مرحوم منعقد ہوگا

غذر سے تعلق رکھنے والے نامور شعراء اپنے خیالات پیش کریں گے، ایک فراموش کھوار سخن ور مرحوم میاں گل خان کا مختصر تعارفی کھوار مقالہ بھی پڑھا جائے گا

یہ مشاعرہ 4 اکتوبر بروز اتوار دن 12 بجے ماؤنٹین انسٹیٹوٹ فار ایجوکیشن اینڈ ڈیویلپمنٹ کالج پھنڈر کے مرکزی ہال میں ہوگا

لسانی و ثقافتی یلغار کے اس دور میں اپنی مادری زبان پر توجہ وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے اور بنیادی فریضہ بھی، انجمن محافظان کھوار کا یہ اقدام خوش آئند ہے

امید ہے اہل کھوار، ادبی ذوق رکھنے والے اور مادری زبان سے محبت رکھنے والے افراد شریک ہونگے

تاریخ: 4 اکتوبر
وقت: دن 12بجے
مقام: ایم آئی ای ڈی کالج پھنڈر

10/09/2026

گلگت شندور روڈ کی تعمیر میں سست روی اور عوامی اراضیات کی کمپنسیشن کی عدم ادائیگی سے عوامی بے چینی بڑھ رہی ہے

کمپنسیشن کے حوالے سے انتظامیہ اپنی بے بسی کا اظہار کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف عوام کی شرافت کا غلط فائدہ اٹھایا جارہا ہے

پی پی پی کے سرگرم رکن وجاہت علی نے کہا ہے کہ حکومت جلد اس صورتحال کی نوٹس لیں بصورت دیگر عوام سڑکوں پر آئیں گے

انہوں نے کہا ہے کہ پنگل اور تھنگئی میں سڑک کی نذر ہونے والی اراضیات کی ویریفکیشن کے لئے بھی ٹیم نہیں آئی ہے، انتظامیہ جلد عوامی اراضیات کی جانچ پڑتال کریں

وجاہت علی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہ ہے کہ عوام لیڈرشپ سے محروم ہے، قیادت کا فقدان اور شرافت کی وجہ سے عوامی درد کا کسی کو احساس نہیں

انہوں نے انتظامیہ اور ذمہ دران کو ایک ہفتے کے وقت دیتے ہوئے کہا ہے کہ تھنگئی اور موضعات میں ویریفکیشن کا عمل شروع کیا جائے، مزید تاخیر پر عوام سڑک پر آئیں گے اور شاہراہ بند اور تعمیر کا عمل مکمل روک دیا جائے گا

06/09/2026

شمرن پاور ہاؤس گزشتہ پچیس سالوں سے ٹھیکہ داروں اور کرپٹ محکمے کے لئے سونے کی چڑیا ہے۔ اس کہانی کو بار بار دہرا دہرا کر ہم تھک گئے مگر بدعنوان محکمے کو شرم نہیں آسکی

2021 کو ایکس ای این محمد قدیر کو ہم نے باوشٹر نالے میں متبادل پاور ہاؤس کی تعمیر کرنے تجویز دی تو انہوں نے وزٹ کیا مگر نتیجہ زیرو

اب آکے آر ایس پی اسی نالے پر پانچ سو کے وی کا بجلی گھر بنائے گا مگر ان سے بھی گزارش ہے کہ کھسندر پاور ہاؤس کی کہانی نہ دہرائی جائے

اس منصوبے کے لئے شندور ایل ایس او اور پھنڈر رورل سپورٹ پروگرام کی قیادت کی کاوش آیا تحسین ہیں، دونوں صاحبان اور ان کے بورڈ ممبرز خراج تحسین کے مستحق ہیں

05/09/2026

وادیِ چھشی (پھنڈر) کے لیے ایک اور اعزاز مہتاب علی باے ، ولد سیورج خان اراسمس (Erasmus) سکالرشپس کے تحت اٹلی، سویڈن اور فرانس سے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں گے

ان کا علمی سفر (Erasmus) کے تحت MS Leading to PhD اٹلی کے یونیورسٹی L’Aquila سے شروع ہوگا جہاں وہ اپنی تعلیم کا پہلا سال مکمل کریں گے، اس کے بعد دوسرا سال Sweden اور پھر آخری مرحلہ France میں مکمل کریں گے

مہتاب اپنی ابتدائی تعلیم APS جوٹیال سے حاصل کرکے محنت، لگن اور نمایاں تعلیمی کارکردگی کی بدولت قائداعظم یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کیا اور 2025ء میں BS Mathematics کی ڈگری مکمل کی اور بطور لیکچرر آغاخان ہائیر سکینڈری سکول سے پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا

اعلیٰ تعلیم کے لئے بیرون ملک داخلے پر مختلف حلقوں نے مہتاب علی اور خاندان کو مبارکباد دے رہے ہیں

05/09/2026

حلقے کی سیاسی صورتحال پر ایک نظر — حصہ اول

تحریر: الطاف حسین آزاد

بہت زیادہ ماضی میں جانے کی ضرورت نہیں، صرف 2020 کے انتخابات سے حلقے کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔
2020 کے انتخابات

2020 کے انتخابات میں نظیر احمد ایڈووکیٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا۔ اس وقت وفاق میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت تھی۔
دوسری جانب خان اکبر خان نے مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر میدان میں اتر کر بھرپور مقابلہ کیا۔ اس وقت مسلم لیگ (ق) وفاق میں پاکستان تحریکِ انصاف کی اتحادی جماعت تھی، جس کا سیاسی فائدہ خان اکبر خان نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بھرپور طور پر اٹھایا۔
اسی دوران پاکستان تحریکِ انصاف کے سرگرم رکن ایڈووکیٹ صفدر علی شیرازی نے پارٹی ٹکٹ کے لیے سلیکشن کے عمل میں حصہ لیا، لیکن انہیں پارٹی ٹکٹ نہ مل سکا۔ اس کے بعد انہوں نے کچھ عرصے کے لیے پارٹی سے استعفیٰ دے کر آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا، لیکن بعد ازاں وفاقی وزیر گنڈاپور کی کامیاب کوششوں اور مذاکرات کے بعد انہوں نے تحریکِ انصاف کے ٹکٹ ہولڈر نظیر احمد ایڈووکیٹ کی بھرپور حمایت کی اور ان کے لیے انتخابی مہم بھی چلائی۔
انتخابی عمل میں نظیر احمد ایڈووکیٹ کامیاب ہو کر اقتدار کے ایوان میں پہنچے، جبکہ خان اکبر خان تقریباً 5,000 ووٹ حاصل کرکے دوسری پوزیشن پر رہے۔ تاہم یہ الیکشن بھی دھاندلی کے الزامات سے داغدار رہا اور خان اکبر خان الیکشن کمیشن اور الیکشن ٹربیونل تک پہنچ گئے۔
اس کیس کا بھی وہی حال ہوا جو ایسے مذاکرات کے بعد اکثر سیاسی معاملات میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ بعد ازاں ہونے والے مذاکرات اور مبینہ ڈیل کے حوالے سے آج بھی عوامی حلقوں میں مختلف باتیں اور سوالات زیرِ بحث ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ خان اکبر خان صاحب کو ان مذاکرات کے نتیجے میں وہ کچھ حاصل ہوگیا جو وہ مطالبہ کر رہے تھے۔
ہم اس معاملے کی مزید تفصیلات میں جانا ضروری نہیں سمجھتے، کیونکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس پورے معاملے کے بعد خان اکبر خان نے اپنے پانچ ہزار ووٹرز کے مینڈیٹ کے ساتھ کیا سیاسی کردار ادا کیا۔
خان اکبر خان کے پانچ ہزار ووٹ محض ایک انتخابی عدد نہیں تھے بلکہ حلقے کے ایک بڑے حصے کی حمایت اور اعتماد کی عکاسی تھے۔ اس وقت خان اکبر خان کے ساتھ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ علاقے کے متعدد بزرگ اور بااثر افراد بھی کھڑے تھے۔
لیکن یہاں ایک سیاسی المیہ یہ ہوا کہ خان اکبر خان، جو حلقے میں اپوزیشن کا مؤثر کردار ادا کر سکتے تھے، عوام کو متحد کرکے اپنے ووٹرز کے مینڈیٹ کے حق کے لیے ایک مضبوط آواز بن سکتے تھے، مگر وہ خاموش رہے اور کوآرڈینیٹر شپ کے انتظار میں پانچ سال گزار دیے۔
پانچ سال کے دوران وہ اپنی وہ سیاسی مقبولیت برقرار نہ رکھ سکے جو انہیں انتخابات کے دوران حاصل ہوئی تھی۔ مقبولیت میں اضافے کی بات تو دور، جو سیاسی سرمایہ انہیں حاصل ہوا تھا، وہ بھی برقرار نہ رہ سکا۔ اس کا اثر اگلے انتخابات کے نتائج میں واضح طور پر نظر آیا۔
صفدر علی شیرازی کی سیاسی حکمتِ عملی
خان اکبر خان کے برعکس ایڈووکیٹ صفدر علی شیرازی نے ایک مختلف سیاسی حکمتِ عملی اختیار کی۔ پارٹی کے ساتھ وابستگی میں انہیں معمولی سیاسی فائدہ ضرور حاصل ہوا، لیکن انہیں بھی کوآرڈینیٹر شپ کی خوشخبریاں ملتی رہیں، مگر پانچ سال گزرنے کے باوجود یہ وعدہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔
انہوں نے اپنی حکمتِ عملی بدل کر احتجاجی سیاست کا راستہ اختیار کیا۔ وہ تحریکِ انصاف کے سرگرم کارکن رہے۔ 2020 میں انہوں نے پارٹی ٹکٹ کے لیے سلیکشن کے عمل میں حصہ لیا، لیکن ٹکٹ نہ ملنے کے باوجود اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں، احتجاجی سیاست میں متحرک رہے، عوامی مسائل پر آواز اٹھائی اور اپنے حلقے میں موجود رہ کر اپنی سیاسی مقبولیت میں اضافہ کیا۔
یوں انہوں نے ایک تجربہ کار سیاست دان کی طرح اپنی سیاسی پوزیشن کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ وقت کے ساتھ اسے مزید مضبوط کیا۔
اگلے انتخابات کے لیے ان کی سیاسی مہم کا بڑا حصہ انہی احتجاجوں اور عوامی مسائل پر حکومت کے خلاف اختیار کیے گئے مؤقف کے گرد گھومتا رہا۔
تاہم اس کے باوجود انہیں تحریکِ انصاف کا ٹکٹ نہ مل سکا، چنانچہ انہوں نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت تحریکِ انصاف کی مجموعی سیاسی صورتحال ایسی تھی کہ پارٹی ٹکٹ ملنا بھی کسی امیدوار کی کامیابی کی ضمانت نہیں تھا۔ چنانچہ صفدر علی شیرازی نے آزاد حیثیت سے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔
2026 کا الیکشن اور بدلتی ہوئی سیاسی صف بندی
2020 کے بعد 2026 کے انتخابات آنا ہی تھے، لیکن جب انتخابات ہوئے تو حلقے کا سیاسی منظرنامہ تقریباً مکمل طور پر تبدیل ہو چکا تھا۔
نظیر احمد ایڈووکیٹ، جنہوں نے 2020 میں پاکستان تحریکِ انصاف کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا تھا، اس مرتبہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کے طور پر میدان میں اترے
مسلم لیگ (ن) نے بھی اپنا ٹکٹ روایتی سیاسی کارکنوں کے بجائے ماہرِ تعلیم عبدالجہان صاحب کے سپرد کیا۔
خان اکبر خان، جو 2020 میں مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے تھے، اس مرتبہ استحکام پاکستان پارٹی (IPP) میں شامل ہو چکے تھے۔
جبکہ صفدر علی شیرازی نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔
سخت اور کانٹے دار مقابلے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے امیدوار عبدالجہان صاحب کامیاب رہے، نظیر احمد ایڈووکیٹ دوسرے جبکہ صفدر علی شیرازی تیسرے نمبر پر رہے۔
الیکشن کے بعد دھاندلی کے الزامات بھی سامنے آئے۔ نظیر احمد ایڈووکیٹ نے عدالت سے رجوع کیا اور عوام کو ساتھ لے کر احتجاج بھی کیا، اور اب ان کا کیس الیکشن ٹربیونل میں ہے۔ دوسری جانب صفدر علی شیرازی نے عبدالجہان اور نظیر احمد ایڈووکیٹ پر دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کیس دائر کیا ہے، تاہم اب تک اس درخواست کی منظوری یا مسترد کیے جانے کا فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
یہاں سے حلقے کی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

(جاری ہے)

02/09/2026

تیز بارش کے سبب تھنگئی نالے میں نچلے درجے کا سیلاب ، پینے کے پانی کا نظام درہم برہم ، مکین پریشان

سیلاب سے خم کی سڑک بھی متاثر، اہلیان تھنگئی کی جانب سے انتظامی زمہ داران کو پینے کے پانی کی جلد بحالی کی آپیل کی گئی ہے

Photos from Phander Times's post 23/08/2026

غذر کے نوجوانوں کو مثبت اور صحت مندانہ سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے میں حافظ عبد الرحیم کی کاوشیں، اپنی مدد آپ کے تحت گورنمنٹ ہائی سکول گاہکوچ کے گراؤنڈ کی لیولنگ کا کام شروع کر دیا ہے

بطور صدر غذر فٹ بال ایسوسی ایشن حافظ عبد الرحیم کی خدمات قابل داد ہیں جو ہمہ وقت نوجوانوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں

ضلعی سطع کے مقابلے ہوں یا صوبائی سطع کے ایونٹس، غذر فٹ بال ایسوسی ایشن کے صدر متحرک رہتے ہیں، ہائی سکول انتظامیہ اور طلباء نے عبدالرحیم کی کاوشوں کو نہایت سراہا

Photos from Phander Times's post 23/08/2026

دلومل کی بستی اور کردار کا غازی

تحریر ۔۔۔ شمس الحق نوازش غذری

دنیا کی دس ہزار سالہ تاریخ کے طویل اور پیچیدہ سفر میں شاید یہ پہلا موقع ہے کہ برف پوش بقعۂ خاکی، تحصیل پھنڈر کی فلک بوس بستی دلومل کے ایک پشتنی باشندے کو اس خطے کی نمائندگی کا موقع میسر آیا ہے۔ یہ محض ایک سیاسی واقعہ نہیں، بلکہ ان بلند و بالا پہاڑوں کے دامن میں جنم لینے والی ایک نئی امید، ایک نئے شعور اور ایک نئے سیاسی مزاج کی علامت ہے۔
اگر کسی صاحبِ ذوق کے دل و دماغ میں کبھی دلومل کی سرزمین پر قدم رکھنے کا خواب انگڑائی لے تو خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے سے پہلے اپنے معصوم دل و دماغ میں جھانک کر یہ معلوم کرنے کی ضرور زحمت کر لے کہ دلومل تک پہنچنے کے لیے صرف سفر کا حوصلہ نہیں، ارم اسٹرانگ کا عزم چاہیے۔ کیونکہ جیسے ہی دلومل کی سرزمین شروع ہوتی ہے، اجنبی کو یوں محسوس ہونے لگتا ہے گویا وہ کسی عام گاڑی میں نہیں بلکہ خلائی شٹل میں بیٹھ کر آسمان کی سمت محوِ پرواز ہے۔ اس کی دشوار گزار چڑھائیوں پر وہی شخص بے خوف ہو کر نیچے دیکھ سکتا ہے جس کے سینے میں چیتے کا جگر اور شیر کا دل ہو۔
مگر اس داستان کا اصل حسن یہاں سے شروع ہوتا ہے۔
کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ستاروں کی ہمسائیگی میں رہنے والی اس بستی کا ایک فرزند سنہ 2026ء میں اس خطے کے لوگوں کو ایک ایسے شعور سے روشناس کرانے کی جدوجہد کرے گا جس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ عوام کے حقوق ان کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے کردار "درکار" ہوتا ہے، "اداکار" نہیں؛ عمل چاہیے، الفاظ کا جادو نہیں۔
اس خطے کی سیاسی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جس کے بس میں جتنا رہا، اس نے اتنا ہی یہاں کے مکینوں کو چوکوں اور چوراہوں میں لا کھڑا کیا، ان کے دکھوں کو اپنی شہرت کا زینہ بنایا اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے انہیں اپنی سیاست کا اشتہار بنا لیا۔۔۔۔
لوگوں کو ائے روز سڑکوں پر گھسیٹنا ، مصنوعی ہمدردی کا اظہار کرنا، خود کو ان کا خود ساختہ مسیحا قرار دینا اور پھر یہ باور کرانا کہ "ہم ہی آپ کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہیں"—یہ سب اس سیاسی رویے کا حصہ رہا ہے جس میں عوام مقصد نہیں، ذریعہ بن جاتے ہیں۔
اور جب اسی سرزمین کے حسن، اس کی وادیوں، اس کے وسائل اور اس کی سیاحتی کشش کو بھی مفادات کی منڈی میں لے جایا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر عوام کے حصے میں آتا کیا ہے؟
بدقسمتی سے گفتار کے غازیوں کو ہمیشہ ایسے مسائل درکار رہے ہیں جو کبھی حل طلب ہی نہ ہوں؛ کیونکہ جو مسئلہ حل ہو جائے، وہ ان کی سیاست کا موضوع نہیں رہتا۔ چنانچہ مسئلے زندہ رہتے ہیں، تقریریں زندہ رہتی ہیں، سوشل میڈیا کی پوسٹیں زندہ رہتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن تاریخ کا پہیہ ہمیشہ ایک ہی سمت میں نہیں گھومتا۔
اسی ماحول میں اگر کوئی ایسی قیادت سامنے آئے جو اقتدار کے ایوانوں سے زیادہ عمل کے میدان پر یقین رکھتی ہو؛ جو سمجھتی ہو کہ قیادت کا اصل منصب تصویریں بنوانا نہیں بلکہ مسائل کی بیخ کنی ہے؛ جو دنیا کے پسماندہ ترین خطوں، چھشی نالہ اور بتھریت جیسے دور افتادہ علاقوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا سے جوڑنے کی عملی کوشش کرے؛ جو اقتدار میں آنے سے پہلے ہی وہاں کے مکینوں کو حصولِ علم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے فرنیچر بھی مہیا کرے اور ٹیچر بھی۔۔۔۔۔۔۔
جو روڈ کے متاثرین کے معاوضوں کی یکمشت ادائیگی کے لیے اپنی تمام تر توانائی صرف کرے؛ جو بجلی کی قلت دور کرنے کے لیے نئے بجلی گھر کے قیام کی منصوبہ بندی کرے؛ جو پرانے بجلی گھروں کی لیکیجز اور دیگر تکنیکی خرابیوں کو بحران بننے سے پہلے ہنگامی بنیادوں پر درست کروانے کا اہتمام کرے؛
جو بے آب و گیاہ وادیوں کو سیراب کرنے کے لیے مثبت اور دیرپا حکمتِ عملی وضع کرے؛ جو پرانے پلوں کی بروقت مرمت اور نئے پلوں کی تعمیر کو ترجیح دے؛ جو جل جانے والے ٹرانسفارمرز کو بروقت تبدیل کر کے نئے ٹرانسفارمر نصب کروائے؛ جو شکستہ بجلی کے کھمبوں کو محض تصویروں میں نہیں بلکہ عملی طور پر تبدیل کروائے؛
اور جس محکمے میں کوئی خامی دکھائی دے، وہاں فائلوں کے پیچھے چھپنے کے بجائے متعلقہ محکمے کے سربراہ کو بنفسِ نفیس موقع پر لے جائے، مسئلے کا مشاہدہ کرے اور اس کے بروقت تدارک کو یقینی بنائے۔۔۔۔۔۔۔۔جوطوفان کی تندی ہو یا سیلاب کی یلغار مصیبت کی گھڑی میں متاثرین کے شانہ بشانہ کھڑا رہے۔۔۔۔۔جو دریائے غذر کی بےرحم موجوں میں ڈوب کر لاپتہ ہونے والے نوجوان کو محض ایک خبر یا حادثہ سمجھ کر فراموش نہ کرے بلکہ انسانی زندگی کی حرمت کو سیاست اور مصلحت سے بالاتر سمجھتے ہوئے اسلام آباد سے غوطہ خوروں کی ماہر ٹیم بلوا کر مرحوم کے لواحقین کی بے چینی دور کردے۔۔۔۔۔۔۔۔ جو جی بی کونسل کے سیکریٹری سے لیکر ڈپٹی کمشنر اور گلگت شندور روڈ کے پی ڈی تک کو مسائل کے اصل مقام،یعنی عوام کی دہلیز تک لے ائے۔۔۔۔۔۔ تاکہ فائلوں میں دفن مسلے زمین پر دیکھائی دیں۔۔۔۔۔۔ اور کاغذوں میں بننے والے منصوبے حقیقت کی دھول میں اپنا امتحان دے سکیں ۔۔۔۔۔۔اور جو اپنی بےشمار سیاسی،سماجی اور انتظامی مصروفیات کے باوجود کھیل کے میدان میں اترنے والے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے بھی وقت نکالے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیونکہ وہ جانتا ہے۔۔۔۔قومیں صرف سڑکوں،پلوں اور بجلی گھروں سے نہیں بنتیں بلکہ ان کے نوجوانوں کے خوابوں،حوصلوں اور صلاحیتوں سے تعمیر ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ سو جو شخص تعمیر سڑک سے لیکر تعمیر کردار تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بجلی کے کھمبے سے لیکر نوجوان کے حوصلے تک۔۔۔۔۔۔۔۔ سیلاب زدہ انسان سے لیکر کھیل کے میدان میں موجود کھلاڑی تک ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر سطح پر انسان کو مرکز توجہ بنائے ۔۔۔۔۔۔۔ اسے محض سیاست دان کہنا شاید اس کے کردار کو ایک محدود تعریف میں قید کرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔یہیں وہ مقام ہے ۔۔۔۔۔ جہاں گفتار سیاست سے کردار کی سیاست جنم لیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

20/08/2026

چھشی سے تعلق رکھنے والے عدنان حسین ولد صوبیدار (ر) یحییٰ خان پاکستان آرمی میں کمیشنڈ آفیسر بن گئے

عدنان نے ملٹری کالج مری سے ایف ایس سی مکمل کرنے کے بعد اپنے والدین کی خواہش اور حوصلہ افزائی پر پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کیا۔ وہ اس وقت پاکستان ملٹری اکیڈمی (PMA) کے لانگ کورس 158 کا حصہ بن کر عسکری تربیت حاصل کر رہے ہیں

عدنان حسین کی کامیابی پر اہلِ خانہ، عزیز و اقارب اور اہلِ علاقہ نے انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ اہلِ علاقہ نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ مستقبل میں بھی اپنی صلاحیتوں اور محنت سے ملک و قوم کا نام روشن کریں گے

10/08/2026

باہا جھیل کھوکش، غذر کے کنارے سے ڈاکٹر حمزہ خان سیاحت کے نام پر سیاہت پھیلانے والوں کو ماحول کے حوالے سے آگاہ کر رہے ہیں

Quer que o seu figura pública seja a primeira Figura Pública em Almada?
Clique aqui para solicitar o seu anúncio patrocinado.

Entre em contato com a figura pública

Telefone

Endereço


7 1 D, 2810/175
Almada
2800

Notificações

Seja o primeiro a receber as novidades e deixe-nos enviar-lhe um email quando Phander Times publica notícias e promoções. O seu endereço de email não será utilizado para qualquer outro propósito, e pode cancelar a subscrição a qualquer momento.

Subscreva-nos

Iremos notificá-lo sempre que acontecer algo em Almada.